اردو معیشت اور تعلیم

مولوی طاہر اشرفی اور قصّہ مے خواری کا

مولوی طاہر اشرفی اور قصّہ مئے ناب 

عامر حسینی 

 

مولوی طاہر اشرفی کی جیو ٹی وی پر ایک پروگرام میں مخمور و مدہوش ہوکر آنے ،لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ، شرابی آنکھوں کے ساتھ عمران خان کے مبینہ مشکوک کردار پر بات کرنے ، اپنی جانب سے دوسروں کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی فکر میں مرثیہ گوئی پر سوشل میڈیا اور ماس میڈا پر خاصی لے دےہورہی ہے 

اس لے دے میں اور اشرفی کو لعن طعن کرنے کے دوران یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کب ، کب ، کہاں ، کیسے اور کس حال میں اشرفی موصوف کو دیکھا جاتا رہا ہے اور ان کی مئے خواری کے قصّے زبان زد عام ہیں
میں یہ سب جب دیکھ ، سن اور پڑھ رہا تھا تو مجھے یاد آیا کہ ہمارے شعر و ادب کی دنیا میں زاہد ، ناصح ، واعظ ، قاضی ،محتسب ، پیر اور ملّا کے بارے میں رندی اور خرابات میں ڈوبے ہوئے شعراء حضرات نے اکثر یہ بات لکھی ہے کہ جو دوسروں کے لیے حرام ، مستوجب حد و سزا ہوتی ہے اس مئے ناب کو وہ بصد شوق پی جاتے ہیں اور کسی بھی سزا کا اطلاق ان پر نہیں ہوا کرتا ، فیض شاید اسی لیے ان پر ” خود ہی منصف ، خود ہی مدعی اور خود ہی گواہ ٹھہرجانے ” پھتی کسا کرتے تھے
مولوی طاہر اشرفی واحد مولوی نہیں ہے جو مئے ناب سے شغل کرتا ہو ، مہ جبینوں پر فدا ہوتا ہو اور کبھی کبھی الٹ بھی جاتا ہو اور بے اختیار الٹیاں کرنے لگتا ہو اور جس کے کپڑوں پر مئے چھلک کر جام سے جاپڑتی ہو اور ان سے چھینٹوں کے داغ صاف دکھائی دیتے ہوں اور الکحل کی بو ان سے آتی ہو ، لیکن مولوی طاہر اشرفی پر غصّہ اس لیے زیادہ ہے کہ وہ اخلاقیات کو کوڑا ہاتھ میں لیکر سماج کے چوراہے پر بیٹھا ہوا ہے اور دوسروں پر اس اخلاقی کوڑے کو برسانے میں دیر نہیں لگاتا


Tahir Ashrafi appears drunk on Geo TV


Pakistani Deobandi Molvi Kaa Haal – Hafiz Muhammad Tahir Ahrafi

مجھے سودا کا شعر یاد آرہا ہے ، وہ کہتا ہے
تقویٰ کا اس کے موسم گل نے کیا یہ رنگ
زاہد کو خانقاہ سے میخانہ لے گیا
تو زاہد کو یہ جو خانقاہ یا مسجد سے مئے خانہ لیجانے پر مجبور کرنے والی جو شئے ہیں نا وہ موسم گل ہے اور یہ موسم گل کوئی مہ جبین بھی ہوسکتی ہے اور خود لال پری کا نشہ اور لت بھی کہ جس منہ کو لگ جائے بقول غالب ایسی کافر ہے کہ پھر منہ سے چھٹنے کا نام نہیں لیتی
اور مصحفی نے تو زاہد کے زہد کو بہت ہی کھوکھلا کہا ہے ایسا کھوکھلہ کہ نیفے کی بھڑک دکھانے سے پہلے ٹوٹ جاتا ہے
ابھی نیفے کی بھڑک اس نے دکھائی کب تھی
ایک خمیازے میں زاہد کا وضو ٹوٹ گیا
اور مصطفی خان شیفتہ نے جو کہا وہ مجھے اشرفی صاحب کے حسب حال لگتا ہے
وہ شیفتہ کہ دھوم تھی حضرت کے زُہد کی
میں کیا کہوں رات مجھے کس کے گھر ملے
اور غالب نے کہا کہ
کہاں میخانہ کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
اشرفی صاحب کہتے ہیں کہ ان کے منہ میں میٹھا پان تھا ،بھئی یہ میٹھے پان سے زبان کا لڑکھڑانا ، آواز کا بھاری ہونا ، آنکھوں کا مخمور ہوجانا اور بھاری جثّے کا لہرا ، لہرا جانا (کیا لہرانا بس پتلی کمر والوں کا نصیب ہوتا ہے ؟ نہیں صاحب ! دو گھونٹ لگا لینے کے بعد بھاری کمر بھی لہرانے لگتی ہے ) اور کہیں ، کہیں زبان کا غوطّہ کھاجانا پہلی بار دیکھا اور سنا ، لیکن یہاں غالب بے اختیار یوں کہتے ہیں
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پرد ہ داری
اور ہم جناب اشرفی کو یہی صلاح دیں گے کہ وہ رندوں پر اپنی بمباری کا سلسلہ بند کردیں اور اخلاقیات کا کوڑا لیکر گلی ، گلی ، کوچہ ، کوچہ اور قریہ قریہ گشت بند کردیں ، کیونکہ ایسا گشت پنا جس میں خود اپنی خرابات کو بیچ چوک میں سرانجام دیا جارہا ہو ،بہت بدنامی کا سبب تو بنتا ہی ہے اور آدمی خود مذاق بنکر رہ جاتا ہے اور اس مفت مشورہ پر عمل کرلیں تو خوف فائدہ ہوگا
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ویسے زوق کی یہ نصحیت تو کسی صاحب ذوق کے کام آسکتی ہے جس کا پیمانہ کم ظرف نہ ہو اور تھوڑی سی مقدار سے چھلک نہ پڑتا ہو ، مولوی اشرفی تو ویسے بھی دوران کلام چھلکنے سے بھی آگے بڑھ کر چھناکے سے ٹوٹ جاتے ہیں یا پھٹ پڑتے ہیں اور ہم نے تو ان کو خواتین سے کلام کے دوران بھی اتنے بڑے جثّے سے باہر ہوتے دیکھا ہے اور راجپوت گھرانے کی مہارانی ثمینہ خاور نے اسی لیے اسے مولوی پاکھنڈی اور ڈرامے باز نہ جانے کیا کچھ کہہ ڈالا تھا
ویسے کبھی کبھی میں اپنے تخیل کو مائل بہ پرواز پاتا ہوں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اشرفی صاحب جب ٹی وی چینلوں ، اور سوشل میڈیا پر اپنی اس قدر ” عزت افزائی ” کے بعد گھر داخل ہوتے ہوں گے اور خاتون خانہ کے مدمقابل ہوتے ہوں گے تو وہ کیا مںظر ہوتا ہوگا ؟
اب آپ سب سمجھ دار ہیں ، میں کیا کہوں ، عربی کا محاورہ ہے کہ
العاقل تکفیف الاشارۃ
اور فارسی میں اسے کہتے ہیں
عقل منداں را اشارہ کافی است
اور اردو میں کہتے ہیں کہ
دانا کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے

About the author

Khalid Noorani

97 Comments

Click here to post a comment