Featured Original Articles Urdu Articles

سول سوسائٹی کے نام کھلا خط – خالد نورانی

images

محترم خواتیں و حضرات

!
جبران ناصر جس نے لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز کی جانب سے سانحہ پشاور کی مذمت نہ کرنے اور طالبان و داعش کو دھشت گرد کہنے سے انکار کیا کے خلاف لال مسجد کے سامنے احتجاج منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، اس کے خلاف لال مسجد والوں کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جس میں پہلے تو یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ شیعہ لابی کے کہنے پر یہ مہم چلارہا ہے ، پھر اسے احمدی مشہور کیا گیا اور پھر ایک تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی جس میں جبران ناصر کو چند لڑکوں کے ساتھ گلال ملے ہوئے دکھایا گیا ہے اور کہا یہ گیا کہ جبران ناصر تو اصل میں ہندؤ ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ جبران ناصر امریکی اشارے پر لال مسجد کے خلاف متحرک ہوا ہے

جبران ناصر کے خلاف اس مہم میں سب سے زیادہ متحرک شہداء فاؤنڈیشن ، جامعہ حفصہ اور اسلام آباد میں اہلسنت والجماعت کے عہدے دار ہیں اور جبران ناصر سمیت اسلام آباد میں جن لوگوں نے مولوی عبدالعزيز کے خلاف احتجاج منظم کیا ان کو مولوی عبدالعزیز نے نماز جمعہ کے خطبے میں دھمکیاں دیں اور نامعلوم زرایع سے طالبان نے بھی احتجاج کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں

اس سارے عمل کی میں غیر مشروط طور پر مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جو لوگ بھی لوگوں کے احتجاج کرنے کے بنیادی حق کو سلب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کرے لیکن مجھے موجودہ حکومت سے اس کی امید کم ہی ہے

جبران ناصر سمیت جو سول سوسائٹی اس وقت لال مسجد کے خطیب مولوی عبدالعزیز کے خلاف جو احتجاج کررہی ہے وہ درست ہے اور جائز بھی لیکن میں اس سول سوسائٹی سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ ان کے علم میں یہ بات ہے کہ جیسے ہی انھوں نے لال مسجد کے خطیب کے خلاف احتجاج شروع کیا تو یہ اسلام آباد میں (سپاہ صحابہ پاکستان ) اہل سنت والجماعت تھی جس نے اپنے صدر اور جنرل سیکرٹری کی قیادت میں ایک طرف تو احتجاج کرنے والوں کو ڈرایا دھمکایا ، اور آبپارہ تھانے میں درخواست دی اندراج پرچہ کی تو انھوں نے اہلسنت والجماعت کے جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدے داروں کا نام اندراج مقدمہ کی درخواست میں کیوں نہ دیا اور آج تک جتنی پریس ریلیز اور بیانات ان کی جانب سے آئے ہیں اس میں اہلسنت والجماعت کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں ہے اور سول سوسائٹی کے ان لوگوں نے کسی ایک جگہ بھی وفاقی حکومت سے یہ سوال نہیں کیا کہ سپاہ صحابہ پاکستان آخر کار نام بدل کر اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کیوں کررہی ہے ؟

میں عاصمہ جہانگیر ، ماروی سرمد ، نجم سیٹھی سمیت سول سوسائٹی کے بڑے بڑے ناموں سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں ہوں کہ اگر وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی بالادستی کے نام پر نواز شریف بچاؤ مہم میں شریک ہوسکتے ہیں اور ایک ہوٹل میں مولوی فضل الرحمان کے ساتھ نواز شریف کی موجودگی میں قہقے لگا سکتے ہیں تو وہ نواز شریف اور وزیر داخلہ سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ آخر وفاق اور صوبوں میں ایک کالعدم تںظیم نام بدل کر دھڑلے سے کام کیسے کررہی ہے اور یہ تنظیم جبکہ سول سوسائٹی ، شیعہ ، صوفی سنّیوں کو ڈرانے دھمکانے میں مصروف ہے اور اس کے عہدے دار دھشت گردی کے حامیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف پرچے درج کیسے کرالیتے ہیں اور یہ شیعہ و صوفی نسل کشی کے مرتکب کیسے نواز شریف ، شہباز شریف اور چوہدری نثار سے ملاقاتیں کررہے ہیں ؟

سول سوسائٹی کی اس معاملے پر خاموشی کا مطلب کیا ہے ؟ جبران ناصر سمیت وہ سب نوجوان جو طالبان کے ہمدردوں کے خلاف پاکستان میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی مہم چلارہے ہیں ہمارا ان سے یہ سوال ہے کہ وہ اس مہم کو صرف ” مولوی عبدالعزیز ” تک محدود کیوں رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس مہم میں سپاہ صحابہ پاکستان – اہل سنت والجماعت دیوبندی پر پابندی لگانے اور اس کے فورتھ شیڈول میں شامل قیادت کو پبلک جلسے کرنے اور ریلیاں کرنے کی پاداش میں پرچے درج کرکے اندر کرنے کا مطالبہ کیوں شامل نہیں کررہے ؟

اور وہ بتائیں کہ کیا پاکستان میں غیر دیوبندی سنّی تںظیموں ، شیعہ تنظیموں ، احمدیوں ، ہندؤں ، عیسائیوں نے کیا کبھی طالبان سمیت دیگر دھشت گرد تنظیموں کی حمائت کی ہے یا ان سے ہمدردی کی ہے جو وہ پاکستان میں دھشت گردی کے کسی بھی واقعے کے تناظر میں ردعمل دیتے ہوئے گول مول اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جائے کہ آج تک جتنے بھی خودکش حملے ، ٹارگٹ کلنگ ہوئی ان میں دیوبندی مکتبہ فکر کی دھشت گرد تںظیمیں ملوث تھیں تو وہ ان کو سنّی شدت پسند ، مذھبی شدت پسند ، مذھبی دھشت گردجیسے الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں اور غلط غیرجابنداری کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں ؟ اور پاکستان میں فرقہ وارانہ دھشت گردی کے ماسٹر مائینڈز کے مکتبہ فکر کی نشاندھی پر شیعہ – سنّی بائنری ، سعودیہ – ایران بائنری کیوں لیکر آتے ہیں ؟

یہ سیدھا سادا منافقانہ طرز عمل ہے ، دوغلا پن ہے اور دھشت گردی کے خلاف پک اینڈ چوز والا طرز عمل ہے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف مہم چلانے والے بتلائیں کہ ان کی اس مہم میں محمد احمد لدھیانوی ، اورنگ زیب فاروقی ، مولوی سمیع الحق ، مفتی نعیم کیوں شامل نہیں ہيں اور ان کے ہاں اکوڑہ خٹک ، جامعہ بنوریہ اور بہاول پور میں مسعود اظہر کے مدرسوں کے سامنے احتجاج منظم کیوں نہیں کیا جارہا ؟

کیا جامعہ بنوریہ اور اکوڑہ خٹک کا کردار طالبانائزیشن میں کم ہے ؟ اور کیا یہ مدارس فرقہ پرست دھشت گرد آئیڈیالوجی کے سب سے بڑے مرکز نہيں ہیں ؟
سول سوسائٹی نے اپنے احتجاج میں وفاق المدارس کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے جامعہ حفصہ کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور شیعہ ، صوفی سنّی کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والی تںطیموں سے اعلان لاتعلقی کا مطالبہ کیوں نہ کیا ؟

سنّی بریلویوں کو ممتاز قادری کی مثال دیکر طعنے دینے والے اور بار بار ان کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے ساتھ ملانے والے جواب دیں کہ وہ 45000 شیعہ اور 22 ہزار صوفی سنّیوں کی شہادتوں کے زمہ دار دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کو سنّی بریلوی اور شیعہ کے برابر قرار دیتے ہیں

بے شرمی کی کوئی انتہا ہوتی ہے مسلسل اس ملک کے پرامن صوفی سنّیوں کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے برابر بتلانے پر اصرار کیا جارہا ہے یہاں تک کہ کبھی ڈاکٹر طاہر القادری کو دھشت گرد بتلایا جاتا ہے تو کبھی حامد رضا کو انتہا پسند بتلایا جاتا ہے اور کبھی علامہ ثروت قادری پر الزام لگادیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ دعوت اسلامی کے امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری کو بھی نہیں بخشا جاتا

سول سوسائٹی بتلائے کہ کس دیوبندی ، اہل حدیث مدرسے ، مسجد اور رہنماء پر اہلسنت بریلوی کی تنظیم نے خود کش حملہ کیا ؟ کب اسکول ، ہسپتال ، بازار ، پولیس اسٹیشن ، ٹرین ، فوجی و دیگر تنصیبات پر کوئی سنّی صوفی تنظیم یا شخص ملوث ہوا ؟

یہ ساری دھشت گردی ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے تکفیری دھشت گرد کررہے ہیں اور ان کے حامی بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن سول سوسائٹی کے جغادری اس مکتبہ فکر کا نام لینے کو گناہ عظیم سمجھے بیٹھے ہیں اور اپنے مذھب کے خلاف تعصبات اور انتہائی گمراہ کن خیالات کے سبب سب کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر تولنے پر تلے ہوئے ہيں اور بالواسطہ طور پر مسلم لیگ نواز کے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے روابط اور سرپرستی کی پردہ پوشی کرنے میں مصروف ہیں

سول سوسائٹی غور کرے کہ وہ جن لیڈروں کو ھیروبناکر پاکستان میں دھشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کرنے کا عزم دھرارہی ہے ان کا اپنا کردار کس قدر متضاد اور منافقت کا شکار ہے اور وہ کیسے درپردہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کےہمدردوں کو بچآنے میں مصروف ہیں

والسلام
مدیر صدائے اہل سنت