Featured Original Articles Urdu Articles

انقلاب و آزادی مارچ اور پاکستانی لیفٹ – از عامر حسینی

Imran-Khan-and-Tahirul-Qadri

پاکستان میں بائیں بازو کے حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے اور مارچ کے بارے میں زور و شور سے بحث و مباحثہ جاری ہے اس بحث کا سب سے بنیادی مرکز ان دو دھرنوں کی حمائت اور مخالفت ہے اور پاکستانی لیفٹ کے بڑے بڑے نام سمیت بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو ان دو دھرنوں کی مخالفت کررہے ہیں اور اس میں ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو سرعام جاکر اس وقت پارلیمنٹ اور نواز شریف کے ساتھ جاکر کھڑے ہوگئے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو نواز شریف کے ساتھ کندھے ملاکر کھڑے تو نہیں ہوئے لیکن وہ سول سوسائٹی کی ان پرتوں کے اجتماعات اور سیمینارز اور احتجاجی کیمپوں میں کھڑے ہیں جو “جمہوریت کے تحفظ ” کے نام پر منعقد کئے جارہے ہیں ، جیسے فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا “آئین و جمہوریت بچاؤ ” کیمپ ہے


عوامی ورکرز پارٹی جوکہ اس وقپ پاکستان کے لبرل لیفٹ ، این جی او نائزڈ لیفٹ کی اکثریت پر مبنی ہے جبکہ اس میں ایسے بہت سے کارکن بھی موجود ہے جو ریڈیکل اور انقلابی چنگاریوں سے ابھی خالی نہیں ہوئے ہیں عوامی ورکرز پارٹی کے اس وقت جو صدر عابد حسین منٹو ، جنرل سیکرٹری فاروق طارق ہیں جو اس پارٹی کے اندر اپنے دو دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں بہت کھلے انداز میں اپنے بہت سارے ہمنواؤں کے ساتھ اس سارے عمل کو ملٹری اسٹبلشمنٹ کا لکھا سکرپٹ کہہ رہے ہیں اور وہ سرمایہ دار پارٹیوں جیسے پی پی پی ، ایے این پی ، ایم کیو ایم ، نیشنل بلوچستان پارٹی ، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی ہیں کی قیادت کی طرح نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں


اس پارٹی کے اندر دانشور ایکٹوسٹوں کی بھی ایک پرت موجود ہے جن کا طبقاتی پس منظر اس ملک کی اپر مڈل کلاس سے ہے لیکن ان کا پوسچر انقلابی سوشلسٹوں کا سا ہے اور وہ اپنی پارٹی کی قیادت کی طرح کھل کر نواز شریف اینڈ کمپنی کے ساتھ تو نہیں کھڑے لیکن نواز شریف اور دیگر سرمایہ دار جماعتوں سے فاصلے رکھکر سول سوسائٹی کی ان پرتوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو آزاد و خودمختار ہونے کا جھانسا دیکر جمہوریت بچاؤ تحریک چلانے کا تاثر دے رہے ہیں اور یہ لوگ ہمیں بار ، پریس کلبوں ، صحافتی تنظیموں اور این جی اوز فرنٹ پر متحرک نظر آتے ہیں اگرچہ یا کوئی خاص بڑی تحریک پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں


اور یہ لیفٹ کا وہ حصّہ ہے جو موجودہ مارچ اور دھرنوں کی سرے سے کوئی سماجی ، مادی اور طبقاتی بنیاد تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں اور بہت شیزوفینک انداز میں گالیوں کے قریب پہنچ جانے والی تقریری و تحریری مہم چلائے ہوئے ہیں لیفٹ کا ایک قدرے چھوٹا بلکہ میں تو یہ کہوں گا محض چآر پانچ افراد پر مبنی ایک دانشور طبقہ ایسا بھی ہے جو پی ٹی آئی اور پے اے ٹی کے دھرنوں اور مارچ میں شریک لوگوں کے طبقاتی پس منظر کا تجزیہ کرنے کے نام پر اپنے آخری تجزئے میں اس پوری تحریک کے پھر ملٹری اسٹبلشمنٹ کے حامی ہونے اور اس پوری تحریک کے رجعتی ہونے کا فیصلہ صادر کرتا ہے اور اس تحریک میں لیفٹ کی مداخلت کو بے معنی اور اس میں سے اپنے لیے کوئی امکانات تلاش کرنے کو کار لاحاصل قرار دے دیتا ہے


لیفٹ میں انقلابی سوشلسٹ کے لوگ اور عوامی ورکرز پارٹی کے اندر شہزاد ارشد جیسے چند ایک لوگ ہيں جن کی رائے میں اوپر زکر کردہ لیفٹ کے گروپوں کے خیالات ٹھیک نہيں ہیں اور وہ ان دھرنوں ، احتجاج اور مزاحمت میں اپنے لیے امکانات کو ممکن پاتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کی تعداد ایک تو اسلام آباد ، لاہور میں بہت ہی کم ہے اور وہ ابھی تک بحث مں مصروف ہیں ، عملی طور پر وہ ان دھرنوں کا حصّہ نہیں بن پائے اور نہ ہی کوئی موثر مداخلت کرّائے ہیں


میں اپنے اس مضمون میں عاصم سجاد سمیت اس لیفٹ کے ایک گروپ کے خیالات پر کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے میرے خیال میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے حامیوں کی طبقاتی شناحت کا تعین کرتے ہوئے فاش غلطیاں کی ہیں عاصم سجاد یہ تو مانتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے شرکاء کا طبقاتی پس منظر لوئر مڈل کلاس اور غریب پرتوں سے ہے

اگرچہ انھوں نے اس میں یہ کہنے سے گریز کیا ہے کہ اس میں محنت کش طبقے سے بھی لوگ شامل ہیں لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو لوگ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ڈاکٹر طاہر القادری کی حمائت میں موجود ہیں سب کے سب ڈاکٹر طاہر القادری کے تعلمی و سماجی اداروں کے محض ملازم ہیں اور وہ یہ ماننے سے سرے سے انکاری ہوگئے ہیں کہ ان میں لوئر مڈل کلاس اور غریب شہری و دیہی طبقات سے غیر ملازم لوگ شامل ہیں اور میں اسی ان کے تجزئے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ ان جیسے لوگ یقینی بات ہے کہ ایک تو شاہراہ دستور پر ڈاکٹر طاہر القادری کے حامیوں کے درمیان نہیں گئے ورنہ وہ یہ بات کبھی نہ کرتے کیونکہ مجھے زاتی طور پر علم ہے کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو ڈاکٹر طاہر القادری کے کسی ادارے کے باقاعدہ ملازم نہیں ہیں اور وہ وہاں موجود ہیں


ڈاکٹر طاہر القادری کا جو ایجنڈا ہے اس کی بنیاد پر پنجاب ، خیبر پختون خوا کے ہزارہ ڈویژن ، ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن ، سرائیکی ریجن میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن ، بہاول پور ، ملتان ڈویژن ، سرگودھا ڈویژن میں بریلوی مکتبہ فکر کی مڈل کلاس ، لوئر مڈل کلاس اور کسی حد تک شہری و دیہی غریبوں کی پرتوں میں حمائت موجود ہے اور اسی پرت کی نمائندگی ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری کی یہ بریلوی مڈل کلاس میں جو حمایت ہے وہ صرف ہائر و لوئر پروفیشنل ، ملازم مڈل کلاس پرتوں میں ہی نہیں بلکہ چھوٹے دکاندار اور سمال میڈیم مینوفیکچررز کے اندر بھی یہ حمائت موجود ہے جو اگرچہ ہائر و لوئر پروفیشنل کلاس کے مقابلے میں کم ہے

لیکن وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی فنڈنـگ کا موثر زریعہ ضرور ہیں ڈاکٹر طاہر القادری نے گزرے سالوں میں تکفیری آئیڈیالوجی کے خلاف اور پاکستان میں سپاہ صحابہ و طالبان کے خلاف جو موقف اختیار کیا اس نے بریلوی و شیعہ مکاتب فکر کے اندر سے بھی ایک بڑی تعداد کو ان کی حمائت پر مجبور کرڈالا ہے


یہ حقیقت ہے کہ 80ء اور 90ء کی دھائی میں ڈاکٹر طاہر القادری کو بریلوی مکتبہ فکر میں نہایت چھوٹی دکاندار، نچلے درجے کے ملازمین ،چھوٹی کسان پرتوں اور عمومی ٹریڈر کلاس پر مشتمل بریلوی مکتبہ فکر کی پرتوں اور ان کی نمائندگی کرنے والی بریلوی مذھبی لیڈر شپ کی سخت مخالفت کا سامنا تھا اور ایک طرح سے ان کو بریلوی مکتبہ فکر کی ان پرتوں نے الگ تھلگ کرڈالا تھا مگر پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اربنائزیشن اور نائن الیون کے بعد دیوبندی و وہابی مکاتب فکر سے اٹھنے والی نہایت مضبوط تکفیری انتہا پسند لہر اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی دھشت گردی نے جس کا نشانہ بریلوی طبقے کی یہ پرتیں بھی بنیں تو اس میں ڈاکٹر طاہر القادری ان پرتوں کے ایک مستند نظریہ ساز بنکر ابھرے ہیں

اور بریلوی مذھبی لیڈر شپ کے اندر پرانی قدامت پرست نسل کے جو نئے نمائندے سامنے آئے انھوں نے بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے مضبوط تنظیمی نیٹ ورک اور بڑي افرادی قوت کے زیر سایہ پناہ لینے کو مناسب جانا اور ان سے اشتراک و اتحاد کا سوچ رہے ہیں ، ان میں سنّی اتحاد کونسل بہت نمایاں ہے جس کی سربراہی حامد رضا کے ہاتھ میں ہے جبکہ حامد سعید کاظمی سمیت اور کئی ایک موثر بریلوی مذھبی لیڈر جوکہ سرائیکی خطے کی مضافاتی بریلوی پرتوں پر خاصا اثر ورسوخ رکھتے ہیں اور تکفیری آئیڈیالوجی اور اس کی نمائندہ جماعتوں کے پھیلتے نیٹ ورک کو اپنے لیے براہ راست خطرہ خیال کرتے ہیں


اور پنجاب ، سندھ ، ہزارہ ڈویژن ، ڈیرہ اسماعیل خان میں بریلوی و شیعہ مڈل کلاس ہی نہیں بلکہ تاجر ، صنعت کار پرتوں میں بھی تکفیری آئیڈیالوجی کی نمائندہ جماعتوں کی نواز لیگ کی جانب سے سرپرستی اور لبر ،سیکولر جماعتوں کی اس پر خاموشی ان کو ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف متوجہ کررہی ہے اور اسی کے شاخسانے کے طور پر سنّی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہیں


لیفٹ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کو سیدھا سیدھا رجعتی ، اسٹبلشمنٹ کا کارندہ اور اس کو فراڈیا کہہ کر مسترد کررہا ہے اور یہ بہت شیزو فینک رویہ ہے لیفٹ اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ ماسز کی بہت سی پرتوں میں اپنی موجودگی کو ممکن بنائے تو اسے شیعہ ، سنّی مڈل کلاس کی موجودہ نمائندہ جماعتوں کی جانب اپنے شیزوفینک رویے ختم کرنے ہوں گے اور اسے ایک طرف تو شیعہ و صوفی سنّی نسل کشی اور اس کی زمہ دار تکفیری دھشت گرد ی بارے اپنا موقف تبدیل کرنے کی ضرورت ہے


لیفٹ میں جو ڈاکٹر طاہر القادری ، حامد رضا اور راجہ ناصر عباس جعفری کو بریلوی و شیعہ طالبان بناکر پیش کرنے اور ان کی قیادت مين ہونے والے دھرنے کے شرکاء کو لال مسجد کے دھشت گردوں کے مساوی بناکر دکھانے کی کوشش کررہے ہیں وہ اس پوری سیاسی ہلچل میں اپنے لیے کسی بھی طرح کے امکان کی موت کے سامان کرنے ميں مصروف ہیں


عاصم سجاد نے اپنے کالم میں معروف آریکیٹیکچر عارف حسن کے ایک مضمون میں عمران خان کے حامیوں کی طبقاتی پرت کی شناخت کو “ایلیٹ کلاس ” جیسی غیر مارکسی اصطلاح استعمال کرکے خاصا ابہام پیدا کیا ہے اور جسے عارف حسن ایلیٹ کلاس کہہ رہے ہیں اس ميں بھٹو کی مخالفت کرنے والی سرمایہ دار ، پیٹی سرمایہ دار اور مڈل و لوئر مڈل کلاس کی پرتیں شامل تھیں اور یہ پرتیں ضیاء دور میں بھی ایک متحد پلیٹ فارم پر نہیں رہ سکیں تھیں اور آج تو ان میں بہت تقسیم ہے اور ہم موجودہ سیاسی خلفشار میں دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کا جو سٹہ باز سرمایہ دار ہے اور اس ملک کی بڑی سرمایہ دار بورژوازی ہے اور ہائر پروفیشنل مڈل کلاس کی کئی ایک موثر پرتیں جن میں صافی ، وکیل ، سماجی ورکرز شامل ہیں وہ میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں

اور اس لیے عارف حسن کا تجزیہ تو بہت بودا اور کمزور ہے جس پر عاصم نے اپنے تجزیہ کی بنیاد رکھی ہے پاکستان تحریک انصاف میں اگر آپ لاہور کے حلقوں کا ہی رزلٹ اٹھا کردیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف کو صرف پوش علاقوں سے ہی کثیر ووٹ نہیں ملے بلکہ شاہدرہ سمیت لاہور کے پسماندہ اور غریب علاقوں سے بھی بہت ووٹ ملے اور یہ جو محمود رشید ، اعجاز چودھری ، خواجہ جمشید سمیت لاہور کے اندر ہی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے سینکڑوں کارکن موجود ہیں یہ بھی عاصم جیسوں کے تجزیے کو غلط ثابت کرتے ہیں


پاکستان تحریک انصاف میں سرائیکی بیلٹ کے اندر بھی مڈل اور لوئر مڈل کلاس اور اس میں دیہی و شہری دونوں پرتیں شامل ہیں کی کثیر تعداد موجود ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ یہاں پاکستان تحریک انصاف پی پی پی و مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحرک اور سرگرم ہے


اس دھرنے کے دوران ریاست کا ترقی کے ماڈل بھی بہت زیر بحث آیا ہے اور اس دوران خود عمران خان اور طاہر القادری نے ایک طرف تو اربن سنٹرز مین ہی جمع ہونے والی سرمایہ دار ترقی کو نشانہ تنقید بنایا ہے تو دوسری طرف انھوں نے اس ترقی میں محروم ہوجانے والے علاقوں اور وہاں کے لوگوں کی محرومی پر بات کی ہے اور اسی میں ایک تیسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اربن سنٹررز میڑ حکمرانوں کے اپنے رہن سہن اور ان بڑے شہروں میں غریبوں ، مڈل لاس اور لوئر مڈل کلاس کی حالت زار میں وسیع فرق کو بھی خوب ایکسپوز کیا گیا گیا ہے اور اس نے پورے پاکستان میں عوام کے اندر انہی مباحثوں کو بہت زیادہ اندر تک عام کیا ہے


لیفٹ کے اکثر لوگ اس دوران حکمران طبقات کے باہمی تضادات ، ان کے ساجھے کی ہنڈیا کے بیچ چوراہے میں پھوٹ جانے اور اقرباء پرور سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کی پول کھلنے اور اس نظام میں عام آدمی کی بربادی کے سوا کچھ نہ ہونے پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے وہ اس بیانیہ کو لیکر چل پڑا جو اس ملک کے لبرل صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں نے عام کرنا شروع کیا ہوا ہے


مارکس ، لینن سمیت عظیم اشتراکی انقلابیوں کی مالا جپنے والے اکثر مارکسی دانشوروں نے یہ کیا کہ کارل مارکس ، لینن ور دوسرے انقلابیوں نے محنت کش طبقے کی تحریک میں محنت کش طبقے کے ہر اول دستے کے طور پر اپنی قیادت آپ کرنے اور جب انقلاب اپنے عروج پر ہو تو انقلاب کی قیادت پیٹی بورژوا کی بالائی یا زیریں سطح کے حوالے نہ کرنے کے حوالے کے دوران مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے بارے مين جو باتیں تحریر کیں تھیں ان کی جگالی کی اور ایسے ظاہر کیا کہ اگر لیفٹ مڈل کلاس و لوئر مڈل کلاس کی قیادت میں اھرنے والے ان دھرنوں اور مارچ کے قریب بھی گیا تو مرتد و کافر ہوجائے گا


جبکہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے کمیونسٹ سرمایہ داری ںظام کے خلاف اس وقت جب محنت کش طبقہ زیریں سطح پر ہو اور کسی سرمایہ دار حکومت کو مڈل و لوئر مڈل کلاس کی پرتوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے چیلنج اور لڑائی کی دوستانہ تنقید کے ساتھ حمائت کرتا ہے اور اس تحریک میں اکٹھے ہونے والے اور اس سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے اندر جاتا اور وہاں اپنی بات بھی رکھتا ہے نہ کہ ایسی راہ اختیار کرتا ہے جس میں براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹس کو کا ہی تحفظ کیا جاتا ہے جیسے آج کا اکثر لیفٹ کررہا ہے اور اس سارے عمل میں بالکل تنہا کھڑا ہوا ہے


لیفٹ کا جو عام ورکر ہے یا لیفٹ نظریات سے تھوڑی بہت شدبد رکھنے والا ہمدرد ہے وہ لیفٹ کے ان مہا دانشوروں اور لبرل بورژوازی کے ہاتھوں میں کھیلنے والے لوگوں سے کہیں زیادہ سمجھدار ہے اور اس نے تو کافی حد تک حالات کا ٹھیک ٹھیک تجزیہ کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان ہم خیالوں کو اپنے درمیان مزید اشتراک اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ لیفٹ کے ایسے رجحان کی تعمیر ہو جو عوامی تحریکوں میں عملی و فکری طور پر اپنا حصّہ اور کردار ادا کرسکے میں یہ مضمون ختم کرنے والا ہی تھا کہ پاکستان کے معروف ترقی پسند شاعر عابد حسین عابد کی یہ تازہ غز سامنے آگئی جو ہم سب کی ٹھیک ترجمانی کرتی ہے


جب جذبہءِ تعمیر ترے سر سے اٹھے گا
طوفانِ بلا خیز برابر سے اٹھے گا
تم کون سی زنجیر سے باندھو گے ارادے
اب شورِ مساوات تو ھر گھر سے اٹھے گا
اٹّھے گی لہو چاٹتی روندی ھوئی مخلوق
احساسِ ھزیمت اگر اندر سے اٹھے گا
عاشق کا گریبان بنایا گیا پرچم
اک روز ترے شہر کے منظر سے اٹھے گا
انسان مرے عہد کا پتّھر کی طرح ھے
اور حرفِ بغاوت اسی پتّھر سے اٹھے گا
بیٹھا ھے مرے شہر کی مسند پہ جو عابد
اٹّھے گا مگر پاؤں کی ٹھوکر سے اٹھے گا
عابد حسین عابد