Featured Original Articles Urdu Articles

ریحانہ جباری، سيرينا علی سحيم اورہماری منافقت: برق گرتی ہے تو بیچاری عورت پر- عامر حسینی

1

آج چھ محرم الحرام ہے ہمارے شہر میں اس روز ذوالجناح کا مرکزی جلوس نکلتا ہے اور میں اس جلوس میں شرکت کی تیاری کرنے والا ہوں ، ایک تو مجهے اپنے گهر کی روائت کو نبهانا ہے جو متحدہ ہندوستان کے وقت سے چلی آتی ہے ، دوسرا آج کے زمانے میں اس جلوس میں شرکت اس لیے بهی ضروری ہے کہ ہماری برصغیر کی ثقافت و تہذیب کے اندر رنگا رنگی اور اداسی و سوگواریت سے بهری ہوئی محرم کی رسوم و اور شعائر کو بہت بڑا خطرہ خالصیت یا پیورٹن ازم کی لہر سے ہے جس کی بغل میں بارود کی جیکٹ کا بٹن بهی ہے اور وہ خوف پهیلاکر ہمارے کلچر اور تہذیب کو یک رنگ و یک نوع کرنا چاہتا ہے ، تیسری وجہ اس جلوس میں شرکت کرنے کی یہ ہے کہ زوالجناح اور اس کے ساته نکلنے والے علم سب کے سب سرخ ، سیاہ اور سرخ چهینٹوں سے رنگے سفید جهنڈے سب کے سب استعارے ہیں بغاوت کے ، انکار کے ، مزاحمت کے اور دعوت قیام و مقاومت کے ظلم ، استحصال ، غلامیائے جانے کے خلاف ، بالشتیا پن کے خلاف اور میں انہی تین وجوہات کی بنا پر محرم کے اندر جلوس ، مجالس ، محافل سلام و مرثیہ اور نذر و نیاز میں شریک ہوتا ہوں

جلوس میں جانے سے پہلے مجهے ایک تحریری قرض ادا کرنا ہے جو میں بوجہ ادا کر نہیں پایا تها اور یہ قرض دو ایسی خواتین کا ہے جو اپنے اپنے حالات و واقعات کے سبب اپنی جان کی قربانی دے گئیں اور ان میں سے ایک خاتون کا تذکرہ تو پاکستانی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا میں تو بہت زیادہ ہے اور اس کی غم خواری کرنے والے بهی کافی زیادہ ہیں اور اس عورت کی خاطر بہت سا شور بهی مچ رہا اور یقینی بات ہے کہ وہ عورت اس کی حقدار بهی ہے کہ اس کی مظلومیت اور اس کی قربانی کا تذکرہ کیا بهی جائے

لیکن دوسری عورت وہ ہے جس کی قربانی کے بارے میں پاکستانی اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کوئی خبر نہیں دی اور نہ ہی اس عورت کے بارے میں پاکستانی پریس میں کوئی کالم ، فیچر ، رپورٹ شایع ہوئی اور سوشل میڈیا پر جو لوگ ایرانی مزهبی پیشوائیت کے خوب لتے لے رہے تهے اور ایک عورت کی مظلومیت پر آٹه آٹه آنسو بہارہے تهے وہ دوسری عورت کی قربانی پر خاموش رہے ، انہوں نے اس عورت کے قتل کے زمہ داروں پر ایک لفظ نہیں لکها

یہ بالکل ویسے ہی ہوا جیسے عافیہ صدیقی اور ملالہ یوسف زئی کے معاملے میں ہمارے جہادی ، سلفی ، وهابی دیوبندی تکفیریوں نے رویہ اختیار کیا تها کہ ملالہ کے بارے میں سازشی مفروضے گهڑے گئے ، ڈاکٹر شازیہ ، محضر فاطمہ اور کتنی بچیاں ہیں جن کے بارے میں ایک لفظ بهی سوشل میڈیا پر ویسے نہیں آیا جیسے عافیہ صدیقی کے بارے میں آرہا تها

ریحانہ جباری ایک ایرانی نوجوان لڑکی جس پر انٹیلیجنس کے سابق اہلکار کو قتل کرنے کا الزام تها کہ وہ مقتول کے بیڈ روم میں پائی گئی تهی ، جبکہ بیڈ روم میں کسی اور کے بهی ہونے کے شواہد موجود تهے ، یہ لڑکی ریپ کا نشانہ بهی بنی تهی اور اس نے کچه دن پہلے اپنی عصمت دری کرنے والے شخص کو قتل کرنے کا ارادہ بهی ظاہر کیا تها ، ریحانہ جباری اپنے لئے انصاف کی خواہاں تهی لیکن ایرانی مذهبی پیشوائیت کے تحت بنی ہوئی مذهبی عدالتوں کا قانونی پروسیجرایسا ہے جس میں عورتوں ، اقلیتوں ، آزادی اظہار کے لئے کام کرنے والے سیاسی ، سماجی کارکنوں کو انصاف ملنا بہت مشکل ہے اور ریحانہ جباری اسی مذهبی پیشوائیت پر مبنی جابرانہ و ظالمانہ نظام کا شکار ہوگئی جس کا شکار اس سے قبل بهی بہت سی عورتیں ہوچکی ہیں ریحانہ جباری کی پهانسی ایک وحشیانہ ، ظالمانہ اقدام ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور یہ پهانسی ان ہی دنوں میں دی گئی جب تہران میں مناسب پردہ نہ کرنے کے الزام میں ایک درجن سے زیادہ عورتوں پر تیزاب پهینک دیا گیا تها اور اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عورتوں کو ایرانی سماج کے اندر کس ظلم ، جبر ، گهٹن کا سامنا ہے اور اس سے کوئی بهی شخص انکار نہیں کرسکتا

لیکن ریحانہ جباری کی مظلومیت کا رونا رونے والے بہت سارے لبرل، سیکولر، کمیونسٹ اورانسانی حقوق کے علمبردار پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر پاکستانی نژاد ایسے ہیں جنهوں نے بلامبالغہ ہزاروں لفظ ایران ، شیعہ کے خلاف بولنے میں صرف کئے اور اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف کئے کہ ریحانہ جباری سمیت ایران میں درجنوں خواتین ، نسلی اقلیتوں ، طلباء ٹریڈ یونینوں ، سیاسی کارکنوں پر جو ستم اور مظالم توڑے گئے ان کی اکثریت شیعہ مذهب سے ہی تعلق رکهتی تهی اور آج بهی ایران کی ترقی پسند ، روشن خیال تحریک کے ہراول دستے زیادہ تر شیعہ مذهب سے تعلق رکهتے ہیں

لیکن معاملہ جب تعصب کا ہو اور ، کسی سے بغض اور عناد کا ہو تو پهر سلوک اور رویوں میں فرق آہی جاتا ہے ، اور بہت سے پاکستانی لبرل ، سیکولر ، ملحد تو ایسے ہیں کہ ان کے اندر کی ملائیت نکالے نہیں نکلتی ہے اور وہ ریحانہ جباری کے معاملے کو دہشت گردی کے سوال پر اپنی ایران سعودی عرب ، شیعہ سنی برابری پر مبنی تصادم اور جنگ کی تهیوری کو ثابت کرنے کا موقعہ سمجهتے ہیں اور انہوں نے ایسا کیا بهی

میں نے ایسے سیکولر ، لبرل ، ملحد ، کمیونسٹوں اور خود کو فرقہ پرستی سے پاک کہنے والے افراد کی فیس بک وال، ٹوئٹر اکاونٹ ، بلاگز ، اخبارات میں ان کی کنٹریبیوشن کی ٹائم لائن کو دیکها اور یہ جائزہ لیا کہ انهوں نے ریحانہ جباری کے معاملے پر کتنی پوسٹس کیں، کتنے کمنٹس دئے ، کتنے آرٹیکل لکهے اور کتنی تصاویر شئیر کیں
جبکہ یہ بهی دیکهنے کی کوشش کی کہ کتنے ایسے لوگ تهے جو ریحانہ جباری کے معاملے میں تو بہت سرگرم ہوئے اور انہون نے ایرانی رجیم ، شیعہ مزهب پر تو شد و مد کے ساته لکها لیکن ان میں سے کتنے تهے جولبنانی نژاد امریکی خاتون صحافی ، پریس ٹی وی ایران کی نمایندہ سرینا علی سحیم کے کوبانی کے گردونواح سے واپس سروک ترکی کی طرف آتے ہوئے ایک ٹرک کے زریعے کار میں کچل کر قتل کے حوالے سے بولے

میں نے اردو میں سرینا علی سحیم کا نام تک ان میں کسی کو اپنی کسی پوسٹ میں لکهتے ہوئے نہیں دیکها اس سے میں یہ ہی سمجه سکتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے اس نام کو عربی میں کیسے لکها جاتا ہے جاننے کی کوشش نہیں کی

اس خاتون صحافی کی ہلاکت پر اس لئے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا کہ ایک تو یہ خاتون لبنانی شیعہ تهی، دوسرا یہ ایرانی ٹی وی پریس کی نمایئندہ تهی ، تیسرا اس خاتون کی رپورٹس باقاعدہ ویڈیو کلپس کے ساته یہ دکهاتی تهیں کہ ترکی کی سرحد سے داعش کو این جی اوز کے بینر تلے ٹرکوں پر اسلحہ اور خوراک ، دیگر سامان ضروریات فراہم کیا جارہا ہے اور ترکی کے بہت سے نوجوان داعش کے لئے کردوں سے لڑرہے ہیں اور اس خاتون رپورٹر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کوبانی میں کردوں کے خلاف خود نام نہاد آزاد شامی آرمی کے اندر موجود نام نہاد اعتدال پسند جہادیوں کے حملوں کے شواہد بهی فراہم کئے تهے

سیرینا علی سیحم نے تهوڑے وقت میں عراق ، شام ، لبننان میں کنفلکٹ زونز، وار زونز اور سول وار کا شکار علاقوں میں حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی کم از کم متوازن سرحد کو اپنے ٹی وی کی پالیسی کو ممکنہ حد تک فالو کرتے ہوئے کبهی عبور نہین کیا تها اور یہی وجہ ہے سیرینا علی سحیم نہ صرف عرب صحافتی دنیا میں بلکہ مغربی صحافتی دنیا میں ایک متوازن ، غیرجانبدار ، معروضی رپورٹنگ کرنے والی خاتون صحافی سمجهی جاتی تهیں

سرینا علی سحیم کی رپورٹنگ سے جہاں القاعدہ، داعش، جبهہ النصرہ، ایف ایس اے جیسی دہشت گرد تنطیمیں خوش نہیں تهیں وہیں ان سے عراقی ، لبننانی اور ترک حکومتیں بهی خوش نہیں تهیں

ترکی کی حکومت نے ان پر جاسوسی کرنے کا الزام لگایا – خود سیرینا علی سحیم نے بتایا کہ اس کو ترکی کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی کی جانب سے دهمکیاں مل رہی ہیں

وہ اکتوبر میں کوبانی کے اندر داعش اور کرد گوریلوں کی لڑائی کو کور کرنے کے لئے شام پہنچی تهیں اور ترکی کے سرحدی علاقے سروک سے وہ کوبانی کے گردونواح کو کور کررہی تهیں

سرینا علی سحیم لبننان کے جنوبی سمت میں واقع ایک چهوٹے سے قصبے برج البراجنہ میں پیدا ہوئی تهیں اور ان کی پیدائش کا سال 1984 ء تها اور یہ زمانہ لبننان میں سول وار کا زمانہ تها

سرینا ایک ترقی پسند ، روشن خیال ، سوشلسٹ اکنامی کی حامی ریڈیکل پروگریسو شیعی فکر کی حامل خاتون تهیں جن کے پاس امریکی شہریت بهی تهی اور وہ خواتین کے حقوق اور ان کے سماجی مقام و مرتبے کے حوالے سے اعلی خیالات کی مالک تهیں

سرینا علی سحیم کے قتل کو کو پاکستان کے اکثر انسانی حقوق ، لبرل ازم ، سیکولرازم ، کمیونزم کے علمبرداروں نے اس لئے اہمیت نہیں دی کیونکہ مغربی میں سٹریم میڈیا، عالمی انسانی حقوق کی مغربی تنظیمیوں اور حکومتوں نے زیادہ توجہ نہیں دی ، کیونکہ سیرنا علی سحیم کہیں نہ کہیں ان کے ایجنڈے ، خارجہ و سیکورٹی پالیسیوں کے چوکهٹے میں فٹ نہیں بیٹهتی تهی

یہی وجہ ہے کہ سرینا علی سحیم کے بارے میں انفارمیشن کو اس طرح سے پهیلایا بهی نہیں گیا جیسے ریحانہ جباری کے بارے میں پهیلایا گیا تها کیونکہ اس ایشو کو اگر بین الاقوامی توجہ ملتی تو لامحالہ ترکی ، ایف ایس اے ، خود مغربی بلاک کی شام کے حوالے سے پالیسی اور دیگر بہت سے ایسے گوشے مرکز بحث بنتے جن کو مرکز بحث بنتے دیکهنا امریکی حکومت سمیت بہت سی حکومتوں کو پسند نہیں ہے

شام ، ترکی ، عراق ، لبننان میں سلفی وهابی دیوبندی فاشزم کے پهیلاو میں ترکی جوکہ نیٹو کا رکن ہے کیا کردار ہے اور قطر، سعودی عرب، اردن ، بحرین ، کویت، متحدہ عرب امارات کا کردار کیا ہے اور کیسے مغرب و امریکی پالیسیاں اس خطے مین اس فاشزم کو آکسیجن فراہم کرتی رہی ہیں اس پر ہمارے بہت سے لبرل سیکولر ، دهریے زیادہ کلام نہیں کرتے اور اس کی وجہ کیا ہے عبدل نیشا پوری، علی عباس تاج ، آصف زیدی ، عمار کاظمی ، خالد نورانی ، محمد بن ابی بکر ، نعیم وارث قادری سمیت بہت سے لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اصل میں کچه کردار ایسے ہیں جو اپنے دیوبندی ،وهابی کٹھ ملائیت کے زمانے میں پی دا ہونے والے شیعہ فوبیا سے جان نہیں چهڑا پائے اور ان کے اندر کا دیوبندی شیعہ فوب بار بار باہر آتا ہے اور وہ اپنے الحاد، روشن خیالی، ترقی پسندی کے تمام تر حفاظتی نظام کے باوجود اسے روک نہیں پاتے

rj

میرے لئے ان دونوں عورتوں کا معاملہ اہم ہے اور یہاں میں یہ بهی کہنا چاہتا ہوں کہ جو سرینا علی سحیم کے معاملے میں تو عورتوں کے حقوق پر خوب گرجے برسے لیکن ریحانہ جباری کے معاملے میں ان کے ہاں خاموشی نظر آئی اور ان میں سے تو بہت سے مرد و خواتین شیعہ ایرانی نظام انصاف کو مثالی ثابت کرنے پر تل گئے اور انہوں نے ریحانہ کی پهانسی کا جواز گهڑا اور اس حوالے سے ایرانی تهیوکریسی کو بچانے کی سعی کی وہ بهی اصل میں ظالم کی مذمت اورمظلوم کی حمائت نام اور اس کے مزهبی پس منظر کو دیکهکر کرنے والوں کی صف میں شامل ہوگئے

مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا تها کہ اعرف الحق تعرف اہلہ، اعرف الباطل تعرف اہلہ یعنی حق کو پہچان لے اس کے اہل کو بهی پہچان لے گا اور باطل کو جان لے اس کے اہل کو بهی جان جائے گا اور یہی فلسفہ معرکہ کربلا و شہادت حسین بهی ہے

mz

محضر زہرا کے بارے میں چند الفاظ: تیس نومبر ٢٠١٢ کو اہلسنت والجماعت کے لبادے میں کام کرنے والے دیوبندی دہشت گردوں نے کراچی میں سید نذر عباس زیدی جو اپنی بارہ سالہ دختر سیدہ محضر زہرا کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جبکہ ملالہ یوسفزئی کی طرح محضر پر بھی گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی – محضر کے والد شہادت سے ہمکنار ہوگئے مگر ان کی بیٹی شدید زخمی حالت میں آغا خان اسپتال منتقل کر دی گئی اوراس نے موت سے زندگی ہارنے سے انکار کر دیا – اہم بات محضر کے وہ پیغامات ہیں جو اس نے شدید زخمی اور معزور ہونے کے باوجود پاکستان کے مظلوم شیعہ اور سنی صوفی و بریلوی عوام سے یکجہتی اور امام حسین علیہ السلام کے آفاقی مشن سے وفا کے اظہار میں جاری کیے، اسی لئے بجا طور پر محضر زہرا کو پاکستان کی این فرانک کہا جاتا ہے

پاکستان کے اندر انسانی حقوق، تکریم انسانیت، سیکولر، لبرل، عورتوں کی آزادی اور دیگر کئی ایک معاملات پر اب سیاست بهی فرقہ پرستی کے تنگ دائرے میں قید نظر آتی ہے اور پاکستان کے کئی ایک لبرل، سیکولر دیوبندی وهابی فسطائیت کے اپالوجسٹ یا معزرت خواہ بن گئے ہیں اور اتنے بے ایمان ہوگئے ہیں کہتے ہیں پاکستان کے اندر شیعہ نسل کشی نہیں ہورہی بلکہ یہ تو شیعہ اور سنی کے درمیان جنگ ہے اور وہ شیعہ کے قتل کو ردعمل قرآر دیتے ہیں اور مجهے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس ملک کے شیعہ اور صوفی سنی آبادی کو عفریت ثابت کرنے والی دیوبندی تکفیری مہم کے بالواسطہ شریک کار بن گئے ہیں اور اس لئے کم از کم شیعہ و صوفی سنی شناخت رکهنے والی عورتیں تو ان کی روشن خیالی اور ترقی پسندی میں کوئی اہمیت نہیں رکهتی ہیں تبهی تو محضر زہرا اور سرینا علی سیحم پر ان کی زبانوں پر تالے پڑجاتے ہیں

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟

About the author

Aamir Hussaini

3 Comments

Click here to post a comment