Featured Original Articles Urdu Articles

سلفی وہابی – دیوبندی تکفیری دھشت گردی کا صوفی مکاؤ ایجنڈا اور مغرب کی سٹریٹجک غلطیاں

 

شام کی پارلیمنٹ کے سپیکر لحم الجہاد نے امریکی صدر باراک اوبامہ کے نام ایک خط لکھا ہے جس کا تذکرہ ڈیلی اںڈیپینڈنٹ میں اپنے ایک کالم میں کیا ہے

شامی پارلیمنٹ کے سپیکر کا امریکی صدر کو یہ خط بہت چشم کشا ہے ، اس خط میں شامی اسمبلی کے اسپیکر نے بتایا ہے کہ شام کے اندر اس وقت صوفی سنّیوں ، شیعہ ، علویوں ، کردوں ، عیسائیوں کے خلاف برسر پیکار داعش ، جبھۃ النصرۃ سلفی وہابی -دیوبندی تکفیری ہیں جن کے خیالات اور اقدامات کی بنیاد سلفی وہابی آئیڈیالوجی ہے اور ان سب کو سعودی عرب نے شام کی سرزمین پر بھیجا ہے اور ان کے پاس اس وقت جو اسلحہ ہے اور فوجی ساز و سامان ہے وہ وہ ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نام نہاد ماڈریٹ شامی حزب اختلاف کو بشار الاسد کے خلاف لڑنے کو دیا تھا اور اس نام نہاد اعتدال پسند اپوزیشن نے وہ اسلحہ آئی ایس ، نصرہ فرنٹ سمیت سلفی وہابی (دیوبندی) دھشت گردوں کو فروخت کردیا

شامی اسپیکر اسمبلی سے پہلے ایران کے صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مڈل ایسٹ مین دھشت گردی کا جو بازار گرم ہے اس کی وجہ امریکہ کی غلط پالیسیاں ہیں جس نے جانوروں کے ہاتھ میں بلیڈ تھمادئے ہیں

مجھے اس موقعہ پر روسی صدر ولادیمر پیوٹن اور صدر باراک اوبامہ کی ملاقات یاد آگئی جس میں ولادیمر پیوٹن نے باراک اوبامہ کو کہا تھا کہ تم نے ایسے درندوں کو شام بھیجا ہے جو انسانوں کو صرف قتل ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی لاشوں کی سخت بے جرمتی بھی کرتے ہیں

شامی اسپیکر نے اپنے خط میں باراک اوبامہ کو خطے میں سلفی وہابی دھشت گردوں کے خلاف ملکر لڑنے اور سٹریٹجی بنانے کی دعوت دی اور بشار الاسد کے قریب ایک شامی نژاد امریکی تاجر محجوب کا حوالہ بھی دیا جس نے امریکیوں کو کہا تھا

دھشت گردی کا عفریت سلفی وہابی ازم سے جنم لیا ہے اور اس عفریت کا مقابلہ کسی بھی آئیڈیالوجی سے نہیں ہوسکتا سوائے صوفی ازم سے اور یہ تصوف ہے جو بڑے سے بڑے وحشی کے اندر انسانیت پیدا کرسکتا ہے
میں شامی اسپیکر کی بات سے اتفاق کرتا ہوں اگرچہ شامی سپیکر نے اس موقعہ پر خود اپنی حکومت کا احتسابی جائزہ لینے کی کہیں بھی کوشش نہیں کی ہے

یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت سلفی وہابی دھشت گردوں کی خون آشامی اور ان کی جانب سے شام میں اصحاب رسول ، اہل بیت اطہار ، انبیائے کرام اور اولیائے کرام کے مزارات پر حملوں اور سنّی صوفی آبادی کو نشانہ بنانے کی وجہ سے صوفی سنّیوں کی اکثریت شامی افواج ، حزب اللہ اور ایرانی سپاہ کے سات شانہ بشانہ لڑ رہی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ شامی حزب اختلاف میں سب ہی سلفی وہابی ازم کے حامی نہیں ہیں اور سنّی نوجوانوں کی جانب سے آزاد شامی فوج میں شمولیت کی وجہ بشار الاسد کی سخت گیر ، آمرانہ ، آزادی دشمن پالیسیاں تھیں جس سے اندرونی خلفشار بڑھ گیا اور سلفی وہابی ازم کے دھشت گردوں کو شام میں گھسنے کا موقعہ مل گیا

بشار الاسد کو بھی چاہئیے کہ وہ شامی اپوزیشن کے اعتدال پسند حلقوں کے ساتھ ملکر شامی بحران کا کوئی حل نکالے اور شامی اپوزیشن کے لوگ بھی منفی اسد ایجنڈے پر اصرار بند کردیں اور ان کو سعودی عرب کے ہاتھ میں کھیلنے سے گریز کرنا چاہئيے

اصل میں اس وقت سلفی وہابی ازم نے پورے مڈل ایسٹ ، نارتھ افریقہ ، مشرق بعید ، جنوبی ایشیا میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ان خطّوں میں پھیلے صوفی اسلام کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے جو ان خطوں میں تیزی سے اسلام کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا زریعہ رہا ہے

مڈل ایسٹ میں سنّی ہوں کہ شیعہ ، عیسائی ہوں کہ یہودی اور یہاں تک کہ پارسی ، بہائی ، یزدی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہوں ان کے ہاں تصوف اور سریت کے ساتھ رشتہ تعلق بہت مضبوط ہے اور یہ تصوف اور صوفی کلچر ہے جو مڈل ایسٹ ، نارتھ افریقہ ،جنوبی ایشیا ، وسط ایشیا کے اندر نہ صرف مذھبی تنوع کی بقاء کا سبب بنا بلکہ اس نے مختلف مذاہب و مسالک کے لوگوں کے درمیان امن وآشتی کی فضاء قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا
تصوف کا یہی امن وآشتی اور ثقافتی تنوع اور شناختوں کی تکثیر پر اصرار وہابی دیوبندی ازم سے نکلنے والی تکفیریت کی ضد اور اینٹی تھیسس ہے اسی لئے داعش ہو القائدہ ، النصرہ ہو کہ تحریک طالبان یا پھر افریقہ کی الشباب ہو یا الجزائر کی باکو حرام ہو سب تصوف اور صوفی ازم کے ماننے والوں کو دفن کرنے کے درپے ہورہے ہیں
امریکہ کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئیے ایک تو یہ کہ اس نے سعودی عرب اور گلف ریاستوں کی جانب سے سلفی وہابی ازم کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کے پالیسی کوٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا ہوا اور دوسرا وہ شام کے معاملے میں ابھی تک شام میں ” اعتدال پسند شامی حزب اختلاف ” کو اقتدار میں لانے کا جو منصوبہ بنائے ہوئے ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ وہ شام میں شامی اپوزیشن میں اسلحہ اور پیسے بانٹ کر بشار کو اقتدار سے الگ کرسکتا ہے تو یہ ایک یوٹوپیا ہے

امریکہ تو داعش و جبہۃ النصرہ کے حوالے سے پھر کچھ دانائی کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن جو برطانیہ و بلجیئم وغیرہ ہیں وہ ابھی تک عراق مين داعش کے خلاف کاروائی پر راضی ہیں لیکن وہ شام میں ابھی بھی کاروائی میں حصّہ لینے کو تیار نہیں ہیں

اس وقت صرف مڈل ایسٹ ، شمالی افریقہ ، جنوبی ایشیا ، مشرق بعید کے اندر ہی صوفی سنّی ، عیسائی ، ہندؤ ، بدھسٹ ، شیعہ ، احمدی ، یہودی ، بہائی سلفی وہابی -دیوبندی دھشت گردی کے نشانے پر نہیں ہیں بلکہ داعش نے تو یورپ ، امریکہ ، لاطینی امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ملکوں ميں بھی اپنے سیل بنالئے ہیں اور اس وقت پورا مغربی معاشرہ اور اس کا ثقافتی تنوع ، مذھبی ہم آہنگی داؤ پر لگ گئی ہے اور مغرب میں بھی صوفی سنّی ، شیعہ ، احمدی ، ہندؤ ، عیسائی ان مصائب کا سامنا کرسکتے ہیں جن کا سامنا آج مسلم ممالک کے اندر درپیش ہے
سلفی وہابی ںطریات کے بطن سے جس دھشت گردی کا ظہور ہوا اس نے آج خود داعش کی شکل میں آل سعود کے پاؤں سے زمین سرکانے کی کوشش شروع کی ہوئی ہے

سعودی عرب ، قطر سمیت عرب کی وہابی بادشاہتوں کو وہ درس جو وہ شام اور ایران کو عوام کی آزادیوں کے حوالے سے دیتے ہیں خود اپنے اوپر بی لاگو کرنا چاہئیے اور سعودی عرب کو اپنے مشرقی صوبے میں جبکہ بحرین کے بادشاہ کو اپنی اکثریتی عوام کو شرکت اقتدار کا احساس دلانا چاہئیے

اگر سعودی عرب اپنے ملک میں صوفی سنّی اور شیعہ برادریوں کو ان کے عقائد و خیال کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی دے اور ریاستی سطح پر ان سے امتیازی سلوک ختم کیا جائے اور وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ کو اینٹی صوفی سنّی و اینٹی شیعہ ڈاکٹرائن پھیلانے سے روک لے تو مڈل ایسٹ میں داعش ، القائدہ جیسے خارجیوں سے نجات زیادہ مشکل نہیں ہوگی

http://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/assads-letter-to-the-us-how-syria-is-luring-president-obama-into-its-web-9737292.html

http://www.dawn.com/news/1134473/islamic-state-brand-gains-ground-among-asian-militants

http://www.nytimes.com/2014/09/27/world/europe/british-parliament-vote-isis-airstrikes.html?hp&action=click&pgtype=Homepage&version=LedeSum&module=first-column-region&region=top-news&WT.nav=top-news

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

وہابی ازم کی تاریخ کا ارتقائی سفر 

About the author

Khalid Noorani

1 Comment

Click here to post a comment
  • War on ISIS: Robert Fisk’s column on Syrian Parliament’s Speaker’s letter to the US Senate and Congress:
    The letter from the Speaker of the Syrian parliament, Mohamed Jihad al-Laham, asserts that the “moderate” Syrian opposition which the US has promised to aid and train is identical to the jihadi groups supporting Isis or Isil. What was called the “moderate opposition”, Mr Assad’s parliamentary Speaker writes, “sold to Isil the innocent, beheaded US journalist. There is nothing to prevent those groups from selling US weapons to Isil as … is their proven common practice.” Arming “non-state Islamic jihadi individuals”, the letter goes on, “is a clear violation of [UN] Security Council Resolution 2170 … that any co-operation to combat terrorism should be among the member states”.
    Re-emphasising the inherent violent and intolerant nature of the Saudi regime, the Syrian letter says all “terrorists” are the product of “this Salafi, Wahhabi (Deobandi), jihadi ideology – from 9/11, to [the] Boston bombing, to the beheading of the two American journalists – beheading, which is a governmental legal practice in Saudi Arabia”. Mr Obama should not form any coalition outside UN Resolution 2170, “especially with states that have a conflict of interest due to their practised ideology.”
    The letter may have been influenced by Khaled Mahjoub, a US citizen and Syrian businessman who is also a personal confidant of Bashar al-Assad, for it repeats Mr Mahjoub’s oft-quoted observation that only re-education of “terrorists’” families and communities through “loving Sufism” can rehabilitate those who use violence. Sufism, with its mystical poetry and its desire to find divine love, is regarded by many Syrians as the very opposite of “jihadism”; Sufi missionaries spread Islam into Africa and central Asia as well as India.
    All of which is a far cry from the titanic civil war in Syria where “moderate” schools of Sufism take third place to military hardware and the Russian-Iranian alliance in the regime’s battle against Isis. In truth, Western intelligence agents have for many months now been in contact with their Syrian opposite numbers to secure the kind of collaboration in secret which the regime is now offering in public – though without, it has to be said, much success.
    http://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/assads-letter-to-the-us-how-syria-is-luring-president-obama-into-its-web-9737292.html