Featured Original Articles Urdu Articles

چیف منسٹر بلوچستان عبدالمالک : شیعہ ہزارہ اور صوفی سنّی نسل کشی کے زمہ داروں سے یارانے کیوں ؟

Photo: ‎بلوچستان کے چیف منسٹر عبدالمالک جوکہ خود کو دہشت گردی ، مذهبی انتہاپسندی کا سب سے بڑا مخالف بتلاتے ہیں وہ ایک ایسی تنظیم کے عهدے داروں کو وی آئی پی پروٹوکول ساته ملے جوکہ پورے بلوچستان میں اہلسنت بریلوی کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائے ہوئے ہے اور اہل تشیع کے خلاف لوگوں کو تشدد اور دہشت گردی ہر اکساتی رہتی ہے اور دوسرے مزاہب و مسالک کے خلاف انتہائی شرانگیز ، نفرت آمیز پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتی ہے<br />
یہ تنظیم بلوچستان میں اعلانیہ اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کرتی ہے جبکہ زیرزمین اس نے اپنے نام لشکر جهنگوی ، تنظیم الفرقان ، جنداللہ ، جیش العدل وغیرہ رکهے ہوئے ہیں اور ان دیوبندی تکفیری دہشت گردوں نے اپنے حامی بظاہر بلوچ قوم پرست نظر آنے والی تنظیموں اور قومی سیاسی جماعتوں میں بهی گهسائے ہوئے ہیں<br />
اہلسنت والجماعت کا سربراہ رمضان مینگل پر اغواء ، قتل ، دہشت گردی کے کئی ایک مقدمات درج ہیں اور ایک عدالت نے تو اسے اشتہاری بهی قرار دے رکها ہے لیکن یہ اور اس کے دوسرے دیوبندی تکفیری دہشت گرد ساتهیوں کو ایک طرف تو بلوچستان میں ایف سی کے افسران کی سرپرستی حاصل ہے تو دوسری طرف اسے مسلم لیگ نواز بلوچستان کے اسرار اللہ زهری ، سرکاری طور پر مری قبیلے کے سردار بننے والے نواب خیر بخش مری کے بڑے بیٹے چنگیز خان مری کی سرپرستی بهی حاصل ہے اور یہ تصویر بتلاتی ہے کہ اسے ڈاکڑ مالک کی اشیر باد بهی ملی ہوئی ہے<br />
روزنامہ ڈان میں 25 اکتوبر کی اشاعت کے ادارئے میں اور سابق مدیر ڈان عباس ناصر نے بالکل ٹهیک سوال مالک حکومت اور ایف سی کے سربراہ کے سامنے اٹهائے ہیں کہ وہ صوبے میں بلوچ گوریلوں کے خلاف اور آزادی پسند بلوچوں کے خلاف جس شدت کے ساته آپریشن کررہے ہیں اور جس بڑی تعداد میں خفیہ ایجنسیاں بلوچ نوجوانوں کو قومی تحریک کے ساته وابستگی کے شک میں اٹهاتے ہیں اس کے برعکس وہ بلوچستان میں تربت ، خضدار ، کیچ، کوئٹہ سمیت پورے علاقے میں لشکر جهنگوی ، اہلسنت والجماعت ، جیش العدل ، تنظیم الفرقان وغیرہ دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہے<br />
دیوبندی فرقہ پرست نہ صرف ہزارہ شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنارہے ہیں بلکہ وہ بلوچ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بهی روڑے اٹکارہے ہیں اور فرقہ وارانہ منافرت پهیلانے والے دیوبندی تکفیریوں کو کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان کے بازاروں اور گلیوں میں فرقہ پرستانہ نعرے لگوانے کی اجازت دے رکهی ہے اور منافرت آمیز جلسے جلوسوں کی اجازت دی ہوئی ہے<br />
بلوچستان میں اب تو خود ان دیوبندی دہشت گردوں کے حامی سیاسی مذهبی قائدین بهی محفوظ نہیں ہیں ، ملا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کو آئی جی بلوچستان مجبور کررہے تهے کہ ایک کالعدم تنظیم کے مرکزی رہنما کو جلسے میں شرکت کی دعوت دوں اور یقینی طور پر وہ شخصیت رمضان مینگل کی تهی<br />
ہم سمجهتے ہیں کہ بلوچستان ، کراچی سمیت دیوبندی دہشت گرد، فرقہ پرست انتہاپسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کو ویسے ہی آپریشن کرنے کی ضرورت ہے جیسا آپریشن اس وقت شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں کیا جارہا ہے<br />
پشاور کے کور کمانڈر جنرل خالد ربانی نے تو پہلے ہی کہا تها کہ ضرب عضب آپریشن کو کامیاب بنانے کے لئے جنوبی پنجاب ، اندرون سنده ، کراچی اور بلوچستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر چهوٹے ضرب عضب آپریشن ہونے چاہئیں<br />
بلوچستان کی حکومت ، بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ، ملڑی کازیلی ادارہ ایف سی ، انٹلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک دیوبندی وهابی فرقہ پرست ، تکفیری دہشت گرد اورمنافرت پهیلانے والےنیٹ ورکسکے خلاف کوئی کاروائی کرنے کو تیار نظر نہیں آتے بلکہ ان پر تو ان کی سرپرستی کے الزام لگ رہے ہیں<br />
بلوچستان میں بالخصوص اور ملک کے اربن سنٹرز میں بالعموم دیوبندی فرقہ پرست تکفیری انتہاپسندوں کے نیٹ ورک کے پهیلاو اور ان کی طاقت میں اضافہ ہوتے چلے جانے پر ضرب عضب فوجی آپریشن کے حامیوں میں یہ تشویش بجا طور پر پیدا ہورہی ہے کہ آخر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس پر راست اقدام کیوں نہیں اٹهارہے اور جب بلوچستان کی اندرونی سیکورٹی بهی ان ہی کے پاس ہے تو پهر بلوچستان میں لشکر جهنگوی ، جیش العدل ، تنظیم الفرقان ،جنداللہ کے پهیلاو اور ان کی سرپرست سپاہ صحابہ /اہل سنت والجماعت کے پهیلنے اور منافرت کے کاروبار میں تیزی کیوں آرہی ہے ؟ یہ وہ ایشو ہے جس کو حل نہ کیا تو خود آپریشن ضرب عضب کو خاصا دهچکہ لگے اور پاکستانی فوج کی هائی کمان کے بارے میں لوگوں کی اکثریت کی سوچ میں جو مثبت تبدیلی آئی تهی اس کے بدل جانے کے امکانات  بهی موجود ہیں‎

بلوچستان کے چیف منسٹر عبدالمالک جوکہ خود کو دہشت گردی ، مذهبی انتہاپسندی کا سب سے بڑا مخالف بتلاتے ہیں وہ ایک ایسی تنظیم کے عهدے داروں کو وی آئی پی پروٹوکول ساته ملے جوکہ پورے بلوچستان میں اہلسنت بریلوی کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائے ہوئے ہے اور اہل تشیع کے خلاف لوگوں کو تشدد اور دہشت گردی ہر اکساتی رہتی ہے اور دوسرے مزاہب و مسالک کے خلاف انتہائی شرانگیز ، نفرت آمیز پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتی ہے
یہ تنظیم بلوچستان میں اعلانیہ اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کرتی ہے جبکہ زیرزمین اس نے اپنے نام لشکر جهنگوی ، تنظیم الفرقان ، جنداللہ ، جیش العدل وغیرہ رکهے ہوئے ہیں اور ان دیوبندی تکفیری دہشت گردوں نے اپنے حامی بظاہر بلوچ قوم پرست نظر آنے والی تنظیموں اور قومی سیاسی جماعتوں میں بهی گهسائے ہوئے ہیں
اہلسنت والجماعت کا سربراہ رمضان مینگل پر اغواء ، قتل ، دہشت گردی کے کئی ایک مقدمات درج ہیں اور ایک عدالت نے تو اسے اشتہاری بهی قرار دے رکها ہے لیکن یہ اور اس کے دوسرے دیوبندی تکفیری دہشت گرد ساتهیوں کو ایک طرف تو بلوچستان میں ایف سی کے افسران کی سرپرستی حاصل ہے تو دوسری طرف اسے مسلم لیگ نواز بلوچستان کے اسرار اللہ زهری ، سرکاری طور پر مری قبیلے کے سردار بننے والے نواب خیر بخش مری کے بڑے بیٹے چنگیز خان مری کی سرپرستی بهی حاصل ہے اور یہ تصویر بتلاتی ہے کہ اسے ڈاکڑ مالک کی اشیر باد بهی ملی ہوئی ہے
روزنامہ ڈان میں 25 اکتوبر کی اشاعت کے ادارئے میں اور سابق مدیر ڈان عباس ناصر نے بالکل ٹهیک سوال مالک حکومت اور ایف سی کے سربراہ کے سامنے اٹهائے ہیں کہ وہ صوبے میں بلوچ گوریلوں کے خلاف اور آزادی پسند بلوچوں کے خلاف جس شدت کے ساته آپریشن کررہے ہیں اور جس بڑی تعداد میں خفیہ ایجنسیاں بلوچ نوجوانوں کو قومی تحریک کے ساته وابستگی کے شک میں اٹهاتے ہیں اس کے برعکس وہ بلوچستان میں تربت ، خضدار ، کیچ، کوئٹہ سمیت پورے علاقے میں لشکر جهنگوی ، اہلسنت والجماعت ، جیش العدل ، تنظیم الفرقان وغیرہ دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہے
دیوبندی فرقہ پرست نہ صرف ہزارہ شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنارہے ہیں بلکہ وہ بلوچ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بهی روڑے اٹکارہے ہیں اور فرقہ وارانہ منافرت پهیلانے والے دیوبندی تکفیریوں کو کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان کے بازاروں اور گلیوں میں فرقہ پرستانہ نعرے لگوانے کی اجازت دے رکهی ہے اور منافرت آمیز جلسے جلوسوں کی اجازت دی ہوئی ہے
بلوچستان میں اب تو خود ان دیوبندی دہشت گردوں کے حامی سیاسی مذهبی قائدین بهی محفوظ نہیں ہیں ، ملا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کو آئی جی بلوچستان مجبور کررہے تهے کہ ایک کالعدم تنظیم کے مرکزی رہنما کو جلسے میں شرکت کی دعوت دوں اور یقینی طور پر وہ شخصیت رمضان مینگل کی تهی
ہم سمجهتے ہیں کہ بلوچستان ، کراچی سمیت دیوبندی دہشت گرد، فرقہ پرست انتہاپسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کو ویسے ہی آپریشن کرنے کی ضرورت ہے جیسا آپریشن اس وقت شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں کیا جارہا ہے
پشاور کے کور کمانڈر جنرل خالد ربانی نے تو پہلے ہی کہا تها کہ ضرب عضب آپریشن کو کامیاب بنانے کے لئے جنوبی پنجاب ، اندرون سنده ، کراچی اور بلوچستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر چهوٹے ضرب عضب آپریشن ہونے چاہئیں
بلوچستان کی حکومت ، بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ، ملڑی کازیلی ادارہ ایف سی ، انٹلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک دیوبندی وهابی فرقہ پرست ، تکفیری دہشت گرد اورمنافرت پهیلانے والےنیٹ ورکسکے خلاف کوئی کاروائی کرنے کو تیار نظر نہیں آتے بلکہ ان پر تو ان کی سرپرستی کے الزام لگ رہے ہیں
بلوچستان میں بالخصوص اور ملک کے اربن سنٹرز میں بالعموم دیوبندی فرقہ پرست تکفیری انتہاپسندوں کے نیٹ ورک کے پهیلاو اور ان کی طاقت میں اضافہ ہوتے چلے جانے پر ضرب عضب فوجی آپریشن کے حامیوں میں یہ تشویش بجا طور پر پیدا ہورہی ہے کہ آخر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس پر راست اقدام کیوں نہیں اٹهارہے اور جب بلوچستان کی اندرونی سیکورٹی بهی ان ہی کے پاس ہے تو پهر بلوچستان میں لشکر جهنگوی ، جیش العدل ، تنظیم الفرقان ،جنداللہ کے پهیلاو اور ان کی سرپرست سپاہ صحابہ /اہل سنت والجماعت کے پهیلنے اور منافرت کے کاروبار میں تیزی کیوں آرہی ہے ؟ یہ وہ ایشو ہے جس کو حل نہ کیا تو خود آپریشن ضرب عضب کو خاصا دهچکہ لگے اور پاکستانی فوج کی هائی کمان کے بارے میں لوگوں کی اکثریت کی سوچ میں جو مثبت تبدیلی آئی تهی اس کے بدل جانے کے امکانات بهی موجود ہیں