Original Articles Urdu Articles

پاکستان پیپلز پارٹی لاہور، سوشل میڈیا اور امید کی کرن – عامر حسینی

ppp1

آج پورا دن بڑی مصروفیت کے ساته گزرا ، ایک دوست جن سے پہلے کبهی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تهی مل گئے اور ان کی شفقت کہ وہ میرے کہنے پر 158 سی ماڈل ٹاون پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب چلے آئے ، یہ سیکرٹریٹ بهی زبردست بنا ہے ، ساری سرمایہ کاری پی پی پی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے کی ہے ، یہاں پر اوپر کی منزل میں ” بهٹو لیگسی فاونڈیشن ” کا دفتر ہے جہاں بشیر راض بیٹهتے ہیں ، نیچے گراونڈ فلور پر پی پی پی سوشل میڈیا پنجاب کا دفتر ہے اور یہاں پر ایک ماڈرن سوشل میڈیا آپریشنل روم ہے جس میں سامنے بڑی بڑی ایل سی ڈیز لگی ہوئی ہیں اور جنید قیصر اس کا کنٹرولر قیصر نذیر کا بیٹا ہے اور دو اور نوجوان ہیں جو اس کنٹرول روم میں بیٹهتے ہیں ، ایک روم جہاں آراء وٹو کا ہے اور وہیں وہ میرے دوست بهی چلے آئے کیونکہ وہ ایک جج ہیں اس لئے ان کا نام ظاہر نہیں کررہا ہوں ، جہاں آراء وٹو ایک معصوم چہرہ ہی نہیں رکهتی بلکہ بہت معصوم فطرت بهی ثابت ہوئیں ، سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہونے والی یہ لڑکی سوشل میڈیا تو کامیابی سے چلارہی ہے لیکن ساته ساته یہ عورتوں ، بچوں ، اقلیتوں ، محنت کشوں اور کسانوں کے ایشوز کے حوالے سے بهی گراسروٹ لیول پر کامیاب کمئپن چلاچکی ہیں اور آج میں نے ان کے ساته ایک دو پبلک میٹنگز میں وقت بهی گزرا اور دیکها کہ وہ کیسے سیاست میں سرگرم ہے اور پوری طاقت سے کام کررہی ہے ، الف اعلان کی ایک ورکشاپ میں ” بچوں کی کہانی سناتے ہوئے وہ خود ایک معصوم بچہ لگ رہی تهی ، میں نے ان کو سوشل میڈیا سنٹر میں ایک ریسرچ ونگ بهی قائم کرنے کو کہا

منظور وٹو نے جہاں ایک قمیتی مکان کو پنجاب پیپلزپارٹی کے فعال سیکرٹریٹ میں بدل دیا ہے وہیں اس کی بیٹی ، بیٹے ، بهتیجے ، بهتیجیاں سب کے سب پارٹی کے لئے کام کررہے ہیں اور بہت محنت خود وٹو بهی کررہا ہے اور لاہور میں پی پی پی کے کارکنوں کو ایک مرکز فراہم کیا ہے ممتاز طاہر کے داماد سے بهی ملاقات ہوئی بهٹوازم کے لئے اس کا جذبہ اور شوق دیکه کچه حوصلہ ہوا ویسے بہت دنوں کے بعد اسلم گل ، عبدالقادر شاهین کو دیکه کر حوصلہ ہوا

لیکن سب سے زیادہ خوشی ڈاکٹر ضیاء اللہ بنگش کو پورے جوش و جذبے کے ساته پیپلزهاوس میں دیکه ہوئی ، اس پیرانہ سالی میں بهی ڈاکٹر صاحب جوانوں سے زیادہ جوان نظر آتے ہیں ان سے مل رہا تها تو مجهے یاد آرہا تها کہ کیسے انہوں نے لاہور کارپوریشن میں ضیاء الحق کی تعزیت کی قرارداد منظور نہیں ہونے دی تهی اور اس زمانے میں ان کی سج دهج ہی اور ہوتی تهی اور مجهے معلوم ہوا کہ وٹو ضیاء اللہ بنگش کو ان کے گهر سے مناکر لائے تهے اور بہت سے دوسرے پرانے کارکنوں کو وہ خود مناکر لائے ہیں

وٹو سے پیپلز یوته اور پی ایس ایف کے نوجوان بهی خاصے متاثر نظر آتے ہیں اور ان کے منہ سے وٹو کی کارکن نوازی کی باتوں نے میری کچه پرسپشن کو تبدیل کیا اور میں مے جہاں آراء کے سامنے اس کا اظہار بهی برملا کردیا

نئے خون پر مشتمل ایک پوری لاٹ ہے جو اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے اندر موجود ہے اور اس سے امید لگائی جاسکتی ہے مشرف عالم فاروقی سے بهی حادثاتی ملاقات ہوگئی ، داستان امیر حمزہ کو انگریزی میں انهوں نے منتقل کرکے کارنامہ سرانجام دیا اور میں غلطی سے ان کو مشرف عالم زوقی سے گڈمڈ کربیٹها

شہزادی توصیف چیمہ یعنی شیزی سے بهی ملاقات ہوگئی اور سب سے بڑه کر ان سب ملاقاتوں میں سید احسن عباس رضوی سے ملاقات تو رجائیت اور امید پرستی کا انجکشن ثابت ہوئی اور ابهی یہ ملاقات دو سے تین دن اور چلے گی اس سے پہلے ڈاکٹر سعادت سعید ، عابد حسین عابد ، ڈاکٹر طاہر شبیر سے ملاقات بهی یادگار تهی اور سعادت سعید کی نظموں نے تو سماں بانده دیا اور میں اب تک اس کے سحر میں ہوں ،نیند اڑ گئی ، سینے میں ایک بهانبڑ مچ گیا اور اب تک اس سحر کا شکار ہوں ،لیکن ڈاکٹر سعادت سعید زمانے کی بےپروائی اور بےحسی پر شکوہ کناں نظر آئے
عزیز رحمان چن کی گردن کا سریہ اب بهی اسی طرح سے باقی تها اور بڑی نخوت سے آیا اور میں نے اس هاته ملانا بهی پسند نہ کیا ، ان کی سیاست ” کهایا پیا کچه نہیں ،گلاس توڑا بارہ آنہ ” پر سختی جمی کهڑی ہے