Featured Urdu Articles

کیا مڈل ایسٹ میں داعش کی جنگ شیعہ و سنّی کے درمیان ہے ؟ مصنف : ایلیا ج مغانیر ، ترجمہ وتلخیص : خالد نورانی

Isis-Flags-AP-800x594

مصنف آرٹیکل : ایلیا ج مغانیر 

ترجمہ و تلخیص : خالد نورانی 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ادارتی نوٹ : عراق کے معروف صحافی ایلیا ج مغانیر نے عربی میں ایک زبردست آرٹیکل لکھا ہے جس میں

انھوں نے مڈل ایسٹ میں داعش کی جنگ کے بارے میں اہم حقائق اور ان سے پیدا ہونے والے سوالات کو اٹھایا ہے اور داعش کی جنگ کو بے نقاب کیا ہے 

مغانیر نے اپنے تیکھے اور تند و تیز سوالات سے وہابی دیوبندی دھشت گردوں کی قلعی کھولی ہے جوکہ اپنی لڑآئی کو ایک طرف تو دفاع اہل سنت اور غلبہ دکین حق کی جنگ قرار دیتے ہیں اور دوسرا وہ اس لڑائی کو شیعہ – سنّی لڑائی قرار دیتے ہیں اور ایلیا ج مغانیر نے بتایا ہے کہ ایک طرف تو وہابی دیوبندی داعش جیسی تںطیموں نے کس طرح سے خود مسلمان سنّیوں کی جان و مال ، عزت آبرو کو برباد کیا واضح کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ کیسے ان کی باہمی پاور کی جنگ میں خود ان کی اپنی آئيڈیالوجی کے حامل کے حامل ہر دو اطراف کے لوگ نشانہ بنے ہیں اور آخر میں ایلیا ج مغانیر نے یہ نبیجہ نکالا کہ یہ دراصل پاور کی جنگ کے سوا کچھ بھی نہیں
عراقی صحافی کا یہ فہم مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے بارے میں تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے نکتہ نظر کی تائید کرتا ہے اور ہم اس آرٹیکل کی اردو تلخیص کے ساتھ اصل عربی متن بھی پیش کررہے ہیں

کیا مڈل ایسٹ میں موجودہ جنگ شیعہ و سنّی کے درمیان ہے ؟
کیا اس جنگ کا مقصد اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا اور اہل سنت والجماعت کا دفاع ہے ؟

ترجمہ وتلخیص

عملی صحافت کے دوران آپ تقریبا تمام ہی افراد اور گروہوں سے ملتے ہیں جن میں جبھۃ النصرۃ القائدہ ملک شام میں اور اسی طرح سے دولت اسلامیہ کے لوگ بھی شامل ہیں اور دولت اسلامیہ یعنی داعش اس بات سے انکار کرتی ہے کہ اس کا تصور جنگ اہل سنت والجماعت کے تصور جنگ کی ضد ہے بلکہ اس کا اصرار ہے کہ یہ اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے اور یہ اس راستے پر گامزن ہے جو احیائے شریعت کا سبب بنے گا اور یہ کہ اس بات کی قاغل ہے کہ ” کسی بھی مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے ویسے ہی جیسے اس کا مال اور اس کی زمین پر قبضہ خرام ہے ” اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی جنگ کفر ، طغیان سرکشی ، اور مڈل ایسٹ میں امریکی غلبے اور بربریت کے خلاف لڑرہی ہے
لیکن اگر داعش کی جنگ کفر و طغیان و سرکشی اور امریکی بربریت اور ظلم کے خلاف ہے اور اس کی جنگ اہل سنت والجماعت کے دفاع کے لیے ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے البونمر قبیلے کے 500 افراد کو کیوں قتل کیا جس میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ؟ اور اس کے جواب میں داعش کہتی ہے کہ یہ وہ حارب سنّی تھی جو امریکیوں کی تابعداری کررہے تھے جن کو ہم نے عراق سے نکالا اور وہ داعش سے لڑرہے تھے اور رافضہ ( اس سے مراد ان حکام عراق ہیں جن میں اگرچہ وزیر دفاع سنّی بھی ہے ) کی مدد کررہے تھے تو ان کی مثل بروشیہ کے سنّیوں کی ہے جوکہ البونمر قبیلے کی طرح تھے جوکہ عراق کے صوبے انبار میں رہتے ہیں

وقد وُجد العشرات من النساء والأطفال في مقبرة جماعية لعشيرة البونمر حيث يقول انصار “الدولة” انه “درس للآخرين لعدم معاداة الدولة الإسلامية”، رغم ان هذه القبيلة من اقدم وأعرق القبائل السنية في العراق، وقد صودرت أملاكها وأغنامها بالآلاف واعتُبروا “غنيمة حرب
داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے سنّي البونمر قبیلے کے لوگوں کو جس اجتماعی قبر میں پھینگا گیا اس میں عورتوں اور بچوں کی لاشیں بھی ملی ہیں اور داعش کے حامی کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو دولت اسلامیہ یعنی داعش سے عدوات کرنے کی سوچ رکھتے ہیں اور البونمر قبائل کے ساتھ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ وہ عراق کا سب سے قدیم اور قابل عزت سنّی قبیلہ ہے عراق میں اور ان کی املاک ، غلّے ، بھیڑ بکریوں جو کہ ہزاروں تھیں کو مال غنمیت سمجھ کر لوٹ لیا گيا
کرد پیشمرگرہ کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اور یزدیوں کی عورتوں کے ساتھ کیا کیا جانا چاہئیے ؟ ان کا جواب ہے کہ کرد سنّی ملحد ہیں اور امریکی ایجنٹ کہ ان کا قتل جائز ہے اور یزدی عوتوں کو اپنے قبضے میں لینا اس لیے جائز ہے کہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور اللہ نے مشرک عورتوں کو حلال قرار دیا تھا تو کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں حلال تھا وہ ہمارے زمانے کے لیے حلال نہیں ہوگا ؟
ولكن ماذا بالنسبة لقبيلة الشطايت في دير الزور وهي قبائل سنية معروفة؟ فيأتي الجواب ان “القبيلة قررت مقاتلة الدولة الإسلامية فقتلنا منها الكثير لأنهم خرجوا عن حكم الخليفة وجنوده”، وقد قُتل المئات وإختفى الكثير من قبيلة الشطايت في سورية بعد ان رفعوا السلاح بوجه “الدولة الإسلامية
اور جب ان سے پوچھا جائے کہ شام میں دیر الزور میں انھوں نے شطایت قبیلہ کے ساتھ جوکیا جوکہ بہت معروف سنّی قبیلہ تھا ، وہ کیوں کیا ؟ تو جواب یہ آتا ہے کہ اس قبیلے نے داعش کے ساتھ مقاتلہ کیا تو ہم نے ان کی اکثریت کو قتل کردیا کیونکہ انھوں نے خلیفہ اور اس کے لشکر کے حکم سے سرکشی کی تھی اور ان میں سے سینکڑوں قتل کردئے گئے اور بہت بڑی تعداد شام کے دوسرے علاقوں فرار ہوگئے کیونکہ انھوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کوشش کی تھی

ماذا عن الجبهة الإسلامية في سورية؟ فهم على نهج الشيخ محمد بن عبد الوهاب مؤسس فكر “الدولة الإسلامية” والذي سار عليه الشيخ تقي الدين احمد ابن تيمية الذي تعتبره “الدولة” مرجعها بالحديث والتنظير؟ فيقول أنصار “الدولة الإسلامية” ان “الجبهة الإسلامية تتبع سياسة المملكة العربية السعودية والتي اصلاً نحن قد أعلنا العداء لحكامها ولمناصريها ولذلك يجب محاربة الجبهة الإسلامية ومناصريها في سورية والقضاء عليهم لأنهم مفسدين في الأرض تحت راية الإسلام”.
الا ان بعض مناصري “الدولة الإسلامية” يقول ان “الاسلام الحقيقي في سورية متبع فقط من الدولة الإسلامية وجبهة النصرة
جبھۃ السلامیہ جوکہ شام میں سرگم ہے کے بارے میں جب پوچھا جاتا ہے جوکہ داعش کی فکر کے بانی محمد بن عبدالوہاب کے راستے پر ہے اور جوکہ شیخ تقی الدین احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ کے راستے پر ہے جس کو داعش حدیث و نظر میں اپنا مراجع مانتی ہے تو داعش کے حامی کہتے ہیں جبھۃ الاسلامیہ سعودی عرب کی سیاست کی پیروی کرتی ہے جبکہ ہم نے سعودی حکام اور ان کے دوستوں ، حامیوں اور ہمدردوں کے خلاف دشمنی کا اعلان کیا ہے اس لیے جبھۃ الاسلامیہ سے جنگ واجب ہے شام میں اور ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ یہ لوگ زمین میں فساد ی ہیں جبکہ داعش کے کجھ لوگ کہتے ہیں حقیقی اسلام کے پیرو وہ ہیں جو دولت اسلامیہ کے جھنڈے کے نیچے ہیں
جبھۃ النصرۃ جوکہ ان مجاہدین کا مجموعہ تھی جن کو ابوبکر البغدادی نے شام میں 2012ء میں بہار شام شروع ہونے کے وقت بھیجا تھا اور ان کو یہ یقین تھا کہ انملابی شام کے اندر ایک قائد پر متفق نہیں ہوں گے اور یہ ٹھیک خیال تھا تو وہ قیادت پر قبضہ کرلیں گے اور اسی سے جبھۃ النصرۃ یعنی فاتح فرنٹ بنا اور اس نے شام کے اندر امارت قائم کی اور جب اس نے یہ خیال النصرۃ فتح یاب ہوگئی تو جبھۃ کے بعض قائدین کی موت پر ابومحمد جولانی اس کے امیر بن گئے اور اس نے خود کو ایمن الظواہری کی امارت قبول کرلی اور اس کی طاعت و سمع کا اعلان کیا اور اسی وجہ سے یہ جبھۃ النصرۃ کہلائی اور حقیقت یہ ہے کہ جبھۃ النصرۃ ، القائدہ ہے شام میں اور دولت اسلامیہ بھی القائدہ ہی تھی اور ان دونوں نے وہی اہل سنت والجماعت کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں کے درمیان خون ریزی اور لڑائی ہورہی ہے اور اس کی وجہ تسلط اور غلبہ کی لڑائی ہے
لیکن داعش کا ایک موقف یہ بھی کہ دین اور اقتدار ملتے نیں ہیں جبکہ لیبیا جہاں کوئی شیعہ نہیں تھا لیکن وہاں بھی جنگ کی گئی اور یہ سب اقتدار اور تسلط کے لیے کیا گيا اور مصر میں بھی متشدد اسلامین اور حکام کی لڑائی اقتدار کی لڑائی ہے اور اسی طرح سے فلسطین میں حماس اور اسلامی جہاد ہے تو دولت اسلامیہ کا موقف یہ ہے کہ حماس اخوان المسلمین ہے اور جہاد اسلامی ہے یہ دونوں روافض سے مال لیتے ہیں اور داعش غرب زدہ مسلمانوں کا خون حلال کہتی ہے اور داعش کا یہ بھی خیال ہے کہ جن ملکوں کے حکمران مغرب کے غلام بنے ہوئے ہیں ان کو وہاں سے ہجرت کرکے شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے ساتھ ملکر جہاد کرنا چاہئیے
لبنان کے بارے میں دولت اسلامیہ / داعش کہتی ہے کہ اس کی جنگ حزب الشیطان ( حزب اللہ ) سے ہے اور نصاری سے یعنی لبنانی مسیحیوں سے جوکہ لبنانی فوج میں شامل ہیں جبکہ ان کو علم ہے کہ لبنان کا وزیراعظم اور وزیر داخلہ سنّی ہيں اور انھوں دو اگست کو جس پہلے فوجی افسر کو قتل کیا نور جمال کو وہ سنّی تھا
یہ کہاں سے سنّی – شیعہ جنگ ہے ؟ کہيں یہ اہل سنت والجماعت کے بالکل الٹ جنگ تو نہیں ہے ؟
اس سوال کا جواب وہ نہیں دے سکتے جو اہل سنت سے انتقام لیتے ہیں ، ان کی جان ، مال ، آبرو کو اپنے لیے حلال کرلیتے ہیں
یہ جنگ صرف و صرف پاور کی جنگ ہے اسے خلافت کی جنگ کہنا ٹھیک نہیں ہے

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

هل الحرب في الشرق الأوسط بين السنّة والشيعة؟

هل الحرب هي لإعلاء كلمة الله والدفاع عن أهل السنّة والجماعۃ

كتب إيليا ج. مغناير

 

من خلال عملي الإعلامي أتواصل مع الجميع بمَن فيهم أفراد ومناصرين من جبهة النصرة – القاعدة في بلاد الشام وكذلك مع مناصري “الدولة الإسلامية”.

دأبت “الدولة الإسلامية” على تصوير الحرب ضدها على انها “حرب ضد اهل السنة والجماعة” وانها – اي “الدولة” – هي التي تحمل راية الإسلام وتسير على المنهج الصحيح على مبدأ “احياء الشريعة” وان “كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه”، وان حربها هي ضد الكفر والطغيان والهيمنة الأميركية في منطقة الشرق الأوسط.

ولكن عند السؤال عن عشيرة البونمر التي قُتل منها اكثر من 500 رجل وطفل وامرأة تقول “الدولة” ان هؤلاء هم “الصحوات السنية التابعين لأميركا (التي خرجت من العراق) وانهم يقاتلون “الدولة” ويناصرون الرافضة (اي حكام العراق الشيعة على الرغم من ان الحكومة مكونة من كل الأطياف وان وزير الدفاع سني)، فمثلهم كمثل عشيرة البوريشة السنية التي توازي عشيرة البونمر في الأنبار العراقية”.

وقد وُجد العشرات من النساء والأطفال في مقبرة جماعية لعشيرة البونمر حيث يقول انصار “الدولة” انه “درس للآخرين لعدم معاداة الدولة الإسلامية”، رغم ان هذه القبيلة من اقدم وأعرق القبائل السنية في العراق، وقد صودرت أملاكها وأغنامها بالآلاف واعتُبروا “غنيمة حرب”.

ولكن ماذا عن البشمركة والقوات الكردية؟ ولماذا سبيت نساء الايزيدية؟ “نعم الأكراد هم من السنّة الملحدين العطائيين فيجوز قتلهم وسبي النساء الايزيديات لانهم لا يعبدون الله، وان الله حلل سبي النساء على زمن الرسول الأعظم وخاتم الأنبياء فلماذا لا يحل حلال محمد الى يومنا هذا؟”.
ولكن ماذا بالنسبة لقبيلة الشطايت في دير الزور وهي قبائل سنية معروفة؟ فيأتي الجواب ان “القبيلة قررت مقاتلة الدولة الإسلامية فقتلنا منها الكثير لأنهم خرجوا عن حكم الخليفة وجنوده”، وقد قُتل المئات وإختفى الكثير من قبيلة الشطايت في سورية بعد ان رفعوا السلاح بوجه “الدولة الإسلامية”.

ماذا عن الجبهة الإسلامية في سورية؟ فهم على نهج الشيخ محمد بن عبد الوهاب مؤسس فكر “الدولة الإسلامية” والذي سار عليه الشيخ تقي الدين احمد ابن تيمية الذي تعتبره “الدولة” مرجعها بالحديث والتنظير؟ فيقول أنصار “الدولة الإسلامية” ان “الجبهة الإسلامية تتبع سياسة المملكة العربية السعودية والتي اصلاً نحن قد أعلنا العداء لحكامها ولمناصريها ولذلك يجب محاربة الجبهة الإسلامية ومناصريها في سورية والقضاء عليهم لأنهم مفسدين في الأرض تحت راية الإسلام”.

الا ان بعض مناصري “الدولة الإسلامية” يقول ان “الاسلام الحقيقي في سورية متبع فقط من الدولة الإسلامية وجبهة النصرة”.

وجبهة النصرة كانت مجموعة من المجاهدين الذين ارسلهم زعيم “الدولة الإسلامية” ابو بكر البغدادي الى سورية العام 2012 اثناء الثورة السورية حيث رأى ان من الممكن الافادة من الوضع في سورية لغياب قادة سوريين يوحدون الثورة (وهذا صحيح) ومن هنا بدأت “جبهة النصرة” تعمل في سورية بإمرة ومخطط البغدادي الى ان إنقلب زعيم النصرة (بعد موت بعض القادة قبله) ابو محمد الجولاني على اميره وإلتحق بأمير القاعدة الشيخ ايمن الظواهري وبايعه على السمع والطاعة فأصبحت “النصرة” تسمى بجبهة النصرة – القاعدة في بلاد الشام، وتتبع نفس فكر “القاعدة” ونفس فكر “الدولة الإسلامية” وزعيمها. وهنا لا يأتي الجواب لأن النصرة – القاعدة هي ايضاً تحمل لواء السنة والجماعة الا ان الصراع هو نفوذي والدماء التي سالت بين الطرفين بالآلاف تقع تحت عنوان السلطة والنفوذ.

ولكن مَن قال ان “الدين والسلطة” لا يلتقيان؟ وكذلك الحرب في ليبيا حيث لا يوجد شيعة هناك بل صراع على السلطة وفي مصر ايضاً الوضع نفسه بين السلطة والإسلاميين المتشددين، وكذلك في فلسطين فقد كان “للدولة الإسلامية” موقف سلبي من “حماس” لأنهم “من الأخوان المسلمين” ومن “الجهاد الإسلامي” لأنهم يتلقون الأموال من “الرافضة”، وكذلك يحل دماء مسلمي الغرب اذا لم يكونوا موالين لأن انصار “الدولة الإسلامية” يصفونهم بـ “الكوكو نت” (اي جوز الهند) “وهم مسلمون اظهروا الطاعة للحكام الغربيين في بلاد يقطنوها او ولدوا فيها، فلماذا لم يهاجروا الى سورية والعراق للجهاد في سبيل الله مع “الدولة” ولم يأتوا ليعيشوا تحت كنف الإسلام في بلاد الشام؟”.

وفي لبنان تقول “الدولة الإسلامية” انها حرب ضد “حزب الشيطان” (حزب الله) والنصارى (مسيحيي لبنان) من داخل الجيش اللبناني، مع العلم ان رئيس الحكومة ووزير الداخلية ووزير العدل هم من السنة وان اول ضابط قُتل في أحداث عرسال في 2 اغسطس الماضي – المقدّم نور الجمل – هو سني واول جندي ذبح هو سني من عكار؟

اذاً اين هي الحرب السنية – الشيعية؟ اين هي الحرب ضد اهل السنة والجماعة؟ ومَن يقرر مَن هم الذين ينتمون لأهل السنّة ويحلل دماءهم وأموالهم وأعراضهم؟

انها حرب على السلطة و”الخلافة” بإمتياز.