Original Articles Urdu Articles

سعودی عرب کی کچھ یادداشتیں: حنفیوں، دیوبندیوں، سنی بریلویوں اور شیعوں کے خلاف سلفیوں کا نظریاتی جہاد ۔ از نور درویش

سعودی عرب کی کچھ یادداشتیں

بہت عرصہ سے دل میں خواہش تھی کہ ان واقعات و تجربات کو تحریری شکل دوں جو سعودی عرب میں قیام کے دوران مجھے حاصل ھوئے۔ یادداشتیں تو بہت سی ھیں لیکن کچھ ایسی ھیں جن کو سپرد قلم کرنا ضروری سمجھتا ھوں۔ مزید لکھنے سے پہلے یہ واضح کر دوں کہ نہ تو میں کوئی عالم ھوں اور نہ ھی بین المسالک اختلافات کا کوئی ماھر۔ میں اس مضمون میں فقط اپنے مشاھدات رقم کر رھا ھوں جن میں سے بہت سوں نے ابتدائی طور پر مجھے نہ صرف ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ مجبور کیا کہ اس دشت کی سیاحی کیلئے مزید کوشش کی جائے۔

سعودی عرب کا مشرقی صوبہ الشرقیہ دو چیزوں کی وجہ سے مشہور ھے، تیل کے ذخائیر اور شیعہ آبادی۔ اتفاق سے میرا قیام اسی خطہ میں تھا۔ قطیف اور اس کے مضافات کا احوال پھر کبھی سہی۔

اپنے قیام کے دوران میری ملاقات اتفاقا پاکستان کے قبائلی علاقے بنیر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے ھوئی، ان کا نام پرویز فرض کر لیجئے۔ پرویز صاحب کی بنیادی تعلیم تو غالبا انٹر میڈیٹ یا گریجویشن تک تھی لیکن مختلف موضوعات کے بارے میں مطالعہ اور کتب بینی کے بہت شوقین تھے۔ ان موضوعات میں مذھب، تاریخ اور حالت حاضرہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔

ابتدائی گفتگو دوران انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مسلک کے حساب سے دیوبندی ھوا کرتے تھے لیکن سعودی عرب میں قیام کے دوران انہوں نے مسلکِ اھلحیث  اختیار کر لیا۔ البتہ ان کا باقی خاندان اب بھی دیوبندی ھے۔ لہذا وہ دیوبندی مکتب فکر کے بہت بڑے ناقد تھے، انہیں گمراہ فرقہ کہا کرتے تھے، بریلویوں کو مشرک اور شیعوں کو تو وہ پکا کافر سمجھتے تھے، جس پر مجھے قطعا حیرت نہ ھوتی تھی۔ میں یہ اقرار کرتا ھوں کہ میرے لیئے یہ سب باتیں اس وقت بالکل نئی بلکہ حیران کن تھیں چونکہ مجھے اھلسنت حضرات کے اندر موجود اختلافات کی نوعیت کا قطعا علم نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں پرویز صاحب کے وسیلے سے جتنا ممکن ھو سکے، مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کروں گا۔ پاکستان میں اکثر مساجد کے باھر اھلسنت بریلوی حنفی، یا دیوبندی حنفی اور اھلحدیث جیسے الفاظ پڑھنے کو ملتے تھے، لیکن کبھی تفصیلا ان باتوں پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا۔

پرویز صاحب نے مجھے بتایا کہ کس طرح تقلید (جسے تقلید جامد کہتے ھیں) کی وجہ سے واضح احادیث کی موجودگی میں ایمہ اربعہ کی رائے یا فتوی کو فوقیت دی جاتی ھے۔ انہوں نے مجھے اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابیں اور اردو زبان میں دیئے جانے والے مختلف بیانوں کے بارے میں بتایا۔ اس سلسلے میں جن موصوف کا نام وہ بار بار بتاتے رھے وہ معراج ربانی صاحب تھے، یہ وہ ھی موصوف ھیں جن کا حوروں سے متعلق ایک ایمان افرز بیان فیس بک پر کافی مشہور ھے۔ پرویز صاحب کے مطابق معراج ربانی ویسے تو ھر مسلک کے خلاف بات کرتے ھیں لیکن تبلیغی جماعت ان کا خاص موضوع ھے۔ معراج ربانی صاحب کا تعلق انڈیا سے ھے اور وہ سعودی عرب میں اسلامی دعوہ سینٹر الجبیل کے امیر ھیں۔ پرویز صاحب کے مطابق معراج ربانی صاحب کی ماھانہ اجرت پچاس ھزار ریال تھی، جبکہ سرکاری گھر اور دیگر سہولیات اس کے علاوہ تھیں۔ یہ بات سنہ ۲۰۰۴ کی ھے، لہذا ان کا موجودہ پیکج میرے علم میں نہیں ھے۔ پرویز صاحب کے مطابق معراج ربانی صاحب کو انڈیا کے مختلف دیوبندی علماء کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی رھتی تھیں جس کی وجہ ان کا تبلیغی جماعت اور دیوبندیوں کے بارے میں سخت موقف تھا۔ کچھ نے تو ان کے قتل پر انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔  

میں بہت حیرت سے ان سے پوچھا کرتا تھا کہ خان صاحب پاکستان میں جب کبھی بھی  یا اللہ مدد، میرے لیئے اللہ ھی کافی ھے، شرف بدعت، مزاروں پر جانا جائز نہیں اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ درود اور ختم دلانا بدعت ھیں، جیسی باتیں سنیں ھمیشہ ایک ھی فکر کے زرئعے سنیں جس کو وھابی کہتے ھیں۔ چاھے وہ تبلیغی جماعت والےھوں یا کوئی اور۔ بلکہ یہ تک سنا کہ تبلیغی جماعت والے حضرات سعودی عرب کے ھمخیال ھیں اور اسی مسلک کے لوگوں کی مالی معاونت بھی کی جاتی ھے جن میں کچھ فرقہ پرست جماعتیں بھی شامل ھیں۔ اس پر پرویز صاحب نے بتایا کہ سعودی عرب کا آفیشل مذھب سلفی ھے جسے پاکستان میں اھلحدیث کہتے ھیں، یہ لوگ تقلید کے قائیل نہیں ھیں اور ھر بات قران و حدیث سے لیتے ھیں۔ ان کے مطابق وھابی نام در اصل مخالفین کا دیا ھوا ھے جس کی نسبت شیخ عبدالوہاب سے ھے جو کہ سلفی فکر کا بانی سمجھا جاتا ھے البتہ خان صاحب ک مطابق سلفی حضرات اس بات کو نہیں مانتے بلکہ وہ سلفی مذھب کو ابن تیمیہ کے نظریات سے متاثر فکر کہتے ھیں۔ میں نے اس پر برجستہ پوچھ لیا کہ اگر آپ ابن تیمیہ سے متاثر ھیں تو کسی نہ کسی انداز میں تقلید تو آپ بھی کر رھے ھیں، جس پر وہ غصے میں آگئے اور کہنے لگے ایسا بالکل نہیں ھے، ھم ھر بات قران و حدیث سے لیتے ھیں صحابہ سے لیتے ھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کافی اھلسنت اکابرین ابن تیمیہ کے نظریات پر کڑی تنقید کرتے ھیں تو ان کا کہنا تھا کہ صرف اھلحدیث مکتب فکر سے حسد کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ھے۔

البتہ اس بات سے پرویز صاحب متفق تھے کہ ان تمام تر نظریاتی اختلافات کےباوجود سلفیوں اور دیوبندیوں میں مزارات و اولیاء اللہ کے عرس، شیعوں اور بریلیوں کے بارے میں نکتہ نظر اور شرک و بدعت جیسی باتوں پر مماثلت پائی جاتی ھے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے  کہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی چیزیں تنظیمیں سعودی عرب کے ھی چندے پر چلتی ھیں۔ اس بات کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ آج کے دور میں موجود تکفیری خارجی فتنے کو پاکستان میں دیوبندی تکفیری تنظیموں کے ذریعے ھوا دی جاتی ھے اور یہ تکفیری خارجی فتنہ شام و عراق میں سلفی نظریات کی سخت گیری کو استعمال کرتے ھوئے کبھی داعش، کبھی القائدہ اور کبھی فری سیریئن آرمی کی صورت میں سر اٹھاتا ھے۔ یہ فتنہ جب حد سے بڑھ جاتا ھے تو سب سے پہلے بادشاہت کیلیئے ھی خطرہ بن جاتا ھے، جیسا کہ القائدہ کا  معاملہ رھا۔پاکستان میں تکفیری اور خارجی نظریات کی ترویج کا کام دیوبندیوں سے لیا جا رھا ھے، جن میں سپاہ صحابہ، لشکر  جھنگوی، تحریک طالبان کے نام نمایاں ھیں۔  ان تمام فتنوں کیلئے ناصبی کا لفظ سب سے موزوں ھے۔

لشکر طیبہ اور جماعت دعوہ دونوں سلفی تنظیمیں ھیں جبکہ حافظ عبدالرحمن مکی کو بالخصوص بہت پروٹوکول   اور اھمیت حاصل ھے   سعودی عرب میں۔  اس پروٹوکول میں وہ سب سہولیات شامل ھیں جن کا ذکر معراج ربانی کے حوالے سے کیا گیا۔

ایک بات میں نے ان سے پوچھا کہ سعودی عرب کا سرکاری مذھب تو سلفی ھے تو کیا تمام سعودی بھی سلفی ھیں؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ سعودیوں کی اکثریت شافعی مذھب پر مشتمل ھے لیکن اس میں انہوں نے اضافہ کر دیا کہ شافعی مذھب سلفیوں کے قریب ھے، جس پر میں نے حیران ھو کر پوچھا کہ کیا اسی وجہ سے معراج ربانی جیسے حضرات سارا نزلہ حنفیوں پر ھی گراتے ھیں کیونکہ شافعیوں پر اعتراض مہنگا پڑ سکتا ھے؟ پرویز صاحب غصے میں آگئے اور کہا نہیں ایسا نہیں ھے۔ ایک دفعہ معراج ربانی صاحب نے عرب ممالک کا نام لیکر کہہ دیا تھا کہ آپ لوگ بھی شرک بدعت اور اندھی تقلید میں مبتلا ھیں، جس پر ایک بڑے سعودی شافعی عالم دین نے بہت شور مچایا تھا اور پھر معراج ربانی صاحب نے وضاحت کی کی وہ تو صوفیوں کہ کہہ رھے تھے، شافعی تو سلفیوں کے قریب ھیں۔

پرویز صاحب نے مزید یہ بھی بتایا کہ تمام مساجد میں البتہ پیش امام حکومت کے مقرر کردہ سلفی ھوتے ھیں۔ محکمہ تعلیم پر سلفی عقاید رکھنے والوں کا اختیار ھے۔ آل شیخ اس تمام مذھبی نظام کو چلا رھا ھے۔ البتہ کچھ گنی چنی مساجد میں شافعی پیش امام بھی موجود ھوتے ھیں لیکن اس کے بارے میں ان کی معلومات محدود تھی۔ کچھ مساجد میں انڈیا اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے سلفی تنخواہدار مولوی بھی ملازمت کرتے ھیں اور کچھ میں بنگالی بھی۔

پرویز صاحب کے مطابق مقلدین حضرات اھلحدیث کو سنی یا اھلسنت نہیں مانتے جب کہ اھلحدیث حضرات اپنے کو ھی اصل اھلسنت کہتے ھیں۔  البتہ میں نے محض معلومات کیلیئے یہ پوچھ لیا کہ سنی یا اھلسنت یا اھلسنت والجماعت کہنا کس حدیث سے ثابت ھے تو پرویز صاحب نے اس کا جواب بھی جید محدثین کے کھاتے میں ڈال دیا کہ یقینا اس کے بارے میں کوئی حدیث ھوگی جس کا انہیں علم نہیں تھا۔ النتہ اھلحدیث کے حق پر ھونے کے بارے میں انہوں نے اکثر خوابی بشارتوں کا ذکر ضرور فرمایا جو غالبا کچھ سلفی مولویوں کو ھوئیں تھیں۔ جوابا میں نے بھی کچھ خوابی بشاترتوں کو ذکر کر دیا جو دیوبندی اور بریلویوں کو ھوئیں تھیں۔ اس طرح بات وھیں ختم ھوگئی۔

ایک روز میں نے پرویز صاحب سے اھل قطیف کے بارے میں پوچھ لیا۔ بس پھر کیا تھا، ایسا لگ رھا تھا جیسے ایک اچھے بھلے پڑھے لکھے انسان کے اندر سے ایک تعصب کا پتلا نکل آیا ھو۔ شام غریباں سے لیکر اخلاق سے گری ھوئی ھر بات انہوں نے عبادت سمجھ کر کی اور آخر میں فتوی بھی دیا کی یہ پکے کافر ھیں۔ جس پر میں نے دریافت کیا کہ پھر کافر مکہ اور مدینہ میں کیسے آجاتے ھیں؟ جس پر پہلے تو وہ گڑبڑا گئے اور پھر ان کا کہنا تھا کہ ایران بہت طاقت ور ھے، اس کی وجہ سے آجاتے ھیں۔ میں نے کہا لیکن کسی ایک ملک کی وجہ سے آپ مکہ اور مدینہ کاے بارے میں ایک حکم کی خلاف ورزی کیسے کر لیں گے؟ جس پر انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ چلیں کافر ڈیکلئر نہیں ھیں لیکن ھم تو یہ ھی کہتے ھیں کہ وہ صحابہ کو برا کہتے ھیں اس لیئے کافر ھیں۔ جس پر میں نے بچ بچا کر بول دیا کہ خان صاحب میرا ایک شیعہ دوست جنگ صفین اور امیر معاویہ کا ذکر کرتا تھا کہ کس طرح اس کے دور میں حضرت علی (ع) پر سب و شتم کیا جاتا تھا، تو اس بارے میں ھم کیا جواب دیں گے انہیں؟ خان صاحب کا جواب بہت عجیب تھا کہ ھمارے علماء منع فرماتے ھیں صحابہ کے اختلافات اور ان جنگوں پر بات کرنے کیلئے۔ البتہ غیر یقینی ان کے چھرے پر واضح تھی۔ اس پر میں نے ازراہ استفسار ایک معصومانہ سوال اور کر دیا کہ آپ کے روحانی پیشوا اس امام ابن تیمیہ کا کیا نظریہ ھے اس بارے میں؟ خان صاحب کو تو معلوم نہیں تھا البتہ میں نے فرضی شیعہ دوست کا نام لیکر انہیں الصارم المسلول کتاب کا پڑھنے کا کہہ دیا جس میں ابن تیمیہ کا قول موجود تھا کہ صحابہ کو برا کہنے سے کوئی کافر نیں ھو جاتا کیونکہ بہت سے صحابہ ایک دوسرے کو برا کہہ دیا کرتے تھے۔ خان صاحب نے خاموشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سےمجھے دیکھا جیسے ان کو مجھ پر شک گذر رھا ھو۔ جس کا فوری ازالہ میں نے دعوت اسلامی کے مولانا الیاس قادری کی تعریف کر کے کر دیا اور پرویز صاحب مطمئن ھوگئے کہ یہ شیعہ نہیں کوئی بریلوی مشرک ھے۔

 ایک حدیث جو وہ مجھے بار بار سنایا کرتے تھے اس کا مفھوم کچھ یوں تھا کہ میرے صحابہ آسمان کے ستارے ھیں، ان میں سے کسی کی بھی پیروی کر لو۔ صحاح ستہ کے بارے میں بات کرتے تھے کہ ان میں صحیح بخاری سب سے اھم ھے جسے قران کے بعد سب سے صحیح اور مستند کتاب کہا جاتا ھے۔ جب میں نے پوچا کہ یہ کس حدیث سے ثابت ھے تو وہ کچھ لمحوں کے لیئے گڑ بڑا گئے اور پھر سنبھل کو بولے، یہ تو جید محدثین کی رائے ھے جن کو حدیث کا علم تھا۔ البتہ سوال ان کو کنفیوز کر چکا تھا۔ انہوں نے اپنی دانست میں شدید ایمانداری کا مظاھرہ کرتے ھوئے کہا کہ میں پھر بھی اس سوال کا جواب آپ کو پوچھ کر بتاوں گا، جس کا میں انتظار ھی کرتا رھہ گیا۔

 انہوں نے مجھے مزید حیرت میں یہ کہہ کر ڈال دیا کہ سعودی عرب میں تبلیغی جماعت سرکاری طور پر ممنوع ھے۔ اور یہ ھی صورتحال جماعت اسلامی کی ھے۔ ان کا اشارہ صرف جماعتی سرگرمیوں کی جانب نہیں تھا، بلکہ علمی و نظریاتی لحاظ سے بھی وھاں ان دونوں جماعتوں کا کوئی لٹریچر رکھنے یا اس کی ترویج کرنے کی اجازت نہ تھی۔ بریلویوں اور شیعوں کا تو ذکر ھی نہ کیجئے۔  اھلحدیث اور دیوبندی حضرات کے مابین اختلافات کی شدید نوعیت کا ذکر کرتے ھوئے کبھی کبھی وہ اتنا جذباتی ھو جاتے تھے کہ دیوبندیوں کا سیدھا سیدھا کافر ھی کہہ دیتے تھے۔ وہ اپنی ان لڑائوں کا ذکر بھی کرتے تھے جو ان کی ان کے جو تبلیغی جماعت کے دوستوں سے ھوتی رہتی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ تبلیغی جماعت کی اھم ترین کتاب فضائیل اعمال پر پرویز صاحب کے کڑے اعتتراضات تھی۔ پرویز صاحب نے یہ تمام دلائیل معراج ربانی کی زبانی سن رکھے تھے جن کے مطابق اس کتاب کا پڑھنا کفر ھے۔ اس میں ضعیف احادیث کو جمع کیا گیا ھے اور اس کو پڑھنا اسلام سے اخراج کا سبب بن سکتا ھے۔ یقین جانئے یہ سب میرے لیئے بہت حیران کن تھا۔ لیکن جب پرویز صاحب نے مجھے صوابی، مردان اور دیگر اضلاع میں منعقد ھونے والے اھلحدیث دیوبندی، دیوبندی بریلوی، بریلوی اھلحدیث مناظروں کا احوال بتایا تو میں حیرتوں کے سمندر میں ڈوب گیا۔ ان کےمطابق یہ مناظرے بندوقوں کی موجودگی میں ھوا کرتے ھیں اور اکثر ان کا اختتام تصادم کی صورت میں بھی ھوتا ھے۔ یہ سب سن کر مجھے اندازہ ھوا کہ پاکستان میں ھر مسجد کے باھر تختی پر مسلک کا نام لکھنے کی کیا وجہ ھے جس میں اکثر یہ اضافہ بھی ھوا کرتا ھے کہ غیر مقلدوں کا داخلہ ممنوع ھے، یہ مسجد اھلسنت والجماعت دیوبندی حنفیہ کی ھے وغیرہ وغیرہ۔ آج بھی جب یو ٹیوب پر موجود دیوبندی اھلحدیث مناظرے نظر سے گذرتے ھیں تو پرویز صاحب کی بہت یاد آتی ھے۔ مناظرے سے زیادہ محلے کی لڑائی کا منظر ھوتا ھے۔

اھلحدیث اور دیگر مسالک کے مابین اختلاف کے بارے میں پرویز صاحب سے میں نے اتنی گفتگو کر لی کہ انہیں گمان ھونے لگا کہ شائد میرا رجحان اھلحدیث مسلک اختیار کرنے کی جانب بڑھ رھا ھے۔ چنانچہ اس کار خیر کیلئے انہوں نے مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ھمراہ اسلامی دعوہ سینٹر چلوں اور وھاں موجود مکتب داراسلام میں موجود کتابوں کے ساتھ وقت گذاروں۔ میں نے یہ دعوت فورا قبول کر لی۔

جمعہ کے روز میں پرویز صاحب کے ساتھ  دعوی سینٹر پہنچ گیا۔ دوپہر کا وقت تھا اور اندر مختلف ھال نما کمروں میں مختلف زبانوں میں بیان جاری تھے۔ ایک طرف کتاب خانہ تھا جسے دار السلام کہا جاتا ھے۔ ھم لوگ وھاں چلے گئے۔ کاونٹر پر انڈیا کی ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والا نوجوان لڑکا بیٹھا ھوا تھا۔ پرویز صاحب نے گویا اپنی تبلیغ کا آغاز کرنے کیلئے اس جوان سے مختلف کتابوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں خود دیکھ لوں گا آپ تکلیف مت کریں۔

albani

ایک چیز جو میرے لیئے حیران کن تھی کہ وقفے وقفے سے اس نوجوان کے پاس فون آتا تھا جس میں صرف فضایل اعمال کتاب کے بارے میں پوچھا جاتا تھا اور نوجوان جواب میں تبلیغی جماعت کی فضایل اعمال کو کفر و شرک اور گمراہی کا ذریعہ کہتا تھا۔ اصل فضایل اعمال جو کہ سلفی تحقیق کے مطباق لکھی گئی تھی کو پڑھنے کا کہتا تھا۔  موقعے سے فائدہ آٹھاتے ھوئے میں نے موصوف سے کہا کہ فضایل اعمال ملے جائگی؟ اور اس کی جیسے دل کی مراد پوری ھوگئی۔ اس نے مجھے دیوبندیوں کی فضایل اعمال کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور جلدی سے اصل فضایل اعمال اٹھا کر لے آیا، کہ یہ پڑھیں آپ۔ اس نے بتایا کہ دیوبندی مولانا زکریا کی تحریر کردہ فضایل اعمال میں ضعیف حدیثوں کو جمع کیا گیا ھے جن کو پڑھنا کفر ھے۔ اس نے مجھے معراج ربانی کی سی ڈی بھی سننے کو کہا جس میں اس کے بقول تبلیغی جماعت کا آپریشن کیا گیا ھے۔ 

fazael

 میں نے اگلا سوال مولانا مودودی کی تفھیم القران کے بارے میں پوچھ لیا، جواب میں اس تفسیر کہ بھی کفر کا مرکز قرار دے دیا گیا۔ اس پر پرویز صاحب نے بتایا کہ کچ سال قبل تک کچھ مساجد میں اردو تفھیم القران نظر آتی تھی لیکن پھر اسے ممنوع قرار دے دیا گیا۔ سعودی عرب میں صرف سلفی مولویوں کی تفاسیر ملیں گی۔

کتاب خانہ کے اردو کتب کے حصے میں بریلویوں، دیوبندیوں، شیعوں اور احمدی یا قادیانیوں کے خلاف کتابیں وافر مقدار میں نظر آرھی تھیں۔ واقعہ کربلا کے بارے میں ایک کتاب نظر آئی جس میں یزید کا نام انتہائی ادب سے لیا گیا تھا، جس کو میں نے فورا بند کر کے واپس رکھ دیا۔ آج جب ملعون سلفی مولوی توصیف الرحمن کی کربلا کے بارے میں ھرزہ سرائی سنتا ھوں تو وھی کتاب یاد آجاتی ھے۔

اسی اثنا میں مجھے ایک کتاب نظر آئی جس کا نام احادیث ضعیفہ کا مجموعہ تھا۔ یہ اردو ترجمہ تھا علامہ ناصر الدین البانی کی کتاب کا۔ میں نے کتاب کھولی اور جس حدیث پر سب سے پہلے نظر پڑی وہ وھی حدیث تھی جو پرویز صاحب اکثر مجھے سنایا کرتے تھے، صحابہ کی پیروی سے متعلق۔ میں نے پرویز صاحب کو بلایا اور حدیث ان کے سامنے رکھ دی۔ خود میں تبلیغی جماعت کی حقیقت نامی کتاب کی طرف متوجہ ھو گیا۔ پرویز صاحب البتہ کچھ پریشان ھوگئے۔

میں نے مکتب داراسلام میں کافی گھنٹے گذارے، تفصیل سے تمام اردو کتابوں کا جائزہ لیا، جن میں ابستام الہی ظہیر سے لیکر بہت سے دیگر سلفی مولویوں کی کتابیں موجود تھیں۔ البتہ میرا رجحان زیادہ تر ان کتابوں پر رھا جو دیوبندیوں کے خلاف لکھی گیئں تھیں، بالخصوص تبلیغی جماعت۔ ان کتابوں کے ناموں سے ھی اندازہ ھو جاتا تھا کہ کتاب کے اندر کیا ھوگا۔

پرویز صاحب نے اپنی دانست میں تبلیغ کی نیت سے کچھ کتابیں خریدیں جبکہ میں نے صرف ناصر البانی کی کتاب احادیث ضعیفہ کا مجموعہ اور ایک تفسیر قران  خریدی۔

اس تفسیر میں اکثر مقامات پر بلا وجہ بادشاہت کے دفاع میں بھی گفتگو کی گئی تھی، جس کے بارے میں جب میں نے پرویز صاحب سے پوچھا تو انہوں نے نہایت فخر سے جواب دیا کہ اگر بادشاہت سعودی عرب جیسی ھو جہاں اسلامی نظام لاگو ھو تو اس سے اچھی کیا بات ھے۔ میں نے مزید بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور مفسر صاحب کو اپنے دل میں ھی درباری ملا کا خطاب دینے پر اکتفا کر لیا۔

شام تک ھم لوگ دعوی سینٹر سے روانہ ھوئے، باھر نکلے تو ایک بڑی سکرین پر معراج ربانی کا بیان چل رھا تھا۔ سامنے کرسیوں پر بہت سے لوگ بیٹھے ھوئے نھایت انہماک سے بیان سن رھے تھے۔ ربانی صاحب امت کے اختلافات اور اتحاد کی اھمیت پر گفتگو فرما رھے تھے۔ بتا رھے تھے کہ کس طرح اتحاد قائم ھو سکتا ھے اور وقتا فوقتا تبلیغی جماعت اور بریلوی حضرات پر طنز بھی فرما رھے تھے۔ شیعوں کو ذکر کرتے ھوئے تو ان کی آنکھیں انگارے برسانے لگتی تھیں۔  پچاس ھزار ریال تنخواہ اور دیگر سہولیات کے بدلے ایسے اتحاد کا چورن بیچنا گھاٹے کا سودا نہیں۔ خیر مجھے جو جاننا تو وہ میں جان چکا تھا، اس لیئے دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ھوئے اور اپنے والدین کیلئے دعائے خیر کرتے ھوئے وھاں سے روانہ ھوگیا۔

کچھ ماہ بعد عمرہ اور زیارت نبوی شریف کی سعادت کیلئے جانا ھوا۔ جنت البقیع بہنچا۔ حسب معمول ھر اس قبر مطہر جہاں شیعہ اور عقیدتمند سنیوں کے جمع ھونے کا امکان زیادہ ھوتا ھے، وھاں اردو زبان بولنے والے تنخواہ دار مولوی کھڑے ھوئے تھے۔ لوگوں کو رونے سے اور دعا مانگنے سے روک رھے تھے۔ میں بہت دیر کھلے آسمان اور دھوپ تلے موجود اھیلیبیت اطھار (ع) کی قبور مطھر کو دیکھتا رھا اور سوچتا رھا کہ ان کے مصایئب آج بھی ختم نہ ھوئے۔ مولیوں کی آوازیں عقیدتمندوں کے گریہ، درود و سلام کی آوازوں میں دب چکی تھیں۔ بادشاہت تمام تر وسائل کے باوجود لاچار نظر آرھی تھی حق کے سامنے۔ عجیب ماحول تھا، جیسے کربلا کے واقعے کی تمثیل جاری ھو۔ جنت البقیع سے باھر نکلا تو ایک پاکستانی مولوی کے گرد کچھ لوگ کھڑے تھے اور وہ انہیں تبلیغ کر رھا تھا۔ بتا رھا تھا کہ رونا پیٹنا بدعت ھے، یہ سب عبداللہ ابن سبا کے مذھب کے ماننے والے رافضی ھیں اور جو سنی ان کے ساتھ کھڑے ھیں وہ سب بھی بدعتی ھیں۔ اس کی بات سن کر ایک صاحب کو بھی جوش آیا اور انہوں نے شیعوں کی کتابوں سے کچھ اقسابات پیش کرکے سب سے داد وصول کرنا شروع کی۔ کربلا کے واقعے پر اپنے تحفظات بتانے شروع کیئے اور پھر اپنے روحانی پیشوا اعظم طارق کا ذکر کرتے ھوئے کہنے لگے کہ ان کی بڑی خدمات ھیں شیعوں کو مقابلہ کرنے کیلیئے، اس پر سلفی مولوی کیوں پیچھے رھتا۔ اس نے فورا جوابی حملہ کیا اور کہا اعظم طارق کی خدمات تو محدود ھیں اصل خدمات تو احسان الہی ظھیر کی ھیں۔ اور میرے ذہن میں وہ تمام خدمات گھوم گیئں جو میں اپنی آنکھوں سے دعوی سینٹر میں دیکھ کر آیا تھا۔

میں نے ایک مرتبہ اپنے عقب میں موجود روضہ رسول (ص) کو فریادی نظروں سے دیکھا اور تعصب کے ان پتلوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر وھاں سے روانہ ھوگیا۔ 

About the author

Noor Darwesh

4 Comments

Click here to post a comment