Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان میں سنی صوفی اور بریلوی نسل کشی کا ڈیٹا بیس – خالد نورانی

1 (1)

Related post: Sunni Sufi genocide: Database of Sunni killings in Pakistan by Deobandi terrorists https://lubpak.net/archives/323499

وطن عزیز پاکستان میں سنہ انیس سو اسی کے عشرے سے دیوبندی مسلک کے بطن سے جنم لینے والے انتہا پسند تکفیری، خارجی عناصر نے دہشت گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے – جہادی تنظیموں اور دیوبندی مدارس کی صورت میں ان کو سعودی وہابی امداد اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میسر آئی جس کی آڑ میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جند الله، طالبان اور احرار کے روپ میں نام بدل کر کام کرنے والے یہ دہشت گرد گروہ کھل کر معصوم اہلسنت خاص طور پر صوفی منش سنی اور بریلوی مسلمانوں کے خلاف بدعت، شرک، قبر پرستی کے بے بنیاد الزاموں کی ترویج کرتے رہے اور اپنے نفرت انگیز ایجنڈے پر عملدر آمد سنی صوفی اور بریلوی علما کو شہید اور سنی مسجد اور مزارت پر حملوں کی صورت میں کیا 

ایک تخمینے کے مطابق براہ راست اور بالواسطہ طور پر کم از کم پینتالیس ہزار سے زائد سنی صوفی، بریلوی مسلمان ان دیوبندی تکفیری خوارج کی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں – تعمیر پاکستان کے سابق مدیر عبدل نیشاپوری نے پاکستان میں سنی صوفی نسل کشی پر نہایت عرق ریزی سے ایک تفصیلی فہرست یا ڈیٹا بیس تیار کیا ہے جس پر  میڈیا اور اہل ارباب کو غور کرنے کی ضرورت ہے

https://lubpak.net/archives/323499

بد قسمتی سے اس سنی صوفی نسل کشی میں ملوث دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ (نام نہاد اہلسنت والجماعت ) کی
سرپرستی بڑے نامی گرامی دیوبندی علما اور مفتی حضرات کرتے ہیں جبکہ سنی بریلوی اور صوفی مسلمانوں کے خلاف دار العلوم دیوبند کے تکفیری فتاویٰ بھی ریکارڈ پر موجود ہیں

پاکستان میں مزارات اولیاء اور پر امن سنی صوفی و بریلوی رہنماؤں، صوفیا کرام اور علما کو دیوبندی خوارج نے دہشت گردی کا متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے بعض واقعات کی تفصیل کچھ یوں ہے یاد رہے کہ یہ فہرست مکمل یا جامع نہیں

 مئی18 , 2001ء سندھ کراچی میں سلیم قادری بانی سربراہ سنّی تحریک سپاہ صحابہ پاکستان کے ہاتھوں قتل کردئے گئے

 مارچ19 , 2005ء پیر راخیل شاہ کے مزار واقع جھل مگسی بلوچستان پر دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت کے خود کش بمبار نے دھماکہ کردیا جس سے موقعہ پر ہی 36 صوفی سنّی بلوچ مارے گئے
 مئی27, 2005ء کو تکفیری دیوبندی انتہا پسند تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے ایک خود کش بمبار نے اسلام آباد بری امام سرکار کے مزار پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے 14 لوگ ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور یہ خود کش بم دھماکہ اس وقت کیا گیا جب مزار پر بری امام سرکار کے عرس کي سالانہ تقریبات منعقد ہورہی تھیں اس کے بعد سے آج تک مقامی انتظامیہ نے عرس کی اجازت نہیں دی۔

جنوری 26، 2006ء حب بلوچستان میں حضرت شاہ بخاری کے مزار پر حملہ کیا اور ہنیڈ گرینڈ پھینکے گئے
حب جنوری 2006ء بلوچستان میں ہی حاجی شاہ ترنگزئی لاکڑو کے مزار پر حملہ کیا گیا اور دیوبندی تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ کے دھشت گردوں نے مزار تباہ کرنے کے بعد اس کا نام لال مسجد رکھ دیا

 اپریل11, 2006ء میں نشتر پارک کراچی میں جب عید میلاد النبی کے مرکزی جلوس کے اختتام پر نماز ادا کی جارہی تھی تو خود کش بم دھماکہ دیوبندی تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں نے کیا جس میں صوفی سنّیوں کی جماعت سنّی تحریک کی ساری مرکزی قیادت ، جماعت اہل سنت کے رہنماء اور دیگر کئی صوفی سنّی تنظیموں کے رہنماء اور عام صوفی سنّی مارے گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوگئے

 جولائی31, 2007: قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے ردعمل میں برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے حریت پسند بزرگ حاجی صاحب تورنگزئی کے مزار پر قبضہ کرلیا۔ صدر مقام غلنئی سے 25 کلومیٹر شمال میں اس مزار اور اس کے قریب مسجد کو کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے لال مسجد کانام دیا تھا، کئی روز تک اس پر قبضہ جاری رکھا۔

دسمبر 6، 2007ء خیبر ایجنسی میں جی ٹی روڈ پر واقع عبدالشکور ملنگ بابا کے مزار پر حملہ کرکے مزار کو تباہ کردیا گیا اور اس حملے میں پانچ صوفی سنّی ہلاک ہوگئے

 دسمبر18, 2007: مشہور بزرگ حضرت قبلہ عبدالشکور ملنگ بابا علیہ الرحمہ کے مزار کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 ستمبر19, 2008ء بلوچستان کوئٹہ میں ایک مدرسہ میں بم دھماکہ ہوا جس میں پانچ لوگ مارے گئے اور آٹھ زخمی ہوئے ، یہ مدرسہ جمعیت العلمائے اسلام فضل الرحمان چلا رہی تھی جوکہ دیوبندی مکتبہ فکر کی تنظیم ہے

 دسمبر16, 2008ء خیبر پختون خوا کے علاقے سوات میں صوفی سنّی پیر سمیع اللہ کو دیوبندی تنظیم تحریک طالبان سوات نے ماردیا اور ان کی لاش کی بے حرمتی کی گئی ، ان کے آلہ تناسل سمیت کئی اعضاء کاٹے گئے اور پھر ان کی لاش کو سوات کے خونی چوک سے معروف چوک میں لٹکا کر رکھا گيا جبکہ بعد میں ان کی لاش کو جلا ڈالا گیا

مارچ 2008: پشاور سے ملحق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرگرم لشکر شیطان (لشکر اسلام) نے صوبائی دارالحکومت کے قریب شیخان کے علاقے میں چار سو سال پرانا حضرت ابو سید بابا کا مزار تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنانے کے دوران جھڑپ میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مارچ 3 ، 2008ء میں پشاور میں ابو سعید بابا کے مزار پر راکٹ فائر کئے گئے جس سے سے مزار کو آگ لگ گئی اور پھر وہاں پر لشکر اسلام دیوبندی تکفیری تنظیم کے دھشت گردوں نے حملہ کیا اور کم او کم 10 افراد کو ہلاک اور متعدد زخمی کردئے گئے

پشاور میں 1 مئی 2008ء کو اشہب بابا کے مزار پر حملہ کیا گیا ، جس میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ، جبکہ بعد میں مزار کو بارودی مواد سے اڈا دیا گیا

دسمبر 9، 2008ء میں بونیر خیبر پختون خوا میں معروف صوفی بزرگ پیر بابا کے مزار پر دیوبندی تکفیری دھشت گردوں نے حملہ کیا اور اس حملے میں ایک ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے

خیبر ایجنسی میں لشکر شیطان (لشکر اسلام) کے منگل باغ نے 2008ء میں حضرت پیر سیف الرحمن علیہ الرحمہ کو شدید جھڑپوں کے بعد علاقہ بدر کردیا تھا۔ ان کے علاقے سوات کے گدی نشین حضرت پیر سمیع الرحمن کو دسمبر 2008ء میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف لشکر کشی کے بعد شہید کردیا گیا تھا۔ شہید کرنے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکال کر مینگورہ کے ایک چوراہے پر لٹکادیا گیا تھا۔

 جنوری17, 2009ء خیبر پختون خوا پشاور میں دیوبندی تکفیری تنظیم لشکر اسلام کے دھشت گردوں نے صوفی سنّ پیر رفیع اللہ کو ہلاک کردیا
 فروری18, 2009ء کو کوئٹہ بلوچستان میں جمعیت العلمائے پاکستان نورانی گروپ کے لیڈڑ مولانا احمد حبیبی کو اہل سنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں نے ہلاک کرڈالا

 مارچ5, 2009: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں چمکنی کے علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشتو کے مشہور صوفی شاعر اور بزرگ حضرت عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کے مزار کے ستونوں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد رکھ کر مزار کو تباہ کردیا۔ اس مزار کے چوکیدار کے مطابق اسے تین روز قبل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

 مارچ6, 2009: نوشہرہ میں واقع بہادر بابا کے مزار کو کالعدم تحریک طالبان نے بموں سے نقصان پہنچایا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مارچ 7، 2009ء کو نوشہرہ خیبر پختون خوا میں دیوبندی تکفیریوں نے راکٹ اور گرینڈز کے ساتھ پیر بہادر بابا کے مزار پر حملہ کیا جس میں ایک افراد ہلاک اور درجنوں زحمی ہوگئے

 مارچ8, 2009ء کو خیبر پختون خوا میں معروف صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار پر حملہ ہوا اور مزار پر ہونے والے دھماکوں سے مزار کو کافی نقصان پہنچا

مئی 1، 2009ء کو معروف صوفی شاعر پیر حمزہ شنواری کے مزار واقع لنڈی کوتل پر راکٹ سے حملہ کیا گیا جس سے کئی ایک زائرین زحمی ہوگئے جبکہ مزار کو بھی سخت نقصان پہنچا

مئی 6، 2009ء میں اورکزئی ایجنسی میں حضرت پیر خیال محمد کے مزار پر حملہ کیا گیا جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے

مئی 8، 2009ء کو پیر شیخ علی بابا کے مزار واقع پشاور کو دیوبندی تکفیری تنظیم لشکر اسلام نے حملہ کرکے مسمار کردیا اور اس دوران متعدد صوفی سنّی عقیدت مندوں کو زخمی کیا گیا

 مئی11, 2009: خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل سب ڈویژن میں مقبول شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے مزار کی بیرونی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا گیا۔

 جون12, 2009ء کو خود کش حملوں کے خلاف اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فتوی دینے والے صوفی سنّی عالم دین ، جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو بھکر کے دیوبندی مدرسے سے تعلق رکھنے والے ایک خود کش بمبار نے خود کو اڈا کر شہید کر دیا ان کے ساتھ پانچ اور سنی صوفی رہنما بھی شہید ہوۓ جبکہ پینتیس سے زائد زخمی ہوۓ

ستمبر2 2009ء کو اس وقت کے وفاقی وزیر برائے مذھبی امور اور معروف صوفی سنّی عالم دین علامہ حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ ہوا ، حملے کے زمہ دار لشکر جھنگوی / سپاہ صحابہ پاکستان / اہل سنت والجماعت کے دھشت گرد تھے

 جنوری3 2010ء جنوبی وزیرستان میں بابا موسی نیک کے مزار واقع انگور اڈا کی دیوار کو اس وقت شدید نقصان پہنچا جب دیوبندی ٹی ٹی پی کے بعض لوگوں نے مزار کو اڑانے کی کوشش کی ، دھماکے سے اڑنے والے پتھروں سے کئی ایک زائرین زخمی ہوئے

جنوری 5، 2010ء اورکزئی ایجنسی میں سات مزارات پر حملہ کیا گیا اور ان کو مکمل طور پر تباہ کردیا گيا ، جبکہ اس دوران مزارات پر حاضوی دینے والے زائرین کو مارا پیٹا گیا ، کئی ایک فائرنگ سے زخمی ہوئے اور ان مزارات پر حملے کفے دوران محصور ہونے والوں کو تاوان لے کر اور اس وعدے پر چھوڑا گیا کہ وہ اپنے عقائد باطلہ سے دست بردار ہوجائیں گے
اپریل 22۔ 2010ء اورکزئی ایجنسی میں پیر باوا عبدالحق کے مزار کو دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت کے دھشت گردوں نے آگ لگادی اور مزار کے مجاوروں کو تشدد کرکے شدید زخمی کرڈالا
اپریل، 1- 2010ء کو خیبر ایجنسی میں واقع ایک مزار پر حملہ کیا گیا ، جس میں 10 افراد کو ہلاک اور 20 کو زخمی کردیا گیا

یکم جولائی 2010: جمعرات کی رات داتا دربار لاہور میں تین خودکش دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں 50 زائرین شہید اور 200 زخمی ہوئی۔

اکتوبر7 2010: جمعرات کی رات مغرب کی نماز کے بعد حضرت سید عبداﷲ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزار شریف کے مرکزی گیٹ پر دو خودکش حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 20 افراد شہید اور 50 زخمی ہوئے۔ اسی رات کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرلی۔ جس کے تمام کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات گواہ ہیں۔

جون ،21 ، 2010ء چمکنی پولیس اسٹیشن کے پہلو میں واقع پیر میاں عمر بابا کے مزار کو دیوبندی تنظیم لشکر اسلام کے دھشت گردوں نے آگ لگادی اور فائرنگ کرکے کئی ایک لوگوں کو زخمی کرڈالا

 جولائی1 2010ء کو دو دیوبندی تکفیری خود کش بمباروں نے لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار کے احاطے میں خود کو اڑا لیا – اس دھماکے میں بھی 50 ہلاک اور 200 زخمی ہوئے
 جولائی15,  2010ء لنڈی کوتل میں 100 سال پرانے مزار بزرگ حاجی صاحبزادہ صدیق بنوری المعروف پیر باچا صاحب کے مزار کو آگ لگآدی گئی ، جس میں پیر باچا صاحب آنے والے کئی زاغرین بھی جھلس گئے
 اگست19, 2010ء لاہور گرین ٹاؤن باگڑیاں پل کے قریب پیر خاکی شاہ رسول کے مزار پر ٹائم بم ڈوائس سے دھماکہ کیا گیا جس میں دو عقیدت مند زخمی ہوگئے
 ستمبر20, 2010ء پشاور کے نواح میں پیر سالک شاہ بابا کے مزار کو بارودی مواد سے اڑا دیا گیا ، دھماکے میں کئی ایک افراد زخمی ہوگئے

 اکتوبر2, 2010ء میں خیبر پختون خوا میں ڈاکٹر محمد فاروق  مذھبی اعتدال پسند سکالر کو دیوبندی تکفیری تںطیم تحریک طالبان پاکستان نے اس بنیاد پر قتل کردیا کہ وہ بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے اور خود کش بم دھماکوں اور دیوبندی تکفیریوں کے تصور جہاد کو غیر اسلامی بتاتے تھے

7 اکتوبر 2010ء کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر خود کش بم دھماکہ کیا گیا ، جس میں 10 ہلاک اور 50 زخمی ہوئے
 اکتوبر24, 2010ء کو خیبر ایجنسی میں پرنگا کے نزدیک سید محمد شاہ کے مزار کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ، اس دھماکے میں بھی کئی ایک افراد زخمی ہوئے

 اکتوبر25 2010ء پنجاب کے شہر پاک پتن میں معروف صوفی بابا فرید گنج شکر کے مزار پر دھماکہ ہوا جس میں 5 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے
 دسمبر14 2010 ء کو صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر پشاور میں پیر غازی بابا کے مزار پر حملہ کیا گیا جس میں 35 افراد ہلاک ہوگئے

 فروری4 2011ء بابا سائیں کے مزار واقع لاہور پر دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی نے بم دھماکہ کیا جس سے تین افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوگئے

 مارچ5 2011ء اخوند پنجو بابا کے مزار کے احاطے میں واقع مسجد میں بم دھماکے سے 10 لوگ ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے ، یہ مزار نو شہرہ میں واقع ہے

 اپریل3 2011ء پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور کے مزار پر خود کش بم دھماکہ کیا گیا جس میں 42 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے

اکتوبر 19 ، 2011ء میں سابق ایم این اے پیر نور الحق قادری کے گھر سے متصل مزار حاجی گل واقع خیبر ایجنسی پر مزائیلوں سے حملہ کیا گیا ، جو کم رینج کے تھے جن سے مزار تباہ اور دو افراد شدید زخمی ہوگئے

اکتوبر 21 ، 2011ء کو صوابی میں کریم شاہ کے مزار پر دیوبندی تکفیری تنظیم ٹی ٹی پی کے خالد خراسانی گروپ نے حملہ کیا اور مزار کو بارودی مواد سے اڑا دیا

نومبر1 2011ء ڈیرہ اسماعیل خان میں سعید اللہ داد شاہ کے مزار کے احاطے کے داخلی دروازے پر بارودی مواد نصب کیا گیا اور رات کو اسے اڑادیا گیا ، اس میں کئی افراد زخمی ہوگئے

 دسمبر11 2011ء خیبر ایجنسی میں نساء بابا پیر کے ژزار کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور دھماکوں سے کئی افراد زخمی ہوگئے

 دسمبر11 2011ء کو ہی خیبر ایجنسی کے اندر ہی ایک اور صوفی سنّی شيخ بہادر کے ژزار پر دستی بموں اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا ، مزار مکمل تباہ ہوگیا اور کئی افراد اس حملے میں زخمی ہوگئے

جنوری 7، 2014ء کراچی سندھ میں گلشن معمار ٹاؤن میں حضرت ایوب شاہ بخاری کے مزار پر دیوبندی تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے 6 صوفی سنّیوں کو زبح کردیا اور کہا گیا کہ جو بھی مزار پر آئے گا اس کا یہی حشر ہوگا

فروری 9، 2014ء کراچی بلدیہ ٹاؤن 12 نمبر پر واقع آستانہ پیر مہربان شاہ پر دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی فائرنگ سے باپ ، بیٹی سمیت 8 افراد ہلاک اور 16 سے زائد زخمی ہوگئے

اگست 26 ، 2014ء مستونگ میں شیخ تقی کے مزار پر بم دھماکہ ہوا جس میں ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئے

 ستمبر6 2014ء پنجاب کے شہر سرگودھا کے نواح میں محفل سماع کے دوران ایک آستانہ پر سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں نے حملہ کرکے آئی ایس آئی کے ایک صوفی سنّی بریگیڈئر فضل ظہور قادری ، ان کے بھائی سجادہ نشین آستانہ سبحانی اور ایک ڈاکٹر ایوب کو ہلاک ہلاک کرڈالا جبکہ اس حملے میں پانچ
افراد زخمی بھی ہوئے

یاد رہے کہ یہ لسٹ غیر مکمل ہے، اس میں قبائلی علاقوں میں تواتر اور منظم طور پر ہونے والے سنی صوفی نسل کشی کا تذکرہ نہیں جیسا کہ لنڈی کوتل، اورکزئی اور اس کے علاوہ مستونگ، گلشن معمار کراچی اور دیگر سانحات، اور اس میں فقط چیدہ چیدہ واقعات کا تذکرہ ہے جبکہ فوج، پولیس اور عوام میں شہید ہونے والے سنی صوفی اور بریلوی مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا تو شمار ہی ممکن نہیں – عبدل نیشا پوری کے ڈیٹا بیس کے مطابق پینتالیس ہزار سے زائد سنی صوفی، بریلوی اور بائیس ہزار سے زائد شیعہ مسلمان اس تکفیری خوارجی فتنے کا نشانہ بن چکے ہیں جو سنی، شیعہ، مسیحی سب کا دشمن ہے

قارئین کرام، اس تکفیری دیوبندی گروہ  کی درندگی سے اس کے اپنے سرپرست اور ہم مسلک دیوبندی مولوی بھی نہ بچ سکے اور سعودی ریالوں کی تقسیم یا فتویٰ فروشی کے جھگڑوں میں اس گروہ نے اپنے ہی تکفیری ملاؤں کو بھی قتل کر دیا جسا کہ  مئی 30، 2004ء سندھ کراچی میں دیوبندی مدرسہ جامعہ بنوریہ العالمی کے مفتی نظام الدین شامزئی دیوبندی تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے – ستمبر17, 2007ء خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں معروف دیوبندی عالم مولانا حسن جان کو دیوبندی تکفیری تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھشت گردوں نے ہلاک کردیا – اسی طرح دسمبر 2013 کو لاہور میں دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کے صوبائی صدر شمس الرحمن معاویہ کو اسی کی اپنی تنظیم کے لوگوں نے سعودی مال کی لالچ میں قتل کر دیا

محترم قارئین کرام، آپ نے مزارات اولیاء اور صوفی سنی رہنماؤں پر حملوں کی فہرست ملاحظہ فرمائی۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ جوکہ ساری زندگی مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کا درس دیتے رہے، ان سے عداوت اور نفرت رکھنے والے لوگ کون ہیں؟ آیئے قول رسولﷺ کی جانب رجوع کرتے ہیں۔ حدیث شریف: حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اﷲ تعالیٰ کے دوست سے ذرا سی بھی دشمنی کی تو اس نے اﷲ تعالیٰ سے اعلان جنگ کیا‘‘ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 1787، ص 486 مطبوعہ فرید بک لاہور پاکستان)

حدیث شریف: حضور سید عالمﷺ نے فرمایا، حدیث قدسی ہے کہ ’’رب فرماتا ہے جو شخص میرے کسی ولی سے عداوت رکھتا ہے ، میں (رب تعالیٰ) اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں‘‘ (بخاری شریف، جلد سوم، رقم الحدیث 1422، ص 624، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور پاکستان)

یہ وہی سپاہ صحابہ اور طالبان کے دہشت گرد دیوبندی تکفیری خوارج ہیں جن کے دلوں میں اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے اور اسی نفرت کی آگ کو بجھانے کے لئے مزارات پر خودکش حملے کرواتے ہیں تاکہ ان کے عداوت بھرے دل کو سکون ملے مگر ایسے لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہیں خبر ہی نہیں کہ وہ کن ہستیوں سے عداوت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان طالبان اور سپاہ صحابہ کا سوائے دیوبندی مولویوں کے کوئی مددگار نہیں، ان کو ہر لمحہ شکست ہی شکست نصیب ہوتی ہے جس سینے میں بغض اولیاء رکھتے ہیں، بمبار کا بم اسی سینے کو سب سے پہلے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔

عبداﷲ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزا رپر ظالمان نے یہ ظالمانہ اور فاسقانہ فعل اس وقت انجام دیا جب سینکڑوں لوگ مزار شریف کے اردگرد موجود تھے۔ دن بھی جمعرات کا چنا، جب عقیدت مندوں کی ایک کثیر تعداد غازی بابا علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔انہوں نے جمعرات کا دن اس لئے بھی منتخب کیا تاکہ جمعۃ المبارک جوکہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن قرار دیا گیا ہے، یوم سوگ بن جائے۔ گزشتہ 13 صدیوں سے ہمیشہ گلاب کے عطر سے غازی بابا علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کو غسل دیا جاتا رہا ہے لیکن پہلی بار امن وسلامتی کے دشمنوں، اولیاء اﷲ سے عداوت اور ان کے مزارات سے بغض رکھنے والے تحریک طالبان پاکستان نے اسے خون کا غسل دیا ہے۔ ضرت غازی بابا علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کو اپنی نفرت کی بھینٹ چڑھانے والے دراصل اس دیوبندی وہابی فرقے کے حامل ہیں، جنہوں نے سوات اور اس کے مضافات میں واقع مزارات کو آگ لگائی۔ بم دھماکوں سے اڑایا، علمائے اہلسنت کو سرعام قتل کیا گیا، یہیں پر بس نہیں کیا گیا بلکہ تدفین کے بعد علمائے اہلسنت کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوراہوں پر لٹکایا گیا۔

بہت سے مواقع پر لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی کہا جائے گا کہ بیرونی ہاتھ نے خون کی یہ ندی بہائی ہے اور خونخواروں کا تعلق اسلام سے نہیں ہے؟ فوج اور پولیس کے خفیہ اداروں کی رپورٹس اور میڈیا کی تحقیقات اس بات کی گواہ ہیں کہ ان تکفیری خوارج کو پناہ دیوبندی مدارس اور تبلیغی جماعت کے ٹھکانوں میں ملتی ہے جبکہ دیوبندی علما ان کی خفیہ اور اعلانیہ سرپرستی کرتے ہیں

محترم قارئین، جو دیوبندی تکفیری گروہ یا جہادی تنظیمیں کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم جیش محمد، کالعدم تحریک طالبان پاکستان، کالعدم نفاذ شریعت محمدی، کالعدم لشکر طیبہ ملک بھر میں آگ و خون کا یہ بہیمانہ کھیل کھیل رہی ہیں۔ ان تمام کا تعلق دیوبندی اور چند کا غیر مقلد اہلحدیث یا وہابی فرقے سے ہے۔ ان کالعدم جماعتوں کے سربراہ، عہدیداران اور کارکنان سب کے سب دیوبندی اور اہلحدیث فرقے کے مدارس سے پڑھے ہیں اور وہ خود کو مسلمان اور مسلمانان اہلسنت کو مشرک و بدعتی اور غیر مسلم قرار دیتے ہیں اور انہیں گردن زدنی کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی خبر 14 سو برس پہلے تاجدار کائنات حضور اکرم نور مجسمﷺ نے دی تھی۔

حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالمﷺ کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپﷺ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اﷲ تعالیٰ سے ڈر (معاذ اﷲ) آپﷺ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپﷺ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ (پیدا) ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہوں جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں (ابو دائود، جلد سوم، کتاب السنت، رقم الحدیث 1337، ص 497 مطبوعہ فرید بک لاہور پاکستان)

یہی وہ خودکش حملہ آوروںکے سرپرست ہیں جو مسلمانوں کے دلی بدخواہ ہیں،اگر حملہ کیا تو مسلمانوں کی مسجدوں پر دوران نماز حملہ کیا، اگر حملہ کیا تو اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے مزارات پر حملہ کیا، اگر حملہ کیا تو پاک فوج کے دستوں پر حملہ کیا۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف رشد و ہدایت کے مرکز پر حملہ کرنا ہے۔ یہی وہ خارجی گروہ ہے جو ہر دور میں مختلف رنگوں کے اندر نظر آتے ہیں ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ ہوگا۔

مگر افسوس کہ وہابیوں اور دیوبندیوں کی کالعدم مذہبی جماعتیں جن میں کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم جیش محمد، کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم لشکر طیبہ شامل ہیں، انہوں نے ہمیشہ سے ان خارجیوں اور حملہ آور گروہ کی حمایت کی ہے۔ کبھی ان کی مذمت اور ان سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ فضل الرحمن تو ان حملہ آور گروہ کی آج تک حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مدارس سے ان دہشت گردوں کے خلاف اب تک کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوا، عوام اس کو کیا سمجھے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیموں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے۔ ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے۔ ہر سیاسی اور مذہبی تنظیم کو غیر مسلح کیا جائے۔ خدارا، اب بھی حکومت اور فوج ہوش کے ناخن لے۔ کالعدم تکفیری جماعتوں کو ہرگز ڈھیل نہ دی جائے۔ کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ ان کے حامی علما اور مدارس پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے ہر کارکن اور حمایتی پر کڑی نظر رکھی جائے۔

db

——

سنی صوفی اور بریلوی نسل کشی، تصاویرکے آئینے میں

49

 

59

29

22

23

24

25

26

27

28

 

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

 

48

 

50

 

47

51

52

56

57

58

db

About the author

SK

11 Comments

Click here to post a comment
  • دار العلوم دیوبند کی جانب سے سنی بریلوی اور شیعہ کے خلاف نفرت انگیز فتاویٰ : Deobandi fatwas against Sunni and Shia https://lubpak.net/archives/235373

    Why are Deobandi ASWJ terrorists killing Sunni Sufis and Barelvis in Pakistan? Read these hateful takfiri fatwas by Deoband’s most eminent seminary Darul Uloom Deoband:

    https://www.facebook.com/AbdulNishapuri/posts/946519195364915

    دارالعلوم دیوبند کا فرقہ وارنہ انتہاپسندی اور دہشتگردی میں کردار – خرم زکی – See more at: https://lubpak.net/archives/324302

    سنی نسل کشی: سنی صوفی اور بریلوی مسلمانوں کے خلاف دار العلوم دیوبند کے نفرت انگیز تکفیری فتاویٰ – See more at: https://lubpak.net/archives/323640

    شیعہ مسلمانوں کے خلاف دار العلوم دیوبند کے نفرت انگیز تکفیری فتاویٰ – See more at: https://lubpak.net/archives/324549

    Darul Uloom Deoband’s fatwa in support of Hazrat Yazid – by Abdur Rahim Kandhalvi – See more at: https://lubpak.net/archives/231807

    دار العلوم دیوبند کی جانب سے سنی بریلوی اور شیعہ کے خلاف نفرت انگیز فتاویٰ : Deobandi fatwas against Sunni and Shia – See more at: https://lubpak.net/archives/235373

    The footprints of Deobandi militant jihad in India and Pakistan – by Maloy Krishna Dhar – See more at: https://lubpak.net/archives/307525

    دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے طالبان کے بارے میں بھارت کے دارالعلوم دیوبند کی گول مول پالیسی – خدیجہ عارف، بی بی سی اردو – See more at: https://lubpak.net/archives/313238

    Deobandi Khawarij are enemies of Pakistan and Islam – by Zaid Hamid – See more at: https://lubpak.net/archives/315520

    دیوبندی تکفیریوں کی ناپاک جسارت: رسول الله کے والدین اور عزیز از جان چچا ابو طالب پر کفر کے فتوے لگا دیے – خالد نورانی – See more at: https://lubpak.net/archives/323291

    Sunni Sufi genocide: Database of Sunni killings in Pakistan by Deobandi terrorists – See more at: https://lubpak.net/archives/323499

    Shia Genocide Database: A detailed account of Shia killings in Pakistan from 1963 to 30 Aug 2014 – See more at: https://lubpak.net/archives/132675

    https://lubp.net/archives/tag/darul-uloom-deoband

    ISIS’s Salafi Deobandi terrorists massacre 220 Sunni Muslims of Albu Nimr tribe in iraq
    https://lubpak.net/archives/326019

    List of Prominent Sunni Ulema who were killed by Deobandi Takfiri terrorists
    1- Moulana Akram Rizvi Shaheed on 4th Rabiulawal ,2000
    2- Maulana Saleem Qadri On Friday , May 18 , 2001 alongwith Anees Qadri , Abid Baluch , Altaf Juenju , Hafeez Qadri
    3 – Muhammad Abbas Qadri
    Iftikhar Bhatti
    Akrum Qadri
    Dr Abdul Qadeer
    Main leadership of Sunni Tehreek
    Hafiz Taqi leader of JUP and ex MNA
    Biloo Bahi President of Jamat e ahlesunnat Karachi
    Died along with 49 other prominent Sunnis in Bomb blast at Nishtar Park Karachi on 11 April , 2006
    4 – Pir Samiullah of Sawat was killed by TTP on 13 December 2008 and on Octobor 10, 2008 his brother was killed
    5 – Doctor Sarfraz Naeemi was killed in Suicide bomb blast on 12 June , 2009
    6 – Sahibzada Fazal Karim of JUP was died on April , 2013
    7 – Maulana Muhammad Mehmud Shah Rizvi was killed in Mansehra on 19 Feb , 2015
    This is incoplete list of sunni killings by Deobandi takfiri terrorists in Pakistan .

  • Video: Javed Ahmed Ghamidi’s role in Sunni Sufi and Barelvi genocide in Pakistan https://lubpak.net/archives/332423

    Sunni Sufi Genocide: Senior Ahle Sunnat Barelvi leader Mahmood Shah killed by Deobandi ASWJ terrorists in Mansehra https://lubpak.net/archives/332049

    Outrage at the Bari Imam shrine
    May 28, 2005
    0 Comment

    A day after the urs (religious festival) of Bari Imam ended in Islamabad on May 26, a bomb blast at the concluding majlis (religious gathering) at the shrine killed at least 18 devotees; scores of others were wounded in the attack. The shrine is dedicated to a 17th century Sufi, Shah Abdul Latif Kazmi, popularly known as Bari Imam. Bari Imam is considered the patron saint of Islamabad.
    The Islamabad police chief says that initial findings point to a sectarian suicide attack. This is the strongest possibility given the pattern of past sectarian killings and suicide attacks since 2001. The shrine itself is claimed by both Shia and Barelvi Sunnis but is under the control of the latter since Raja Akram, its caretaker who was killed in February this year, took control during General Zia ul Haq’s time. Now the Barelvis celebrate the urs for a few days and the proceedings are capped after the last day of the festival by the Shia majlis.
    At the time of the blast thousands of Shia devotees were attending the majlis while Barelvi devotees who had come for the festival were in the process of leaving. It is important to note that the Sunni-Barelvi denomination, which constitutes the majority of Sunnis in Pakistan, is a moderate, existential creed and has traditionally enjoyed affinity with the Shia community. They are unlike the ahistorical and puritanical salafis of Wahhabi and Deobandi denominations which are rabidly anti-Shia and consider many practices by the Barelvis as bida’ (innovations).
    If the police finally determines the blast to be a suicide attack, the modus operandi would neatly fit other such sectarian attacks, mostly on Shia mosques and targets. Some reports suggest that on the final day of the urs some Shia hardliners from the NWFP also made some inflammatory speeches targeted against those Sunni and other denominations that apostatise the Shia. Of course, there are mischievous elements on both sides but two factors cannot be ignored in this regard. The May 27 attack was pre-planned and whoever mounted it could not have done so in the space of 24 hours after listening to the allegedly hard-line speeches by some Shia devotees. Also, the statistics of sectarian attacks clearly show that the Shia community is more sinned against than sinning. Shia retaliation is more focused and normally targets very high-profile Sunni-Deobandi or Wahhabi clerics, the assassination of SSP’s Azim Tariq in October 2003 being a case in point. More recently, in March this year, the Northern Areas IGP, Sakhiullah Tareen, was killed, along with four bodyguards, in an ambush after he led a crackdown in Gilgit in the wake of sectarian riots. Earlier, in January this year, a famous Shia cleric, Agha Ziauddin Rizvi, was killed in Gilgit. His killing was followed by the assassination of an SSP cleric in Karachi. Another attempt on a cleric of Islamabad’s Lal Masjid did not succeed.
    In February, Raja Akram, the caretaker of the shrine, was gunned down along with some others when a gunman opened fire on a funeral procession. However, police has not been able to ascertain the motive and it is not clear whether it was a sectarian attack.
    The attack on Bari Imam came as US Assistant Secretary of State Christina Rocca was concluding a visit to Pakistan. Just a day ahead of the attack, speaking at the National Defence College, General Prevez Musharraf had pointed to internal threats and claimed that his government had largely taken care of elements bent on doing mischief. But it seems that there are many fanatics still out there waiting for the right opportunity to shed blood. The attack also comes in the wake of a fatwa the government extracted from scholars of various denominations condemning sectarian violence and declaring suicide bombing for such a purpose as repugnant to Islam. The edict has already been rejected by various Deobandi scholars and religious leaders.
    It is difficult for any government to entirely eradicate the possibility of such attacks. However, the problem needs to be tackled at two levels: at the level of better policing and intelligence gathering; and by making policies that aim at ridding the society of its growing religious radicalism. On both counts the government does not appear to be doing much. General Musharraf continues to fight shy of co-opting moderate, secular parties and there is evidence that his establishment still puts a premium on a linkage with religious parties. This does not bode well for the overall health of the country. *

    http://archives.dailytimes.com.pk/editorial/28-May-2005/editorial-outrage-at-the-bari-imam-shrine

  • شہدائے اہلسنت
    مولانا اکرم رضوی
    عباس قادری
    الیاس قادری
    سرفراز نعیمی

    پاکستانی قوم کے سرفروش رہنماؤں کو ہمارا سلام
    شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی
    تاریخ شہادت: ١٢ جون ٢٠٠٩
    جائے شہادت: جامعہ نعیمیہ، لاہور
    قاتل: کالعدم تکفیری دیوبندی گروہ سپاہ صحابہ پاکستان
    سنی صوفی نسل کشی بند کرو
    تکفیری دیوبندی دہشت گردی مردہ باد

    ۔
    18دسمبر1986کو خالد محمود مانوالہ میں شہید کیا گیا ،14فروری1987شیر علی تاندلیا
    نوالہ ،جاوید اقبال ،بابرحسین کو شہید کیا گیا ،15نومبر1989کو حافظ محمد افضل کو
    میلاد کے جلسے میں جمیعت کے غنڈو ں نے شہید کیا ،16فروری 1991کو گوجرانولہ میں
    رانا شوکت علی کو شہید کیا ،31مئی1991میں ڈھلی میں امداد حسین شہید شہید ہوئے
    ،26دسمبر1993میںرانا افتخار کو فرقہ پرست لوگوں نے شہید کیا ،12اگست1994میں محمد
    اکرم رضوی کو فروغ عشق رسول ؐ کے جرم میں شہید کیا ،9دسمبر1995وزیر آبا دمیں شبیر حسین شاہ
    صاحب کو شہید کیا گیا ،9دسمبر 1994میں عبد الرحمٰن رضا کو فروغ عشق رسول ؐ کے جرم میں شہید کیا گیا ،جنوری 1996میں احسان اللہ کو شہید کیا گیا ،
    5فروری1996میں فضل حسین فضل کو لیہ میں شہید کیا گیا ،10دسمبر1996میں عرفان وڑائچ
    کو شہید کیا گیا ،اسی تاریخ میں شہزاد بٹ نے جامِ شہادت نو ش کیا گوجرانوالہ میں
    مسعود خالد مفتی شہید ہوئے گوجرانوالہ میں ہی عصمت نو ری کو شہید کیا گیا ،17اپریل
    1997سیالکوٹ میںمحمد نعیم بھٹی کو شہید کیا گیا ،6فروری 1998 شاہ فیصل کالونی
    کراچی محمد حسیب خاں شہید ہوئے 29جون1998 بہاولپور میں کلیم اللہ خاں سعیدی شہید
    ہوئے20دسمبر 2000مہروریم سیالکوٹ میں شہید ہوئے 22اکتوبر 2001ملک عبدالرشید کو
    بہاولپور میں شہید کیا گیا ،19اگست 2002کو ضلع مظفر گڑھ میں شاہد قادر شہید ہوئے
    18اکتوبر 2003میں چوہدری ارشاد اختر سیالکوٹ میں شہید ہوئے 6اپریل2001میں کراچی عید
    میلاد منانے کے جرم میں حافظ پیر محمد پیرل ذاکر حسین شہید کیے گئے انجمن کے ان
    جوانوں نے کلمہ حق کو بلند کیا ظالموں نے انکی جانے لے لیں انکے حوصلے پست نہیں
    ہوئے جب یہی سوچ و فکر اور اپنے اکابرین کانیک مِشن سنی تحریک لے کرمیدان عمل میں
    آئی ملک وملت کے حقوق کی خاطر آواز بلند کی تو ظا لمو ں نے مسلک کی اس ننھی کلی کو
    دبوچنے کی کوشش کی سنی تحریک کے قیا م کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ اپنی مسجد کی
    حفاظت کے جرم میں عبد السلام قادری کو شہید کیا گیا 16جولائی 1998میں سنی تحریک کے
    مرکزی رہنما محمد سلیم رضا قادری کو شہید کیا گیا 10جولائی1997میں جاوید قادری کو
    شہید کیا گیا 18جولائی1998میں سنی تحریک کے مرکزی رہنماعبد الوحید قادری کو شہید
    کیا گیا 18مئی2001کو سنی تحریک کے بانی مجاہد ملت جرنیل اہلسنت محمد سلیم رضا
    قادری کو عین اس وقت شہید کیا گیا ،جب آپ نورانی مسجدجمعہ کی امام و خطابت کیلئے
    جا رہے تھے آپ کے ساتھ آپ کے محافظ ڈرائیور، بہنوئی ، اور بھتیجا بھی شہید ہوئے جب
    کے دونوں شہزادے شدید زخمی ہوئے ،9نومبر 2004کامران قادری اور معراج قادری کو مسجد
    سے نکا ل کر شہید کیے گئے 18اپریل 2005طاہر قادری کو ربیع الاول کی تیا ریاں کرنے
    کے جرم میں شہید کیا گیا ،5جون2005کو محمد اشرف قادری ،فیض الحسن بٹ ،دانش قادری
    کو شہید کیا گیا 13اگست QTV.2005کے
    مشہور عالم دین سنی تحریک علما ء بورڈ کے رکن مولانہ عبد الکریم نقشبندی کو شہید
    کیا گیا ،12اکتوبر 2005محمد علی قادری کو زلزلہ ذدگان کی
    امداد کھٹی کرنے جرم میں شہید کیا گیا ،اسی روز اسی جرم میں سید اختر شاہ کو شہید
    کیا گیا ، 30اکتوبر 2005میں ندیم قادری کو شہید کیا گیا ، 5دسمبر2005مولانہ حبیب
    الرحمٰن سعیدی کو شہید کیا گیا ، 15دسمبر 2005عاشق مرشِدمحمد عدنان بٹ عطاری مسجد
    کا تعمیراتی سامان لاتے ہوئے شہید کئے گئے۔،14اپریل2006ء دعوت اسلامی کے عالمی
    مرکز فیضان مدینہ میں بھگدڑ مچا کر 30اسلامی بہنوں کو شہید کیا گیا۔فیصل آباد میں
    معروف عالم دین عطاء المصطفی نوری کے والد مولانا عبد القادر کو بے دردی سے شہید
    کیا گیا۔ 16اپریل2006میں سنی تحریک کی پوری اعلٰی قیادت جس میں سربراہ سنی تحریک
    عباس قادری مرکزی رہنما سنی تحریک اکرم قادری افتخار بھٹی سمیت 63علماء اہلسنت نے
    جام شہادت نو ش کیا جن میں مفتی شاہد عطاری ، عبد القدیر عباسی ، محمد حنیف بلو
    جیسی جید شخصیات شامل ہیں ۔10جولائی 2006سربراہ سنی تحریک کے ڈرائیور کو ایر پوٹ
    پر بلا کر شہید کیا گیا ،12مئی2007کو چیف جسٹس محمد افتخا ر چوہدری کے استقبال
    کرنے کے جرم میں سہیل قادری کو شہید کیا گیا ،26مارچ2008کو نعمان قادری کو شہید
    کیا گیا ،28مارچ2008میں محمد اعجا ز قادری کو شہدا نشتر پارک کے عرس کی تیاری کرنے
    کے جرم میں شہید کیا گیا ،30مارچ کو فیضا ن قادری اور انیس قادری کو شہید کیا
    گیا،15دسمبر 2008محمد علی کو شہید کیا گیا ،15اکتوبر 2008عبدالستار قادری ظالموں
    کا نشانہ بنے ،17اکتوبر2008کو سلطان قادری اور عرفان قادری شہید ہوئے ،19اکتوبر
    کونور محمد قادری شہید کیے گئے ،28اکتوبر کووسیم قادری اور فہیم قادری کو شہید کیا
    گیا ،10نومبر 2008فرقان قادری شہید ہوئے ،11نومبر کو حافظ فرحان نقشبندی ،آصف
    قادری شہید اور احمد قادری اور ساجد قادر ی شدید زخمی ہوئے ، 12جون2009کو خود کش
    حملوں کے خلاف فتوے دینے کے جرم میں جمعہ کی نماز کے بعد سفیر امن شہیدپاکستان
    مفتی سرفراز نعیمی کو خود کش دھماکے میں شہید کیا گیا ،1996میںامن کے سفیر دنیا
    اہلسنت کے امیر بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری پر لاہور میں حملہ
    کیا گیا ،جس میں سجاد رضا اور احد رضا نے جام شہادت نوش کیا ،18فروری 2009بلو
    چستان کے معروف عالم دین مفتی افتخار حبیبی صاحب کو شہید کیا گیا ،اپریل 2011میں
    سابقہ اہلحدیث مولانا عمر فاروق توحیدی پر قاتلانہ حملہ ہواجسکے نتیجہ میں انکے
    شہزادے حماد توحیدی نے جام شہادت نوش کیا، محمد راشد عطاری (کمانڈو)نے 24-5-2011 P N S مہران کراچی حملے میں طالبان کے سامنے ڈٹ کر ملک کا دفاع کرتے ہوے
    جام شہادت نوش کیا ربیع الاول 2009میں مبلغ دعوت اسلامی محمد انور عطاری کو جلوس
    میلاد نکالنے کے جرم میں فیصل آبا د میں شہید کیا گیا ،ربیع الاول جلوس میلاد نکا
    لنے کے جرم میںحضروچھچھ سرحد میں دلنواز خان اور وحید نے شہادت کا جام پیا ،اپریل2011میں
    محمد فرحان قادری اور انکی اہلیہ کو بے دردی سے شہید کیا گیا ،اسی ماہ بلوچستان کی
    معروف شخصیت مولانا عبدالکبیرقمبرانی قادری انکے بیٹے محمد امین انکے ساتھی در
    محمد خاں ، شاگردشمس الدین قادری کو شہید کیا گیا ،یہ توچند مشہور علماء و کارکناں
    اہلسنت کے نام ہیں جو آپ کے سامنے پیش کئے وگرنہ سینکڑوں علماء اہلسنت کو شہید کیا
    گیا ، اب آئیے چند ان واقعات پر نظر کرتے چلیں جہاں عوام اہلسنت ظلم و بربریت کا
    نشانہ بنے 30جولائی2007کو تحریک طالبان نے مہنمدایجنسی کے علاقے لکاڑر میں حاجی
    صاحب تورنگزئی کے مزار کو نقصان پہنچایا مزار ملیا میٹ کر کے لال مسجد بنائی
    18مارچ2008کو باڑہ کے معروف مزار پرحملہ کرکے13زائرین شہید کئے۔7جولائی کو پیر
    منگھو کے عرس کے موقع پر حملہ ہوا ایک شہید ہوا۔5مارچ 2009ء رحمن بابا کے مزار پر
    اسی تاریخ بہادر بابا کے مزار پر حملہ دور روز بعدلغیزے بابا کے مزار پر حملہ کئی
    بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا۔18اپریل کو پیر بابا کا مزار ہدف بنا۔6مئی کو خیال
    محمد کا مزار8مئی کو عمر بابا2دن بعد حمزہ شنواری کا مزار نشانہ بنا۔جس میں کئی
    زائرین شہید ہوئے، یکم جولائی2010ء کو داتا گنج بخش علی ہجویری کے مزار پر 3خود کش
    حملوں میں 50سے زائد زائرین شہید ہوئے۔سندھ کے مشہور صوفی بزرگ عبد اللہ شاہ غازی
    کے مزار پر دھماکہ میں 12سے زائد غمزدہ شہید ہوئے۔بابا فرید گنج شکر کے مزار پر
    حملے میں 7افراد لقمہ اجل بنے۔3فروری 2011ء کو بابا حید ر سائیں مزار نشانہ بنا۔جس
    نے 7بے گناہ افراد کی جان لی۔13اپریل 2011ء کو معروف روحانی ہستی حضرت احمد سلطان
    سخی سرور علیہ الرحمۃ کا مزار ظالموں کا نشانہ بنا،جس میں 50سے زائد زائریں کی جان
    ہڑپ کی۔

  • جنرل راحیل شریف – عوام اہل سنت پوچھتے ہیں – 45 ہزار سنّی بریلویوں کے قاتل دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے سرپرست اعلی اورنگ زیب فاروقی کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ کب مارا جائے گا ؟ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قتل کا ماسٹر مائنڈ دیوبندی ملک اسحاق کب تختہ دار پر چڑھایا جآئے گا ؟ ماڈل ثاؤن میں 14 سنّی مرد و خواتین کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کا مربی رانا ثناء اللہ کب کہٹرے میں لایا جائے گا ؟ جامعہ بنوریہ ٹاؤن میں بیٹھے دیوبندی دھشت گردوں کو رینجرکب گرفتار کرے گی

    مانسہرہ میں شہید ہونے والے سنّی بریلوی عالم علامہ محمود شاہ کے قتل میں ملوث دیووبندی دھشت گرد کب گرفتار ہوں گے ؟ —- یہ کس کا لہو یہ کون گرا —-راحیل شریف بول زرا ، دیکھو پھر ایک سنّی بریلوی کا لہو گرا —-راحیل شریف بول زرا

    چیچہ وطنی میں شہید ہونے والے تحریک منھاج القرآن علماء ونگ کے صدر – پاکستان میں صوفی سنّی نسل کشی جاری – دیوبندی تکفیری دھشت گرد آزاد

    داتا دربار پر بم دھماکہ کی تصویر اور ساتھ اولیائے کرام کے مزارات تباہ کرنے والے دیوبندی تکفیری دھشت گرد کب انجام کو پہنـچیں گے ؟ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کب تک اہلسنت والجماعت کے نام سے دھشت گردی پھیلاتی رہے گی ؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی زمہ دار اپیکس کیمٹیاں جواب دیں

    یہ کس کا لہو یہ کون مرا
    تکفیری دیوبندی نواز حکومت بول ذرا

    جنرل راحیل شریف سے درخوست ہے کہ طالبان کے حلیف کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے ساتھ حکومتی جماعت کے گٹھ جوڑ کا نوٹس لیں

    Stop Sunni Sufi Genocide in Pakistan.

    List of Prominent Sunni Ulema who were killed by Deobandi Takfiri terrorists
    1- Moulana Akram Rizvi Shaheed on 4th Rabiulawal ,2000
    2- Maulana Saleem Qadri On Friday , May 18 , 2001 alongwith Anees Qadri , Abid Baluch , Altaf Juenju , Hafeez Qadri
    3 – Muhammad Abbas Qadri
    Iftikhar Bhatti
    Akrum Qadri
    Dr Abdul Qadeer
    Main leadership of Sunni Tehreek
    Hafiz Taqi leader of JUP and ex MNA
    Biloo Bahi President of Jamat e ahlesunnat Karachi
    Died along with 49 other prominent Sunnis in Bomb blast at Nishtar Park Karachi on 11 April , 2006
    4 – Pir Samiullah of Sawat was killed by TTP on 13 December 2008 and on Octobor 10, 2008 his brother was killed
    5 – Doctor Sarfraz Naeemi was killed in Suicide bomb blast on 12 June , 2009
    6 – Sahibzada Fazal Karim of JUP was died on April , 2013
    7 – Maulana Muhammad Mehmud Shah Rizvi was killed in Mansehra on 19 Feb , 2015
    This incoplete list . complete it please.

    two part of this report
    1st Part List of Shaheed Sunni Ulema
    2nd Part list of attacks on Sunni Shrines and Mosques

    Reply – June 2, 2015
    Khalid Jahan
    (Edit)
    Sunni Tehreek to launch protest against target killing
    Last Updated On 31 January,2013 About 2 years ago

    The Sunni Tehreek has announced to launch a protest campaign against target killing in Karachi.

    Addressing a press conference in Karachi, Sunni Tehreek leader Muhammad Shakeel Qadri said that in the first phase, protest rallies will be held across the country against target killing in Karachi.

    He further said that during the second phase, main roads in Sindh and Punjab will be blocked while in the third phase, 12-day symbolic hunger strike will be observed in front of the Press Club Karachi.

    http://dunyanews.tv/index.php/en/Pakistan/156955-Sunni-Tehreek-to-launch-protest-against-target-kil

  • Shohada Of Pakistan Sunni Tehreek

    https://www.facebook.com/video.php?v=10201335437700001

    کراچی میں سنی صوفی اوربریلوی نسل کشی میں دیوبندی تکفیری گروہ سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم میں گھس بیٹھیا مفتی نعیم گروپ ملوث ہے

    سنی تحریک، سنی اتحاد کونسل، جمیعت علما پاکستان اور دعوت اسلامی کے کارکنان کو کراچی میں تکفیری دیوبندی دہشت گرد چن چن کر شہید کر رہے ہیں، اس قتل عام میں سب سے نمایاں کردار کالعدم تکفیری گروہ سپاہ صحابہ نام نہاد اہلسنت والجماعت کا ہے جو کہ لشکر جھنگوی اور طالبان کا اصلی روپ ہے، سنی نوجوانوں میں کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں اور ایم کیوایم میں گھس بیٹھیے مفتی نعیم بنوری گینگ کے خلاف سخت غصہ پایا جاتا ہے

    کارکنوں کے قتل عام پرحکومتی ادارے بے حسی کامظاہرہ کررہے ہیں سندھ حکومت اور سپاہ صحابہ مفتی نعیم و اورنگزیب فاروقی کا گٹھ جوڑ کراچی کو بڑی تباہی سے دوچار کررہاہے ۔ کارکنوں کے قتل عام کا سیاسی ، جمہوری اورآئینی انتقام لیں گے۔حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہ اپنی نااہلی کے اعتراف میں قوم سے معافی مانگیں۔ سنی بریلوی رہنماؤں کا مطالبہ

    کراچی – ٢ جون ( نامہ نگار خصوصی) کراچی میں کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پاکستان سُنی تحریک، سنی اتحاد کونسل، جمعیت علما پاکستان اور دعوت اسلامی کے رہنماؤں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے جبکہ جمعہ کے اجتماعات میںتکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں سنی بریلوی اور صوفی کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مذمتی قراردادیں منظورکیں۔ ملک کے مختلف شہروں کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی، لاہور وغیرہ میں حالیہ ہفتوں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوۓ ہیں ۔ مظاہرے کے شرکاء نے کالعدم سپاہ صحابہ اور طالبان کے خلاف احتجاجی بینرز اورکتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر احتجاجی نعرے اورمطالبات تحریر تھے۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مفتی لیاقت علی رضوی نے کہا کہ کراچی میں پاکستان سنی تحریک کے کارکنوں کوپے درپے قتل کیاجارہاہے لیکن حکومت اوررینجزر بے حسی کامظاہرہ کررہے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی، منظور مینگل اور مفتی نعیم کو کھلی چھوٹ دی گئ ہے – پاکستان سنی تحریک کے کارکنوں کو کسی بھی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔رواں ماہ پاکستان سُنی تحریک کے درجنوں کارکنوں کو شہید کیا جاچکاہے جبکہ بیسیوں کارکن ایسے ہیں جو گولیاں لگنے سے معذور ہوچکے ہیں۔ہم نے رپورٹس میں سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کو نامزدکیاہے جبکہ حکومت بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں مفتی نعیم لابی ملوث ہے جس کی پشت پناہی عشرت العباد کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود مصلحت پسندی سے کام لیاجارہاہے۔ پیپلز پارٹی حکومت اورسپاہ صحابہ اورنگزیب فاروقی کا خفیہ گٹھ جوڑ کراچی کو بڑی تباہی سے دوچار کررہاہے ۔ کارکنوں کے قتل عام کا سیاسی ، جمہوری اورآئینی انتقام لیں گے۔

    علامہ خادم چشتی نے کہا کہ مٹھی بھردہشت گردوں کے سامنے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی شرمناک ہے۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کراچی میں قتل و غارت گری کے واقعات پرصرف نوٹس سے ہی کام نہ چلائیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف عملی کاروائی کاحکم دیں۔ صرف مرنے والے کی تعداد اور واقعات پر رپوٹنگ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بن چکی ہے عدلیہ کواب رپورٹیں طلب کرنے کی بجائے نتائج طلب کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کوبااختیار بنا کر سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے، پولیس اور رینجرز میں موجود تکفیری دیوبندی عناصر کی سرپرستی کرنے والے افسران و اہلکاروں کو تلاش کرکے قراواقعی سزادی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان بے گناہ افراد کے قتل پر مقتولوں کے ورثا اور اہلیان کراچی سے اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگیں۔

    اس موقع پرپاکستان سُنی تحریک کے کارکنوں کی طرف سے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی جبکہ احمد لدھیانوی، اورنگزیب فاروقی، مفتی نعیم، قائم علی شاہ اور عشرت العباد کی تصویر بھی نذرآتش کی گئی۔

  • آج نیوز: سنی تحریک اور ایم کیو ایم نے طالبان اور سپاہ صحابہ کے تکفیری خوارج کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا

    کراچی: آج نیوز – سنی تحریک نے متحدہ قومی موومنٹ کو اولیائے کرام و بزرگان دین کے تحفظ اور طالبانائزیشن کے خلاف جدوجہد میں ساتھ دینے کا یقین دلا دیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری سے بات کی۔ الطاف حسین نے کہا کہ طالبان، سپاہ صحابہ اور دیگر تکفیری خوارج اہل بیت ، اولیائے کرام اور بزرگان دین کے مزارات اور ان کا نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اولیائے کرام اور بزرگان دین سے محبت و عقیدت رکھنے والوں کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔ ثروت اعجاز قادری نے الطاف حسین سے اتفاق کیا اور کہا کہ اولیائے کرام اور بزرگان دین کے تحفظ، سپاہ صحابہ کی تکفیری دہشت گردی اور طالبائزیشن کے خلاف سنی تحریک مکمل طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ ہے

    یاد رہے کہ ایم کیوایم کے قائد نے حال ہی میں ہدایات جاری کی ہیں کہ تنظیم کو مفتی نعیم دیوبندی لابی اور دیگر تکفیری گھس بیٹھیوں سے پاک کیا جائے

    http://urdu.aaj.tv/national/2009/04/17/43838_2_story.html

    http://ur.smnetwork.com.pk/?p=12858

    دہشتگرد تنظیم اہلسنت والجماعت سپاہ شیطان کی شاخ ہے: ثروت اعجاز قادری
    Posted by: admin in قومی خبریں, مدارج, پنجاب January 6, 2014 0 795 Views

    Share
    ST
    صدائے مظلومین نیٹ ورک: لاہور: پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان سنی تحریک ہے انشاءاللہ ہم نیا مشرقی پاکستان نہیں بننے دیں گے۔ اگر طاقت کی زبان کی بات کی جائے گی تو میرے قائد کے سپاہی اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ، سعودیہ اور دیگر ممالک کے ادارے بناتے ہیں۔ آج اس ملک میں آئین توڑنے والے عدالتوں، پاکستان، عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو گالی دینے والوں سے قانون ڈرتا ہے اور انہی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں، آج ہمارے ادارے اتنے بے بس ہیں کہ وہ دہشت گرد تنظیم اہلسنت والجماعت جو سپاہ شیطان کی شاخ ہے اور وہ نام بدل کر کام کر رہی ہے، اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کرسکتی، اس دہشتگرد تنظیم پر پابندی عائد کی جائے۔ ربیع الاول کے بعد سنی تحریک مہنگائی اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ 11 ربیع الاول کو بھی ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اور 12 ربیع الاول تک ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ نواز شریف کے پاس 12 کروڑ میلادیوں کے لئے وقت نہیں ہے لیکن اس کے پاس 2 کروڑ فسادیوں کے لئے وقت ہے۔
    ہمارا عزم اور خواب اس ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ اس ملک سے طبقاتی نظام کا خاتمہ کرنا ہے۔ تعلیم کو عام کرنا ہے۔ ہم چہرے نہیں نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں چیف آرمی اسٹاف بناتے وقت اس کا سیاسی اثر و رسوخ کیوں دیکھا جاتا ہے۔ اگر سوچ کو نہیں بدلا گیا تو ہم کبھی ان دہشت گردوں سے آزاد نہیں ہوں گے۔ پاکستان سنی تحریک عوامی تحریک کی 6 جنوری کی ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ایس ٹی کے تحت نشتر پارک کراچی میں منعقدہ ’’پاکستان بچاؤ جانثاران مصطفٰی (ص) کانفرنس ‘‘ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ ماہ ربیع الاول شریف کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم نے اس کا آغاز تحفظ ناموس رسالتﷺ سے راولپنڈی سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل میں غازی ممتاز قادری سے ملاقات کی اور انہوں نے مجھے تحائف بھی پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک ممتاز قادری کا فیصلہ نہ ہوا تو اس کا فیصلہ اب سنی خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہود اور کانگریسی ملا آج پاکستان کے ٹکڑے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا انہی طاقتوں کے خلاف ہم نے شہادتوں کا سفر شروع کیا ہے اور ہمارا یہ سفر ان طاغوتی قوتوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ آج ہماری خارجہ پالیسی امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ادارے بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اس ملک میں آئین توڑنے والے عدالتوں، پاکستان، عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو گالی دینے والوں سے قانون ڈرتا ہے اور انہی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں اور اگر طاقت کی زبان کی بات کی جائے گی تو میرے قائد کے سپاہی اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔
    ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ نواز شریف کے پاس 12 کروڑ میلادیوں کے لئے وقت نہیں ہے لیکن اس کے پاس 2 کروڑ فسادی کے لئے وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس کافروں کے لئے اے پی سی کرنے کا وقت ہے لیکن ہمارے لئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اوقاف، نظریاتی کونسل دہشتگردوں کے پاس ہے۔ حکومت اور عدالتوں کا نظام دہشتگردوں کے پاس ہے، آج تک عدالتوں نے نشتر پارک اور سنی تحریک کے قائد کے قتل کا سوموٹو نہیں لیا، لیکن اب نئے چیف جسٹس آف پاکستان سے امید ہے کہ وہ سانحہ نشتر پارک پر سوموٹو ایکشن ضرور لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دہشت گرد تیار ہوتے ہیں ان کے سربراہوں کو بلا کر ان سے مذاکرات کئے جائیں گے تو پاکستان میں امن کیسے ہوگا۔
    انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت، ادارے دہشتگردوں کے ہاتھوں بے بس نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی تحریک کی 6 جنوری کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈرون حملوں کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں اور ان کے خلاف ہیں لیکن جو مولانا ڈیزل اور مولانا سمیع الحق نے دنیا سے دہشت گرد جمع کئے ہیں، یہ کس کھاتے میں ہیں۔ ان کو یہاں سے نکالو تو نیٹو کی فوجیں خود ہی یہاں سے چلی جائیں گی۔ ہم اس ملک کو بچانا چاہتے ہیں، پاکستان کی 66 سال کی تاریخ میں ایک بھی دہشتگرد کا تعلق سنی یا اہلسنت میں سے نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ادارے اتنے بے بس ہیں کہ دہشتگرد تنظیم اہلسنت والجماعت جو سپاہ شیطان کی شاخ ہے اور وہ نام بدل کر کام کر رہی ہے۔ اس دہشتگرد تنظیم پر پابندی عائد کی جائے۔ ربیع الاول کے بعد سنی تحریک مہنگائی اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11 ربیع الاول کو بھی ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اور 12 ربیع الاول تک ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں سورہ مائدہ میں ہے کہ جو فساد فی الارض ہو ان کا ایک ہاتھ، ایک پاؤں کاٹ دیا جائے۔ حکومت بتائے کہ انہوں نے اس ملک میں فساد پھیلانے والے کتنے لوگوں کے ہاتھ اور پیر کاٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں ایک طرف فسادی اور میلادی کے مابین جنگ ہیں

  • Thursday 23 May 2013 – 17:28Share/Save/Bookmark
    سُنی تحریک کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی شدید مخالفت
    سُنی تحریک کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی شدید مخالفت

    اسلام ٹائمز: میاں نوازشریف کی جانب سے انتہا پسند دہشتگردوں سے مذاکرات کی پیشکش پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ شریعت کسی قانون شکن کو ذاتی طور پر معاف کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

    اسلام ٹائمز۔ پاکستان سُنی تحریک کے رہنماؤں نے طالبان سے مذاکرات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کیساتھ مذاکرات دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہیں۔ مساجد، مدارس اور مزارات اولیاء پر بم دھماکے کرنیوالوں سے کسی صورت غیر مشروط مزاکرات نہیں ہونے چاہییں۔ طالبان سے مذاکرات کا مطلب 40 ہزار پاکستانیوں اور 5 ہزار سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی شہا دت سے غداری ہے۔ شریعت کسی قانون شکن کو ذاتی طور پر معاف کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمنوں سے اس وقت تک کوئی بات نہیں کی جانی چاہئے جب تک وہ ہتھیار پھینک کر خود کو قانون کے حوالے نہ کر دیں۔ وگرنہ قوم اپنے پیاروں کا لہو میاں نوازشریف کے ہاتھوں میں تلاش کرنے پر مجبور ہوگی۔

    ان خیالات کا اظہار مفتی لیاقت علی رضوی، علامہ طاہر اقبال چشتی، ملک عبدالرؤف، علامہ عطاء الرحمن دھنیال، صاحبزادہ عبدالرحمن سیالوی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے انتہا پسند دہشتگردوں سے مذاکرات کی پیشکش کے ردعمل میں اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ پاکستان سُنی تحریک کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ میاں برادران نے ہمیشہ منافقت اور ذاتی مفادات کی سیاست کی ہے۔ پنجاب میں دہشتگردوں کو مسلم لیگ (ن) کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ میاں نوازشریف کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے کارگل کے شہداء سے غداری کی کیا سزا ء پائی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ بدترین لوڈشیڈنگ (ن) لیگ کی ڈرامے بازی ہے۔ (ن) لیگ الیکشن کی طرح حکومت میں بھی جعلی کریڈٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ عوامی حقوق کے جھوٹے دعویداروں نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی قوم کو مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

    http://www.islamtimes.org/ur/doc/news/266847/%D8%B3-%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%B0%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%B4%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA

    from a facebook forum:

    جو اہم ترین نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری دہشت گردی پاکستان میں وہ ناسور ہے جس کا متاثرہ اس ملک کا ہر مکتبہ فکر ہے اور اس کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ دیوبندی تکفیریت اور دہشت گردی کے دو پرائم ٹارگٹ ہیں
    ایک شیعہ اور دوسرے صوفی سنی یا سنی بریلوی …… ان دونوں مکاتب فکر کو دیوبندی -سلفی وھابیت اپنے لئے سب سے بڑا چیلنج خیال کرتی ہے اور اس کے ہاں فکری اور عسکری دونوں محازوں پر شیعہ اور صوفی سنی سب سے بڑا ھدف ہیں
    صوفی سنی لوگوں کی جانب اس کی فکری حکمت عملی نری دشمن والی نہیں ہے ، وہ سنی بریلویوں میں تکفیری فکر کی آبیاری کا امکان ان کے اصحاب رسول کے حوالے سے جذبات کو expolite کرنے میں دیکھتا ہے اور پھر اس کی کوشش ہے کہ بریلوی نوجوانوں کو عراق ، شام اور لبننان میں شیعہ کے سنیوں پر مظالم کی کہانی سناکر ان کے جذبات بھڑکائے تاکہ وہ کم از کم شیعہ کی کلنگ پر راضی ہوجائیں ، سنی بریلوی
    تکفیریت کی جانب بدلاو میں ان کو سافٹ ھدف لگتے ہیں اور کئی اور عوامل جیسے پیسہ ، طاقت سنی بریلوی نوجوانوں کی دیوبندی یا سلفی تکفیری ہونے کا سبب بنے ہیں
    سنی بریلویوں میں اپنے وجود کی شناخت کو تکفیریت کے حوالے سے لاحق خطرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں
    اس ضمن میں ہمیں یہ بات بھی دھیان میں رکھنی ہے کہ
    جب ہم نے یہ مقدمہ ایل یو بی کے پلیٹ فارم سے رکھا کہ
    دیوبندی تکفیریت شیعہ -سنی لڑائی نہیں ہے ، یہ دو فرقوں کی جنگ نہیں ہے
    تو سوال یہ اٹھا اگر یہ دع فرقوں کی جنگ نہیں تو کیا شیعہ اور ان کے ہمدردوں کے علاوہ کسی اور کمیونٹی نے بھی دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی اور دوسرے مکاتب فکر کے لوگوں کے اس یہ یک طرفہ حملوں سے کس قدر متاثر ہوئے ہیں
    ایل یو بی پاک نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سنی بریلوی حلقوں سے کتنی آوازیں اس معاملے میں شامل ہوئیں ، عمار بھائی !
    صدائے اہلسنت کی ٹیم کا کہنا ہے کہ رسالہ زرا تاخیر سے آئے تو فون سنی بریلوی مدارس سے موصول ہوتے ہیں ، خط آتے ہیں اور تقسیم کاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ رسالہ کیوں نہیں آیا ، انٹرویوز کی دعوت ہے کئی ایک لیڈران کی جانب سے ،

    اور اس وقت سب سے زیادہ تنقید دیوبندی تکفیریت کی ایل یو بی پاک اور ان سب پر ہے جو دیوبندی تکفیری دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کرے اور اس لڑائی کو شیعہ -سنی لڑائی کا شاخسانہ قرار نہ دے

    ! تاریخ کی آپ نے بات کی ہے تو آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ معاویہ سمیت جتنے بھی اموی حکمران تھے ان کو بلاد اسلامیہ میں سوائے شام کے کہیں اور کے مسلمانوں نے جائز حکمران تسلیم نہیں کیا تھا اور معاویہ ‘ یزید ‘ مروان اور عبدالمالک نے تو بلاد اسلامیہ کے امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی حمائت کی سزا دی اور ان بلاد اسلامیہ میں اکثریت سنی مسلمانوں کی تھی اور کہا جاسکتا ہے کہ یہ صوفی سنی مسلمان تھے جو صفین و جمل ونھروان میں بھی علی کے ساتھ تھے اسی لیے تو سنی مذاھب اربعہ کے ماننے والے ان تینوں جنگوں میں لشکر علی کو برحق سمجھتے ہیں تو تاریخ میں موجود اس حقیقت کو سعودی فنڈڈ پروپیگنڈا وھابی-دیوبندی نام نہاد فہم تاریخ کے مقابلے میں کس قدر مین سٹریم دھارے میں لایا جاتا ہے
    آپ یہ بھی بات مدنظر رکھیں کہ سلفی ازم اور دیوبندی ازم یہ دونوں متحد ہو کر سب سے زیادہ خرچ سنی اسلام کے مین سٹریم دھارے کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش میں ہیں اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ جو شیعہ اور دیگر کمیونٹیز کے بارے میں ان کی تکفیری سوچ ہے اسے ہی سنی اسلام مان لیا جائے , تاریخ پر ظلم تو یہ ہوگا کہ دیوبندی تکفیریت اور سلفی تکفیریت کو سنی اسلام مان لیا جائے
    میں ایک اور بات بھی کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ سنی نسل کشی پاکستان میں کوئی افسانہ نہیں ہے اور نہ ہی سنی اسلام کے خلاف دیوبندی تکفیری ازم کوئی tactics or self created perception ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے اور ابھی چونکہ سنی بریلوی پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں جاری ایک عرصے کی مسلسل سعودی پروپیگنڈے کی بمباری کے سبب اس کمیونٹی کا عکس اس کی آبادی کے مطابق نہیں جھلکتا اگرچہ اس میں کافی بدلاؤ آیا ہے لیکن اس محاز پر ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے
    میں اتنا جانتا ہوں کہ جس دن پاکستان میں سنی بریلویوں نے ھتیار ڈالے اور یہ مان بیٹھے کہ سپاہ صحابہ پاکستان کی اینٹی شیعہ ڈرائیو ناموس صحابہ کی جنگ ہے تو بہت نقصان ہوجائے گا
    اہلسنت بریلوی 80ء اور 90ء کی دھائی میں اس غلطی کا شکار ہوئے تھے اور اس زمانے میں کئی ایک سنی بریلوی علماء نے شیعہ کے رد کا وہ پیٹرن اختیار کیا تھا جو دیوبندی تکفیریوں کا تھا , اس زمانے میں مجھے یاد ہے کہ مولوی محمد علی کی میزان الکتب , بدرالقادری کی خمینی انقلاب اور پیر قمر الدین سیالوی آف سیال شریف کی کتاب مزھب شیعہ وغیرہ سامنے آئیں تو کئی ایک سنی علماء اور سیاسی لیڈران نے ان سب کو سمجھایا کہ سپاہ صحابہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے گروہوں کی تاریخ کے اس موقعہ پر مسالک کے قدیم تاریخی اختلافات کو ابھارنے کا مقصد ان ممالک کی عوام کے اندر فتنہ وف
    ساد کو بھڑکانہ ہے ہمیں اس مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور اس وقت بھی علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علمائے کرام نے واضح کیا کہ سنی اسلام کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج وھابی دیوبندی خوارج سے ہے مگر اس زمانے میں بدقسمتی یہ ہوئی کہ پنجاب اور خیبرپختون خوا کے سنی بریلوی سیاسی قیادت نواز شریف کو سنی بریلوی خیال کرتی رہی اور یہ سمجھتی رہی کہ نواز شریف کے قریب رھیں گے تو سنی بریلوی تشخص طاقت ور ہوگا لیکن وہ نواز شریف کی سرمایہ دارانہ رشتہ داریاں نہ تو سعودی عرب کے ساتھ سمجھ سکے , نہ ہی ان کو عالمی و علاقائی جیو سیاست کا,احساس ہوسکا , وہ اس زمانے میں دیوبندی ازم کی گلوبل ڈرائیو کو ٹھیک طرح سے پہچان نہ سکے اور نتیجہ سامنے آگیا ,آج سنی بریلوی طاقت کا ایک مرکز تشکیل دینے کی ضرورت اور احساس سنی بریلوی کمیونٹی میں بڑھتا جاتا ہے اور ہم اس حوالے سے کوئی تعلی اور بڑبولہ پن نہیں کرنا چاہتا مگر اتنا ضرور ہے کہ ہم نے سنی بریلوی قیادت کو پاکستان اور بھارت کے اندر سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہے , ان کے دماغوں پر دستک دی ہے , میں سمجھتا ہوں کہ شیعہ بھائیوں کے ہاں جس کثرت سےجنازے اٹھے اس کا اثر ان کے دل ودماغ پربہت ہے لیکن زرا سوچئے کہ ہم سنی بریلوی دیوبندی دہشت گردوں کے ھاتھوں پاکستان میں مارے جاتے ہیں تو ہماری شناخت اورقاتلوں کی شناخت تک کوئی نہیں لکھتا . عراق وشام و لیبیا و یمن میں ہمارے مارےجانے پر کوئی نہیں بول رہا , ہمارے قاتلوں کو سنی لکھا جاتا ہے اوران کو سنی اسلام کا ترجمان کہا جاتا ہے یہ ٹریجڈی ہے جس کا ہم شکار ہیں اور وھابی دیوبندی ہم کو اگر پرائم ھٹنگ ٹارگٹ نہ بھی نہ سمجھے تو ہم اس کا دوسرا ٹارگٹ ضرور ہیں , میں آپ سے کہوں گا کہ تاریخ کا جبر ہے کہ دیوبندی تکفیری دہشت گردی اور دیوبندی تکفیریت کے خلاف سنی بریلوی اورشیعہ کے درمیان مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہوچکی ہے ,یہ درندہ وہ ہے جس کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا