Original Articles Urdu Articles

طالبان کے حامی حامد میر کی طاہر القادری کو تکفیری دیوبندی طالبان سے ملانے کی بھونڈی کوشش

111

جب سے ڈاکٹر طاہر القادری نے شیعہ سنی اتحاد کی قیادت کرتے ہوے وہابی دیوبندی حمایت یافتہ نواز شریف کی حکومت کی سیاسی مخالفت شروع کی ہے نواز شریف کے ٹکڑوں پر پلنے والے نام نہاد لبرل صحافی اور تکفیری دونوں طاہر القادری پر ذاتی اور مسلکی نوعیت کے حملے کر رہے ہیں

نسیم زہرہ کے بعد حامد میر بھی طاہر القادری کو طالبان سے ملانے یا تکفیری دیوبند طالبان سے بھی بڑا خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہی لوگ تکفیری دیوبندی طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوے نہایت محتاط رویہ اور الفاظ استعمال کرتے ہیں

حامد میر جن کے طالبان اور لال مسجد کے دہشت گردوں سے تعلقات کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ان کا طاہر القادری کو اور ان کے حامی افراد کو صرف بریلوی ہونے کی وجہ سے طالبان سے ملانا یقینی طور پر مسلکی بغض کا نتیجہ ہے

پاکستان کے لبرل اور نواز یافتہ صحافیوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ نواز شریف کی مخالفت کرنے والے افراد کو کبھی ملک دشمن اور کبھی اسلام دشمن قرار دیتے ہیں جب کہ نواز شریف کے دیوبندی تکفیری تنظیموں سے تعلقات کے خلاف ایک لفظ کہنے کو بھی شرک اور گناہ عظیم سمجھتے ہوے خاموشی اختیار کرتے ہیں

21

Crticism Hmid Mir

About the author

Shahram Ali

2 Comments

Click here to post a comment
  • طالبان اور طاہر القادری میں ایک واضع فرق ہے، طالبان جو بولتے ہیں اس پر قائم رہتے ہیں جبکہ طاہر القادری صاحب کی ایک زبان نہیں، وہ اپنے بیان اور فتوے حسب ضرورت بدلتے رہتے ہیں اور کہی ہوئی بات سے باآسانی مکر جاتے ہیں۔

  • The fight against the Taliban is not just a military struggle. It is also an ideological struggle between moderate and Takfiri Islam. The army can use its tanks and guns but for all-out victory, for success on the ideological front, for Pakistan to return to its moorings, there has to be a meeting of minds between the army and moderate Islam. And if there is such an understanding, conscious or otherwise, Pakistan will never go the way of Iraq or Syria. No Salafi brand of fitna (discord) can arise on its soil.

    Ayaz Amir