Featured Original Articles Urdu Articles

دیوبندی سیاست کی تاریخ – دین دیوبندی فی سبیل اللہ فساد

نوٹ : تعمیر پاکستان ویب سائٹ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کو ہمیشہ سے بے نقاب کرتی آئی ہے اور ان کے جعلی سنّی ازم کا لبادہ بھی تار تار کرتی رہی ہے ، اس ویب سائٹ کو یہ جان کر اطمینان ہورہا ہے کہ اب خود اہلسنت کے اندر بھی یہ احساس تیزی سے جنم لے رہا ہے کہ دیوبندی تکفیری اور نام نہاد اعتدال پسند دیوبندی سیاست کے درمیان کس قدر گہرا تعلق اور رشتہ موجود ہے ، محمد خالد نورانی اہلسنت کے ایک انتہائی موقر جریدے ” صدائے اہلسنت ” کے مدیر ہیں ، اس جریدے کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک آفیشل پیج ” وائس آف سنی ” کے نام سے موجود ہے ، جس پر دیوبندی سیاست پر ان کا یہ تجزیہ چھپا ، جسے ہم شکریہ کے ساتھ یہاں شایع کررہے ہیں 

آج مورخہ 10 نومبر 2014 بروز سوموار روزنامہ ڈان نے ایک خبر شایع کی ہے ، جس کے مطابق لاہور میں دیوبندی تنظیموں کا اجلاس مجلس احرار پاکستان کے صدر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اہل سنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان ، وفاق المدراس ( مرکزی جنرل سیکرٹری قاری حنیف جالندهری ) ، جے یوآئی (ف، س ، ن) ، پاکستان شریعہ کونسل (زاہد الراشدی ) وغیرہ نے شرکت کی اور اس اجلاس میں تمام دیوبندی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر جدوجہد کرنے کا فیصلہ ہوا ، اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ اس حوالے سے مولوی فضل الرحمان ، محمد احمد لدهیانوی سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور 18 اکتوبر کو اسلام آباد میں آل دیوبندی پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوگا اور باقاعدہ اتحاد کا اعلان کیا جائے گا
اس اتحاد کا ایجنڈا ” ملک میں پهیلتی فحاشی اور قادیانی ازم ” کی روک تهام بتایا گیا ہے
دیوبندی سیاست کی تاریخ پاکستان کے قیام سے پہلے اور بعد کے ادوار میں یہ بتاتی ہے کہ اس کے پیچهے ہمیشہ ایک تو بیرونی طاقتوں کا ایجنڈا رہا ہے اور دوسرا یہ ہمیشہ اصل میں سواد اعظم اہلسنت المعروف بریلویوں کے خلاف ہی سرگرم رہی ہے
تاریخ اب یہ ثابت کرچکی ہے کہ نام نہاد جمعیت العلمائے ہند نے تحریک خلافت ، تحریک موالات و ہجرت میں ہندو ساہوکاروں اور ہندو مہا سبهائی متعصب سرمایہ داروں کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے ہزاروں مسلمان گهرانوں کو تباہ و برباد کردیا تها اور معاشی طور پر و تعلیمی طور پر پہلے سے کمزور مسلمانوں کو مزید ہندو بنیا کا رہین کردیا تها
اسی طرح جب قیام پاکستان کی تحریک چلی تو دیوبندی تنظیموں جن میں موجودہ مجلس احرار کے صدر کے والد عطاء اللہ شاہ بخاری سمیت ہر چهوٹے ، بڑے دیوبندی مولوی نے سوائے اشرف علی تهانوی و شبیر عثمانی کے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی ، قائد اعظم کو کافر اعظم قرار دیا اور عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا تها
پاکستان کی پ بهی بن گئی تو پیشاب سے داڑهی منڈوادوں گا
لیکن پاکستان بن گیا اور عطاء اللہ بخاری بے شرمی کے ساته جان بچاکر پاکستان میں ہی پناہ گزین یوگیا
مجلس احرار نے قیام پاکستان کے بعد 50ء کی دهائی میں تحریک ختم نبوت کو هائی جیک کرنے کی کوشش کی اور ایک پرامن تحریک کو پرتشدد بنایا ، ممتاز دولتانہ سے پیسے لیکر ممدوٹ حکومت کو گرانے کے لئے فساد پهیلایا اور منیر کمیشن رپورٹ نے دیوبندی ، وهابی اور مودودی کے حامیوں کی سازش کو طشت ازبام کردیا اور تحریک ختم نبوت کو بدنام کیا
70ء کی دهائی میں جب پاکستان میں نظام مصطفی کی تحریک چلی تو مفتی محمود نے امریکی سفیر سے ملاقاتیں کیں اور سعودی وهابی سفیر ریاض الخطیب سے پینگیں بڑهالیں اور اسی دوران نظام مصطفی کی تحریک کو وهابی دیوبندی ازم میں بدلنے کے لئے زور لگایا اور پهر جنرل ضیاء الحق کی گود میں جابیٹهے
80ء کی دهائی میں دیوبندی نام نہاد جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے مالک بنکر سی آئی اے ، سعودی عرب ، لیبیا سے ڈالر و ریال لینے لگے اور پاکستان و افغانستان میں وهابی ازم کو پهیلانے میں مصروف ہوگئے اور 90ء کے بعد سے تو تکفیری ، خارجی فکر کو دیوبندی سیاست نے مشرف بہ دیوبند کرلیا اور اہلسنت کے مزارات ، جلوسوں پر دہشت گردانہ واردات کو معمول بنالیا
پاکستان 2001 سے 2014 تک 60 ہزار سے زائد سویلین و سیکورٹی اہلکاروں کی قربانی دے چکا اور یہ سب دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے هاتهوں شہید ہوئے ، ڈاکٹر سرفراز نعیمی ، سلیم قادری ، عباس قادری ، اکرم قادری سمیت درجنوں سنی علماء شهید ہوئے اور ابتک دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے ہاتهوں 10 ہزار سے زائد سنی شهید ہوچکے
لیکن آج تک دیوبندی سیاست نے اس تکفیری دہشت گرد آئیڈیالوجی کی حامل تنظیموں سے خود کو الگ نہ کیا اور لاہور میں ہونے والے اس دیوبندی اتحاد پر مبنی اجلاس میں تکفیری دہشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان ، ظالمان طالبان کی حامی جے یوآئی س ، ن کا وفاق المدارس اور جے یو آئی ف کے ساته شرکت سے یہ ثابت ہوگیا کہ دیوبندی سیاست تکفیریوں اور اہلسنت کے قاتلوں سے اپنے آپ کو الگ کرنے کو تیار نہیں ہے اور یہ قاتلوں اور خارجیوں کے پشت پناہی کرنے میں مصروف ہیں
ہم عوام اہلسنت کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ دیوبندی سیاست کا حصہ نہ بنیں اور جان لیں کہ سارے کا سارا دیوبند سعودی وهابی ازم اور اس کی جملہ تکفیری دہشت گرد شکلوں کا محافظ بنا ہوا ہے
فحاشی اور قادیانی ازم کے خاتمے کے نام پر اصل میں دیوبندی سیاست اپنے خونخوار چہرے کو چهپانے کا راستہ تلاش کررہی ہے
فضل الرحمان کی سیاست جس طرح سے حالیہ دهرنا سیاست میں بےنقاب ہوئی اور دیوبندی تکفیری اور نام نہاد غیر تکفیری دیوبند سیاست جس طرح سے بے نقاب ہوکر سامنے آئی اس سے عوام میں اپنی بےقدری کے ازالہ کے لئے متحدہ دیوبندی سیاسی محاز بنانے کی کوشش ہے
دیوبندی سیاست سوائے فساد کے کچه بهی نہیں ہے
سنی ازم کے نام پر یہ سوائے خون خرابہ کرنے اور پاکستان کو خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کی کوشش ہے

About the author

Khalid Noorani

4 Comments

Click here to post a comment
  • 5% shia in pakistan wants to dominate a huge sea of sunni. Inshaallah this sectarianism will spread with help of lubpak and now you never will see ignorant sunni participating in shia like bidaat. Now the more sectarianism,the more sunni will be saved from the shia sect as in past sunni were behaving like shia in muharram. Now shia should beat themselves in muharram as their forefathers in Kofa in iraq did fraud with hazrat imam hussain alaih salam so they deserved to beat themselves so that their forefathers shia sins are decreased. Although it is bidaat as since hazrat adam alaih salam,no prophet preached to beat yourself. They preached to pray and say darood. But still if shia thinks that they beat themselves, it is their bidaati mind and we can pray they become muslim

  • There is no threat of civil war between shia and sunni. How can few hundreds shia in peshawar or few hundreds shia in mardan can fight two crore sunni from peshawar to bannu to dir to swat to sawabi etc. Shia will get slaughtered with slow motion massacre unless they start behaving like minority. A fool will think fight a huge sea of sunni stretching from chitral to lahore to karachi to quetta. Start karay civil war. Most welcome to civil war

  • in this is is possible that sunnis of Iraq and behrain and yemen will overcome over the majority.
    shias of pakistan have no issues with the sunnis of Pakistan.
    but the problems is that a very tiny minority is wishing to overcome over the 20% of shias and 75% of majority of sunnis using with the name of sunnis.

  • Agar Dehshat Gardi ka koi mazhab hota he tu phir har Muslan Dehshat Gard he
    DewBandi, Brelvi, Ahle Hadees or Shia bhi