Featured Original Articles Urdu Articles

نئےانتظامی یونٹس، پاکستان کے قومی سوال، عمران خان کا کراچی جلسہ اور ایم کیو ایم کی بوکھلاہٹ – عامر حسینی

ik

جب سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو کراچی میں جلسے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں وہ تبدیلی کے سفر کا دوسرا مرحلہ کراچی سے شروع کریں گے اس وقت سے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد سمیت سارے رہنماء عجیب قسم کے ہیجان میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اپنی تنظیم کے اندر کی کمزوریوں اور اختلافات کو چهپانے اور کراچی میں اردو بولنے والی اپر مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کی سوچ اور خیالات میں بڑهتے ہوئے فرق سے پیدا ہونے والے انتشار اور کراچی میں دوسری اقوام کی مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے اندر عمران خان کی مقبولیت میں اضافے نے ان کو بوکهلا دیا ہے اور ایم کیو ایم اس دباو سے زوال سے بچنے کے لئے ایک مرتبہ پهر سنده کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم اور شہری سنده میں اردو بولنے والی مہاجر آبادی کی سیاست کے کارڈ کو پهر سے کهیلنے کی کوشش میں سرگرداں ہے

ایم کیو ایم کے رہنماء حیدر عباس رضوی نے آج نائن زیرو پر جو پریس کانفرنس کی وہ میرے خیال میں نظریاتی دیوالیہ پن اور فکر کے بنجر پن اور انتہائی چالاکی سے جهوٹ بولنے کی مثال قائم کرنے والی ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس سے زرا دیر پہلےملتان میں سید یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر پی پی پی کے چئیرمین بلاول بهٹو زرداری نےبهی کارکنوں سے خطاب کیا اور کہا کہ گهنسو ، گهنسو جنوبی پنجاب گهنسو

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری ہرڈویژن کو صوبے میں بدلنے کی بات کررہے ہیں اور مسلم لیگ نواز بهی اپنے منشور میں سرائیکی و بہاولپور صوبے کی شق رکهے پهرتی ہے

اس اجمال سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں اردو اور پنجابی بولنے والی حکمران پرتوں اور مڈل کلاس کی نمائیندگی کرنے والی سرمایہ دار اور مڈل کلاس کی پارٹیاں پاکستان کی ریاست کے بارے میں یہ خیال رکهتی ہیں کہ وہ شاید واضح جغرافیائی ، زبان ، ثقافت اور علاقے اور نفسیاتی اعتبار سے کثیر القومی ریاست نہیں ہے اور اس ریاست کی نئی تقسیم نو اس کی قومی ، ثقافتی وحدتوں کے جغرافیے کو نظر انداز کرکے کی جاسکتی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی جس کے اندر میں بخوبی جانتا ہوں کہ اس کے سرائیکی ، پنجابی ، سندهی ، پشتون ، بلوچ ، گلگتی بلتی رہنماوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کو پاکستان کی اقوام کے مقدمات اور یہاں پائے جانے والے قومی سوالوں کے بارے میب بخوبی علم ہے لیکن وہ اس معاملے میں سنده کا مقدمہ تو مراد سندهی کے نعرے کے مطابق لڑتے ہیں لیکن جب اس ملک کے سرائیکی قوم کی بات آتی ہے تو وہ اسے کبهی جنوبی پنجاب اور کبهی اسے بہاول پور و ملتان صوبے کی بات کرنے لگتے ہیں اور انتظامی ، انتظامی کی رٹ لگانے لگتے ہیں

میں سمجهتا ہوں جو اردو اور پنجابی بولنے والوں کی سیاسی نمائیندگی کرتے ہیں اور نعرہ پاکستانیت کا لگاتے ہیں اور قوموں کی شناخت اور ان کے جغرافیائی وحدت کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں وہ اردو و پنجابی بولنے والے لوگوں کے راہ میں کانٹے بچهارہے ہیں اور حقائق کو مسخ کررہے ہیں

ایم کیو ایم کے سربراہ نے ترکی کی مثال دی ہے تو وہاں آج بهی کرد اور آرمینی اکثریتی آبادی کے خطے میں لوگ اپنی الگ شناخت اور وجود کے لئے لڑ رہے ہیں اور ترکوں نے جبر کا ہر حربہ اپناکر دیکه لیا ہے لیکن کردوں کا جذبہ قومیت سرد نہیں پڑا ، ایران میں بلوچ آج بهی اپنے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں

ویسٹ منسٹر جمہوریت یعنی برطانیہ میں کسی کو اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ سکاٹس ، آئرش ، ویلش وغیرہ کی لسانی ، جغرافیائی ثقافتی وحدت کو پارہ پارہ کردے

مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا حیدر عباس رضوی یا مسلم لیگ ، تحریک انصاف کے پنجابی یا اردو بولنے والی پیٹی بورژوا قیادت دکهاکر پیش کرتی ہے اور پاکستانی ریاست میں ابهی تک وفاق کی موجودہ شکل ایک تو نامکمل ہے کہ اس میں سرائیکیوں کو اب تک شناخت نہیں ملی اور دوسرا اس وفاق کا ایک یونٹ بلوچستان کی اکثریت اسلام آباد کے ساته رہنے پر آمادہ نظر نہیں آتی ہے اور بلوچ قوم کی آرزوں اور خواہشوں کو فوجی آپریشنوں کے زریعے دبایا جارہا ہے اور جبکہ اب وہاں یہ بہت ضروری ہے کہ بلوچ عوام سے ایک ریفرنڈم کے زریعے پوچها جائے کہ وہ اسلام آباد کے ساته رہنا چاہتے ہیں یا نہیں

جہاں تک اختیارات کی تقسیم کا موجودہ سرمایہ دارانہ نظام جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے سوال ہے تو اس کے لئے کسی قوم کی جغرافیائی وحدت اور اس کی شناخت کو ختم کرنے کی بجائے اور انتظامی تقسیم صوبے کی شکل میں کرنے کی بجائے صوبے اپنے اختیارات ریجن ، ڈویژن ،اضلاع ، سب ڈویژن اور اس سے نیچے یونین کونسل تک کرکے اختیار اور طاقت کو نچلی سطح تک بہت آسانی سے منتقل کرسکتے ہیں جوکہ کوئی راکٹ سائنس تو ہے نہیں

لیکن سارا جهگڑا اسی طاقت، بے پناہ اختیارات اور دولت کے ارتکاز کا ہے جس سے پاکستان میں سٹیٹس کو کی حامی قوتیں اور طبقہ اشراف کسی صورت دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہے