Original Articles Urdu Articles

دسمبر کی آخری شب اور نیا سال – عامر حسینی

happy new year

میں ابھی ابھی دسمبر کی آخری رات کا آخری لمحہ اس جگہ گزار کر واپس آیا ہوں جہاں ہم تین دوست دسمبر کی اس آخری رات کا آخری لمحہ گزارا کرتے تھے اور پچھلے سال دسمبر کی آخری رات کو میں نے ان گزرے لمحوں کی یاد بھی تازہ کی تھی میں 11 بجے رات کو گھر سے نکلا تو اس مرتبہ دسمبر کی یہ آخری رات اس قدر سرد اور کہر آلود نہیں تھی جتنی یہ اس وقت ہوا کرتی تھی ، آسمان پر تارے چمک رہے تھے اور نو ربیع الاول کا چاند پوری آب و تاب سے ضوفشانی کررہا تھا اور اپنے گھر سے نکل جب میں سڑک پر آیا جو کہ مرے گھر سے بس دو قدم کے فاصلے پر ہے تو اس مرتبہ سڑک اس طرح سے ویران نہیں تھی جتنی اس وقت ہوا کرتی تھی ،

طارق آباد سے پانچ بلاک اور نو بلاک کے درمیان سے گزرتی سڑک پر بھی اب کچھ رونق تھی ورنہ ان دنوں تو سرشام ہی سناٹا چھا جاتا تھا جبکہ چھے اور دس بلاک کے درمیان سے لیکر نو اور سات بلاک کے درمیان اور اس سے آگے آٹھ بلاک سے گیارہ بلاک کے درمیان تو سڑک پر خوب رونق تھی نجانے مجھے یہ چہل پہل اور رونق کیوں اچھی نہیں لگ رہی تھی میں نے وہاں سے خلاف معمول ٹرن لیا اور میں چوک سنگلہ والہ کی طرف آگیا اور تمباکو نوشی جسے میں کچھ عرصہ سے ترک کرچکا تھا اس ترک کو میں نے ترک کیا اور بھیاری پان والے سے دو کیپٹن بلیک کے سگریٹ لئے اور جیسے ہی میں سرسید روڈ پر آیا تو میں نے ایک سگریٹ جسے امریکن لٹل سگار بھی کہتے ہیں سلگا لی

ا اور نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ اب جیسے ہی میں کالج روڈ پر چڑھوں گا تو گورنمنٹ گرلز کالج کی دیوار سے ایک سایہ کود کر اترے گا اور ہمارے ساتھ شامل ہوجائے گا میں نے اپنی ٹیب آن کی اور سکائپ پر سیکنہ زیدی کو کال کرنے لگا ، اس نے وڈیو کال جیسے ہی رسیو کی میں نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی طرف کیمرے کو زوم کیا اور اس دیوار کے ساتھ کھڑا ہوا جہاں سے وہ بنک لگایا کرتی تھی ،وہ اس مرتبہ بھی دریائے پراگ کے پل پر رسیوں سے بنی ریلنگ کو تھامے کھڑی تھی ، ویسی ہی دھان پان سی تھی اور لگتا تھا جیسے عمر اس پر ٹھہر سی گئی ہے موٹو ! وزن کافی بھڑگیا ہے ، پیٹ پر ہی نہيں ، گالوں پر بھی چربی چڑھ گئی ہے

اس کی آواز سنکر جیسے مجھ میں بھی زندگی کی چابی سی بھرگئی تھی ، میں نے برجستہ کہا ہاں یار تم اور وقار تو اب یہاں ہو نہیں جن کے ساتھ میں راتوں کو شہر کی سڑکیں ناپتا پھرتا تھا اور تمہارے بعد اس شہر میں ایک ہی چارہ ساز تھا اور وہ بس اپنے ڈرائنگ روم کے اندر ہی مراقبہ زن ہے اس سے باہر نکلتا نہيں ہآں یار سناؤ ،کامران کیا کررہا ہے ؟ تمہارا تو گروسمان ہے ، اس کی موسیقی کی ریاضت کہاں تک پہنچی ؟ کیا کوئی چیز سامنے بھی آئی سیکنہ نے بے اختیار پوچھا میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ ٹوٹے خوابوں کی چبھن لئے کامران نے تو اپنے آپ کو افیم اور اس کے کشید کردہ مشروب میں غرق کردیا لیکن یہ ان خوابوں کی کرچیوں سے پیدا ہونے والی تکلیف ہے کم ہونے کا نام نہیں لیتی اچھا یہ بتاؤ یہ وقار کہاں گم ہے ،

اس کی بھی کوئی خبر نہیں ہے ، سکینہ نے پوچھا یار مجھے لگتا ہے کہ وہ ہمیں راندہ درگاہ کرنے کے بعد خود دنیاداری کے دھندوں میں لگ گیا ہے ، شہر آتا بھی ہے تو کبھی مرے پاس نہیں آتا ، نوید باٹی کے پاس جاتا ہے ، لگتا ہے اسے اب ہماری ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی میں بدلے ہوئے وقار سے ملنے کا خواہش مند بھی نہیں ہوں ، آج سے بہت عرصہ پہلے میں نے اپنے پرانے وقار کو اپنے اندر محفوظ کرلیا تھا اور آج بھی اسے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب میں رکھکر لایا ہوں سکائپ پر ہماری یہ گفتگو جاری تھی اور میں نے کالج روڈ پر آگے سفر شروع کردیا تھا اور میں چلتے چلتے سینٹ جوزف اسکول اور اس سے ملحقہ چرچ کے سامنے آگیا تھا ، میں نے سیکنہ کو کلیسا کا مینار ، اسکول کا بورڑ دکھایا اور اندر کلیسا کے صحن میں جاکر عین اس جگہ کھڑا ہوگیا

جہاں کئی سالوں سے ہم دسمبر کی آخری رات کے آخری لمحات گزارا کرتے تھے اور میں جب بھی شہر میں ہوتا ہوں تو ان لمحات کو یہاں پر ہی گزارتا ہوں سیکنہ نے کہا یار اس وقار کو تو اپنی جیب سے باہر نکالو تاکہ ہماری ٹرائیکا پوری ہو اور ہم سال گزشتہ کی اس آخری رات کی محفل سجائیں میں نے سکینہ کی یہ بات سنکر اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند کاغذ نکالے ، یہ وہ کاغذ کے ٹکڑے تھے جو وقار اپنے لمبے سے کوٹ کی جیبوں میں ٹھونسے رکھتا تھا جو اس نے مختلف اوقات میں لکھے ہوتے تھے میں نے اکثر وہ ٹکڑے اس سے مانگ لیا کرتا تھا ،

ایسا ہی ایک ٹکڑا 1999ء کا تھا جب دسمبر میں دھند پڑنے کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹے تھے اور ملک اک مرتبہ پھر مارشل لاء کی لپیٹ میں تھا ، یہ افتخار عارف کی اک نظم ” خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم ” پر مشتمل تھا میں نے سیکنہ کو دکھانے کے لیے وہ ٹکڑا کیمرے کے سامنے کیا اور اس کو زوم کیا سکینہ کہنے لگی زرا ٹھہرو ، وقار سے کہو ابھی نہ سنائے پہلے زرا ووڈکا کا ایک ،ایک جام نوش کرلیا جائے یہ کہہ کر اس نے اپنے لانگ اوورکوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیٹروسکایا ووڈکا کی بوتل نکال لی ،

اس کا کارک کھولنے میں مصروف ہوگئی میں نے بھی ترک مئے نوشی کو اس رات کے لیے ترک کیا اور اپنی جیب سے وہ بوتل برآمد کی جو آج سارے دن کی تگ و دود کے بعد اپنے ایک دوست کے ہاں سے حاصل کی تھی ، مری بیوری کی بنی ووڈکا اور میں نے دانتوں سے اس کی سیل توڑی اور اتنے میں وہ بھی بوتل کا کارک کھول چکی تھی ہم نے ایک دوسرے کی جانب بوتل کو ہلایا اور فوری طور پر اس کے دو گھونٹ بھرے ،

تلخی مئے سے مرے چہرے کے زاويے حسب معمول بگڑے اور مجھے لگا کہ مرے سینے پر کسی نے چھری چلادی ہو مگر سیکن کے چہرے کے زاويے معمول پر رہے ، اس نے ایسے دو گھونٹ بھرے جیسے کسی شریں مشروب سے شغل کررہی ہو مرے بگڑے چہرے کو دیکھ کر ہنسنے لگی اور کہا اس معاملے میں تم ابھی بھی مبتدیوں کی صف ميں کھڑے ہو ، منہ تو ایسے بنارہے ہو جیسے آج پہلی مرتبہ نیٹ کا گھونٹ بھرا ہو میں نے اس کے طنز کو نظر انداز کیا اور وقار سے کہا کہ وہ افتتاح کرے جیسے وہ وہاں واقعی موجود ہو،

میں نے اس کے انداز میں بالوں کو پیچھے کی جانب جھٹکا اور کاغذ کے ٹکڑے کو سامنے رکھکر پڑھنے لگا وہ طائر جو کبھی اپنے بال و پر آزمانا چاہتے تھے ہواؤں کے خدوخال آزمانا چاہتے تھے آشیانوں کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں کون جانے کون ساصیاد کیسی وضع کے جال آزمانا چاہتا ہو کون سی شاخوں پہ کیسا گل کھلانا چاہتا ہو شکاری اپنے باطن کی طرح اندھے شکاری حرمتوں کے موسموں سے نابلد ہیں اور نشانے مستند ہیں جگمگاتی شاخوں کو بے آواز رکھنا چاہتے ہیں ستم گاری کے سب در باز رکھنا چاہتے ہیں خداوند ! تجھے سہمے ہوئے باغوں کی سوگند صداؤں کے ثمر کی منتظر شاخوں کی سوگند اڑانوں کے لیے پر تولنے والوں پر اک سایہ تحفظ کی ضمانت دینے والا کوئی مسم بشارت دینے والا یہ نظم ختم ہوئی تو سیکنہ نے امجد اسلام امجد کی نظم “دسمبر ” سنانا شروع کی آخری چند دن دسمبر کے ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں خواہشوں کے نگار خانے میں کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں

اس نظم کے بعد ہم دونوں خاموش ہوگئے ، کیونکہ یادوں کے ریلے نے ہم دونوں کو گھیر لیا تھا ، مجھے دسمبر کی وہ آخری رات بھی یاد آئی جو کراچی میں گزری تھی اور صدر میں ایک سیلون میں ہما علی نے مجھے کلین شیو ہونے اور اپنی داڑھی ،مونچھوں سے پہلی مرتبہ دستبردار ہونے پر مجبور کردیا تھا اور میں نے پہلی مرتبہ جینز پہنی تھی ، ہما علی منوں مٹی تلے جا سوئی ، سروش ایرانی نہ جانے کہاں ہوگا ، مجھے ڈرلگا رہتا ہے کہ کہیں شام یا عراق سے اس کے کسی محاز پر لڑتے ہوئے جان سے گزرجانے کی خبر نہ آجائے ،

ایسا ہی تھا ، شہر بانو اور ہما علی ، علی احمد مرزا کے ساتھ عالم مثال ( جس کے نہ ہونے کا میں صدا قائل رہا ) اکٹھے ہوئے ہوں گے اور نہج البلاغہ کی مادی تعبیروں پر مجھ پر عتاب نازل کررہے ہوں گے کیونکہ مری مادیت پرستی کے باوجود وہ مجھے دوست خیال کرتے تھے اور دوستوں پر تبراء نہیں بلکہ عتاب ہوا کرتا ہے ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں نے اک نظم ” کیا فرق پڑتا ہے ” لکھی جس کے پیچھے ایک پس منظر تھا اور نہ جانے کس رو میں میں اس پس منظر پر روشنی ڈال بیٹھا اور مجھے اپنا افسانہ ” عشق ناتمام “یاد آیا ہاں لارنس گارڈن لاہور کو کیسے بھول سکتا ہوں اور وہاں پر بدھا کے اس درخت کو جو مجھے اپنی طرح ہجر وفراق کا مارا لگتا ہے ، براذیل کے جنگلوں سے اکھاڑ کر اسے وہاں لگادیا گیا تھا اور بادشاہی مسجد کے عقب میں اقبان حسین کا کوٹھا جہاں اب کوکوڈین ریسٹورنٹ بنا ہوا ہے

جہاں اقبال کے بنائے ہوئے مجسمے اور مورتیوں نے مجھے جکڑ لیا تھا اور وہاں سے آنے کو من نہیں کرتا تھا ، آج وہاں نجانے کون ،کون آیا ہوگا اور ہاں انار کلی تو کل کی آگ میں جھلس کر مرجانے والوں کے غم میں بند پڑی ہے اور اس کے سامنے ٹولنٹن مارکیٹ کے چوک میں کوئی کھڑا مرا انتظار تو کرتا نہیں ہوگا کیونکہ جسے انتظار کرنا تھا وہ تو مشی گن سٹیٹ کے ٹاؤن میں کہیں مری طرح یاد کے ریلے کی زد میں ہوگا اور بہے چلا جارہا ہوگا میں وہآں سے اٹھکر کھڑا ہوگیا جبکہ سیکنہ دریائے پراگ کے لکڑی کے پل پر بیٹھ گئی تھی اور مراقبے میں گم تھی ، جب میں کلیسا سے نکل کر ایس پی چوک پر آگیا تو میں نے اور سیکنہ نے اکٹھے بے اختیار اپنی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالا

اور موم بتیوں کے پیکٹ باہر نکالے ہمیں بہت سے لوگوں کی یاد میں شمعیں جلانا ہوتی تھیں ، ان میں مری اور سکینہ علی کی طرف سے بارہ آئمہ، شہر بانو ، ہما علی ، احمد علی مرزا ، فاطمہ بنت محمد ، زینب شریکۃ الحسین سمیت جملہ اہل بیت کے لیے جبکہ ابوزر غفاری ، کارل مارکس ، اینگلس ، لینن سمیت اشتراکی مجاہدوں کے لیے بشمول بھگت سنگھ ، بھٹو ، شاہ نواز کے لیے پھر اس میں مرتضی کا اضافہ ہوگیا ، استاد سبط جعفر اور اس سے پہلے شہید بے نظیر بھٹو سمیت بہت سے شہیدوں کا اضافہ ہماری ٹرائيکا کے تتر بتر ہوجانے کے بعد ہوا اور ان سب کے نام ان شمعوں کی لو کو کیا جاتا رہا اور اس مرتبہ اس میں 138 بچوں اور آٹھ مرد و خواتین کا نام بھی شامل تھا اور میں نے شمعیں روشن کرتے ہوئے ان 22 ہزار شیعہ اور 10 ہزار صوفی سنّی کو بھی یاد کیا اور لاہور ، کوئٹہ میں شہید ہونے والوں کو جن کا جرم ان کی مذھبی شناخت بنی ،

اس یاد میں وہ مزدور ، اساتذہ اور غریب لوگ بھی شامل تھے جوبلوچستان میں بلوچ نہ ہونے کی وجہ سے ماردئے گئے اور وہ 4000 سے زائد بلوچ بھی جو بلوچستان میں بلوچ ہونے کی بنا پر مارے گئے اور وہ سندھی قوم پرست کارکن بھی جن کی مسخ شدہ لاشیں ویران سے ملیں ، دسمبر کی آخری رات کے آخری پہر میں کوئی خوشی پاس پھٹک کر نہیں دی ، اپنی ساری امید پرستی کے باوجود گزرجانے والوں کی یاد اس قدر بھاری تھی کہ کوئی خوش کن خواب پلکوں پر اس نے سجانے نہیں دیا ، صبا دشتیاری، ڈاکٹر شبیہ الحسن ، استاد سبط جعفر ، ڈاکٹر علی حیدر سمیت کئی چہرے سامنے آئے اور سوال ایک تھا کہ کیا علم و آگاہی سے سرفراز ہونے اور اس کی روشنی گھر ،گھر پہنچانے کا صلہ ہماری زندگیوں کے چراغ گل کرنا ہی تھا ؟ میں نے سال 2014ء کے ختم ہوتے ہی یکم جنوری 2015 ء کے آغاز پر ہی امید پرستی کو آواز دینا چاہی تو وہ مجھے بہت دور کھڑی نظر آئی اور میں نے اپنے جھکے سر کو مزید جھکا لیا اور سیکنہ علی زیدی کو بغیر ” نیا سال مبارک ہو ” کہے بغیر سکائپ بند کردیا اور گھر لوٹ آیا;

Source:

http://aamirfiction.blogspot.com/2014/12/blog-post.html