Featured Original Articles Urdu Articles

دیوبندی تکفیریوں کی ناپاک جسارت: رسول الله کے والدین اور چچا ابو طالب پر کفر کے فتوے لگا دیے – خالد نورانی

deob

اہلسنت کے لبادے میں چھپے ہوۓ دیوبندی حضرات کے اندر ایسےتکفیری عناصر ہمیشہ سے موجود رہے ہیں جن کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیک یارسول اللہ و فداک ابی و امی یارسول اللہ کے آباؤاجداد ، بنو ہاشم اور اہل بیت اطہار کے بارے میں تاریخ کو مسخ کرکے پیش کریں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد محترم ، آپ کی والدہ ماجدہ ، آپ کے دادا اور دادی اور اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے والد محترم، آپ کی والدہ محترمہ کے بارے میں کسی نہ کسی طرح سے یہ ثابت کردیں کہ وہ مشرک ، کافر تھے اور پھر یہ دکھایا جائے کہ کیسے دوسرے اصحاب رسول رضوان اللہ اجمعین کے والدین اسلام کی دولت سے فیض یاب ہوئے اور کیسے یزید کا والد، والدہ ، دادا، دادی کو اسلام کی دولت نصیب ہوئی اور اس طرح سے ان کا مقصد رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانوادے پر خاندان ابی سفیان کی فضیلت و سبقت ثابت کرنا ہوتی ہے

دیوبندی مسلک میں خانوادہ اہل بیت اطہار کے بارے میں اس طرح کے بغض اور عداوت کا اظہار تاریخ میں وقفوں وقفوں سےکئی بار کئی حضرات کی جانب سے ہوتا رہا اور اس حوالے سے علمائے اہل سنت کی رائے یہ ہے کہ دیوبندی مولویوں نے اگرچہ اس طرح کی تفریط پر مبنی حرکتوں سے اپنے آپ کو بری الذمہ تو قرار دیا لیکن انھوں نے ان حرکات کے مرتکبین کو اپنی صفوں سے خارج بھی نہیں کیا

کچھ سال قبل دیوبند کے سب سے قدیم اور مستند ادارے دار العلوم دیوبند کے دار الافتا کی جانب سے ایک تکفیری فتویٰ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ابو طالب کا حالت کفر پر مرنا صحیح حدیث سے ثابت ہے، اسی طرح فتح مکہ کے وقت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا ثابت ہے اور وہ ہمارے نزدیک محترم ہیں

abu talib

http://darulifta-deoband.org/showuserview.do?function=answerView&all=ur&id=2522

 

یاد رہے کہ اسی دار العلوم دیوبند کے دار الافتا کی جانب سے سے یزید کو امیر المومنین کہنے اور رحمت الله علیہ لکھنے کی اجازت دی گئی ہے

yazid 1

yazid 2

http://darulifta-deoband.org/showuserview.do?function=answerView&all=en&id=6134
http://darulifta-deoband.org/showuserview.do?function=answerView&all=ur&id=2257

تکفیری دہشت گردی، شان اہل بیت اطہار میں تنقیص کرنے، بنو ہاشم کی کردار کشی کرنے اور اکابر بنو ہاشم کے کفر و شرک کے جھوٹے افسانے گھڑے جانے کا سلسلہ بنو امیہ کے دور سے ہی شروع ہوگیا تھا اور دیوبند سے تعلق رکھنے والے مولوی غلام اللہ چکڑالوی جس کا مدرسہ جامعہ تعلیمات قرآن راولپنڈی ہے نے اس سلسلہ میں غیرمعمولی شہرت حاصل کی اور اس کے خیالات کو اگرچہ علمائے دیوبند نے اس کے ذاتی نظریات قرار دیا لیکن اسے کبھی اپنی صف سے خارج نہیں کیا، اسی طرح سے اس کے شاگردوں میں پروفیسر محمود عباسی ، علامہ تمنّا ‏عمادی سمیت درجنوں دیوبندی شامل ہوگئے

پروفیسر محمود عباسی نے 1969ء میں ” وقائع زندگانی ام ھانی ” نامی ایک کتاب لکھی اور اس کتاب میں اس نے جناب حضرت عبدالمطلب، حضرت ابو طالب، فاطمۃ بنت اسد والدہ حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں سوئے ادبی کی اور ان کو کافر و مشرک ثابت کرنے کے لیے زور لگادیا

جنرل ضیاء الحق کی دیوبندی نواز فوجی آمریت کے دور میں ابو معاویہ نامی ایک شخص نے “سید نا یزید” نامی کتاب لکھی ، وہابی مولوی احسان الہی ظہیر نے عربی زبان میں ایک کتاب ” البریلویہ ” تحریر کی جس میں اہلسنت مسلمانوں جن میں سنی، بریلوی اور صوفی شامل ہیں کو مشرک، بدعتی اور کافر کہا گیا اور رسول الله کے آبا و اجداد اور ان کے اہلبیت کی شان میں گستاخی کی گئی

یہ وہی دور ہے جب 6 ستمبر 1985ء کو ایک دیوبندی مولوی حق نواز جھنگوی جس نے اہل سنت کے معروف عالم دین مولانا اشرف علی سیالوی کے ہاتھوں ایک مناظرے میں بدترین شکست کھائی تھی ایک خارجی ، تکفیری ، انتہا پسند وہابی خیالات پر مبنی جماعت کی بنیاد رکھی جس کا نام انجمن سپاہ صحابہ رکھا گیا انجمن سپاہ صحابہ پھر سپاہ صحابہ پاکستان بنی ، پھر ملت اسلامیہ ہوئی اور آج کل یہ اہلسنت والجماعت کہلاتی ہے، یہی جماعت لشکر جھنگوی کے لبادے میں معصوم سنی صوفی، بریلوی، شیعہ، مسیحی اور احمدی پاکستانیوں کا قتل کرتی ہے – اس تکفیری دیوبندی تنظیم کا مقصد جہاں پورے ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا ہے ، وہیں اس تنظیم کے سامنے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی محبت کی آڑ میں بغض علی و آل محمد کا مظاہرہ کرنا بھی ہے

اس تنظیم نے بقول قاضی مظہر حسین دیوبندی، دیوبندی مدارس کے طلباء ، اساتذہ ، عام دیوبندی خیالات کے حامل مرد و عورتوں میں صحابہ کرام کا نام غلط استعمال کرتے ہوئے اسلام دشمن خیالات کو فروغ دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور دیوبندیوں میں کوئی عالم ایسا نہیں ہے جو ان کی شرانگیزی کے راستے میں روکاوٹ کھڑی کرے
یہ تنظیم دیوبندی مکتبہ فکر میں فتنہ خوارج و تکفیر کو از سرنو زندگی بخشنے اور پاکستانی سماج کو ریشہ ریشہ کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس کی وجہ سے دیوبندی گھرانوں کے ہزاروں بچے دھشت گرد بن گئے اور لاکھوں عام دیوبندی مسلمان، تکفیر اور دہشت گردی کے حامی ہو گئے

آج کل اس تکفیری و خارجی دیوبندی تنظیم سے وابستہ نام نہاد عالموں میں ایک وتیرہ پروان چڑھ چکا ہے اور وہ وتیرہ خاندان بنو ہاشم کو بنو امیہ کے خانوادے کے مقابلے میں کمتر دکھانے کا ہے اور اس سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاشمی اجداد اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے والد و والدہ محترمہ کے ایمان کی نفی ان کا طرہ امتیاز بن چکا ہے اور انکار کے دوران یہ کبھی بھول کر بھی ان سنّی علماء اور مشائخ کا زکر بھول کر بھی نہیں کرتے جو ایمان والدین کریمین اور ایمان ابی طالب و فاطمہ بنت اسد کے قائل تھے

علامہ صائم چشتی نے 80ء کے عشرے کے آخر میں جب دیوبندی اور وہابی مولویوں کے اندر اس ناصبی رجحان کے بہت زیادہ غالب ہونے کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ جب سے سپاہ صحابہ پاکستان بنی ہے تب سے دیوبندی تکفیریت جو دیوبندی مدرسوں کے اندرچند گمراہ مولویوں اور ان کے پیروکاروں تک محدود تھی وہ اب پاکستان کی گلیوں اور محلوں تک آگئی ہے اور اس تکفیریت کے پہلو میں بار بار کفر عبدالمطلب، ابی طالب، فاطمہ بنت اسد کا زکر ہوتا ہے تو انھوں نے بہت ہی محنت کرنے کے بعد ایک کتاب ”ایمان ابی طالب ” کے نام سے لکھی یہ کتاب صرف ایمان ابی طالب سے ہی معاملہ نہیں کرتی بلکہ اس میں حضرت عبدالمطلب و عبداللہ و آمنہ رضی اللہ عنھم کے ایمان کے ثبوت بھی پیش کئے گئے ہیں اس کتاب پر جید علماء و مشائخ اہل سنت نے تقاریظ لکھیں اور علامہ صائم چشتی کے نکتہ نظر کی تائید کی

علامہ صائم چشتی نے جب سپاہ صحابہ پاکستان (اب اسے سپاہ یزید لکھا جائے گا ) کے جھوٹے پروپیگںڈے اور جعلی بناوٹی باتوں کا پردہ چاک کیا اور فتنہ تکفیر کے علمبردار دیوبندی وہابیوں کو بے نقاب کرنا شروع کیا تو سپاہ یزید کے ترجمان رسالے نے صائم چشتی کو زبردستی رافضی شیعہ قرار دینے کی کوشش کی اور اس زمانے میں حق نواز جھنگوی ، ضیاء الرحمان فاروقی سمیت یزیدی صف کے لکھاریوں نے صائم چشتی کے دلائل کے جواب میں ان پر رافضی ہونے کا الزام عائد کردیا – دیوبندی وہابی خارجی و تکفیری قوتوں نے یہ پہلی مرتبہ نہیں کیا بلکہ ان کی جانب سے تو ہر اس آدمی کو رافضی کہنے کی کوشش ہوئی جس نے مدح اہل بیت اطہار کی اور حضرت علی کے والدین اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد کے ایمان کو ثابت کیا
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت کرنے، آپ کی مدد و نصرت کرنے میں سب سے آگے آپ کے عزیز از جان چچا حضرت ابی طالب رضی الله تعالی عنہ تھے جن کا نام تاریخ میں عمران اور عبد مناف آتا ہے- گستاخان رسول دیوبندیوں اور وہابیوں نے اپنی ناصبیت اور یزیدیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر حضرت ابو طالب کے ایمان کے بارے میں سب سے زیادہ شکوک و شبہات پھیلائے
صآئم چشتی نے لکھا ہے کہ برسہا برس کی تحقیق کے بعد مکّہ مکرمہ اور مدینۃ المنورہ کے علمائے کرام کو حضرت ابو طالب کے مومن ہونے بارے کوئی شک نہیں رہ گیا تھا چار سال کا عرصہ تحقیق کرکے مکّہ مکرمہ کے قاضی اور مسجد الحرام کے خطیب سید احمد بن زین دحلان مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے 1312ھ میں حضرت ابی طالب کے ایمان بارے شاندار کتاب تحریر فرمائی جس کا عنوان تھا اسنی المطالب فی نجات ابی طالب – جبکہ رسائل رضویہ کی جلد دوم میں اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا فاضل بریلوی نے صراحت کی ہے کہ مکہّ اور مدینۃ المنورہ سمیت سارے حجاز میں خطبات جمعہ و عیدین میں یہ جملہ بھی شامل تھا وارض عن اعمام نبیک الاطائب حمزۃ ، والعباس و ابی طالب – گویا علمائے حرمین کی اکثریت کو یہ یقین تھا کہ حضور اکرم کے چچا و مدد گار حضور اکرم کے آباء و اجداد اور آپ کے چچا ابی طالب و چچی فاطمہ بنت اسد با ایمان تھے اس معاملے پر علامہ نبھانی نے جواہر البحار ، علامہ سید الناس نے “عیون الاثر ” جیسی شاندار کتب تصنیف کیں

محمود عباسی سمیت سپاہ یزید کے لوگ حضور علیہ الصلوات والتسلیم کے دادا عبدالمطلب کو غلط طور پر نابینا، نحیف و نزار لکھا جب حضرت عبداللہ اور آپ کی والدہ ماجدہ کی وفات ہوگئی تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت زبیر بن عبدالمطلب نے کی اور جب وفات عبدالمطلب ہوئی تو بھی کفیل زبیر بن عبدالمطلب بنے نہ کہ حضرت ابی طالب بنے جبکہ یہ بھی جھوٹ لکھا گیا کہ علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی والدہ محترمہ نہ تو ہاشمی قبیلے سے تھیں ، نہ ہی انھوں نے ہجرت کی اور نہ ہی ایمان قبول کیا – سید دحلان زین مکّی اور دیگر علمائے اہل سنت نے اس جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے کئی ایک شواہد پیش کئے ہیں جن میں سے کچھ کا زکر میں برکت کے لیے کررہا ہوں

ولمّا مات عبدالمطلب اوصی بمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی ابی طالب فکفلہ و احسن تربیتہ ما سافر بہ صحبتہ الی الشام وھو شاب لما بعث قام فی نصرتہ و زب عنہ من عاداہ م مدحہ عدتہ مدائح منھما قولہ استسقی اہل مکتہ یسقی

یہ اقتباس الاصابہ فی تمیز الصحابہ کی جلد چار ص 175 مطبوعہ دارالکتب بیروت سے لیا گیا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت حضور علیہ الصلوات والتسلیم کی کفالت کا زمہ اپنے بیٹے عمران / عبد مناف المعروف ابو طالب کو دیا اور یہ ابو طالب تھے جو وفات عبدالمطلب کے بعد سقایہ کی خدمت پر مامور ہوئے تھے

اسی الاصابہ فی تمیز الصحابہ کی جلد چار صفحہ 375 مطبوعہ مصر پر حضرت علی ابن ابی طالب کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے بارے میں یوں درج ہے

فاطمۃ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف الہاشمیہ والدۃ علی و اخوتہ ،قیل انھا توفیت قبل الھجرۃ والصحیح انھا ھاجرت و ماتت بالمدینۃ و بہ جزم الشعبی قال اسلمت و ھاجرت و توفیت بالمدینۃ و اخرج ابن ابی عاصم من طریق عبداللہ بن محمد بن عمر بنن علی ابن ابی طالب عن ابیہ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفن فاطمۃ بنت اسد فی قمیصہ و قال لم نلق بعد ابی طالب ابر لی منھا و قال ابن سعد کانت امراۃ صالحتہ و کان النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یزورہا وتقبیل فی بیتھا

ان عبارتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایک تو فاطمہ بنت اسد والدہ ماجد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم مہاجر صحابیہ تھیں ، ہاشمی تھیں اور رسول کریم کے نزدیک ابو طالب کے بعد سے سے زیادہ شفیق ہستی ان کی تھی اور رسول کریم نے ان کو اپنی قمیص کا کفن دیا اور ایک روائت میں ہے کہ ان کی قبر میں خود لیٹ کردیکھا اور آپ اکثر ان کے گھر تشریف لیجاتے اور دوپہر کو وہاں آرام فرماتے تھے

جبکہ اگر تفاسیر علمائے اہل سنت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سورۃ والضحی کی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے اکثر علمائے تفسیر نے الم یجدک یتیما فاوی میں آپکے ماوی و ملجی بننے والی ہستی سے مراد ابو طالب لی ہے اور اس وقت آپ کی عمر مبارک آٹھ سال بتائی ہے

صائم چشتی کی کتاب پر تقریظ لکھنے والوں میں شیخ الاسلام پیر قمر الدین سیالوی، علامہ محمد اقبال احمد فاروقی، علامہ عطاء محمد بندیال، علامہ شبیر حسین ہاشمی، علامہ سعید احمد کاظمی اور صاحبزادہ افتخار الحسن شامل تھے

علامہ صائم چشتی نے لکھا کہ اسلام کی حفاظت کا جو کام جناب حضرت ابی طالب رضی الله عنہ نے شعب ابی طالب کے اندر محصور ہونے تک کیا اور اس سے کچھ دیر پہلے بنو ہاشم سے باب ملتزم پر جو حلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے دین کی حفاظت کا لیا اس کا احسان کبھی اتارا نہیں جاسکتا

مورخین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم منبر رسول پر تشریف فرما تھے کہ انھوں نے ایک بادل کا ٹکڑا آسمان پر دیکھا تو آپ مسکرا پڑے اور صحابہ کرام کے استفسار پر بتایا کہ ان کو ابی طالب یاد آگئے تھے اور وہ واقعہ یاد آیا جب مدینہ میں خشک سالی تھی اور ابی طالب نے آپ کو کعبہ کے سامنے کھلے آسمان تلے کھڑے ہوکر آپ کے چہرہ مبارک کا وسیلہ دیکر ابر رحمت کی دعا مانگی تھی اور مکّہ کی گلیاں ، بازار اور محلے بارش سے جل تھل ہوگئے تھے اور اس موقعہ پر حضرت ابو طالب نے ایک قصیدہ کہا اور پھر آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو وہ قصیدہ پڑھنے کو کہا ، آپ نے وہ پڑھا تو حضور اکرم اس قصیدہ کو سنکر اتنا مسکرائے کہ فرط مسرت سے آپ کی آنکھوں میں بے پناہ چمک آگئی اور آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے

بعد از وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہر دورمیں خاندان بنو ہاشم کے خلاف عداوت اور بغض کا مظاہرہ ہوتا رہا اور اس حوالے سے بنو امیہ کے حامیوں اور نمک حلالوں نے بنو ہاشم کے فضائل میں کمی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن علماء و مشائخ اہل سنت نے ایسی کوششوں اور فتنوں کو عشق مصطفی اور عقیدت اہل بیت اطہار کے زبردست اظہار کے زریعے سے ختم کرڈالا

آج سوشل میڈیا پر اور الیکٹرانک میڈیا پر پھر یہ فتنہ عداوات اہل بیت سراٹھارہا ہے اور اس موقعہ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فتنوں کا سدباب کیا جائے یہ فتنہ اس لیے بھی سوشل میڈیا پر سراٹھا رہا ہے اور لوگ گمراہ ہورہے ہیں کہ اس کو اٹھانے والے اپنے آپ کو سنّی ظاہر کرتے ہیں جبکہ ایسے لوگوں کا سنّیوں سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے، تکفیری دہشت گرد کا جو طوفان عام سنی اور شیعہ مسلمانوں اور مسیحیوں اور دیگرمذاھب کے ماننے والوں کے خلاف دیوبندی اور سلفی وہابی دہشت گردوں نے پاکستان، عراق، شام، لیبیا اور دیگر ممالک میں بپا کر رکھا ہے، اس تکفیر کی بنیاد دیوبندیوں اور وہابیوں کے یزیدی اور اموی آبا و اجداد نے رسول الله کے والدین، دادا، اور چچا کی تکفیر کر کے آج سے چودہ سو سال پہلے رکھ دی تھی

=======================================================

یہ دیکھیں! تکفیری دیوبندی صرف بریلوی یا شیعہ مسلمانوں پر ہی کفر کے فتوے نہیں لگاتے بلکہ یہ بیغیرت نبی مکرم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کے والدین ماجدین کو بھی کافر کہتے ہیں (نعوذباللہ من ذالک)۔

تکفیری دیوبندی مولوی مفتی محمود الحسن کہتا ہے کہ جمہور علماء کے نزدیک رسول ﷲ کے والدین کی موت کفر پر ہوئی۔

s1

s2

غور سے پڑھیں! یہ تکفیری مولوی المعروف مفتی محمود الحسن دیوبندی بولتا ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلی وسلم نے مبعوث برسالت ہونے کے بعد کئی بار خود کشی کا ارادہ کیا حالاں کہ خود کشی ایک گناہ کبیرہ ہے۔ کیا اس سے بڑی رسول ﷲ کی کوئی گستاخی ہو سکتی ہے ؟ اگر کوئی عیسائی یا یندو یہی بات کہ دے تو مسلمان اس کو قتل کر ڈالتے تو کیا خود مسلمانوں کا ایسا کہنا جائز ہے ؟

aa

About the author

SK

10 Comments

Click here to post a comment
  • i want to get book “کتاب ”ایمان ابی طالب ” by chisti sb. plz guide me from where i can get this one.

  • Dear, what ever u wrote, before writting it if we see inside ouself, that if we have such EMAAN that we talk about the matters u mentioned. All firqas of muslims are agreed upon saha e sitta, if u find any relevant issues from it, do mention it. But one thing about Abu Sufian RA, it is proved that he is companion of Prophet PBUH in Fateh Makkah. Other things, i dont want to comment, Allah knows better the things. We should correct ourselves, nd try to produce similiraties in mulsims rather than such things which bring muslims apart. Especially on social media, where majority of people are ignorent about the basic things of islam.

  • خالد نورانی جب تمہیں قبروں کے پوجا سے فرصت ملے تو اس بارے میں لکهنا تمارے نزدیک سات مرتبہ گهر سے لاہوت (حب بلوچستان) پیدل جانا ایک حج کے برابر هے اس سے بڑا کفر اور کیا هوتا هے علما دیوبند کے بارے میں تمهارے جیسے کم علم لوگوں کے لکھنے ان شان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا

  • Tumhary nazdèek Nabe SAW aur Allah k kaba’a k masaly per khara hony wala aur 18 sal roza e Rasool SAW per hadees ka dars dany wala kafir aur raza khan sing,Qadani gandu,.ko manany wala muslman.
    Khud apna ehtasab kar apna.

  • سب سے پہلے مقبول بلوچ تم جیسے جاہل آدمی کے لئے میرا جواب فقط یہی ہےکہ جاہلوں سے اعراض سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ تم نے زکری فرقہ سے صوفی اہلسنت کو ملایا ہے جبکہ صوفی اہلسنت کا مسلک ان سے بالکل مختلف ہے اور ہم قبور تو درکنار کسی بهی حادث کی عبادت کرنے کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بهی مخلوق میں الوهیت و عبودیت کی صفات مانتے ہیں
    ہمارے نزدیک صفات و زات باری تعالی ابدی ، ازلی ، قائم بالزات ہیں اور وہ کسی بهی حادث کی صفات نہیں ہوں سکتیں ، ہم توسل اورتقرب کے باب میں اور استمداد کے حوالے دین اللہ و رسولہ میں بہت سے شواہد ، آثار رکهتے ہیں اور اس حوالے سے عرب و عجم میں علمائے اہلسنت نے ہزاروں کتب تحریر کی ہیں
    ریاض القدیر صاحب
    صحاح ستہ کی تمام احادیث کے صیحیح الاسانید ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیگر کتب احادیث میں صیحیح اسانید پر مشتمل احادیث موجود نہیں ہیں اور کسی بجی عقیدے کے لیے محض حدیث کا صیحیح السند ہونا کافی نہیں ہوتا ، جب ایک ہی معاملے پر کئی ٹهیک سند اور طرق سے مختلف الرائے احادیث ، اقوال پائے جاتے ہیں تو پهر تطبیق ، درایت اور تفقہ سمیت کئی اور اصول سے مدد لی جاتی ہے
    ابو سفیان کے بارے میں کوئی کمپوزنگ کی غلطی لگتی ہے ، میرے کہنے کا مطلب ابو سفیان کے اسلام لانے کا انکار کرنا نہیں ہے بلکہ ان کوگوں کا رد مقصودہے جو ابو سفیان ، معاویہ سمیت کئی ایک مولفہ القلوب کا مقام و مرتبہ ان کے اصل کردار اور مقام سے بڑه کر پیش کرتے ہیں اور دیوبندی تکفیریوں میں تو ایسے بهی ہیں جو ان کو خانوادہ اہل بیت سے بڑه کر بتلانے کی کوشش کرتے ہیں
    میں نے صائم چشتی کی جس کتاب کا حوالہ دیا وہ دو جلدوں میں کتب خانہ چشتیہ فیصل آباد سے شایع ہوئی تهی اور ڈاکٹر طاہر القادری ، پیر کرم شاہ الازهری نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر ایمان والدین کریمین اور ایمان ابو طالب پر بہت تفصیل سے بات کی ہے
    میں شرح صدر کے ساته یہ بات کہتا ہوں کہ آج کل دیوبندی حضرات میں فضائل و برکات اہل بیت اطہار اور بزرگان بنو هاشم کے بیان میں تنگ نظری اور تعصب سے کام لیتے ہیں اور تفریط کا شکار ہیں جبکہ وہ بنو امیہ ، کے بارے میں اور ان اموی شخصیات کے بارے میں غلو و افراط سے کام لیتے ہیں جن کی دشمنی جناب علی المرتضی ، حسن و حسین رضی اللہ عنهم سے رہی ہے ، یہ شیوہ اہلسنت نہیں بلکہ شیوہ خوارج ہے

  • ye artical sarasar jhot aur man gharat baton per mabni hai
    dar asal LUBP ye shia brelvi ka mushtareka netwrk hy ye dono jo bhi chahte hain bakwas likhte jate hain
    kiunke ye forum inki apni milkiyyat hy mjge to afsos brelvi hazrat per hota hy jo jakar shia ki god mn beth gaye hain halanke shia aur brelvi ke aqeede mn zameen asman ka faraq hy lekin brelvi apni mukhalif jamaaton ki ta,assub mn jakar shia ki maeb jamaat ban gai hy
    sharam aani chahiye in brelvi hazrat ko jo shia ke sath ittehad krte hain per ye nhi sochte ke inke kalme,nimaz,roze,azan,aur baqi tamam arkan mn zameen o asmaan ka faraq hy lekin phir bhi shia sunni bhai bhai ka naara lag raha hy
    are brelviyo shia ka sab se muqaddas aqeeda hy ke ashab e rasool s a w ko galiyan do aur sawab kamao barlvi laanat hy teri ghairat per tu jakar shia ka dost bana hy
    ye shia kaala sanp hy isko jitna doodh pila per ek din tujhe bhi dass lega
    tera iske sath ittehad ghair fitri hy
    tera aqeeda milta hy iske sath aur na nazriya lekin phir bhi tu shia ka ghulam aur taabeadar ban gaya hai
    shia ka aqeeda start hi ashab e rasool ko galiyan dene se hota hy
    aur tu to ashab a kiram ko man,ne wala hy tujhe phir smjh q nhi aati hy
    tu inke peeche dumm hilane laga hy
    mjhe pata hy tu sirf deobandi ke khilaf shia ka sathi bana hy
    shia to waise hi gumrah aur bhatka hua awaara kutta hy are tujhe kiya hua tu iske sath chipak gaya hy .
    shia ka koi deen nhi hy ye kufur aur shirk ka pujari hy
    are brelvi jakar utube per shia ki taqreeren sun le tujhe pata chal jayega ke ye kitna ghleez aur behooda hy
    tu apna eiman iske peeche q kharab krta hy
    shia ke pas jo islam aur akabreen ki tareekh hy ye saari jhooti aur man gharat hy shia her saal ek nai tareekh laakr pesh kr deta hy logon ko gumrah krne keliye
    laanat isper aur iske man,ne wale per
    shia dunya ka ghaleez tareen aqeeda hai ye islam ka dushman aur mufad parast hai isko chahe yahoodi se mufad mile ya hindu se ye mufad lekar afghanistan ko America se tabah krwa deta hy ye apna mufad dekh kr iraq ka huliya bigaar deta hy ,ye apne aapko chamkane keliye Libya ko tehis nehis krwa deta hy ye shia shaam jaise tareekhi muluk ko khoon mn nehla deta hy ye shia Pakistan men takhrebkaari ko farogh deta hy ye shia pakistan ke khilaf india,iran aur israel ka sath deta hy ye shia na sirf islam ka dushman hy balke ye tamam mulim mumalik ka dushman hy is shia ne kitne khubsurat muslim mumalik ko angrezon ke hawale kr diya shia her muslim mulk mn baghawat kr ke osko tabah o barbad kr diya hy
    shia ne socha tha ke main in mumalik per hukumrani kronga per ye tareekh batayegi ke shia ke hath kuch bhi nhi aayega ye shia ek iran aur Pakistan bhi apne hathon se ganwa bethega
    kiunke ye buzdil aur beghairat hy
    isko na eimani ghairat hy aur akhlaqi
    kiunke ye shia mutte aur chakle ki paidawar hy jo apne bap ka nhi hy woh kaise dilair ho sakta hy
    shia begherat hy aur ta qiyamat begherat hi rahega iska ye alam chaklon per achha lagta hy is alam ko islam keliye use krta hai ye islam ka alam nhi ye begharti aur fahashi ka alam hy kiunke main ne iska ye alam senkaron chaklon per pharakta hua dekha hy lekin phir bhi isko ghairat nhi aati hy din ba din chaklon men taraqqi ho rahi hy aur iska ye alam unki zeenat ban raha hy
    ye shia apni ghaleez zuban se islam ka naam leta hy
    islam tauheed aur wahdaniyyat ka dars deta hy aur shia din raat shik o bidat ka parchaar krta hy
    ye shia ek mawaali peer ki pooja krta hy per ashab e rasool per kutte ki tarah bhaunkta hy
    laanti haraami doob marr begherat tera kiya eiman hy tu to mushrik aur qatil e ehl bait hy aur dikhawe keliye maatam krta hy
    jhoota hy tu jhoota hy rahega
    tujh per ta qiyamat laanat barasti rahegi
    ab mjh per mat bhaunkna kiunke tu kutta hy zarur bhaunkega per mjhe koi faraq nhi parega kutta bhaunkta rahega raahi apni manzil ko chalta rahega

  • دارالعلوم دیوبند کا فرقہ وارنہ انتہاپسندی اور دہشتگردی میں کردار – خرم زکی – See more at: https://lubp.net/archives/324302

    سنی نسل کشی: سنی صوفی اور بریلوی مسلمانوں کے خلاف دار العلوم دیوبند کے نفرت انگیز تکفیری فتاویٰ – See more at: https://lubp.net/archives/323640

    شیعہ مسلمانوں کے خلاف دار العلوم دیوبند کے نفرت انگیز تکفیری فتاویٰ – See more at: https://lubp.net/archives/324549

    Darul Uloom Deoband’s fatwa in support of Hazrat Yazid – by Abdur Rahim Kandhalvi – See more at: https://lubp.net/archives/231807

    دار العلوم دیوبند کی جانب سے سنی بریلوی اور شیعہ کے خلاف نفرت انگیز فتاویٰ : Deobandi fatwas against Sunni and Shia – See more at: https://lubp.net/archives/235373

    The footprints of Deobandi militant jihad in India and Pakistan – by Maloy Krishna Dhar – See more at: https://lubp.net/archives/307525

    دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے طالبان کے بارے میں بھارت کے دارالعلوم دیوبند کی گول مول پالیسی – خدیجہ عارف، بی بی سی اردو – See more at: https://lubp.net/archives/313238

    Deobandi Khawarij are enemies of Pakistan and Islam – by Zaid Hamid – See more at: https://lubp.net/archives/315520

    دیوبندی تکفیریوں کی ناپاک جسارت: رسول الله کے والدین اور عزیز از جان چچا ابو طالب پر کفر کے فتوے لگا دیے – خالد نورانی – See more at: https://lubp.net/archives/323291

    Sunni Sufi genocide: Database of Sunni killings in Pakistan by Deobandi terrorists – See more at: https://lubp.net/archives/323499

    Shia Genocide Database: A detailed account of Shia killings in Pakistan from 1963 to 30 Aug 2014 – See more at: https://lubp.net/archives/132675

    https://lubp.net/archives/tag/darul-uloom-deoband