Original Articles Urdu Articles

ملالا کا نوبل انعام اور ڈاکٹر ھود بھائی کا مغالطہ – عامر حسینی

Malala-Yousafzai_20141022.jpg.ashx

 

ڈاکٹر امیر علی پرویز ہود بهائی جو قائد اعظم یونیورسٹی میں سالڈ سٹیٹ فزکس کے شعبے سے وابستہ ہیں نے اپنے ایک آرٹیکل میں ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے بائیں بازو کے سامراجیت مخالف ، ملٹی نیشنل کارپویٹ لوٹ مار اور سامراجی عالمی سرمایہ داریت کے نقادوں کے موقف کو انتہائی مسخ کرکے پیش کیا ہے ، ان کا یہ آرٹیکل آوٹ لک انڈیا میں شایع ہوا ہے ہود بهائی نے ارون دهتی رائے پر تنقید کرتے ہوئے ان کو ملالہ یوسف زئی کا مخالف بناکر پیش کیا اور اسی طرح سے کئی اور ریڈیکل سوشلسٹ انقلابیوں پت تنقید کی اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جیسے وہ سب ملالہ یوسف زئی کے معاملے میں اپنی رائے کے اعتبار سے طالبان اور ان کے حامیوں کے ساته کهڑے ہیں

http://www.outlookindia.com/article/Why-Does-Malala-Yusufzais-Nobel-Bother-So-Many-On-The-Left-/292542

جبکہ معاملہ یہ ہے کہ انقلابی اشتراکیوں اور بائیں بازو کے ریڈیکل حلقوں نے ملالہ یوسف زئی کو نہ تو مغرب کا ایجنٹ ٹهہرایا اور نہ ملالہ کو لگنے والی گولی کے جواز تلاش کئے لیکن ان کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ پرستی ، ان کے سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل پر سوالات بهی اٹهائے گئے ، ان کی مذهبی فاشسٹوں اور نام نہاد جہافیوں کے خلاف جنگ کے دوہرے معیارات اور منافقت پر سے بهی پردہ اٹهایا گیا

اصل میں ہودبهائی کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو امریکی امپریلسٹ پالسیوں اور اس کے فیک لبرل ازم کا پردہ فاش کرنے والے ایک آنکه نہیں بهاتے ، اور وہ لیفٹ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نیولبرل ازم پر مبنی پالسیوں پر تنقید اور مخالفت سے بیزار نظر آتے ہیں پاکستان میں ایسا جعلی لیفٹ موجود ہے جو ہود بهائی کی اس کهلی سامراج نوازی اور نیولبرل ازم سے عشق پر دم سادهے رہتا ہے کیونکہ اسے اس قسم کے نیولبرل ازم سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کے لبرل فاشزم کو جب بے نقاب کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو وہ لیفٹ کو خواہ مخواہ طالبان اور تکفیریوں کے ساته نتهی کرتا ہے جبکہ ان کا اس طرح کے عناصر سے کچه لینا دینا نہیں ہے بلکہ اس لیفٹ نے نیولبرل ازم کو غیر اعلانیہ طور پر قبول کرلیا ہے