Original Articles Urdu Articles

ایکسٹرا اوورز – نعمان عالم کا سیاسی تجزیہ – از نعمان عالم

Br0b6PwCcAALsgM.jpg medium

سیاست صرف اس چیز کا نام نہیں جو آپ دیکھتے ہیں ، سیاست ایک مکمل سائنس ہے ، سیاست پر نہیں ، سیاسی پارٹی پر نہیں سیاست کرنے والے کے ذہن اور نفسیات کو سمجھنا بھی ضروری ہے ، جو عملی طور پر آج ہمیں سیاستدان نظر آتا ہے وہ عمران خان نفسیاتی طور پر ایک کھلاڑی ہے ، اور کھلاڑی کی نفسیات کا مرکز جیت ہوتا ہے ، وہ زخمی بھی ہو گا ، آخری لمحے تک اپنے زخموں کو پیچھے رکھ کر جیت ذہن میں رکھے گا اور جیت ہی اسکی زندگی کا دارومدار ہے ، اسکی ساری کوششیں جیت کے لئے ہوتی ہیں ، عمران خان سے اس ملک کے سیاستدانوں سے کچھ اسطرح مختلف ہے کہ باقی سب پیسے کے لئے بولتے ، چلتے ، پھرتے ، ہاتھ ملاتے ہیں اور عمران خان چلتا ، بولتا ، ہاتھ ملاتا صرف اور صرف جیت کے لئے ہے ، عمران خان کی سوچوں کا مرکز جیت ہے ، اور جب جیت سے کچھ دور خود کو دیکھتا ہے تو ھلبلا اٹھتا ہے کہ خدایا یہ کیا ہو گیا ؟ جو کھلاڑی دس گھنٹے کے میچ کے آخر میں ہار دیکھتے ہوے اپنے ساتھ والے کھلاڑیوں پر برس پڑتا تھا وہ سترہ سال سے اسی کشمکش میں ہے ، دس گھنٹے اور سترہ سال میں کتنا فرق ہے یہ صرف عمران خان کی ذات ہی جانتی ہے جو ذہنی تھکاؤ کا شکار ہو چکی ہے ، عمران خان نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ سیاست کو چن کر کیا اور سبحان الله وہ بھی پاکستانی سیاست

عمران خان کی سب سے بڑی غلطی اپنی پارٹی میں لوٹے لانا ہے ، عمران خان نے ایک تحریک چلائی جس پر کم از کم مجھے اعتبار تھا ، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنی جماعت میں اپنے ہاتھوں سے ملاوٹ کرنا شروع کر دی ، اب آپ لوگ کہیں گے کہ چوائس ہی نہیں ہے ، میں آپ سے کہتا ہوں کہ چوائس ہے ، بس صبر چاہیے جو اس کپتان کے بس کی بات نہیں ہے ، عمران خان کی تحریک آج سے پانچ سال پہلے والی جماعت ہوتی تو آج حالات کچھ اور ہوتے ، آج اگر عمران خان کو وزیر اعظم بنا بھی دیا جاۓ تو یہ انسان بری طرح سے فیل ہی نہیں بے عزت بھی ہو گا ، اسکی وجہ اسکی ٹیم میں آیا ہوا اور آنے والا وہ گند ہے جو آج اسکے ساتھ مل کر انقلابی نعرے لگاتا پھر رہا ہے ، اور اسکی پارٹی میں آنے والے یہ گھوڑے اسکا کردار دیکھ کر نہیں اۓ وہ تو چڑھتے سورج کو سلام کرنے والے ہیں ، ٹی وی پر جلسے دیکھ دیکھ کر اسکو چڑھتا سورج سمجھ کر آۓ ہیں ، اب دو چار سال ساتھ نبھانا انکی ہر پارٹی میں رسم رہی ہے اسی لئے فی زمانہ عمران کے ساتھ ہی ہیں –

عمران خان کی ایک اور بڑی غلطی بڑے بڑے مجمعے دیکھ کر جیت کے خواب سجانا ہے ، عمران خان کو کوئی جا کر یہ بتاۓ کہ اسی جیسے مجمعے بھٹو نے بھی اکھٹے کیے تھے جو اسکے مرنے کی خبر سن کر چاۓ کی چسکیاں لے کر تھتھ تھتھ کہہ کر اپنی کرسیوں پر بیٹھے افسوس کر رہے تھے – اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ کہ بھٹو کے جلسوں میں جانے والے اسکے قاتل کے مرنے پر بھی اسی طرح افسوس کر رہے تھے جیسے کہ بھٹو کی پھانسی پر – میں ایک چھوٹے سے قصبے میں پلا بڑھا ہوں ، آپ بھی یہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں لائن مین جب ٹرانسفارمر کو ٹھیک کر رہا ہوتا ہے تو کھمبے کے نیچے کوئی ڈیڑھ سو کے قریب لوگ صرف نظارہ کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ، بلکہ اپنے ٹیلیفون سے دوست کو ایک روپے کی کال کر کے سارے معاملے کی لائیو رپورٹنگ بھی کر رہے ہوتے ہیں ، پاکستان میں لوگوں کو اکھٹا کرنا کبھی مشکل کام نہیں رہا ، جلسہ تو پھر بڑی بات ہے ، یہ عوام تو دو بندوں کے جھگڑے پر اپنی دوکان چھوڑ کر چسکے لینے پہنچ جاتے ہیں ، پاکستانی عوام کا جلسوں میں آ جانا ووٹ دینے کی گارنٹی سمجھ لینا سب سے بڑی اور بنیادی بیوقوفی ہے ، ووٹ لوگ اسی کو دیتے ہیں جسکو دادا جی ، تایا جی یا پھر برادری دینے کا فیصلہ کرے ، دیہات کے لوگ لوگ سیاستداں کو ووٹ نہیں دیتے ، برادری اور خاندان کو ووٹ دیتے ہیں ، اور پاکستان کی زیادہ تر آبادی دیہی ہی ہے

پاکستانی عوام میں سیاسی شعور انتہائی نا پید ہے ، یہاں جس کے موٹر سائکل کی ٹینکی فل ہے ، نان اور چکن چھولے کھا سکتا ہے وہ اپنی موچھوں کو تاؤ دے کر خود کو چوہدری ، بٹ ، خان ، ملک کہلوانا پسند کرتا ہے ، انکی سوچ بہت اونچی ہے ، اتنی اونچی کہ رات کو بازو پر بیٹھا مچھر مار کے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ صدر کس کو بنانا ہے ؟ جو لوگ اپنی بنیادی ضروریات کے حق میں ٹاون کمیٹی میں بیٹھے ایڈمنسٹریٹر کو کان سے پکڑ کر کوئی مطالبہ نہ کر سکتے ہوں انکا نواز شریف ، عمران خان ، زرداری اور ایم کیو ایم کے جلسوں میں جانا کم از کم اس بات کو واضح ضرور کرتا ہے کہ انکے پاس بہت فارغ وقت ہے ، میں یورپ کے انتہائی تھرڈ کلاس ملک میں رہتا ہوں ، میرے بلاک کے سامنے جھولے ہر سال مرمت ہوتے ہیں ، چوراہے رنگے جاتے ہیں ، علاقے کی گاڑی صبح گند اٹھا کر لے جاتی ہے ، ہر سال اگست میں سکول کی اندر اور باہر سے مرمت ہوتی ہے میں آپکو یہ بتاتا ہوں کہ یہ حکومت اتنی اچھی نہیں ہے ، لوگ ایسے ہیں جو ایک اپنے بچوں کے جھولے مرمت نہ ہونے پر لوکل ایڈمنسٹریٹر کے دفتر جا کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں چاہے اسکو ووٹ دیا ہو یا کہ نہیں

عمران خان کی تیسری بڑی اور حالیہ غلطی انتخبات میں حصہ لینا ہے ، عمران خان ایک سسٹم کو قبول کرتے ہوے میچ کھیل کر ایمپائروں پر انگلی اٹھا کر خود کے لئے یلو یا ریڈ کارڈ کا انتظام پکا کر رہا ہے ، پاکستان کے بیروکریٹ بہت ہی ظالم انسان ہیں ، یہ اگر کسی کو نا پسند قرار دے دیں تو اسکی سیاسی قبر کھدنا شروع ہو جاتی ہے ، عمران خان نواز شریف کو ڈاکو کہتا اس لئے اچھا نہیں لگتا کہ اسی ڈاکو کے ساتھ اس نے مقابلے میں حصہ لیا ، اب آپ ڈاکو کے ساتھ مقابلہ کریں گے اور اسکا نتیجہ اپنے حق میں نکلنے کی توقع رکھیں گے تو یہ نہ صرف بیوقوفی ہے ، بلکہ اپنا امیج خطرے میں ڈالنے والی بات بھی ہے ، عمران خانے نے مجمعے دیکھ کر ، بیوروکریٹس کی باتوں میں آ کر الیکشن میں حصہ لیا اور اب اسی الیکشن کو غلط کہ کر نہ صرف اس ملک کے بیروکریٹس کو اپنے خلاف کر چکا ہے بلکہ غلطیوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، اگر عمران خان نے پچھلے پانچ سالوں کی گرم سیاست سے کچھ سیکھا ہوتا ، تو نواز شریف کو پارلیمنٹ کے اندر اتنا کمزور کر چکا ہوتا کہ وہ کسی مارچ کے بغیر ہی آج اسلام آباد کی بجاۓ راونڈ میں بیٹھا ہوتا

عمران خان سول نا فرمانی کروا کے آنے والے الیکشن میں اپنی ممکنہ جیت کو خود ٹھڈا مار کے آگے کر رہا ہے ، نواز شریف کے جانے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ قانونی راستہ پارلیمنٹ ہاؤس کے بنچز میں پنہاں ہے ، لیکن میں ایک بات پر کامل یقین کرنا شروع کر چکا ہوں کہ سیاست ایک جیت کے پیاسے نفسیاتی کھلاڑی کے بس کی بات نہیں ، اور ایکسٹرا اوورز بھی ممکنہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے ناکافی ہونگے