Original Articles

دورِ حاضر کی مسجد ضرار کا بانی تکفیری مولوی عبدالعزیز۔ از نور درویش

2014-12-19-15-23-3112772_L

پشاور کے سانحے کے بعد بیشتر دیوبندی تکفیری نواز جماعتوں کو تو سانپ سونگھا ھوا ھے کہ کہیں غلطی سے ان کے منہ سے اپنے مائی باپ طالبان کے خلاف کوئی کفر نہ سر زد ھوجائے، البتہ موجودہ دور کی مسجد ضرار کے مولوی عبدالعزیز عرف مولوی برقعہ کی غیرتِ ایمانی پورے جوبن پر ھے۔

پہلے بے حسی کی انتہا کا مظاھرہ کرتے ھوئے ان معصوم پھولوں کے قتل عام کو نہ صرف پاک فوج کی غلط پالیسی کا رد عمل قرار دیا اور ٹی وی اینکر کے بارہا استفسار کے باوجود طالبانی درندوں کی مذمت سے صاف انکار کردیا۔

 

اس بے غیرتی کے رد عمل میں اسلام آباد کی قابل تعریف سول سوسائیٹی نے مسجد ضرار کے سامنے ایک زبردست احتجای مظاہرے کا آغاز کیا جس میں اس بے حس مولوی کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا، لیکن مہذب اور قانون پسند شہریوں کی طرح پر امن انداز میں۔ پہلے دن تو اس احتجاج کو نیشنل میڈیا نے کور کرنا مناسب نہ سمجھا، البتہ جادو وہی جو سر چڑہ کر بولے۔ سوشل میڈیا کی بدولت اس مظاہرے کی گونج نیشنل میڈیا میں بھی سنائی دی۔ البتہ پولیس نے روایتی تکفییری دیوبندی نواز پالیسی پر عمل پیرا ھوتے ھوئے الٹا پر امن احتجاج کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ البتہ احتجاج کا سلسلہ نہ رکا اور مجبورا  پولیس کو مظاہرین کا مطالبہ ماننا پڑا اور مولوی برقعہ کے خلاف نا قابل ضمانت ایف آئی آر درج کرنا پڑی۔

مولوی برقعہ کے پاگل پن کو مزید تقویت تب ملی جب ایم کیو ایم کے قاید الطاف حسین نے اپنے ٹی لیفونک خطاب میں تکفیری دیوبندی مولوی عبدالعزیز کو گرفتار کرنے اور جامعہ حفصہ کو گرانے کا مطالبہ کیا۔


I demand Army to burn or break Lal Masjid… by sm_raza1

اس مطالبے نے مولوی برقعہ کو مزید سیخ پا کر دیا جو جاری احتجاج کی وجہ سے پہلے ھی تلملایا ھوا تھا۔ چانچہ حسب معمول اپنی تکفیری عیاری استعمال کرتے ھوئے اس نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا اور اپنے تکفیری چمچوں کو معمور کر دیا اس کو سوشل میڈیا پر پھیلانے میں۔ اس تکفیری مولوی نے الطاف حسین کے بیان ہر اپنا رد عمل دینے کے ساتھ ساتھ لال مسجد کے باھر جاری پر امن احتجاج کو فقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی۔ مولوی عبد العزیز کے بقول اس مظاھرے کے پیچھے شیعہ حضرات کا ھاتھ ھے اور وہ ھی یہ احتجاج کر رھے ھیں۔

تکفیری مولوی عبدالعزیز کا سوال سوسائٹٰی کے احتجاج کے خلاف فرقہ وارانہ بیان

جبکہ حقیقت حال یہ ھے کہ اس تکفیری مولوی کے سانحہ پشاور کے بارے میں انتہائی بے حسی پر مبنی بیان نے پورے پاکستان میں اس کے خلاف شدید نفرت کو فروغ دیا ھے۔ درد دل رکھنے والے ھر شخص، چاھے وہ کسی بھی مسلک اور مذھب سے تعلق رکھتا ھو، نے اس خبط الحواس مولوی سے اظہار نفرت کیا ھے۔ یہاں تک کے فیس بک پر موجود پاکستان آرمی سے متعلق مختلف پیجز پر بھی مولوی عبدالعزیز عرف مولوی برقعہ پر شید تنقید کا سلسلہ جاری ھے۔ اس رد عمل سے بوکھلا کر جب مولوی کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے احتجاج کو فرقا وارانہ رنگ دینے کی کوشش شروع کر دی۔

burqa

 

جبکہ سوشل میڈیا پر موجود تکفیریوں کے چیلوں اور اس مولوی برقعہ کے چمچوں نے بھی اپنے روحانی استاد کی آواز پر لبیک کہتے ھوئے سنی بریلوی، صوفی اور شیعہ کے خلاف زھر اگلنا شروع کر دیا۔

ھم یہاں پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری سمجھتے ھیں جس میں انہوں نے طالبان کے ھمدردوں اور ان کے مددگاروں کا پیچھا کرنے اور ان کے خاتمے کا اعادہ کیا تھا۔ ھماری گذارش صرف اتنی ھے کہ براہ کرم اسلام آباد کے وسط میں بیٹھ کر فوج اور عرام کے خلاف زھر اگلنے والے اس تکفیری مولوی کے بارے میں کوئی اقدام کر لیں، بڑا واضح ھدف ھے یہ۔

https://lubpak.net/archives/328454