Featured Original Articles Urdu Articles

عرب بہار، شامی انقلاب اور فرقہ پرست سیکولر – جوزف دھر/عامر حسینی

عرب انقلاب کی وال چاکنگ

جوزف دھر جوکہ شام میں انقلابی تحریک کے ایک سرگرم دانشور رہے ہیں انقلاب شام کے بارے میں ابتک گردش کرنے والے سوالات کے جوابات دینے کے لیے انھوں نے اپریل 2014ء میں یہ مضمون لکھا تھا اور یہ چار قسطوں میں مضمون شایع ہوا ، میں اس کے لیے سرتاج خان کامریڈ کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے اس مضمون کا لنک بھیجا

مڈل ایسٹ پر اس سے پہلے میں پیٹرک کوک برن اور طارق علی کا ایک باہمی مکالمہ درج کرچکا ہوں اور جس میں مجھے طارق علی کا القاعدہ، داعش سمیت وہابی تکفیری دھشت گرد تنظیموں کے بارے میں موقف تضاد سےبھرپور لگا اور اسے انھوں نے وہابی دیوبندی مظہر کی بجائے سنّی سامراج مخالف مزاحمت بناکر پیش کیا جبکہ ان کے ساتھ مکالمہ کرنے والے پیٹرک کوک برن کا تجزیہ خاصا متوازن تھا

مڈل ایسٹ میں سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کی حمایت سے نمودار ہونے والے تکفیری سلفی اور دیوبندی فتنے کو شیعہ سنّی لڑائی بناکر پیش کرنے والے شارحین کی ہمارے ہاں کمی نہیں ہے، اب اس میں کچھ ملحدین اور سیکولر کہلانے والے بھی کود پڑے ہیں وہ اس معاملے کو مذھبی بلکہ دیوبندی وہابی عینک سے دیکھ رہے ہیں اور اس بنیاد پر ہی پاکستان کے اندر شیعہ نسل کشی کے سوال پر خاصا متعصب اور نفرت انگیز موقف پیش کرنے میں مصروف ہیں ، کچھ مارکسسٹ بھی اس سوال پر فوری طور پر دیوبندی بن جاتے ہیں

شام کے انقلاب کا بہت سے لوگ ابتک جیو پالیٹکل یا فرقہ وارانہ اصطلاح میں تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اس انقلاب کی زمین پر جو سماجی معاشی حرکیات تھیں اس کو انھوں نے نظر انداز کیا ہے – مغرب کی جانب سے مداخلت کے خطرے نے شام کے معاملے کو دو کیمپوں کی باہمی مخالفت بناڈالا ، یعنی ایک طرف تو مغربی ریاستیں اور عرب بادشاہتیں تو دوسری طرف ایران ، روس ، حزب اللہ ہیں اور انھی دو کیمپوں کے درمیان لڑائی کی روشنی میں شام کے انقلاب کی تشریح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

جوزف ڈاہر کہتا ہے کہ وہ ان دو کیمپوں میں سے کسی ایک کو بھی چننے کے لیے تیار نہیں ہیں ، اور ہم کمتر برائی کے تصور کو رد کرتے ہیں جوکہ شام کے انقلاب کو مکمل طور پر کھودینے کا سبب بنے گی اور اس انقلاب کا مقصد فوت ہوجائے گا ، جوکہ جمہوریت ، سماجی انصاف اور فرقہ پرستی کو رد کرنا تھا

جوزف ڈاہر کہتا ہے کہ مغرب اور مڈل ایسٹ کا مین سٹریم میڈیا ، مغربی و علاقائی حکومتیں ہمیں اس بات پر یقین کرنے کو کہہ رہی ہیں کہ شام کا انقلاب ختم ہوچکا ہے اور اب یہ سنّی اکثریت اور مذھبی و نسلی اقلیتی گروہوں کے درمیان جنگ میں بدل چکا ہے یہ اب سوائے فرقہ وارانہ جنگ کے اور کچھ بھی نہیں ہے – یا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ اب یہ انقلاب اسد حکومت اور جہادیوں کے درمیان لڑائی میں بدل چکا ہے اور آخرالذکر میں وہ دائیں بازو اور کم معلومات رکھنے والے سامراج مخالف لوگ ہیں جو اسد کو جہادیوں سے کم برائی خیال کرتے ہیں اور جوزف ڈاہر کے خيال میں ہمیں ان دونوں طرح کے خیالات کی تردید کرنی چاہئیے جوکہ اصل میں شام کے اندر آمرانہ نظام کو قائم کرنا چاہتے ہیں

نوٹ : میرے نزدیک طارق فتح ، ایاز نظامی ، حسین حقانی سمیت بہت سارے لوگ مغربی اور عرب بادشاہتوں کے اسی کمیپ کے ہمنواء لگتے ہیں جو شام کو شیعہ سنّی جنگ میں بانٹ کر دیکھتے ہیں اور بہار عرب کو مردہ قرار دیکر اس کے شیعہ – سنّی جنگ میں بدل جانے کی بات کرتے ہیں

جوزف ڈاہر کے خیال مین صرف دائیں بازو کے اندر ہی شام کے انقلاب کے ہائی جیک ہونے کی وجہ سے مردہ ہوجانے کا خیال رکھنے والے ہی نہیں پائے جاتے بلکہ اس میں لیف کا ایک سیکشن بھی شامل ہے جس نے ابتداء میں اس انقلاب کی حمائت کی تھی

مثال کے طور پر طارق علی نے یہ اعلان کیا ہے کہ عرب بہار کی تحریک پر اب اخوان المسلمون ، دیگر دائیں بازو کے گروپوں ، قطر اور سعودیہ عرب کا قبضہ ہوچکا ہے اور اسد سے باغی ہونے والوں پر ترکی اور فرانس والے غالب آچکے ہیں ، اس لیے انقلابی ابھار کی نوعیت ابتدائی پہلے 12 ماہ میں بدل چکی ہے – اس کی ںطر ميں کوئی اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے ؟ متحارب فوتوں کے درمیان اس وقت جو رشتے ہیں وہ کسی بھی سیکولر یا ترقی پسند گروپ کے حق میں ںظر نہیں آتے – اس حقیقت سے انکار کرنا طارق علی کی نظر میں یا تو ابہام کی وجہ سے اندھا ہوجانا ہے یا پھر لیفٹ سیاست کے اندر موجود داخلی فرقہ پرستی کا تقاضہ ہے

جوزف کہتا ہے کہ حالات کتنے ہی ناموافق ہوں شام اب واپس اس دور جبر وظلم میں نہیں جائے گا جو اسد کے خلاف بہار شام سے پہلے تھا اور نہ ہی جبر وستم کی دوسری شکلوں پر مبنی کوئی ںظام شام پر مسلط کیا جاسکے گا – حل اور متبادل صرف بہار شام کو جاری و ساری رکھنے میں ہے – اور بہار شام کا یہ نعرہ اب بھی افادیت رکھتا ہے کہ زلّت کی زندگی جینے سے مرجانا اچھا ہے

جوزف ڈاہر نے اپریل 2014ء میں واضح طور اسلامی رجعتیوں ( وہابی دیوبندی دھشت گردوں ) کے بارے میں بہت واضح طور پر کہا تھا کہ ہمیں اسلامی رجعت پرست گروپوں کے بارے میں بہت واضح ہونا ہوگا کہ یہ گروہ انقلاب کے سخت خطرہ ہیں اور اگر وہ انقلابیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تو اس کی مذمت کے ساتھ ساتھ جس طرح سے بھی ہو ان کو چیلنج کرنا پڑے گا ، ہمیں ان انقلاب کے دشمنوں اور ردانقلابی رجعت پسند گروپوں کی مخالفت کرنا ہوگی اور ایک تیسرا انقلابی محاذ بنانا ہوگا جوکہ انقلاب کے مقاصد کے لیے جدوجہد کرے – یعنی وہ جمہوریت ، سماجی انصاف کے قیام اور فرقہ پرستی کو مسترد کرنے کے لیے کام کرے – انقلابی کا کام ان مقبول عوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا ہے جوکہ آزادی ، وقار اور جس حد تک ممکن ہوسکے ترقی پسند مقاصد کے لیے تحریک کو متحرک کرنے کے لیے کام کررہی ہوں جبکہ وہ موقعہ پرستوں ، رجعتی طاقتوں کے خلاف برسرپیکر ہوں جوکہ عوامی مقبول طبقاتی مفادات کی مخالفت کررہی ہیں

جوزف ڈاہر کہتا ہے کہ اس کی ںظر میں کسی بھی طرح کا حل اس وقت تک شام میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ جمہوری اور سماجی دونوں مسائل کو اکٹھے حل کرنے پر یقین رکھتا ہو – سماج مطالبات کو جمہوری مطالبوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان جمہوری مطالبات کے تابع رکھا جاسکتا ہے بلکہ وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں
فرانسیسی مارکسی دانشور نے ایک مرتبہ لکھا تھا

آئیں ہم یہ دیکھیں کہ عظیم ترین مارکسی نظریہ سازوں نے بورژوا رجیم / سرمایہ دارانہ حکومت کی سیاسی ساخت کی تشریح اس موقف سے جانچنے کی کوشش سے نہیں کی جوکہ وہ بوژوا رجیم خارجہ پالیسی کے میدان میں رکھتا ہے بلکہ انھوں نے تو اس کی سیاسی ساخت کی تشریخ اس موقف کی روشنی میں کی جو کہ یہ اس قوم کی طبقاتی ترکیب میں اپنے رشتے کی مناسبت سے رکھتا ہے

جوزف ڈاہر کے خیال میں شامی انقلاب کے پروسس کی جڑیں جمہوریت کا نا ہونا اور نیو لبرل پالیسیوں کی وجہ سے سماجی بے انصافی میں اضافے کے اندر پیوست ہیں اور خاص طور یہ پالسیاں بشار الاسد کے 2010ء میں اقتدار میں آنے کے بعد زیادہ تیزی سے نافذ کی گئیں – حافظ الاسد جب اقتدار میں آیا تو شام کے اندر ایک نئے دور کا آغاز ہوا جہاں پر مقبول عوامی تنظیمیں بشمول ٹریڈ یونین سے لیکر پروفیشنل ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں تک زبردست جبر کے بعد حکومت کے کنٹرول میں آگئیں ، ڈاکٹرز ، وکلاء ، انجنئیرز اور فارما سیوٹکیلز کی تنظیموں کو 1980ء میں تحلیل کردیا گيا تھا اور یہ وہ مرکزی تنظیمیں تھیں جوکہ جمہوری آزادیوں کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہی تھیں اور ایمرجنسی اٹھانے کے لیے کوشاں تھیں -ان کی دوبارہ تشکیل نو کی گئی اور ان کے مقبول لیڈروں کو ہٹاکر اپنے کٹھ پتلی لیڈر لائے گئے
حافظ الاسد نے سکول سسٹم میں بنیادی طور پر ان اساتذہ کو نشانہ بنایا جوکہ 1970ء کی دھائی میں لیفٹ کے مختلف رجحانات سے تعلق رکھتے تھے اور تیزی سے مذھبی بنیاد پرستوں کو ترقی پانے دیا گیا – آزاد دانشور جیسے ماغيکل کائلو ، واحدی اسکندر ، یونیورسٹی استاذہ بشمول رفعت سیوفی ،آصف شاہیں حکومت کے ناقدوں کو بھی نشانہ بنایا کيا
جامعات کے کیمپسز کو بھی معاف نہیں کیا گیا ، نہ تو اساتذہ کو بخشا گیا اور نہ ہی طلباء کو – سیکورٹی ایجنسیاں تو طلباء کو لیکچر ہال کے اندر سے یا کیمپس کے اندر سے پکڑ لیتی تھیں اور ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی تھیں – بالکل اسی طریقے سے حکومت نے ٹریڈ یونین ورکر کی نوکر شاہی پر اپنا قبضہ کیا اور اسی وجہ سے محنت کشوں کی نیولبرل پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں روکاوٹ پیدا ہوئی جن کا آغاز آمر حکومت نے 2000 سے کیا تھا اور ان پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں کے رہن سہن کا معیار گرگیا اور سیاسی جبر میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوگیا

یہ وہ بنیادی اسباب تھے جن کی وجہ سے احتجاج کی لہریں اٹھیں اور ان سالوں میں احتجاج جس شئے کے گرد گھومتے رہے وہ معشیت تھی – مثال کے طور مئی 2006ء میں دمشق میں ایک تعمیراتی کمپنی کے خلاف سینکڑوں مزدوروں نے اس کے دفتر کے سامنے احتجاج منظم کیا اور اس کا تصادم سیکورٹی فورسز سے ہوگیا اور یہ وہی وقت تھا جب الیپو میں ٹیکسی ڈرائيور نے بھی ہڑتال کردی تھی

حال ہی میں شام عوام پر ہونے والے جبر کے دوران ٹریڈ یونینز خاموش رہیں ، یہاں تک کہ اگر محنت کشوں پرربھی جبر ہوا اور خود ٹریڈ یونین نشانہ بنی تو بھی یہ غیرفعال اور خاموش ہی رہیں -دسمبر 2011ء میں شام کے اندر کامیاب عام ہڑتاليں اور سول نافرمانی کی تحریکوں نے پورا ملک مفلوج کردیا تھا اس سے محنت کش طبقے کی طرف سے احتجاجی سرگرمیوں کا لیول پتہ چلتا ہے جوکہ اصل میں شامی انقلاب کی جان ہیں – جبر کا سامنا ان تمام سیاسی جماعتوں کو بھی کرنا پڑا تھا جنھوں نے حافظ الاسد کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا اور جس نے نیشنل پروگریسو فرنٹ کی چھتری تلے آنے سے انکار کیا اسے کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی کرنے کی اجازت نہ ملی ، ان سیاسی جماعتوں کو حکومت کی جانب سے اتنے ہی سخت جبر کا سامنا کرنا پڑا تھا جتنا ان پر اخوان المسلمون نے کیا تھا – حکومتی جبر کا 70ء سے نشانہ سیکولر سیاسی جماعتیں بنتی آرہی تھیں جن میں فروری 23 تحریک بعث پارٹی کا ریڈیکل گروپ جوکہ صالح الجدید کے قریب تھا ، لیگ اف کمیونسٹ ایکشن جس کے اکثر ممبران علوی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور زرا کم پیمانے پر جبر کا نشانہ بننے والی ریاض ترک کی کمیونسٹ پارٹی پولیٹکل بیورو شامل تھیں – نیشنل اسمبلی جس میں کئی لیفٹسٹ پارٹیاں شامل تھیں 80ء کے آغاز میں زبردست جبر کا نشانہ بنی تھیں

سن 2000ء میں بشار الاسد کے اقتدار سنبھالنے تک دانشوروں ، آرٹسٹوں ، لکھاریوں ، سکالرز اور یہاں تک کہ سیاست دانوں کی حزب مخالف کی تحریک جوکہ 2000ء سے 2006ء تک اصلاحات اور جمہوری آزادیوں کا مطالبہ کررہی تھی کو سیکورٹی اداروں نے بری طرح سے دبایا – حزب مخالف کی اس تحریک کے ساتھ ساتھ بہت سے مبحاثاتی فورم بھی کھل گئے تھے ، 2004ء سے 2006ء کے درمیان متعدد دھرنے بھی سامنے آئے جوکہ شام میں ایک نیا سیاسی عمل متعارف ہوا تھا – دھرنوں کی کال سیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں کی جانب سے ایک ہی وقت میں سامنے آئی – بشار الاسد کی حکومت نے ان دھنروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ، فورم بند کردئے گئے ، دھرنوں کو سختی سے کچلا گیا اور جن دانشوروں نے سول سوسائٹی اور جمہوریت سازی کی کال دی تھی کو جیلوں میں بند کردیا گیا – اور اسی دوران کردوں کی انتفاضہ کو بھی 2004ء میں سختی سے کچل دیا گيا

شام کے سماج کو بشار الاسد کی حکومت کے مختلف کل پرزوں نے تیزی سے اپنے کنٹرول میں لینا شروع کردیا اور یہ صرف بعث پارٹی تھی جس کو سیاست کرنے ، جلسے جلوس کرنے اور سیاسی تقریبات کرنے کی آزادی تھی ، لیکچرز اور مظاہرے یونورسٹی کے کیمپس اور ملٹری بیرکوں میں کرنا صرف بعث پارٹی کا حق تھا اور اخبارات کو شایع کرنا اور تقسیم کرنا بھی بعث پارٹی کا حق تھا- یہاں تک کہ نیشنل پروگریسو فرنٹ مں شامل دیگر سیاسی جماعتیں اپنا پروگرام آزادانہ طور پر منعقد نہیں کرسکتیں تھیں بعث پارٹی نے بعض کارپوریٹ سیکٹرز پر بھی اجارہ قائم کرکھا تھا – اور بہت سے سوشل سیکٹرز بھی ان کے قبضے میں تھے جہاں عورتوں ، نوجوانوں اور کسانوں کو اکٹھا کرکے اپنی حکومت کی عوامی بنیادیں ظاہر کرنے کا ڈرامہ ہوتا تھا

سماجی انصاف شام کی مقبول عوامی تحریک کا سب سے زیادہ بنیادی مطالبہ بن چکا ہے – اس میں حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ شامی انقلابی تحریک کا سب سے بڑا سیکشن معاشی طور پر پسے ہوئے دیہی اور شہری محنت کشوں اور مڈل کیلاس کی ان پرتوں پر مشتمل ہے جوکہ بشار الاسد کی تیزی کے ساتھ نافذ کی ہوئی نیولبرل پالیسیوں کے نفاز کا تجربہ اس کے اقتدار میں آنے کے وقت سے کررہے ہیں – یہ پالیساں ایک چھوٹی سے اشرافیہ اور ان کے کلائنٹس کو فائدہ پہنچارہی ہیں – رامی مخلوف بشار الاسد کا کزن بشار الاسد حکومت کے اس مافیا سٹائل نجکاری پروسس کو چلارہا ہے

نجکاری کے اس پروسس نے نئی اجارہ داریاں پیدا کی ہیں جن کے مالک بشارالاسد کے رشتہ دار ہیں جبکہ اشیاء کے معیار اور سروسز کی فراہمی کا معیار گرچکا ہے – ان اقتصادی اصلاحات نے معشیت کو صرف و صرف امیروں اور طاقت وروں کی خدمت پر مامور کردیا ہے – سرکاری اداروں کی نجکاری کا پروسس ایسے طریقے سے چلایا گیا کہ اس کا فائدہ حکومت کے قریب لوگوں نے اٹھایا – اور اسی دوران فنانشل سیکٹر نے نجی بینکوں ، انشورنس کمپنیوں ، دمشق سٹاک ایکسچینج کمپنیوں اور منی ایکسچینج بیورو کی اسٹبلشمنٹ کے اندر اپنے بندے داخل کئے

حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نیولبرل پالسیوں کی وجہ سے بالائی طبقہ اور غیر ملکی سرمایہ کار خاص طور پر عرب ملکوں کے سرمایہ کار مطمئن ہوگئے اور شامی معشیت کی لبرلائزیشن کا انھوں نے خوب فائدہ اٹھایا جبکہ شامی عوام کی اکثریت کو افراط زر اور مہنگے طرز زندگی کا بوجھ اٹھانا پڑا
اس کے علاوہ شام میں زراعت اور پبلک سیکٹر کے سکڑنے کی وجہ سے اور ان کو مستحکم نہ کرنے کی کوئی مضبوط پالیسی نہ ہونے کے سبب ملک کا پہلے سے کمزور ریاستی ، سماجی تحفظ فراہم کرنے والا ڈھانچہ اور شکست و ریخت کا شکار ہوا اور خوراک اور نان فوڈ بنیادی ضرورت کی اشیاء میں اضاقے کا خمیازہ بھی غریب عوام کو بھگتنا پڑا

معشیت کی لبرلائزیشن کے پروسس نے شام کے اندر عدم مساوات کو بڑھادیا – غریبوں کو نئی طرز کی معشیت میں جینا مشکل تھا تو متوسط طبقہ تیزی سے ئربت کی لیکر کی طرف بڑھ رہا تھتا ، کیونکہ ان کی آمدنی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی تھی جس رفتار سے افراط زر بڑھ رہا تھا جوکہ 2008ء میں 17 فیصد تک جاپہنچا تھا
اب وہاں شام میں 20-25 فیصد بے روزگاری ہے ، جبکہ شام کی کل آبادی میں 25 سال کی عمر کے نوجوان 55 فیصد اور 30 تک کے نوجوان 65 فیصد ہیں -2010 ء تک شام میں غربت کی شرح 33 فیصد ہوچکی تھی اور یہ 70 لاکھ کی تعداد بنتی ہے

لاکھوں کسانوں کی شمال مشرق میں اپنی زمینوں سے محرومی جوکہ قحط سے ہوئی کو قدرتی آفات نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ ايگرو بزنس کی جانب سے زمین کا بہت زیادہ استعمال بشمول مقامی انۃطامیہ کی جانب سے غیر قانونی پانی کے کنویں ڈرل کرنے نے بھی زراعت کے بحران کو بڑھایا ہے

بڑے کمرشل زمینداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر زمینوں کی کاشت ، چراگآہوں کے لیے مختص زمینوں پر فصلوں کی کاشت اور بڑے پیمانے پر پانی چوری کرنے کے لیے غیرقانونی پائپ نے زرعی زمینوں کی خشک سالی کو بڑھایا اور 2010 میں اقوام متحدہ کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ لوگ شمال مشرقی شامی علاقے سے جبری طور پر شہری مراکز کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے

شام میں جب بہار عرب کا آغاز ہوا تو اس میں عدلیب ، دیرا اور دمشق کے و الیپو کے دیہاتی علاقون سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور یہ علاقے بعث پارٹی کے قلعے تصور ہوا کرتے تھے اور 1980ء میں جب بڑے پیمانے پر تحریک کھڑی ہوئی تھی تو اس وقت ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگ کھڑے نہیں ہوئے تھے ، اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ شام کی حکومت کی نیولبرل پالسیوں نے کس قدر بڑے پیمانے پر بشار الاسد کی حکومت کو ان علاقوں میں بھی غیر مقبول کیا جہاں پر اس کے حامی کثرت میں تھے اور اس علاقے کے لوگوں کی اکثریت نے آزاد شامی فوج میں بھی شرکت کی تھی

Screen Shot 2014-10-29 at 9.30.21 PM