Featured Original Articles Urdu Articles

دیوبندی مجلس علماء اسلام – شرب کہن نئے لیبل کے ساتھ


پاکستان میں مذھبی سیاست کا یہ خاصا رہا ہے کہ وہ کسی بھی نام سے ہو اپنے فرقہ یا مسلک کے نام پر پاور پالیٹکس کرنے کا ہی دوسرا نام رہی ہے ، پہلے یہ ایک پریشر پالیٹکس کے طور پر سامنے رہی اور 80 ء کی دھائی سے پاکستان کی مذھبی سیاست میں دیوبندی اور اہل حدیث اور جماعت اسلامی کی جانب سے پاکستان کی اس وقت کی فوجی حکومت ، سعودیہ عرب اور امریکہ کے سوویت یونین کے خلاف ” لڑائی میں پیدل سپاہی ” فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا اور اسی ٹھیکے سے ملنے والی طاقت ، پیسہ اور اس سے کھڑی ہونے والی سیاسی ، سماجی ،اقتصادی امپائر سے ایک نئی دیوبندی وہابی سیاست کا ظہور ہوا اور اسی سیاست کے اندر سے تکفیری سیاست بھی اپنے عروج پر جاپہنچی
پاکستان میں 80ء اور 90ء کی دھائی ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کے اداروں میں دیوبندی وہابی لابی کے سرایت کرجانے کا دور بن گئی اور یہ لابی 21 ویں صدی میں افغانستان کے اندر دیوبندی امیر المومنین ملّا عمر کی سربراہی میں بننے والی نام نہاد امارت اسلامیہ کے بعد اور زیادہ پرعزم ہوگئی اور اس نے پاکستان کو بھی ایک دیوبندی وہابی نام نہاد امارت اسلامیہ میں بدلنے کا عزم کرلیا
پاکستان کے اندر افغانستان کی اس دیوبندی امارت کے بارے میں مثالیت پسند پروپیگنڈا شروع کیا گیا اور اس طرح کی کہانیاں پھیلائی گئیں جیسے پوری دنیا میں اس طرح کی حکومت کسی اور ملک میں نہیں ہے جیسی افغانستان کی دیوبندی سٹیٹ ہے ، اس زمانے میں پاکستان کا اردو پریس ، اردو کالم نگاروں کی فوج ظفرموج ، اسی دوران مین سٹریم میڈیا کے متوازی ابھرنے والا نام نہاد ” جہادی پریس ” جوکہ حقیقت میں ” دیوبندی وہابی ” پریس تھا بھی اس دیوبندی ریاست کی تعریف میں زمین آسمان ایک کئے ہوئے تھا
حقیقت یہ تھی کہ جیسے ہی افغانستان میں ملاّ عمر نے کابل پر قبضہ کیا تو کنٹر اور خوست میں سپاہ صحابہ پاکستان ، جیش محمد کے لوگوں کی نہ صرف مسلح کمانڈو ٹریننگ شروع کی گئی بلکہ ان کو دھماکہ خیز مواد پر مبنی ڈیوائسز بنانے کی تربیت بھی ملنا شروع ہوگئی اور یہی وہ زمانہ ہے جب القائدہ کا امیر اسامہ بن لادن اور ایمن الازھروی سوڈان سے افغانستان اپنے پورے وہابی عرب لاؤ لشکر کے ساتھ آن پہنچا اور یوں دیوبندی تکفیری اور وہابی عرب تکفیریوں کا باہمی اشتراک اور اتحاد باقاعدہ ہوگیا اور پاکستان کے اندر ” جہاد ” کے نام پر ایک طرف تو احمدیوں ، مسیحیوں ، ہندؤں کی مذھبی پراسیکوشن ، ان کی عبادت گاہوں پر حملے شروع ہوئے تو دوسری طرف شیعہ اور صوفی مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا
دیوبندی وہابی تکفیری سیاست ” جہادی ” کلچر کے نام پر پاکستان کے اندر سے تکثریت ، رواداری پر مبنی ایک متنوع مذھبی و کثیرالمسلکی روایات کے خلاف سینہ سپر ہوگئی اور 90ء کی دھائی میں شیعہ ، صوفی سنّی ، عیسائی ، احمدی ، ہندؤ ، سیکولر لبرل سب ہی اس دیوبندی وہابی تکفیری سیاست کے بطن سے جنم لینے والی منظم دھشت گردی کا نشانہ بننے لگے
پاکستان کی ریاست کے ادارے انتظامیہ ، مقننہ ، عدلیہ اور غیر رسمی ستون پریس ، اور یہاں تک کہ سول سوسائٹی کے سیکشن جیسے سیاسی جماعتیں ، ٹریڈ یونین ، طلباء تنظیمیں ، تاجر تنظیمیں ، پروفیشنل تنظیموں کے اندر بھی دیوبندی وہابی لابی بہت مضبوط ہوگئی اور یہ سب ملکر پاکستانی ریاست کو حقیقی طور پر سعودی طرز کی یا افغانستان کی نام نہاد امارت اسلامیہ طرز کی ریاست میں بدلنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے اور آج اس لابی کے خدوخال بہت واضح ہوکر سامنے آگئے ہیں
یہ دیوبندی وہابی لابی جس میں بہت سے گروپ اور بہت سی تنظیمں اور بہت سے چہرے ہیں لیکن ان سب کا ایک مشترکہ چہرہ دیوبندی وہابی چہرہ ہے اور ان کا مقصد اس چہرے کو ” اسلام ” اور “جہاد” کے پیچھے چھپائے رکھنا ہے ، اس چہرے کے حامل جج ، فوجی افسران ، سول بیوروکریٹ ، سیاست دان ، صحافی ، لبرل ، سیکولر اور یہاں تک کہ کمیونسٹ ماسک چڑھائے ہوئے لوگ ، مذھب اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ملّا وہ ہیں جو بظاہر خود کو فرقہ پرستی ، تکفیر اور دھشت گردی سے فاصلے پر بتاتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنے تکفیری دھشت گرد بھائی بندوں کو ہر طرح کا کور فراہم کرتے ہیں اور جب کبھی وہ مشکل میں پڑیں تو بھاگ کر ان کا تحفظ کرتے ہیں اور یہ ساری کوشش یہ چہرے اسلام ، اتحاد بین المسلمین اور غلبہ اسلام و نفاز اسلام کے نام پر کرتے رہے ہیں
افغانستان پر امریکی حملے اور افغانستان میں دیوبندی وہابی حکومت کے خاتمے کے بعد جب دیوبندی وہابی دھشت گردوں نے پاکستان کا رخ کیا اور پاکستان کے قبائلی علاقے تو ایک طرف پاکستان کے اربن سنٹرز بھی ان دھشت گردوں کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں بن گئيں اور تحریک طالبان پاکستان کی چھتری تلے تمام تکفیری نام نہاد جہادی دیوبندی وہابی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئیں تو پاکستان کی اکثریتی مذھبی کمیونٹی صوفی سنّی ، شیعہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہندؤ ، عیسائی ، احمدی اور اعتدال پسند جمہوری سیکولر خیالات کے مالک گروہوں کو مرتد ، واجب القتل قرار دے دیا گيا اور ان کو نام نہاد ” اسلامی امارت ” کے قیام میں سب سے بڑی روکاوٹ بتلایا گیا
دیوبندی وہابی تکفیری دھشت گرد تںظیموں کو پاکستانی ریاست اور معاشرے پر بظاہر غلبہ کئے ہوئے دیوبندی وہابی لابی کی طاقت اور اپنے کلنگ مشین کی معجزہ کاری پر اتنا یقین تھا کہ اس نے اپنے صوفی سنّی اور شیعہ مخالف جذبات و خیالات پر پردہ ڈالنا مناست خیال نہ کیا اور ایک تند و تیز دھشت گرد مہم شروع کردی
پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ جس کی اعلی قیادت پاکستانی نیشنلسٹ ہے اور جس نے ایک کنٹرولڈ اور محدود طور پر دیوبندی وہابی فرقہ پرست نام نہاد جہادی پراکسی کو باقی رکھا تھا یہ سوچ بھی نہيں سکتی تھی کہ یہ پراکسی کنٹرولڈ اور محدود نہيں رہے گی اور خود اس کی اپنی نچلی پرتوں سے اسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی ایک منظم دیوبندی وہابی لابی سامنے آجائے گی جس ميں تکفیری عنصر بھی موجود ہوگا
جبکہ دوسری طرف صوفی سنّی اور شیعہ کی مذھبی نمآئندگی کرنے والی سیاسی قیادتوں نے بھی کبھی یہ خیال نہیں کیا تھا کہ وہ دیوبندی وہابی سیاسی مذھبی تنظیموں کے ساتھ ملکر پاکستان کے اندر ” اسلامی نظام ” یا ” نظام مصطفی ” کے لیے جو جدوجہد کررہے ہیں اس کا نتیجہ خود ان کی مذھبی برادریوں کی بقاء کو لاحق شدید خطرات کی صورت نکلے گا اور دیوبندی وہابی لابی پاکستان کی مین سٹریم پالیٹکس میں اپنے پنجے گاڑدے گی کہ ان کے لیے جگہ ہی نہیں بچے گی
مشرف کے آخری دور میں اور پھر پوسٹ مشرف دور میں خاص طور پر مرکز ميں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت اور پنجاب میں مسلم لیگ نوآز کی حکومت کے دور میں شیعہ اور صوفی سنّی برادری کو بہت اچھی طرح سے پاکستان میں بڑھتے دیوبندی وہابی لابی کے سائے نظر آگئے اور خاص طور پر وہ سنّی مذھبی قیادت جو مسلم لیگ نواز کی خاطر اپنے تشخص اور وجود کو قربان کرتی آئی تھی اس نے یہ دیکھ لیا کہ کیسے دیوبندی وہابی لابی کی قیادت میاں نوآز شریف نے سعودیہ عرب کے کہنے سے سنبھال لی اور پنجاب پر اپنا کنٹرول باقی رکھنے کے لیے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے اتحاد بنالیا اور یہ بھی شیعہ اور صوفی سنّی بریلوی نے دیکھ لیا کہ پاکستان کے اندر نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومتوں بشمول پیپلزپارٹی اور اے این پی کی حکومتوں نے دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت اور اس کے اثر میں دھشت گردوں کی پناہ گاہ بننے والے دیوبندی مدارس کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا بلکہ ان کو تحفظ فراہم کیا
یہ وہ پس منظر ہے جس میں پاکستان کے اندر شیعہ اور صوفی سنّی سیاست نے ایک نئے انداز سے کروٹ لی اور صوفی سنّیوں کی جانب سے ایک طرف تو سنّی اتحاد کونسل ، دوسری طرف سے انتہائی منظم تنظیم پاکستان عوامی تحریک سامنے آئی جبکہ شیعہ کی طرف سے مجلس وحدت المسلمین سامنے آئی
اس کے متوازی پاکستان کے اندر سوشل میڈیا اور کسی حد تک انگریزی و اردو پریس میں بھی دیوبندی وہابی لابی کی جڑوں پر تنقید کا عمل شروع ہوا اور خود پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر نیشنلسٹ عناصر نے پاکستان کے اندر تکفیری نیٹ ورک کی کمر توڑنے کا فیصلہ کرلیا
پاکستانی سوسائٹی میں دیوبندی وہابی تکفیری تسلط کے خلاف بڑھتا ہوا شعور اور اس لابی کی خواہشوں کے برعکس آپریشن ضرب عضب اور حال ہی ميں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے امریکہ اور افغانستان کے دورے اور افغانستان کے صدر کی پاکستان آمد اور ایک دوسرے کی سرزمین پر پراکسی بند کرنے کے فیصلے دیوبندی وہابی سیاست کے لیے دھچکے کا سبب بنے ہیں
جبکہ پاکستانی سوسائٹی ميں دھشت گردی کا دیوبندی تکفیری چہرہ مکمل طور پر دھرنا ایپی سوڈ کے درمیان بے نقاب ہوا اور سچی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری ، صاحبزادہ حامد رضا ، علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے تکفیریت اور طالبانی سیاست کے خلاف دھرنے نے پوری دیوبندی وہابی لابی کو بے نقاب کرڈالا اور ان کی سیاست کا دیوالیہ پن ظاہر ہوگیا
یہ بے نقاب ہونے کا عمل ہے جس نے دیوبندی وہابی سیاست کو باہم متحد ہونے اور اپنے اس متحد پلیٹ فارم کے اندر دیوبندی وہابی تکفیری دھشت گردوں کو چھپانے اور کیموفلاج کرنے پر مجبور کیا ہے
مجلس علماء اسلام کے نام سے دیوبندی سپریم کونسل نے جس اتحاد کی بنیاد رکھی ہے ، اس کا پول اثر چوہان نے اپنے ایک کالم میں کھولا ہے جس میں انھوں نے حوالوں کے ساتھ ثابت کیا کہ کیسے دیوبندی مذھبی لیڈر پاکستانی فوج کی دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے خلاف کاروائيوں کو غیر اسلامی اور امریکی ایجنٹی قرار دیتے رہے ہیں اور یہی دیوبندی وہابی ،جماعتی لابی کے ملّا تھے جنھوں نے پاک فوج کے شہید ہونے والے جوانوں کو شہید قرار دینے سے انکار کیا تھا
اثر چوہان نے لکھا کہ یہ اتحاد ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آگے بڑھ کر افغانستان سے تعلق بہتر کئے اور افغان ایشو پر امریکہ و افغانستان کی حکومتوں سے اپنے اختلافات کی خلیج کو کم کرنے کی طرف سنجیدگی سے قدم اٹھایا اور پاک فوج تکفیری دھشت گردوں کو جڑسے اکھاڑپھینکنے میں بہت یکسوئی سے کاروائی کرنے میں مصروف ہے
http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/20-Nov-2014/341837
خود دیوبندی سیاسی مولوی مجاہد الحسینی نے اس اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا ہے
بہر نوع، ہماری دینی جماعتوں کے رہنماؤں سے ایم کیو ایم اور طاہرالقادری کے یہ بیانات مخفی نہ ہوں گے، جن میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستور سے ’’اقلیت‘‘ کا لفظ خارج کرکے مساوات قائم کرنا چاہتے ہیں، ظاہر ہے کہ غیر ملکی آقاؤں کی خواہش اور عیسائیوں، قادیانیوں کی خوشنودی کی خاطر ایسے بیانات سے وہ مادی فوائد حاصل کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ دینی جماعتیں چھوٹے چھوٹے گروہوں اور دھڑوں میں بٹ کر ہر گز غیر مسلم طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ کیا ختم نبوت کے نام سے عالمی مجلس ختم نبوت اور انٹرنیشنل ختم نبوت کے علاوہ ختم نبوت ہی کے نام سے دیو بندیوں، اہل حدیثوں، بریلویوں کی تنظیمیں بھی سرگرم عمل رہیں اور ان کا متحدہ محاز بھی قائم رہے:
http://dailypakistan.com.pk/columns/08-Dec-2014/170644
مجاہدالحسینی نے ڈاکٹر طاہر القادری اور ایم کیو ایم کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ دیوبندی وہابی لابی کو اس وقت اگر اپنے ایجنڈے میں سب سے زیادہ کسی سے کھنڈت پڑتی ںظر آرہی ہے تو وہ صوفی سنّی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت ہر وہ شخص یا تنظیم جو دیوبندی وہابی لابی کو بے نقاب کررہی ہے اور ان کے تسلط کے خلاف آڑے آرہی ہے تو اس کو احمدی ، قادیانی لابی کہہ کر بدنام کرنے کی سیاست اختیار کی جارہی ہے
مجلس علماء اسلام پاکستان کے نام سے دیوبندی اتحاد کی کوششیں دیوبندی تکفیری تنظیم کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی اور جے یوآئی ایف کے سربراہ فصل الرحمان کے درمیان تین سال قبل ملاقاتوں سے شروع ہوئیں اور پھر سب کے سب ان کوششوں ميں شامل ہوگئے اور اس اتحاد کا آٹھ نکاتی ایجنڈا ایک دھوکہ اور سراب ہے ، نفاز اسلام ، امریکی غلبے کے خاتمے اور تحفظ ختم نبوت و ناموس صحابہ و اہل بیت اطہار کے نعروں کے پیچھے دراصل پاکستانی سماج کے اندر دن بدن دیوبندی وہابی تکفیری سیاست اور اس کے عزائم کے بے نقاب ہونے اور پاکستانی سیاست اور معاشرے ميں ان کی سکڑے جانے کے امکانات کا تدارک کرنا مقصود ہے
اس اتحاد کا ایک مقصد خیبرپختونخوا میں جے یوآئی ایف کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں پی ٹی آئی کا ابھار کو روکنا بھی ہے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے سکڑتے ہوئے وجود کے ساتھ سنّی اتحاد کونسل ، مجلس وحدت المسلمین ، مسلم لیگ ق ، پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کی سیاست سے دیوبندی وہابی لابی کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے کی کوشش بھی کرنا ہے
مجلس علماء اسلام دیوبندی سیاست کو تباہی سے بچانے کے لیے اور پاکستان عوامی تحریک ، سنّی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کی سیاست کو غیر موثر بنانے کے لیے پوری کوشش کرے گی کہ کم از کم پنجاب کی سطح پر اور کراچی کی حد تک یہ بریلوی اور اہل حدیث ، جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر یسا اتحاد بنائے جو اسلام کے نام پر سیاست میں ایک مرتبہ پھر دیوبندی وہابی سیاست کو غالب کردے
دیوبندی اتحاد مجلس علماء اسلام کے سربراہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے پاکستان میں شیعہ- سنّی فساد روکنے کے خلاف کوشش کرنے کا جب اعلان کیا تو ان کے ساتھ شیعہ اور صوفی سنّیوں کے خلاف 80 ء کی دھآئی سے تکفیری ، دھشت گرد اور انتہا پسندی کی سیاست کرنے والی تنظیم کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی ، خادم ڈھلوں اور فاروقی وغیرہ موجود تھے اور خود جامعہ بنوریہ جس کے ڈاکٹر عبدالرزاق مہتمم ہے دیوبندی تکفیریوں کا سب سے بڑا مرکز ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مجلس علماء اسلام پاکستان دیوبندی کس حد تک پاکستان کے اندر سنّی – شیعہ روادری اور اتحاد کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ یہ دیوبندی اتحاد تو بنا ہی شیعہ اور سنّی کے درمیان دیوبندی تکفیری دھشت گردی کے خلاف ہونے والی مشترکہ جدوجہد کو غیرموثر بنانے کے لیے ہے

majlis ulema Islam

دیوبندی سپریم کونسل کے اجلاس کا ایک منظر فضل الرحمان کے ساتھ تکفیری دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت کے مرکزی جنرل سیکرٹری قاری خادم ڈھلوں بیٹھے ہیں