Original Articles Urdu Articles

دیوبندی اقلیت، رسول الله کے والدین اور چچا کی تکفیر کر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے سے پرہیز کرے

22

تعمیر پاکستان کے سابقہ ایڈیٹر عبدل نیشاپوری نے اپنے فیس بک پر ایک تبصرہ اپڈیٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزیز ترین، محسن چچا حضرت ابو طالب رضی الله عنہ کو کافر کہہ کر دیوبندی اقلیت، اربوں سنی اور شیعہ مسلمانوں کی دل آزاری کرتی ہے، دیوبندی اور وہابی مولویوں اور دیگر افراد کو حضرت ابو طالب اور پیغمبر (ص) کے والدین حضرت عبداللہ رضی الله عنہ اور حضرت آمنہ رضی الله عنہا کو کافر کہہ کر مسلمانوں کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے – پاکستان میں بسنے والی پانچ فیصد دیوبندی تکفیری اقلیت کو مسلمانوں کی مقدس شخصیات، خاص طور پر رسول الله کے والدین اور چچا کی تکفیری کی اجازت نہیں دی جا سکتی – اس توہین کی بنیاد پر کوئی بھی غیرتمند سنی اور شیعہ مسلمان قانون کو اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے، دیوبندی مولوی اور گروہ ایسی اشتعال انگیزی سے پرہیز کریں – بنو امیہ اور دشمنان اہلبیت خارجیوں اور ناصبیوں نے اپنی من گھڑت، درباری تواریخ میں رسول الله کے خاندان، اہلبیت اور آل کے بارے میں جو بکواسیات لکھی ہیں ان کا تاریخی طور پر غلط اور مشکوک ہونا ثابت ہے – ہم تاریخ کی تکفیری شرحوں کی مذمت کرتے ہیں اور مقدس شخصیات کے اسلام کا اثبات کرتے ہیں – جو لوگ آج سنی صوفی، بریلوی اور شیعہ کو مشرک، بدعتی اور کافر کہ کر پکارتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے آباو اجداد نے رسول الله کے والدین اور محسن چچا ابو طالب کی تکفیر کی، تکفیر کی بیماری ان کا موروثی مرض ہے – یہی وجہ ہے کہ آج بھی دارالعلوم دیوبند کی آفسشل ویب سائٹ پر یزید کو رحمت الله علیہ کہنے کے حق میں فتوی موجود ہے جبکہ سنی صوفی، بریلوی اور شیعہ کے خلاف غلیظ فتاویٰ موجود ہیں

جناب خرم زکی نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ : حضرت محمد (ص) کی زندگی نامی کتاب اور ابن اسحاق کی شرح سیرت رسول اللہ میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت ابو طالب نے اپنی وفات سے پہلے کلمہ پڑھا تھا جس کی گواہی حضرت عبّاس نے بھی دی ہے پیر کرم علی شاہ نامور سنی عالم نے بھی تقریباً اسی قسم کی روایت کو بیان کیا ہے

اس موقعہ پر جناب خالد نورانی نے تفیصلی جواب میں اس بات کی وضاحت کچھ ان الفاظ میں کی : یہ بات درست ہے کہ اہل سنت کے درمیان ایمان ابی طالب و ایمان ابوین کریمین کے بارے میں اختلاف موجود رہا ہے اور جو اولین اکابر علماء و مشائح اہل سنت تھے ان کے زمانے میں کیونکہ احادیٹ ، تفاسیر ، اور دیگر شواہد و آٹار کی تدوین پوری طرح سے نہیں ہوئی تھی اس لیے ان میں اکثر ایمان ابی طالب اور ایمان ابوین کریمین کے بارے میں متردد تھے لیکن جیسے جیسے  تاریخ مدون ہوتی گئی تو متاخرین اہل سنت کے علماء اور مشائخ کی اکثریت ایمان ابوین کریمین اور ایمان ابی طالب کے اثبات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ قائل ہوتی چلی گئی اور پھر یہ جو اولیائے کرام ہیں ، صالحین امت ہیں جن کو اللہ پاک نے علم لدنی ، کشف اور وجدان جیسی نعمتوں سے نوازا ہے ان کی جانب سے تو بربنائے شرح صدر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ایمان ابی طالب اور ابوین شریفین کے ایمان میں کسی شک کی کوئی گنچائش نہیں ہے

پھر خود رسول کریم کی حدیث تواتر و مشہور اسانید سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پاک صلبوں میں منتقل ہوتا رہا ہوں آپ جن اصلاب میں منتقل ہوتے رہے ان کے پاک و مطاہر ہونے کی اس گواہی سے علمائے اہل سنت نے یہ قیاس کیا کہ آپ کے والدین ، آپ کے دادا ، دادی سب صاحبان ایمان تھے ان کو مشرک کہنا اس فرمان رسول کو چھٹلانے کے مترادف ہے اور پھر آپ کا کئی بار اپنی والدہ اور والدہ کی قبور پر جانا ثابت ہے اور اسی طرح سے حضرت ابی طالب کے بہت سے اشعار دین محمدی کے سچا ہونے پر موجود ہیں اور ایک رویت یہ بھی ہے کا حضور کے چچا حضرت عباس نے ان کے ایمان کی گواہی دی متاخرین علمائے اہل سنت بریلوی میں ایمان والدین کر؛یمین اور ایمان عبدالمطلب و ہاشم پر کسی کا اختلاف موجود نہیں ہے

اور شیخ عبدالحق محدث دھلوی سے لیکر شاہ ولی اللہ اور وہاں سے اعلی حضرت محدد دین وملت الشاہ احمد رضا خاں فاضل بریلی سے لیکر علامہ احمد سعید کاظمی غزالی دوراں تک اور وہاں سے آگے پیر کرم شاہ الازھری سے ڈاکٹر طاہر القادری تک سب میں ایمان وایدین کریمین پر اۃفاق ہے اور اسے دوسرا راستہ اپنانے کو سوئے بے ادبی خیال کیا جاتا ہے جبکہ مشائخ اہن سنت میں ایمان ابی طالب پر اتفاق ہے کہ وہ بربنائے کشف ابی طالب کو مومن صادق قرار دیتے ہیں جبکہ آہستہ آہستہ علمائے اہل سنت کی ایک کثیر تعداد ایمان ابی طالب کی قاغۂ ہوتی نظر آرہی ہے اور ميرا اپنا رجحان بھی اسی جانب ہے کیونکہ ابی طالب کی اسلام کے لیے جتنی حدمات ہیں اس کے بعد ان کو جنت سے محروم رکھنا اور ان سے کہیں کم خدمات کے حامل اصحاب رسول رضوان اللہ علیہ اجعین کو وعدہ حسنہ کی بشارت دینا مجھے اللہ تبارک وتعالی کی صفت عدل کے برخلاف لگتا ہے جبکہ اللہ تبارک تعالی کا عدل کے منافی راستہ اختیار کرنا مخال ہے

اس سلسلے میں ڈاکٹر طاہر القادری ، پیر کرم شاہ الازھری اور صائم چشتی کی کتب پڑھنا بہت فائدہ مند ہوگآ ، خود اعلی حضرت فاضل بریلوی نے ایمان والدین کریمین پر ایک رسالہ تحریر فرمایا اور دلائل کے انبار لگاڈالے