Original Articles Urdu Articles

ممتاز قادری: امن پسند بریلوی جماعتوں کیلیئے ایک ٹیسٹ کیس۔۔۔از نور درویش

  اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ سنی بریلوی حضرات پاکستان میں موجود مسلمانوں کا سب سے اکثریتی مکتب فکر ھے ۔ یہ اکثریتی طبقہ نہ صرف امن پسند ھے بلکہ عمومی طور پر تعصب سے بھی دور ھے۔ بنیادی طور پر نرم مزاج ھے اور اتحاد کی فضا قائم رکھنے پر یقین رکھتا ھے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ شیعوں کی طرح بریلوی سنی اور صوفی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہتے ھیں لیکن کبھی اس طبقے کی جانب سے جوابی اشتعال انگیزی یا حملے کی کوشش نہ کی گئی۔ سال 2005 میں نشتر پارک کراچی میں بارہ ربیع الاول کے جلسے کے دوران دھماکے کے نتیجے میں سنی تحریک کی تقریبا تمام مرکزی قیادت شہید ھوگئی لیکن اس پر بھی صبر کا دامن ھاتھ سے نہ چھوڑا گیا۔ ملی اور دینی رواداری کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ بھی ھے کہ جس وقت سندہ مدرسہ اسلام کراچی میں موجود شیعہ مسجد حیدری میں دھماکہ ھوا، اس وقت قریب ھی واقعہ دعوت اسلامی کے زیر انتظام ایک مسجد میں نماز جمعہ شروع ھونے کو تھی، جسے روک دیا گیا اور تمام نمازی فوری طور پر زخمیوں کی مدد کیلیئے مسجد حیدری پہنچ گئے۔ رواداری اور اتحاد کی ایسی مثالیں اکثر عید میلاد النبی اور محرم کے جلوسوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ھیں جس میں شیعہ اور سنی بریلوی ایک دوسرے کا ھاتھ تھامے نظر آتے ھیں۔ 

البتہ سلمان تاثیر قتل میں ملوث ممتاز قادری کے معاملے پر جس طرح سنی بریلوی حضرات تقسیم دکھائی دیتے ھیں، وہ بلاشبہ ایک تشویش ناک بات ھے۔ اس نفسیاتی مریض اور خبط الحواس نوع کے انسان کیلیئے کچھ بریلوی حضرات میں موجود ھمدردی کے  جذبات کسی صورت حق بجانب نہیں۔ در اصل ممتاز قادری کا معاملہ سنی بریلوی حضرات  کیلیئے  ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ھے اور یہ توقع کرتا ھے کہ اس روایتی رواداری اور حق گوئی، جو بریلوی مکتب فکر کا شعار رھی ھے، کا مظاھرہ کرتے ھوئے اس ناحق قتل کی  مذمت کی جائے اور ممتاز قادری یا دیوبندی جیسے ذہنی مریض سے لا تعلقی کا اعلان کیا جائے۔ سلمان تاثیر کو ناحق قتل کیا گیا اور اس بات کو تسلیم کرنے کیلیئے صرف ضمیر کا زندہ ھونا کافی ھے۔

https://www.facebook.com/pages/Mumtaz-Qadri

کہا جاتا ھے کہ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کے قتل کا فیصلہ ایک روز قبل بریلوی مفتی حنیف قریشی کی تقریر سن کر کیا تھا۔ مفتی حنیف قریشی صاحب اب بھی اپنے موقف پر قائم ھیں اور ممتاز قادری کی حمایت بھی کرتے ھیں۔  یہ بات بھی حقیقت ھے کہ ممتاز قادری کی آڑ میں بہت سے تکفیری دیوبندی ٹولے بھی حسب توفیق اپنا حصہ ڈالتے رھتے ھیں۔ ممتاز قادری کی رھائی کے حوالے سے جس انداز سے مختلف دیوبندی اور سلفی نظریات کی حامل جماعتوں نے جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کیا تھا وہ اس بات کا غماز تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ھے۔ حمایت کا یہ سلسلہ آج تک جاری ھے جس کی نشاندھی تعمیر پاکستان ویب سایٹ پر مختلف تجزیوں میں کی گئی ھے۔  البتہ عشق رسول (ص) میں سرشار چند سادہ لوح بریلوی جماعتیں اس کا ادراک تا حال کرنے سے قاصر ھیں۔

http://www.youtube.com/watch?v=jlM0HYqOL7c

سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری ھوں یا سنی اتحاد کونسل کے مرحوم صاحبزادہ فضل کریم مرحوم، ان سب نے ممتاز قادری کو غازی اور ھیرو کے طور پر پیش کیا اور اس کی سزا کے خلاف احتجاج کیا۔ منہاج القران کے ڈاکٹر طاھر القادری اور دعوت اسلامی کے الیاس عطار قادری سے البتہ جرات اور حق گوئی کا  مظاھرہ کرتے ھوئے اس عمل کی مذمت کی اور اسے غیر اسلامی قرار دیا۔ ممتاز قادری کے خلاف بیان دینے پر ان دونوں شخصیات پر اعتراض کیا جاتا ھے۔

سال ۲۰۱۲ میں ممتاز قادری کے دفاع میں لاھور میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا گیا جس میں ایک مقرر نے اس پستول کی نیلامی کا انوکھا مشورہ پیش کیا جس سے سالمان تاثیر کو قتل کیا گیا تھا۔  اس وقت بھی فیس بک بہت سے پیجز جن کو کچھ بریلوی حضرات چلا رھے ھیں اور ممتاز قادری کو دور حاضر کا غازی علم دین ثابت کرنے پر مصر ھیں۔ یہ نہایت مایوس کن سوچ ھے۔ یہ حضرات دعوت اسلامی اور علامہ طاھر القادری سمیت ھر اس بریلوی عالم پر تنقید کر رھے ھیں جو ممتاز قادری نامی نفسیاتی مریض کو قاتل کہتا ھے۔ اگر یہ صورتحال محض انفرادی حد تک ھوتی تو نظر انداز بھی کی جاسکتی تھی، لیکن جب سنی تحریک اور سنی اتحاد کونسل جیسی بریلوی جماعتیں ممتاز قادری کا دفاع کرتی نظر آیئں تو  پردہ پوشی کرنا حقائق چھپانے کے مترادف گردانا جائے گا۔

 https://www.facebook.com/video.php?v=801395666617054

جیسا کہ تعمیر پاکستان میں موجود مختلف تجزیوں میں بتایا گیا ھے کہ کس طرح سردار عباد ڈوگر دیوبندی نے سلمان تاثیر کے قتل پر انعام مقرر کیا تھا، وھی عباد ڈوگر جو سپاہ صحابہ کا رکن رہ چکا ھے۔ کس طرح جماعت اسلامی، جماعت الدعوہ، جمیعت علماء اسلام اور دیگر دیوبندی تکفیری اور وھابی جماعتوں نے ممتاز قادری کی رھائی کیلیئے مشترکہ احتجاج کیا اور سلمان تاثیر کو گستاخ رسول (ص) قرار دیا۔  اور یہ  کہ بہت سے جید بریلوی علماء نہ صرف اس قتل کو قتل نا حق، ممتاز قادری کو گناہ گار سمجھتے ھیں بلکہ اس پورے معاملے کو ایک دیوبندی سازش سے تعبیر کرتے ھیں۔ البتہ ھم یہ سمجھتے ھیں کہ تعداد سے قطع نظر، بریلوی جماعتوں میں صف اول کی جماعتیں سمجھی جانی والی جماعتوں میں سے دو مرکزی جماعتیں ممتاز قادری کے معاملے پر وہ موقف رکھتی ھیں جو بریلوی امن پسندی اور روارداری کے شایان شان نہیں اور اس کا اظہار ھم کسی تنقید کے پئرائے میں نہیں بلکہ افسوس کے ساتھ کریں گے۔

کہتے ھیں تاریخ بہت بے رحم ھوتی ھے، آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو برسوں بعد حق اور باطل  کو آشکار ضرور کر دیتی ھے۔ ممتاز قادری نامی مجرم کی حمایت کرنے والی ان تمام جماعتوں سے تو خیر کوئی شکایت ھے ھی نہیں جن سے کبھی خیر کی خبر ملنا محال ھے البتہ سنی تحریک اور سنی اتحاد کونسل سمیت وہ تمام بریلوی جماعتیں جو ممتاز قادری کو غازی کہنے پر مصر ھیں، تاریخ میں ان کا نام اس گروہ کے ساتھ لکھا جائے گا جس نے حرمت رسول (ص) کے نام لیکر ایک ایسے شخص کی حمایت کی جس کے ھاتھ ایک خون ناحق میں رنگے ھوئے تھے۔

لیکن گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سپیشل آپریشنز اسلام آباد بنیامین نے کچھ اور بتایا۔ ’یہ کہناغلط ہے کہ وہ مکمل طور پر مذہبی تھا۔ اس کے پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا دار تھا، کبھی داڑھی منڈوا لیتا تھا تو کبھی بال لمبے رکھتا اور اس کے عشق بھی چلتے رہے ہیں‘۔

ممتاز قادری کی ایک ایسی ویڈیو بھی انٹرنٹ پر دستیاب ہے جس میں وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے نعت پڑھ رہا ہے۔

بنیامین نے مزید کہا ’قادری توہینِ رسالت کے ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا ہے، ان کو کورٹ کچہری تک لاتا رہا ہے۔ اگر وہ واقعی اتنا پکا عاشقِ رسول تھا تو ان کو کیوں نہیں مارا؟‘

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110113_qadri_profile_rza.shtml