Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ: سلیم صافی سازشی مفروضوں سے نواز شریف اور تکفیری دیوبندی سیاست نہیں بچا سکیں گے

safi

جامعۃ الرشیدیہ جہاں سلیم صافی گئے تھے وہ ادارہ ہے جس کے تحت ضرب مومن ، روزنامہ اسلام شایع ہوتے ہیں اور یہ دیوبندی دھشت گردی اور تکفیری آئیڈیالوجی کا زبردست حامی ہے

سلیم صافی حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر کے ساتھ 

نواز شریف کا نمک آخر کیوں نہ حلال کیا جائے 

————————

آج پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس کا دوسرا دن تھا اور دوسرے روز بھی یہ دیکھنے کو ملا کہ میاں محمد نواز شریف کے اتحادی دیوبندی مولوی فضل الرحمان اور پشتون دیوبندی ممبران قومی اسمبلی و سینٹرز بشمول محمود خان اچکزئی نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح سے ایوان ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کی اتحادی جماعتوں کے حامی مظاہرین کے خلاف فوج کو آپریشن کا کہیں اور اگر فوج یہ نہ کرے تو اپنی سول ایڈمنسٹریشن کو کہیں اور اگر یہ سب بھی ناممکن ہو تو پھر ان کو اجازت دیں کہ وہ اپنے لوگوں کو اپنے علاقے سے بلاکر ان کے خلاف جنگ کریں

میاں نواز شریف کے اتحادیوں کی جذباتیت کے پیچھے آئین ، پارلیمنٹ اور جمہوریت سے محبت کارفرما نہیں ہے بلکہ اس کے

پیچھے ان کا مسلکی تعصب اور فرقہ وارانہ تنگ نظری کا عمل دخل زیادہ ہے
پارلیمنٹ کے اجلاس کو تیسرے دن کے لیے جیسے ہی ملتوی کیا گیا تو چیو ثی وی پر سلیم صافی اور جے یو آئی ایف کے رکن قومی اسمبلی حافظ حمداللہ کو بلایا گیا

سلیم صافی جن کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ نہ صرف دیوبندی ہیں بلکہ وہ دیوبندی تکفیریوں کے حامی بھی ہیں اور انھوں نے جیو ٹی وی پر صاف صاف بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری ، صاحبزادہ حامد رضا اور علامہ ناصر عباس جعفری اور چودھری برادران کے درمیان اتحاد اور ان کو عمران خان کے قریب لانے کی کوشش کرنے والے شاہ محمود قریشی کے بارے میں یہ سازشی تھیوری پیش کی کہ ان کو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی قریب لائے اور یہ اصل میں ایک طرف تو شیعہ اور صوفی اہل سنت کو سلفی دیوبندیوں کے خلاف کھڑا کرنے اور پاکستان میں عراق و شام کی طرز پر فرقہ وارانہ جنگ کرنے کی امریکی سازش ہے اور دوسری طرف اس اتحاد کا مقصد پاکستان کی فوج کو سیاست میں ملوث کرتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے فوج کو دباؤ میں لاکر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے
سلیم صافی نے جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی کو پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے ابتک کے ہونے والے واقعات کا زمہ دار قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ دونوں وہ کردار ہیں جن عالمی طاقتیں جنھوں نے موجودہ مبینہ سکرپٹ لکھا ہے سے اصل سکرپٹ شئیر کیا جارہا ہے اور سلیم صافی کے بقول خيبرپختون خوا کی جو پی ٹی آئی کی قیادت ہے وہ اس سارے عمل سے بےخبر ہے 

اس کا صاف صاف مطلب سلیم صافی کے ہاں یہ ہے خیبر پختون خوا کے جو دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور پیٹی آئی میں ہیں وہ اس سکرپٹ کا حصّہ نہیں ہیں اور شاہ محمود اور جہانگیر ترین چونکہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے وہ اس سکرپٹ کا حصّہ بن گئے ہیں

سلیم صافی ، حامد میر ، انصار عباسی اور دوسرے تمام کمرشل لبرلز جو اس وقت نواز شریف کے اقتدار کو بچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں کی جانب سے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے یہ مفروضہ پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کے اندر شیعہ اور صوفی سنّیوں ،کرسچن ، احمدی ، ہندؤں کے درمیان اس وقت جو قربت بڑھ رہی ہے اور ان کے درمیان تکفیری دھشت گردی کے خلاف جو اتفاق بڑھا ہے اس کے پیچھے فوج ، امریکہ ،اور اس کے مغربی اتحادی ملوث ہیں اور یہ تھیوری اور بے سروپا کہانی یہ تاثر دینے کی کوشش بھی ہے کہ پاکستان کے صوفی اہلسنت ، شیعہ اور دیگر متاثرین تکفیریت اصل میں نہ تو پاکستان کے حامی ہیں ، نہ ہی وہ اپنے اوپر تکفیری دھشت گردی سے ٹوٹ پڑنے والی قیامت کے باعث میدان عمل میں نکلے ہیں بلکہ وہ تو سیدھی سادھی امریکی ایجنڈے پر یہ سب کچھ کررہے ہیں

یہ جو سلیم صافی ، حامد میر ، انصار عباسی اور نام نہاد کمرشل لبرل کی فوج ظفر موج ہے اس قدر بے شرم ہے کہ قومکے سامنے یہ جھوٹ بولتی ہے کہ اس ملک کی اکثریت شیعہ اور صوفی سنّی کسی فرقہ وارانہ غیر ملکی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں اور یہ بڑے دھڑلے سے دیوبندی مکتبہ فکر کی سیاسی اور فرقہ پرست جماعتوں کی تکفیری مہم اور ان کی جانب سے کی جانے والی صوفی سنّی نسل کشی اور شیعہ نسل کشی پر پردہ ڈالتی ہے اور آج تک سلیم صافی سے لیکر ديکر پشتون دانش وروں نے تکفیری دیوبندی دھشت گردی کا نشانہ بننے والے پشتون صوفی سنّی اور پشتون شیعہ کے قتل عام اور ان کی نسل کشی پر کوئی آواز تک بلند نہ کی ہے جبکہ سلیم صافی تو اعلانیہ ان دیوبندی دھشت گردوں کو مجاہدین اسلام قرار دیتا رہا ہے اور آج بھی حقائق کے منافی بات کررہا ہے

ڈاکٹر طاہر القادری ، حامد رضا اور راجہ ناصر عباس کے سیاست کے ڈسکورس کو بریلوی-شیعہ تکفیری ڈسکورس قرار دیا جارہا ہے اور زبردستی ان کو ایک فسادی کے طور پر پوز کیا جارہا ہے اور ان کو زبردستی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے

جبکہ یہی سلیم صافی ، حامد میر اور دیگر کئی ایک پاکستان میں ان تینوں رہنماؤں پر ایرانی ایجنڈے پر کام کرنے کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں اور ایک منصوبے کے تحت صوفی اہلسنت اور شیعہ کی مضبوط سیاسی پاور اور بیس رکھنے والی جماعتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے

کیونکہ پاکستان عوامی تحریک ، سنّی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کا سیاسی ڈسکورس اینٹی تکفیری ہے اور براہ راست اس تکفیری آئیڈیالوجی کی علمبردار جماعتوں اور اس کے جملہ حامیوں کو ایکسپوز کررہا ہے

صوفی اہلسنت و اہل تشیع کے باہمی الائنس سے پاکستان کے اندر پہلی مرتبہ تکفیری ، جہادی ، وہابی دیوبندی مذھبی سیاسی ڈسکورس کے مقابلے میں ایک نیا ڈسکورس سامنے آیا ہے اور اس ڈسکورس نے تکفیری آئیڈیالوجی سے قربت رکھنے والی سیاسی و مذھبی جماعتوں کو حقیقی چیلنچ دیا ہے

ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان جو بعد تھا اور عمران خان کا جو ٹی ٹی پی کی جانب رجحان تھا اس کو ایک طرف تو نواز شریف کے دیوبندی انتہا پسند اتحادیوں اور خود نواز شریف کے وزیروں اور مشیروں نے ختم کرنے اور عمران خان کو اینٹی تکفیری سیاسی ڈسکورس کے قریب کردیا ہے

ڈاکٹر طاہر القادری ، عمران خان ، راجہ ناصر عباس ، حامد رضا کا باہمی اتحاد جہاں اینٹی تکفیری سیاست پر مبنی ہے وہیں یہ اتحاد ان رہنماؤں کی سیاسی حماعتوں کی طبقاتی پرت کے جذبات اور خیالات کا عکاس بھی ہے جوکہ بڑی حد تک مڈل کلاس ہے اور اسے زیادہ جامع طور پر ہم

عاصم جان ، عامر حسینی ،ڈاکٹر ریاض سمیت کئی ایک مارکسی دانشوروں کی اصطلاح ميں پیٹی بورژوازی پرتوں کے جذبات کا عکاس بھی کہہ سکتے ہیں جو اصلاح پسندی کے راستے سے سٹیٹس کو کے خلاف بھی ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے اس سے قبل بھی پاکستان میں شیعہ ، سنّی ، کرسچن ، احمدی ، ہندؤ برادریوں کے باشعور حلقے کے درمیان اینٹی تکفیری سیاست کے ڈسکورس کو خوش آئیند قرار دیا تھا اور تکفیری سیاست کے ڈسکورس کے حامیوں کو بے نقاب کیا تھا سلیم صافی کی جانب سے اس ڈسکورس کے بارے میں گھٹیا سازشی تھیوریز اور مفروضے پیش کرنے سے یہ سمجھتا ہے کہ اس کی سوچ اور خیال ٹھیک ثابت ہوا ہے

پاکستان کے اندر اس وقت سیاسی تاریخ بہت اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ ایک طرف تو اس ملک میں معاشی اور سیاسی میدان میں اشراف نواز سٹیٹس کو کے حامی کھڑے ہیں جن کی اکثریت تکفیری دیوبندی دھشت گردی اور آئیڈیالوجی کی حامی بھی ہے تو دوسری جانب اس سیاسی و معاشی سٹیٹس کو کو للکارنے اور اینٹی تکفیری سیاسی ڈسکورس متعارف کرانے والے کھڑے ہیں اور عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس سمت جائیں گے تو ایسے موقعہ پر سلیم صافی جیسے تکفیری نظریہ سازوں کے حامی اور نواز شریف کے ہاتھ بکے ہوئے کسی گریٹر لندن پلان اور کسی امریکی ایجنڈے کا شور مچائیں تو کوئی اچھنبھے کی بات نہیں ہے

ادارہ تعمیر پاکستان سمجھتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ وہ اہم ترین موقعہ ہے جب ایک طرف تو نواز شریف کے دیوبندی تکفیریت کے سیاسی چہرہ ہونے کے عملی ثبوت دیکھنے کو مل رہے ہیں تو دوسری جانب اس ڈسکورس کے سبھی حامی ایک ، ایک کرکے بے نقاب ہوتے جارہے ہیں اور ہم اس ایکسپوز کرنے کے عمل کو جار رکھیں گے

تکفیری سیاسی ڈسکورس کے حامی سلیم صافی جیسے نام نہاد دانشور زرا صبر کریں ڈاکٹر طاہر القادری ، حامد رضا اور راجہ ناصر عباس کے ساتھ جہاں عمران خان ، چوہدری شجاعت و پرویز اللہی کی آواز ملی ہے وہیں کوئی دن جاتا ہے جب ایم کیو ایم بھی عملی طور پر اعلانیہ اس کے ساتھ ہم آواز ہوگی

ہم پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی کہتے ہیں کہ وہ تذبذب اور درمیان کی راہ سے ہٹے کیونکہ تکفیری ڈسکورس کے خلاف اس کے خیالات صوفی سنّی اور اہل تشیع سے زیادہ مختلف نہیں ہیں اور اس کو بھی پاکستان سے تکفیری سیاست کے طرز کے خلاف آواز بلند کرنا چاہئیے لیکن اس پارٹی کی قیادت میں ایسے سٹے باز سرمایہ دار موجود ہیں جن کو عمران و قادری کی اینٹی سٹیٹس کو سیاست سے ڈر لگتا ہے

ہم بہت واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ اس ملک کے دیوبندی مکتبہ فکر کے تکفیری ٹولے اور ان کے حامیوں کی کوشش ہے کہ اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر ریاست صوفیہہہ اہل سنت ، شیعہ کے خون سے ہولی کھیلے شاید تبھی تکفیریوں کے سینے میں انتقام کی آگ ٹھنڈی پڑے گی اور اس وقت فضل الرحمان ، طاہر اشرفی ، محمد احمد لدھیانوی ، مفتی نعیم ، محمود اچکزئی وغیرہ یہی چاہتے ہیں اور وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں ؟ وجوہات ہم نے اوپر بیان کرڈالی ہیں

j1

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

9 Comments

Click here to post a comment
  • After for years calling everything a conspiracy of ISI, now this chutia blog has taken a U turn and has started to support Imran Khan ( once they alleged that he was ISI construct and a fascist). Now suddenly, these chutias have started to call him a democrat and all other as “talibani military” establishment.
    Kuch to sharam karo kanjaro
    begharait kutto

    During PPP, LUBP used to call every critic as an ISI agent. It was said that ISI was conspiring against PPP and indulging in Shiites massacre everywhere. Now suddenly PML N has become the main culprit and ISI has become a supporter of Shiites. wah je wah
    Now according to LUBP , PPP has also become anti Shiite. Besharamo ab PPP per bhee ilzam lagate ho

    Chutio, itni himmat ttu tum logon mein hai nayee ke apne naam se kuch likh sakho aur bakwas woh karte ho.

    Abbas Taj

    Aik dum beghairat ho tum

    Just see your own previous articles and go to hell

    – See more at: https://lubp.net/archives/322067/comment-page-1#comment-1730088

  • تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے کبھی بھی کسی بھی قسم کی جہادی یا نیشنل پراکسی کی حمائت نہیں کی اور حال ہی میں بلوچستان میں دیوبندی تکفیری دھشت گرد تںظیموں کے ابھار پر سائٹ پر میں نے ہی ایک اہم نیوز سٹوری پوسٹ کی ہے جس میں ہم نے بلوچ قومی تحریک کے خلاف ملٹری جنتا کی جہادی پراکسی کی شدید مذمت کی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمارا موقف یہ ہے کہ اس وقت پاکستان ہو یا مڈل ایسٹ یا افریقہ اس میں تکفیری دیوبندی وہابی دھشت گردی اور آئیڈیالوجی صرف سعودی عرب یا پاکستانیملٹری اسٹبلشمنٹ کی ایک پراکسی کے طور پر موجود نہیں ہے بلکہ اس کا اپنا خودمختار وجود بھی ہے اور اس کا ثبوت مڈل ایسٹ میں داعش کا ظہور ہے ،ہم نے اپنے موقف میں کبھی تبدیلی نہیں کی ہے
    پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ میں اس کی حکومت پر ہماری تنقید یہ رہی ہے کہ وہ اپنے صوبے میں کالعدم اہل سنت والجماعت کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت دئے ہوئے ہے اور سندھ میں جن دیوبندی مدرسوں کے بارے میں ثابت ہوچکا کہ وہاں دھشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے کے خلاف کاروائی نہيں کررہی اور تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب تنقید دوستانہ ہے اور اس نے کبھی بھی اس پارٹی کو مسلم لیگ نواز اور دیگر دیوبندی تکفیری تنظیموں کے سیاسی چہرے والی جماعتوں کے ساتھ کھڑا نہیں کیا ہے لیکن جہاں یہ مصلحت سے کام لے رہی ہے وہاں وہاں ہم تنقید ضرور کرتے ہیں ،
    تعمیر پاکستان اس ملک کے متاثرین دیوبندی تکفیری دھشت گردی کے باہمی اتحاد کی داعی ہے اور یہ اتحاد تکفیری دھشت گردوں کے لیے اور ان کے حامیوں کے لیے کس قدر پریشانی کا سبب بنتا ہے اس کا اندازہ ہمیں حامد رضا ، ڈاکٹر طاہرالقادری ، ناصر عباس کے باہمی اشتراک پر بڑھتی ہوئی دیوبندی حلقوں کی جانب سے تنقید بلکہ دشنام طرازی سے ہورہا ہے ،
    تعمیر پاکستان ویب سائٹ دیوبندی-وہابی عالمی دھشت گرد نیٹ ورک اور اس کے مختلف بھیس بدلے ہوئے حامیوں کو بے نقاب کرتا رہے گآ
    ہم آزادی اظہار کے اس قدر قائل ہیں کہ ہم نے پوری آزادی دی ہے اپنی پوسٹ پر تنقید کرنے کی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں ہر رطب و یابس بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا جاتا ہے
    محمد ‏عثمان بن ابی بکرصدیق مدیر تعمیر پاکستان ویب سائٹ

  • I have read so many articles where you were calling Imran Khan all sorts of name. And now you are out to support him.

    I have read articles where you were openly saying that he is ISI backed and now you third class intellectually dishonest crooks have taken a U turn. How can you now say that he is not being backed by ISI. So now he becomes a “revolutionary” all of a sudden.

    By the way, beghairato, what makes Dr. Qadri special for you? Just because he is a brailvi? He is also the proud author of 295 C. The crook, who actually authored 295 C is your hero! You do want to see that video where he proudly owned it.

    At one side you people are claiming that you are against these black laws and at together you are shamelessly projecting that third class harama zada, the proud author of 295 C, as a moderate!

    What is friendly criticism on PPP. You have been calling them even murderers.

    And regarding NS. Well you are always saying that he is behind SSP. Can you explain that in Jhang, PML (N) fought and contested against Ludhianvi?
    I mean if they are in cahoots the way you kanjars have been proclaiming then why is this so?

  • بھائی قصور ہمارا ہے۔ ہم سب اہلسنت نے اپنے آپ کو اس معاملے سے لاتعلق رکھا ہوا ہے۔ جبکہ دوسرے مسالک نے کھل کر حکومت کی حمایت کی ہے۔ قادری صاحب نے بھی حکومت سے پنگا لیا ہوا ہو۔ اور لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ تمام اہلسنت قادری کے ساتھ ہیں۔ اس سارے مسئلے کا ہمیں مستقبل میں بہت نقصان ہوگا۔ ہم لوگ کم از کم 10-15 سال پیچھے چلے گئے ہیں

  • Veteran Pakistani columnist Ayaz Amir recently highlighted the tension between takfiri terrorists and anti-takfiri moderate forces in Pakistan.

    “Another under-appreciated point about PAT and its allies in the Sunni Ittehad Council and the Majlis Wahdat-ul-Muslimeen (the leading Shiite political party) is that together they represent the moderate, liberal Islam of the overwhelming majority of the Pakistani people. This Islam, the Islam of Bulleh Shah, Shah Hussain, Ghulam Farid and the great Ali Hajveri, patron saint of Lahore, is anti-Taliban Islam, anti-Takfiri Islam. For too long this Islam was relegated to the political sidelines because it lacked a political voice. The Sheikh-ul-Islam, after a lifetime of preparation, has given it that voice.

    The fight against the Taliban is not just a military struggle. It is also an ideological struggle between moderate and Takfiri Islam. The army can use its tanks and guns but for all-out victory, for success on the ideological front, for Pakistan to return to its moorings, there has to be a meeting of minds between the army and moderate Islam. And if there is such an understanding, conscious or otherwise, Pakistan will never go the way of Iraq or Syria. No Salafi brand of fitna (discord) can arise on its soil.” http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-266655-As-the-end-approaches

  • aik salim safi hi nahi aur bhi kai log hain jo k Talban aur mian Nawaz sharif k namak khuar hain jin m irfan siddiqi salman ghani shehzad chahdri mujeeb ur rehman shami waghaira shamil hain

    jo k abhi tak isi takfiri hukumat k gun ga rahy hain pata nahi log in h kab phechany gain

    kab mulk s mian Nawaz sharif aur In jesy logon ko vote milna band hon g aur mulk m koi haqiqi jamhuriat aai gi

    wesy tou is jamhuriat s kahin bhetar janab Pervez Musharraf sahib ka khubsurat marshal law tha pata nahi it n mukhlis log kab Pakistan m dobara aain g aur awam ko ye sahulatain hasil hon gi.

    pasand tou hamain Imran khan bhi nahi h kiyon k iski dorain bhi Talban hi hila t hain har siyasatdan ki dorain kahin na kahin s zarur hilti hain

  • Please don’t spread message like this. I am a Devbandi but I am a strong supporter of Imran Khan and use to join the sit-in every day. This movement is not in support of any religious sect but for the support of our beloved Pakistan. There are some people who are using names of different sects to create in-certainty in the country. Lets support both the Gatherings and liberate Pakistan from such culprits who are using the name of Islam and sects to fulfill their bloody desires.