Featured Original Articles Urdu Articles

اور بلی تھیلے سے باہر آ گئی: کالعدم دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت کے ساتھ تمام دیوبندی جماعتوں کا اتحاد ۔ خرم زکی

fazloo

اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام اور تمام پاکستانیوں کو کسی بھی قیمت پر تکفیری خارجی دہشتگرد گروہ انجمن سپاہ صحابہ پر سے پابندی کا خاتمہ اور اس تکفیری ٹولے کے دہشتگردوں کی رہائی قبول نہیں۔ تحریک جعفریہ پر سے پابندی کے خاتمے یا علامہ غلام رضا نقوی کی رہائی کی آڑ میں اگر انجمن سپاہ صحابہ (کالعدم اہل سنت والجماعت) کو اگر دوبارہ بحال و فعال کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا واضح مطلب نواز حکومت کی جانب سے اس ملک کے سنی بریلوی، صوفی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہو گا۔

جن تکفیری دہشتگرد گروہوں نے پورے ملک میں مسلح افواج سے لے کر عام شہریوں تک، قتل عام اور نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے، ان پر سے پابندی کا خاتمہ نہ صرف ان کو ملک کے دیگر مسالک و مکاتب فکر کے قتل عام کا کھلا لائسنس فراہم کرنا ہے بلکہ خود اس ملک خداداد کی سلامتی سے کھیلنا ہے۔ حال ہی میں بننے والا دیوبندی تنظیموں کا اتحاد اس بات کی علامت ہے کہ یہ تمام دیوبندی تنظیمیں کالعدم دہشتگرد گروہ انجمن سپاہ صحابہ/لشکر جھنگوی کی اس ملک کے خلاف دہشتگردی کو مسترد کرنے کے بجائے قبول کرتی ہیں اور مسلح افواج، بریلوی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف ان دیوبندی تکفیری دہشتگرد گروہوں، جند ﷲ، تحریک طالبان، انجمن سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کی بالواسطہ و بلا واسطہ اعانت اور مدد کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ کالعدم اہل سنت والجماعت کی اس دیوبندی اتحاد میں شمولیت اور قبولیت کے بعد بعض لوگوں کا وہ حیلہ بھی ختم ہو گیا جو یہ فرماتے تھے کہ دہشتگردی کو کسی خاص مکتب فکر سے ٹیگ کرنا مناسب نہیں۔ اگر دیگر دیوبندی جماعتوں کو رتی برابر بھی اس ملک کی فکر ہوتی تو وہ اس کالعدم دہشتگرد گروہ کو اس مسلکی اتحاد سے دور رکھ کر اپنی امن پسندی کا کم از کم ایک ادنی و معمولی ہی ثبوت فراہم کرنے کی کوشش کرتیں

لیکن لگتا ہے کہ اب یہ دہشتگرد تکفیری ٹولہ اپنے وجود و بقا کی جنگ لڑنے کے لیئے آخری حد تک جانے کے لیئے آمادہ و تیار ہے اور اس حوالے سے اس کو تمام دیوبندی ملاؤں کی حمایت و پشت پناہی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف یہ تکفیری دیوبندی گروہ داعش کے دہشتگردوں کے ساتھ اپنے مسلح اتحاد کا اعلان کر کے پاکستان کے خلاف جنگ کا نقارہ بجا رہے ہیں وہیں دوسری طرف دہشتگرد گروہوں پر مشتمل ایک خالص فرقہ وارانہ اتحاد بھی تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ ملک کے عوام و خواص میں اس تکفیری مسلک کی انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ دہشتگردی پر مشتمل نطریاتی اساس کے بے نقاب ہونے کے عمل کو سیاسی حوالے سے سبوتاژ کیا جا سکے

جمعیت علماء اسلام کے مقامی عیدیدار مفتی شاہ فیصل کی کراچی پولیس سے مقابلے میں ہلاکت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بظاہر معتدل نظر آنے والی یہ سیاسی جماعت بھی تکفیری خوارج کی دراندازی سے محفوظ نہیں اور اس پر بھی ان انتہا پسند عناصر، جو شیعہ اور بریلوی مسلمانوں کی تکفیر اور پاک افواج کو مرتد کو ٹہراتے ہیں، کی گہری چھاپ پڑ چکی ہے۔ اسی طرح سے جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت بھی اس دہشتگرد گروہ کی پس پردہ اور گاہے بگاہے کھلی حمایت کر رہی ہے۔ معروف دہشتگرد احمد لدھیانوی سے سراج الحق کی حالیہ پہ در پہ ملاقاتیں اسی تعاون و حمایت کا شاخسانہ ہیں۔

ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ ملک میں بسنے والے دیگر تمام مسلمان مکاتب فکر، غیر مسلم اقلیتیں اور دیگر روشن خیال گروہوں کو اس تکفیری خارجی فتنے سے مقابلہ کرنے کے لیئے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا ہو گا کیوں کہ اس دہشتگرد ٹولے کا نشانہ کوئی ایک مسلک نہیں بلکہ ہر وہ مسلمان، ہر وہ پاکستانی ہے جو ان کے انتہاپنسدانہ نظرہات کو مسترد کرنے کی جرأت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ مسلمانوں کی مساجد، امام بارگاہوں اور جلوس سے لے کر، داتا دربار، عید میلاد النبی کے جلوس و خانقاہوں تک، پاکستانی مسیحی برادری کے کلیساؤں اور شہریوں سے لے کر احمدی کمیونٹی کی عبادگاہوں اور افراد تک اور اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی سے کر مسلح افواج کے اعلی افسروں تک، کوئی بھی شخص و ادارہ اس تکفیری خارجی گروہ کے دہشتگرد حملوں سے محفوظ نہیں۔

جنرل عاصم باجوہ کے حالیہ انٹرویو میں بھی اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف پورے ملک میں مربوط اور جامع کاروائی کی ضرورت ہے اور محض شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ان کی کمر توڑنے سے کام نہیں چلے گا۔ جنرل عاصم نے اپنے انٹرویو میں آپریشن ضرب عضب کے دوران پورے ملک سے 3000 کے قریب دہشتگردوں کی گرفتاری اور 70 کے قریب دہشتگردوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ اگر ان 3000 دہشتگردوں کی پروفائلنگ کی جا سکے تو پتہ چلے گا کہ بغیر کسی قابل توجہ استثنا کے ان تمام دہشتگردوں کا تعلق صرف ایک ہی مسلک و فرقہ سے ہے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے خاص طور پر اس وقت جب کہ الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا، حکومت اور سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں موجود ان کے ہمدرد و نمائندے اس فرقہ کی انتہاپسندانہ اور فرقہ وارانہ نفرت میں بجھی جڑوں کے تاثر کی نفی اور ازالے کے لیئے ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور اس یکطرفہ دہشتگردی، قتل عام اور نسل کشی کو کبھی ایران۔سعودی تنازعہ اور کبھی شیعہ۔سنی مخاصمت کا دو طرفہ رنگ دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں

تکفیری خوارج کے یہ دلال کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں گوارا کرتے کہ پاکستان آرمی کے سرجن جنرل اور ایک حافظ قرآن، لیفٹینٹ جنرل مشتاق احمد بیگ، کو اس دیوبندی تکفیری خارجی گروہ نے کیوں کر اپنے دہشتگرد حملے کا نشانہ بنایا اگر یہ محض شیعہ۔سنی جھگڑا ہی ہے ؟ اسی طرح پورے ملک میں موجود سنی بریلویوں کی خانقاہیں ان تکفیری خوارج کا نشانہ کیوں بن رہی ہیں ؟ سرگودھا میں صوفی مسلک سے تعلق رکھنےوالے آئی ایس آئی کے آن ڈیوٹی بریگیڈئیر کو کس جرم میں قتل کیا گیا ؟ کراچی کی ایک خانقاہ میں بریلوی مسلمانوں کو کیوں ذبح کیا گیا ؟ جامعہ کراچی کے کلیہ اسلامی علوم کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کو کس جرم میں شہید کیا گیا ؟ اس تمام قتل عام سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تکفیری دیوبندی کسی ایک فرقے کے دشمن نہیں بلکہ اس ملک کے دشمن ہیں، اس ملک کے تمام عوام کے دشمن ہیں اور کیوں نہ ہوں، اسی تکفیری گروہ کے بزرگوں نے اس ملک خدا داد کے قیام کی بھی بھرپور مخالفت کی تھی اور بانی پاکستان کی بھی مخالفت کی تھی۔

dawn

2

aswj

juif