Featured Original Articles Urdu Articles

جھنگ جلسہ عوامی تحریک – تکفیریت کے ایوانوں میں زلرلہ ہے قادری

جھنگ میں طاہر القادری کے استقبال کا والہانہ منظر

جھنگ میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ، جس نے لدھیانوی کو لرزا دیا 

ourang zaib faruqui

ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان عوامی تحریک کے انقلاب کو پاکستان کے دیگر شہروں تک لیجانے کا جب اعلان کیا تو پہلے مرحلے پر انھوں نے فیصل آباد ڈویژن میں فیصل آباد ، جھنگ اور چینوٹ کے اضلاع کو اپنے جلسوں کے لیے چنا اور اس دوران انھوں نے صرف جلسے ہی نہیں گئے بلکہ سیلاب سے متاثر ہونے والے ان اضلاع کے علاقوں میں جہاں انھوں نے امداد تقسیم کی بلکہ انھوں نے ان علاقوں میں جاکر بڑے ، بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے عام لوگوں کو اپنے منشور اور پیغام سے بھی آگاہ کیا
ڈاکٹر طاہر القادری نے جب سے اپنی تحریک کا آغاز کیا ہے تو اول دن سے انھوں نے اپنی تحریک کا ایجنڈا یہ رکھا کہ ان قوتوں کو شکست دی جائے جو اس ملک میں انتہا پسندی ، فرقہ واریت ، تکفیریت اور دھشت گردی کو پروان جڑھا رہی ہیں اور یہ ڈاکٹر طاہر القادری ہیں ، جنھوں نے اعلانیہ مسلم لیگ نواز اور پنجاب میں سرگرم تکفیری دھشت گرد اور فرقہ پرست تنظیموں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان ہے جو اہل سنت والجماعت کے نام سے کام کررہی ہے وغیرہ کے درمیان مبینہ رابطے اور اتحاد کے خلاف آواز اٹھائی ، اسی وجہ سے ان کے ساتھ ان سیاسی جماعتوں نے اشتراک اور تعاون بڑھایا جن کا اپنا ایجنڈا شخصی آمریت اور بادشاہت کے ساتھ ساتھ ملک میں فرقہ واریت ، انتہا پسندی ، دھشت گردی اور تکفیریت کے خلاف تھا
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے انقلاب کی تحریک کو ملک بھر میں پھیلانے کے لیے پہلے مرحلے میں فیصل آباد ڈویژن کا انتخاب بھی اسی لیے کیا کہ یہ ڈویژن پنجاب کے ان تین ڈویژن میں سرفہرست ہے جہاں پر تکفیری دیوبندی انتہا پسندوں اور دھشت گردوں نے اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں اور وہ یہاں کے معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر انھیں ملک میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کرانے اور اس ملک کے پر امن صوفی سنّیوں ، شیعہ عیسائيوں ، احمدیوں ، ہندؤں کو قتل کرانے اور ان کی مذھبی پراسیکوشن کے لیے تیار کرتے ہیں اور سیلاب کے متاثرین کی مدد کی آڑ میں فرقہ وارنہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف تھے
یہ حقیقت ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک منصوبے کے تحت جھنگ ، چینوٹ سمیت سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کالعدم دیوبندی تکفیری اور وہابی جہادی تنظیموں کو رسائی دی اور ان کو وہاں تک پہنچنے کے لیے مقامی ضلعی انتظامی مشینری کے تعاون کو بھی یقینی بنایا
جھنگ کے اندر اہل سنت والجماعت دیوبندی کا آصف معاویہ ، محمد احمد لدھیانوی اور اس کے دیگر انتہا پسند رضاکاروں کے بحث میں امداد اور مدد کی آڑ میں فرقہ وارانہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہے اور یہی کردار ان تنظیموں نے ملتان و مظفر گڑھ ضلع میں بھی ادا کیا تھا
پاکستان عوامی تحریک ، تحریک منھاج القرآن ، منھاج القرآن ویلفئیر سوسائٹی کے رضا کاروں کا وسیع نیٹ ورک فیصل آباد ، سرگودھا ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں سیلابی علاقوں میں ان انتہا پسند ، دھشت گرد تنظیموں کے مقابلے میں لوگوں کی مدد کو پہنچا
راقم کو جھنگ ، مظفر گڑھ ، چینوٹ میں رضاکارانہ خدمات سرانجام دینے والے ایک سرکاری اسکول کے استاد جوکہ پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ درجنوں میڈیکل ٹیموں کے ساتھ سیلابی علاقے میں گیا تھا نے بتایا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سیلابی گاؤں ، چکوک اور قصبات میں جانے سے بہت فرق پڑا ، اکثر لوگوں نے عوامی تحریک کے کیمپوں میں آنے کو ترجیح دی بنسبت دیوبندی اہل سنت والجماعت کے کیمپوں میں جانے کے ، اس کا کہنا تھا کہ 2010ء کے سیلاب اور اب 2013ء کے سیلاب کے موقعہ پر پاکستان عوامی تحریک کے امدادی کاموں نے متاثرہ علاقوں میں انتہا پسند تنظیموں کے اثرات کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا
اس استاد کا کہنا تھا کہ سرکاری نوکری کرنے سے پہلے اس نے جھنگ ، چینوٹ ، خانیوال اور فیصل آباد میں پاکستان عوامی تحریک کے اسکولوں میں پڑھایا ، اس نے انکشاف کیا کہ پنجاب حکومت نے صرف ضلع جھنگ میں محمد احمد لدھیانوی سربراہ اہل سنت والجماعت دیوبندی کو چھے ہزار سے زیادہ نان فارمل اسکولوں کا تحفہ دیا تھا اور ہر ایک نان فارمل اسکول جھنگ کے دور افتادہ چکوک اور گاؤں میں قائم کئے گئے تھے جہاں سے سرکاری اسکول کا فاصلہ دو کلومیٹر تھا اور اس ضمن میں اہل سنت والجماعت نے 12 ہزار سے زیادہ اپنے لوگوں کو ان اسکولوں کا استاد بھرتی کررکھا تھا اور یہ اسکول دیوبندی تکفیری ازم کے پروپیگنڈا کا مرکز بنے ہوئے تھے
اس استاد کا کہنا تھا کہ فیصل آباد ڈویژن میں پاکستان عوامی تحریک کے درجنوں اسکولوں کے قیام نے بہت سے نوجوانوں کو انتہا پسندی اور تکفیری نیٹ ورک کا حصّہ بننے سے بچایا ہے جبکہ فیصل آباد ڈویژن ، ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، سرگودھا ، راولپنڈی ڈویژنوں میں پاکستان عوامی تحریک ، تحریک منھاج القرآن کے نیٹ ورک اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تقاریر ، ان کی کتب میں موجود تکفیری و خوارج مخالف نظریات اور تصوف کی تائید پر مبنی خیالات نے بھی ان علاقوں میں پھیلتے دیوبندی ازم اور وہابیت پر کاری ضرب لگائی ہے
فیصل آباد ، جھنگ ، چینوٹ ، سرگودھا ، خوشاب ، میاں والی ، بھکر ، ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، ڈیرہ اسماعیل خان ، بہاول پور ، رحیم یار خان ، بہاول نگر ، وہاڑی ، پاکپتن ، ساہیوال ، اوکاڑا ، قصور ، لاہور اور اس سے آگے پوٹھاری بیلٹ میں پاکستان عوامی تحریک ان اربن اور دیہی علاقوں میں دیوبندی تکفیری و خوارجی فتنے کے آگے اپنے منظم نیٹ ورک سے روک لگائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دیوبندی تکفیری اہل سنت والجماعت ہی نہیں بلکہ ديگر دیوبندی تںظیمیں بھی ڈاکٹر طاہر القادری سے سخت ناراض نظر آتی ہیں
ڈاکٹر طاہر القادری کے مضبوط نیٹ ورک کی وجہ سے مجلس وحدت المسلمین ، اور سنّی اتحاد کونسل بھی ان کے ساتھ شریک اتحاد ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ کرسچن برادری کے مضبوط رہنما جے سالک بھی کھڑے نظر آورہے ہیں اور اس سے اتحاد بنی نوع انسان کا جو امکان پیدا ہورہا ہے اس سے تکفیریوں کو خاصی پریشانی کا سامنا ہے
حال ہی میں ڈاکٹر طاہر القادری نے فیصل آباد میں جو دو لاکھ سے زائد کا جلسہ کیا اورجھنگ و چینوٹ میں ان کو جتنے بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی ملی اس سے دیوبندی تکفیری تںظیم اہل سنت والجماعت کے ایوانوں میں کھلبلی کے آثار نظر آنے لگے ہیں
ڈاکٹر طاہر القادری جب چینوٹ میں بہت بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے تو اس وقت محمد احمد لدھیانوی جھنگ میں صحافیوں کو بلاکر ایک پریس کانفرنس میں ان کی کردار کشی کرنے میں مصروف تھے
اسی روز اورنگزیب فاروقی مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اہل سنت والجماعت دیوبندی نے بہاول پور میں مقامی عہدے داروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری پر بے پروپا الزام تراشی کی اور کو امریکی ، اسرائيلی ، بھارتی لابیوں کا ایجنٹ تک کہہ ڈالا
تکفیریوں کے اس شور وغوغا سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک سے جہاں تکلیف پاکستانی سیاست میں سٹیٹس کو اور لوٹ مار کی سیاست کرنے والوں کو ہے ، وہیں پر تکفیری دیوبندی لابی کو بھی یہ تکلیف بہت زیادہ ہے اور ان کا کاروبار ہلاکت و فتنہ موت کے دھانے پر پہنچ رہا ہے
قاری حنیف جالندھری جیسے کرپٹ اور بدعنوان مولوی کے فتوے کے بعد اورنگ زیب فاروقی و لدھیانوی کی زبان درازی ان کی شکست خوردگی سے بخوبی عیاں ہوتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے تکفیری سیاست کے ایوانوں میں زلزلہ طاری کردیا ہے 

statement of Tahirulqadri