Original Articles Urdu Articles

میڈیا میں اعتدال پسندی کی پوشاک پہنے انتہا پسند، تکفیری دہشت گردوں کو نشریاتی سپیس دے رہے ہیں – وسعت اللہ خان

aswj2nsludh

اس وقت تو ضرورت تھی کہ انتہا پسند نظریے کے خلاف اعتدال پسندی اور رواداری کو فروغ دینے والی اسلامی روایات کو زیادہ نشریاتی سپیس ملتی۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ اس خلا کو اعتدال پسندی کی پوشاک پہنے انتہا پسند تندہی سے پر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور انھیں چیلنج کرنا تو کجا ان کی سرزنش کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ نہ ان کے اپنے اداروں میں اور نہ ہی ضابطۂ اخلاق نافذ کرنے کے دعویدار پیمرا جیسے اداروں میں کوئی ہے جو یاد دلائے کہ زبان کی دہشت گردی تلوار کے ظلم سے بھی زیادہ بھیانک قاتل ہے۔ جس سے بھی پوچھو یہی کہتا ہے، ’او چھڈو جی ان زہریلوں کے منہ کیا لگنا آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔

برا ہو اس منحوس لفظ ریٹنگ کا اور کیڑے پڑیں اس ناہنجار مارکیٹنگ کلچر میں جو تمام منافع بخش زہریلوں کی چھتری بنا ہوا ہے۔ عرض صرف اتنا کرنا ہے کہ سامنے کی دہشت گردی کا صفایا کرنے سے کچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔ کیونکہ آپ کے عقب میں، آپ ہی کے درمیان آپ ہی کے راج دلارے جو باریک کام دکھا رہے ہیں اس کے آگے دس شمالی وزیرستان بھی کچھ نہیں بیچتے۔

نوٹ: ان نام نہاد اعتدال پسندوں میں پیش پیش میڈیا کے وہ نمایاں نام ہیں جو لدھیانوی، مفتی نعیم، فضل الرحمن خلیل، اورنگزیب فاروقی، عبد العزیز، سمیع الحق، رفیع عثمانی جیسے تکفیری دیوبندی خوارج اور ان کے سرپرستوں اور عذر خواہوں کو ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر جگہ دیتے ہیں جیسا کہ نجم سیٹھی، حامد میر، سلیم صافی، مہر بخاری، غریده فاروقی و دیگر – جب تک پاکستانی قوم تکفیری خوارج اور ان کے نام نہاد لبرل مددگاروں کے خلاف یک آواز نہیں ہوتی، پشاور میں معصوم بچے، کوئٹہ میں معصوم شیعہ ہزارہ، لاہور میں معصوم احمدی، درباروں اور مزاروں پر معصوم سنی بریلوی اور گرجا گھروں میں معصوم مسیحی موت کے گھاٹ اتارے جاتے رہیں گے

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141229_verbal_terrorism_zis