Featured Original Articles Urdu Articles

بینظیر شہادت: القاعدہ، طالبان اور دیوبندی مولوی سمیع الحق کے مدرسے کا مشترکہ آپریشن – نور درویش

شہید بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے سینئر صحافی سہیل وڑایچ نے اپنے پروگرام میرے مطابق میں ان خفیہ عوامل سے پردہ ھٹایا جن پر آج تک اتنی کھل کر بات نہیں کی گئی۔

سہیل وڑایچ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں جتنی مفصل تحقیقات بینظیر قتل کی کی گیئں اتنی شائد ھی کسی قتل کی کی گئی ھو، لیکن ان کو منظر عام پر لانا اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا اتنا آسان نہیں۔

سھیل وڑایچ نے، ایمن الظواھری، بیت المحسود، مصطفی ابو یزید اور پنجابی طالبان سمیت مولانا سمیع الحق کے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کا نام لیا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں نہ صرف القائدہ اور طالبان بلکہ وہ تمام عناصر شامل ھیں جو ماضی میں طالبان کو سپورٹ کرتے رھے اور انہیں گڈ طالبان کہتے رھے۔ ان میں سے کچھ پس پردہ تھے اور کچہ پردے کے سامنے۔ سیعد عرف بلال، جس نے فائرنگ اور خود کش دھماکہ کیا، اس کی ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ھوا کہ وہ وزیرستان کا رہاشی تھا۔

یہ کہنا غلط نہ ھوگا  کہ سلفی تکفیری نظریات کی حامل تنظیم القائدہ نے پاکستان میں تکفیری نظریات کے علمبردار دیوبندی تکفیری طالبان، پنجابی طالبان کی مدد سے بینظیر کے قتل کا منصوبہ بنایا جس میں اھم کردار مولوی سمیع الحق کے مدرسے  نے ادا کیا۔ اس پورے منصوبے کی منصوبہ بندی اسی مدرسے میں کی گئی، مولوی سمیع الحق اگر اس سے غافل تھے تو یہ بذات خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ھے اس مدرسے اور دیگر دیوبندی مدرسوں کے اوپر جن کی مانیٹرنگ کے مطالبے پر مولوی فضل الرحمن سمیت بہت سے دیوبندی مولوی احتجاج کر رھے ھیں۔

ھم بھی بقول سہیل وڑایچ مولوی سمیع الحق کو اس قتل کا براہ راست ذمہ دار نہیں کہہ رھے البتہ ان کے مدرسے سے اس قسم کے واقعات کا جڑنا  ان کے مدرسے پر کئی سوالیہ نشان لگا دیتا ھے۔ وھی سمیع الحق جو طالبان کو اپنا بچہ کہا کرتے ھیں، جو ملا عمر کے استاد ھیں اور طالبان جن کو اپنا روحانی باپ کہتے ھیں۔

آپ بھی یہ پروگرام ملاحظہ کیجئے۔ اس میں کئی پس پردہ عوامل پر بات کی گئی ھے جن پر بات کرنے کی شائد پپلز پارٹی کو بھی جرات نہیں ھے۔


Meray Mutabiq – 27 December 2014 by NewsPak

 بینظیر جیسی ھمہ گیر شخصیت کی شھادت دراصل مطالبہ کرتی ھے کہ اس ملک میں مدرسوں کی بلا امتیاز مانیٹرنگ کی جائے اور اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اگر دارعلوم حقانیہ جو کہ ایک قدیم مدرسہ ھے اس سانحے میں کردار رھا ھے تو ھمیں رحمن ملک کے اس بیان پرغور کرنے کی ضرورت ھے جس پر ان سے زبردستی معذرت کروائی گئی تھی۔ انہوں نے تبلیغی جماعت کو دہشت گردوں کی نرسری قرار دیا تھا۔ اگر ھم نے آج تمام تر مصلحتوں سے بالا تر ھوکر بلا امتیاز تمام مدرسوں کی رجسٹریشن اور ان کی کڑی نگرانی کا قانون نہ بنایا تو مستقبل میں انہیں مدرسوں کے طالب علم عالمی تکفیری طاقتوں کیلئے بہت شوق سے استعمال ھوتے رھیں گے۔ پہلے وہ القائدہ تھی اور اب داعش ھو سکتی ھی، جس کی بیعت پہلے ھی سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت تحریک طالبان کر چکی ھے۔ تعصب اور دہشت گردی کی ان فیکٹریوں کی نگرانی ضروری ھے۔ اس کام میں اگر مولوی فضل الرحمن اور نون لیگ سمیت کوئی بھی جماعت اعتراض کرتی ھے تو سمجھ جایئے یہ سب تکفیری نواز ھیں اور پاکستان میں معصوموں کی قتل میں شریک ھیں۔ 

 

About the author

Noor Darwesh

3 Comments

Click here to post a comment
  • ٹھیک ہے کہ مولانا سمیع الحق کا مدرسہ استعمال ہوا ہے لیکن مولانا سمیع الحق کے مدرسے سے لیکر ٹارگیٹ تک پہنچانے میں سہولت کس نے پہنچائی جس کا ذکر تحقیق کار چلی کے سابق سفیر کی رپورٹ میں جس کو محترمہ کی پارٹی نے رد کیا ہے

    • سهیل وڑائچ نے ان سہولت کاروں کا بهی ذکر کیا هے. بات گهوم پهر کر صرف اور سرف تکفیریوں تک آتی هے. پاکستان کے دیوبندی تکفیری اور القائدہ کے سلفی تکفیری.

  • Thats right all murderd by talban alqaida and devebind which sport talban and alqaida but allah look to kafer who murderd innocent people