Original Articles Urdu Articles

طاہر القادری اور عمران خان کا لانگ مارچ اور کرپشن و تکفیری دہشت گردی کا شکار عوام – عمار کاظمی

i

 محبت انجام دیکھے بنا گھٹتی نہیں اور مچھلی پتھر چاٹنے بغیر پلٹتی نہیں۔ بڑے شہروں کی نوجوان نسل روایتی سیاست سے بیزار ہے اور طاہرالقادری کے ہمنوا بزدل اور متعصب نظام عدل اور فرقہ واریت کے ستائے ہوئے ہیں۔ موجودہ نظام دونوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم یہ بھی طے شدہ حقیقت ہے کہ لوگ بار بار گھروں سے نہیں نکل سکتے۔ وزیر اعظم کے استعفی یا وسط مدتی انتخابات کے اعلان سے کم کوئی بھی شرط عمران خان کی سیاسی موت اور طاہرالقادری کی عوامی مقبولیت کی موت ہوگی۔ دوسری طرف تکفیریت کے حامی امن اوربھائی چارے کا نقاب اوڑھے انتہا پسند دیوبندی علما طاپر اشرفی، مولانا فضل الرحمن کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر علما دیو بند بھی یہاں فرقہ واریت کے خلاف طاہرالقادری کی آواز میں آواز اور ہاتھ سے ہاتھ ملا کر پاکستان سے فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کوشش کرتے تو اس سے پورے پاکستان کو فاءدہ ہوتا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان کے اہلحدیث، وہابی سلفی علما کا رویہ نسبتا بہتر محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس میں پارٹی نہیں بن رہے۔ حافظ طاہر اشرفی اور فضل الرحمن کی طرح تکفیری صحافی، کالم نگار، دانشور بھی کھل کر سامنے آنا شروع ہوگءے ہیں۔ ان میں مجیب الرحمن شامی، سلمان غنی اور سلیم صافی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ لوگ دانستہ طور پر طاہرالقادری کے جاءز مطالبات کو غلط رنگ دے کر پاکستان میں پہلے سے موجود فرقہواریت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ سے لے کر علما اور دانشروں تک ہر ایک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کے بننے یا بگڑنے کا وقت آ چکا ہے۔ گزشتہ پینسٹھ برس کا ناکام نظام پانچ دس سال سے زیادہ نہیں چل سکے گا۔

اگر تحریک انصاف کی بات کی جاءے تو اس کے مخالفین اور حامی دونوں ہی پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ مگر معذرت کے ساتھ یہ دونوں مضحکہ خیز محسوس ہوتے ہیں۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ آجکل جو کچھ تحریک انصاف کے خلاف سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں اس مین نہ تو دلیل نظر آتی ہے اور نا سمجھ۔ محض نظریاتی مخالفت اور مخالفت براءے مخالفت نظر آتی ہے۔ اسی طرح ستے خود تحریک انصاف والے بھی جس طرح سے اتنے سنجیدہ معاملے کو لے کر چل رہے ہیں وہ جہالت سے کم نہیں۔ عمران خان انتہاءی سنجیدہ جملہ کہتے ہیں اور اس کے بعد عطا للہ عیسی خیلوی کا گنا شروع ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کراچی اور لاہور کی اکثر نوجوان قیادت عمران خان کے لہجے اور سٹاءل میں بات کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھاءی اگر اپنی شخصیت ہی نہیں رکھنی تو پھر یہ تبدیلی کے نعرے کیسے؟ پھر یہ روایتی سیاست کی مخالفت کیسی؟ اگر آپ نے بھی بُت بنا کر پوجنا ہے تو پہلے بُتوں میں کیا خرابی ہے؟ خیر یہ سب تنقید پھر کبھی سہی ابھی موقع کے مطابق صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے واقعی بہت اہم ہیں۔ ان دونوں تحریکوں کے مخالفین انھیں جتا مرضی ناکام یا کمزور بیان کر لیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اگلے دو تین دن میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے بھیا مخالفین زیادہ خوش ہونے اور اچھلنے کودنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

پی این اے کی تحریک میں سیاسی جماعتیں زیادہ مگر ان کی عوامی حمایت کم تھی۔ عمران خان اور طاہرالقادری کی تحریکوں میں سیاسی جماعتیں نسبتا کم ہیں مگر ان کی مقبولیت پی این کی جماعتوں سے بہت زیادہ ہے۔ لاہور میں ایسی ایسی فیملیز عمران خان اور طاہرالقادری کے لانگ مارچ کا حصہ بننے کو تیار بیٹھی ہیں جو پہلے کبھی ووٹ بھی نہیں ڈالتی تھیں۔ مجھے ان دونوں میں کوءی مماثلت نظر نہیں آتی۔ پی این اے کی تحریک اقلیت کی طرف سے اکثریت کے خلاف کھلی سازش تھی۔ مگر آج حکومت مخالف تحریک میں عوام ایک کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ عوام کی اتنی بڑی اکثریت کو محض اسٹیبلشمنٹ کی سازش کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

———–

طاہرالقادری کا سب سے بڑا جرم اس کا عقیدہ یعنی سنی صوفی بریلوی مسلک ہے۔ عمران خان پولیس سکیورٹی میں لانگ مارچ لے کر نکلے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پورے لاہور کی ڈنڈا اور بندوق بردار پولیس نے منہاج القرآن کا محاصرہ کر رکھا تھا اور ابھی تحریک انصاف کا قافلہ نکلنے کے بعد انھیں نکلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ طاہرالقادری کا قصور صرف اتنا ہے کہ کے اس پاس لال مسجد کے مولانا عزیز اور اکوڑہ خٹک کے سمیع الحق جیسے تکفیری دوبندی علما کی طرح خودکُش بمبار نہیں ہیں۔ منہاج القرآن کے کارکن مجرم ہیں کہ یہ پولیس اہلکاروں کو بم دھما کوں میں اڑانے اور اغوا کرنے کی بجاءے صرف ڈنڈوں اور پتھروں پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ ان کا یہ جرم بھی بہت بڑا ہے کہ یہ اقلیتوں کا قتل نہیں کرتے۔ یہ جراءم پیشہ لوگ کسی ہندو لڑکی کو زبردستی نکاح پڑھا کر مسلمان نہیں کرتے ہیں۔ یہ بڑے مجرم ہیں کہ یہ نا تو فوجی گاڑیوں ہر حملے کرتے ہیں اور نا ہی اقلیتوں کی بستیاں جلاتے ہیں۔ ان جراءم پیشہ پسماندہ بریلوی سنیوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ اکثریت میں ہونے کے باوجود زبردستی کرنا نہیں جانتے اور اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔ یہ مجرم ہیں کہ ان کے پاس ان کے اٹھارہ لوگ پولیس کے ہاتھوں مروانے کے باوجود نا کوءی خود کُش بمبار ہے اور نہ کوئی سرکاری یا نجی تربیت یافتہ جہادی گروپ ہے۔ پاکستان کے تکفیری لبرلز کو ان کا جی بھر کر مذاق بنانا چاہیے۔ یہ پاگل، یہ جاہل مُردوں سے بھتہ مانگتے ہیں، درباروں کا چندہ اور غریب مُریدوں کے مرغے کھاتے ہیں مگر مخالفین کو ذبح کرنا نہیں جانتے۔ یہ اتنے جاہل ہیں کہ یہ انسانی سروں سے فٹبال کھیلنا بھی نہیں جانتے۔ ایسے جاہلوں کا جدید مذاق تو بننا ہی چاہیے۔ نہ بم بنانا جانیں اور نہ خودکُش جیکٹس۔ جاہل کہیں کے۔

——

تاریخ کے پھٹُو ترین شیر

نواز لیگ نے اپنا انتخابی نشان شیر چن رکھا ہے مگر میں نے اپنی زندگی میں ان سے زیادہ بڑا پھٹُو نہ کبھی دیکھا اور نا کبھی سُنا ہے۔ تاریخ کے پھٹُو ترین شیروں کا پورا احوال میڈیا پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ لاہور سے باہر بیٹھے لوگ یہاں کی خراب صورتحال اور بگڑتے ہوءے حالات کا اندازہ کر ہی نہیں سکتے۔ اتنے دنوں میں آج پہلی مرتبہ اکبر چوک تک جانے کا اتفاق ہوا اور پتہ چلا کہ پلویس والوں کی بسوں پہ بسیں بھری چلی آرہی ہیں۔ اکبر چوک کے سگنل پر رکا تو دو تین نجی ٹرانسپورٹ کمہنیوں کی بسیں پاس سے گزریں۔ بے ارادہ نظر اُٹھ گءی کہ شاید ان میں تحریک انصاف یا عوامی تحریک کے کارکنان نہ ہوں۔ مگر اندازہ غلط نکلا نا تو اس میں تحریک انصاف یا عوامی تحریک کے کارکن تھے اور نا ہی ان میں عام شہری تھے۔ بلکہ وہ بسیں پولیس والوں سے بھری ہوءی تھیں۔ سڑک کے دونوں اطراف ہر دس بیس فٹ کے فاصلے پر بیس پچیس پولیس اہلکار ڈنڈوں اور بندوقوں سے لیس کھڑے نظر آءے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نواز حکومت نے لانگ مارچ یا انقلاب مارچ روکنے کے لیے بہت وسیع پیمانے پر تشدد کے انتظامات کر رکھے ہیں۔

کنٹینرز کے نیچے سے لوگ نکل جاتے تھے اب ان کے نیچے خاردار تار بھی لگا دی گئی ہے۔ ماڈل ٹاءون سے اکبر چوک، جناح ہسپتال، لنک رود، برکت مارکیٹ تک ہر چھوٹی بڑی گلی کو کنٹینرز اور اس کے بعد خاردار تار لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ایک بڑی جیل بنا دی گءی ہے۔ کنٹینرز کی قلت ہوگءی اب کنٹینرز ٹرک اور ڈراءیور سمیت کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ کل اگر کچھ لوگ مر گءے اور فساد شروع ہو گءے تو ڈراءیور، ہیلپر، ٹرک، کنٹینر، سامان، سب جل کر راکھ ہو جاءے گا۔ آج رات یا کل کیا ہونے والا ہے یہ کوءی نہیں جانتا “اللہ خیر کرے” مگر آثار بتا رہے ہیں کہ شاید کچھ بہت زیادہ اچھا نہیں ہونے جا رہا۔

———-

About the author

SK

52 Comments

Click here to post a comment