Newspaper Articles Urdu Articles

احتجاج اور دھرنے نئی سیاسی ساخت – شبانہ یوسف

289840-ShabanaYousafPhotoFileNEW-1411320997-307-640x480

فرق صرف اتنا ہے کہ سیاسی ’جوہر‘ پہلے کی روایتی الیکشن کی ساخت کے علاوہ نئی ساختوں کو اپنا مسکن بنا چکا ہے جو نام نہاد ’’بعد از مادیتی اقدار‘‘ کے مغربی معاشروں میں سیاسی سرگرمیوں میں نوجوان طبقے کی شمولیت کا باعث بن رہا ہے ۔لہٰذا روایتی الیکشن کی ساخت کی توسیع ہونے کے بعد سیاسی عمل میں لوگ مختلف طریقوں سے شریک ہو رہے ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان میں  سیاسی طبقہ ایک راگ مسلسل الاپے جا رہا ہے کہ دھرنے اور احتجاج غیر جمہوری عمل ہے، پاکستان اور اسی طرح کے ترقی پذیر معاشروں میں ابھی احتجاج اور انحراف کی روایتی ساختیں غیر متعلقہ نہیں ہوئیں کیونکہ ہمارا سماج، عوام اور خصوصاً حکمران طبقات کی سوچ کی ساخت اس سطح پر ٹرانسفارم نہیں ہوئی جہاں وہ مہذب طریقے سے عوام کے حقوق ان کو بخش دیں یا گورنمنٹ خود اپنی پالیسیوں اور قوانین کے ذریعے عمل درآمد کرا کر لوگوں کو جینے کے لیے بنیادی سہولت ہی فراہم کردے۔

لہٰذا احتجاج یا انحراف یا عوامی پرتشدد مظاہروں میں پولیس پر پتھرائو کرنے کا عمل بھی جمہوری سیاسی عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے عوام اپنی طاقت کا کسی نہ کسی ساخت اور سطح پر اظہار کرکے اپنے من پسند فیصلہ چاہتے ہیں یا اپنے حقوق کا حصول چاہتے ہیں۔ لہٰذا طاقت کی ساخت اپنے حقوق کے حصول کے لیے ضروری ہے، یا دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ سیاست کا عمل طاقت کے اظہار کی ساخت ہے، کسی کمزور کے حقوق پر قبضہ کرنے کے لیے یا کسی کے حقوق کے حصول کے لیے۔ اس لیے یہ پرامن احتجاجی دھرنے ایک طرف تو سیاسی عمل میں شمولیت کی نئی ساخت اس لیے ہیں کہ یہ ماضی کی طرح عوامی تشدد کا مظہر نہیں بلکہ گورنمنٹ کے تشدد کا مظہر ہیں، دوسری طرف اپنے حقوق کے حصول کے لیے عوامی طاقت کا مظہر ہیں، جو کسی بھی طرح سے غیر جمہوری اور غیر سیاسی نہیں ہیں۔

عالمی سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ریفرنڈم بھی من پسند فیصلوں کو عوام سے منوانے کا ایک مہذب طریقہ ہے جس میں ہاں یا ناں کی دو ہی ساختیں ہوتی ہیں اور ہاں یا ناں کے ذریعے ایک فیصلہ عوام کی مرضی کے نام پر کرلینے کے بعد بہت سی ایسی ذیلی ساختوں کی تشکیل کی جاتی ہے جو پھر انھی بدعنوان سیاست دانوں کے مفادات کی ضمانت ہوتی ہیں۔  لہٰذا اس احتجاج کے ابتدائی دنوں ہی میں اس قسم کا ریفرنڈم کرائے جانے کی تجویز پر غور کیا جانے لگا تھا اور مختلف اخبارات کے لکھنے والوں کو بھی اس حوالے سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرکے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کی حکومت کو اپنا پانچ سالہ دور پورا کرنا چاہیے یا نہیں؟ اور کیا یہ بات مناسب ہے کہ دھرنے کے ذریعے کسی منتخب حکومت کی بساط کو لپیٹ دیا جائے؟ اور جواب ریفرنڈم کی صورت ہاں یا ناں میں چاہا۔

ہاں یا ناں کے الفاظ بظاہر سیدھے سادھے مگر پیچیدہ سوالات کا جواب نہیں ہوسکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی مظہر ہمارے بہت سے روایتی سیاسی ماہرین کی سمجھ سے بالاتر ہوتا جا رہا ہے اور روایتی سیاسی چالوں کے ذریعے اس کا خاتمہ مشکل تر ہو رہا ہے، کیونکہ تحریک انصاف اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے سول سوسائٹی کے سیاسی و سماجی شعور کی ترقی کا عکس پیش کررہے ہیں۔ ان میں شامل ایک وہ طبقہ ہے جو مذہبی خیالیات کے زیر اثر پروان چڑھا ہے اور ہمارے ملک میں سیاسی و سماجی ساختوں کی نمو میں مذہبی ساختوں کا واضح غلبہ اور کردار رہا ہے۔

دوسری طرف عمران خان کے ساتھ وہ لوگ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں جو روشن خیال طبقات کی نمایندگی کر رہے ہیں۔ اس طرح سے پاکستان کے عوام کا ایک بڑا حصہ جسے ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرکے ماضی میںکرپٹ سیاسی کھلاڑی اپنے مفادات کا حصول ممکن بناتے تھے، موجودہ احتجاج میں اپنے اپنے حقوق کے حصول کے لیے مشترک نہ ہوتے ہوئے بھی مشترک ہوگئے ہیں، ان کو اپنے حقوق کے مقصد کی ڈور نے کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف باندھ رکھا ہے۔

اس میں ایک اہم اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ علامہ طاہر القادری نے عوامی حقوق کا نعرہ ہی لگائے رکھا ہے اور کسی موقع پر ایسے الفاظ اپنی زبان سے ادا نہیں کیے جن کو بنیاد بنا کر بدعنوان سیاست دان یا دوسرے مفاد پرست طبقات عوام کو مذہبی فرقہ پرستی کا آئیڈیا استعمال کرتے ہوئے تقسیم کرسکیں۔ تیسری طرف روایتی سیاسی کھلاڑی اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے ہر طرح کا حربہ آزما لینے کے بعد عوامی سوچ اور رائے کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے مختلف ذرایع کو استعمال کر رہے ہیں جس میں بنیادی ذریعہ مذاکرات کے علاوہ تحاریر اور ریفرنڈم کی پیشکش بھی ہیں۔

انھی کوششوں کے نتیجے میں ان دھرنوں کے آغاز ہی سے اخبارات میں لکھنے والوں تک مختلف طریقوں سے رسائی حاصل کی جانے لگی تھی۔ اس رسائی کا نتیجہ ہے یا کوئی اور وجہ ہے، مگر بہت سی تحاریر بالواسطہ استحصالی طبقات کی خواہشات کا عکس پیش کر رہی ہیں۔ اسی لیے دو واضح سوچ کے حامل گروہ سامنے آچکے ہیں، ایک وہ جو تبدیلی کے لیے عملی جدوجہد ضروری سمجھتے ہیں اور ایک وہ جو مفاہمت کے دائرے میں رہتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ مفاہمت کے طریقہ کار نے ابھی تک ہماری سیاست کے بوسیدہ نظام میں کوئی واضح تبدیلی ایسی نہیں آنے دی کہ جس کے نتیجے میں عوامی فلاح کا کوئی پہلو نکلا ہو۔

آج تک ہونے والی سیاسی مفاہمت اور پارلیمان میں طے پانے والی آئینی و قانونی اصلاحات وہی ہیں جن کے نتیجے میں ہمارے سیاستدان خود کسی نہ کسی سطح پر مستفید ہوتے آئے ہیں۔ جب تک وہ بنیادی ساختیں تبدیل نہیں ہوں گی جو کرپشن اور سیاسی بددیانتی کی باآسانی پرورش کرتی رہتی ہیں تب تک کسی قسم کی تبدیلی کا خواب صرف خواب ہی ہوگا۔ تبدیلی کا عمل بہت پیچیدہ ہوتا ہے اور کبھی بھی توڑ پھوڑ کے بنا ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا ہماری سیاسی ساختوں کی جو تشکیل برسرِ اقتدار طبقات نے اپنے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جمہوریت اور قانون کے نام پر گزشتہ 63 برس قبل کی تھی ان میں عوامی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تبدیلی کسی بھی طریقے سے لانے کی کوشش کی جائے گی تو ان کا اپنا انہدام ہونا ناگزیر ہوگا، کیونکہ جب مظلوم کے حق کی بات ہوگی تو ظالم کے لیے نقصان ہونا ضروری ہوگا۔

اسی طرح جب عوامی مفادات کی بات ہوگی تو اس کا حکمران طبقات کے مفادات سے ٹکرائو لازمی نتیجہ ہوگا۔ ہر سسٹم اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کھڑا ہوا جائے اور جو کچھ پاکستان کا سیاسی نظام ابھی تک عوام کے لیے کرسکا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ لوگ آج  اس سسٹم کے خلاف کھڑے ہیں۔ جس نے انھیں بھوک، افلاس  اور موت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ قانون اور نظام تھیوری کی سطح پر تو موجود ہے مگر عملاً پاکستان کے اندر کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

آج آئین اور ریاستی تقدس کی بات کرنے والا طبقہ درحقیقت روایتی سیاست کی کرپٹ ساختوں کو اس لیے توڑتے ہوئے گھبراتا ہے یا ان کے ٹوٹ جانے سے خوفزدہ ہے کہ یہ طبقہ کسی نہ کسی حوالے سے ان بددیانتی کی ساختوں کا خود بھی حصہ ہے، ان سے خود مستفید ہورہا ہے اس لیے ان ریاستی کرپٹ ساختوں کا خاتمہ درحقیقت اسی طبقے کے مفادات کا خاتمہ ہے، ایسا طبقہ کرپٹ ساختوں کا براہ راست حصہ نہیں ہوتا بلکہ بالواسطہ ان سے مستفید ہورہا ہوتا ہے جو سیاست دانوں یا بیورو کریسی کو اپنے ناجائز کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سفارش یا رشوت کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔

دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو بنیادی طور پر انصاف پسند یا بے انصافی کے ہاتھوں سے تنگ ہوکر اس احتجاج کا کسی نہ کسی طور حصہ بنا ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری کے مشترک احتجاج کا فائدہ ہر صورت میں عوام کا ہی فائدہ ہے، اس احتجاج کا نتیجہ جو بھی نکلے مگر سیاست کی روایتی کرپٹ ساختوں پر بری طرح سے اثرا انداز ہو رہا ہے جو مستقبل میں نئی ساختوں کی تشکیل میں معاون ہوگا۔

Source:

http://www.express.pk/story/289840/#.VB-8hxOt7sA.facebook