Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ: کیا تعمیر پاکستان ایک فرقہ وارانہ ویب سائٹ ہے؟

lubp

آج کل تعمیر پاکستان ویب سائٹ ایل یو بی پی کے خلاف بعض ایران نواز پاکستانی شیعہ ویب سائٹس پر یہ پروپیگنڈا کیا جارہا کہ اہل تشیع خبردار ہوجائیں کہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ ایک صیہونی، یہودی اور قادیانی ویب سائٹ ہے جو شیعت کا لبادہ اوڑھ کر اسرائیلی اور قادیانی پروپیگنڈا کا کام کررہی ہے

اس سے قبل ایل یوبی پی کے بارے میں دیوبندی و سلفی لابی کا یہ پراپیگنڈا ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ رافضی ویب سائٹ ہے جبکہ احمدیوں کے حقوق کےلیے سر گرم بلاگر یاسر لطیف ہمدانی اور امید ملک کے بقول ایل یو بی پی ویب سائٹ احمدیوں کے خلاف نفرت اور جھوٹ پر مبنی مہم چلا رہی ہے

ایران نواز شیعوں کی طرف سے حالیہ پروپیگنڈا کی وجہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ پر حال ہی میں شایع ہونے والے وہ آرٹیکل بنے ہیں جس میں ایران کے شورائے نگہبان کے سربراہ آیت اللہ خامنہ ای کے ایک بیان پر تنقید کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تکفیری ھمارے اصلی دشمن نہیں بلکہ امریکہ ہے – تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے ایران کی جانب سے ایک تکفیری نظریات کی حامل جماعت حماس کی حمائت اور اسے مبینہ طور پر عسکری و مالی مدد فراہم کرنے پر تنقید کی جبکہ ایک آرٹیکل میں حماس کی جانب سے سویلین آبادی کو نشانہ بنانے پر بھی تنقید کی گئی

پھر تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے یوم القدس کے حوالے سے پاکستانی شیعہ کمیونٹی میں ایران نواز تنظیموں اور افراد کے رويے پر تنقید پر مشتمل تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے سابق چیف ایڈیٹر عبدل نیشا پوری اور فیس بک پر پوسٹ ہوئے عامر حسینی کے مضامین شایع کئے اور ساتھ ہی ہم نے اس کے جواب میں آنے والے تنقیدی مضامین کو بھی شایع کیا حالانکہ ایل یو بی پر وہ تنقیدی مضامین مدلل جواب کی بجائے تعمیر پاکستان پر الزامات اور اتہام و بہتان لگانے کے سوا کچھ نہ تھے

ہم واضح کردیں کہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ شیعہ سائٹ ہرگز نہیں ہے اگرچہ اس ویب سائٹ میں بہت سے سنی صوفی اور شیعہ ترقی پسند ہاتھ بٹارہے ہیں اور اس کے چیف ایڈیٹر علی عباس تاج اگر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ راقم ايڈیٹر محمد عثمان ولد ابوبکر صدیق صوفی سنّی روایت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ اس سائٹ سے بہت سے اعتدال پسند اہل حدیث اور اعتدال پسند دیوبندی بھی منسلک ہیں اور اسی طرح سوشلسٹ، کمیونسٹ ، سیکولر لبرل اور کسی بھی مذھب پر یقین نہ رکھنے والے بھی اس کا حصّہ ہیں

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے بارے میں ہمیں دوسری وضاحت یہ کرنی ہے کہ اس ویب سائٹ نے اگرچہ عالمی سلفی دیوبندی وہابی تکفیری آئیڈیالوجی کے بارے میں جمہور مسلمانوں کے افکار اور خیالات بارے بہت سی تحریریں اس ویب سائٹ پر شایع کیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہاں ہم کسی فرقے کے یا کسی گروہ کے مسلم یا مرتد یا اس کے عیسائی ہونے یا نہ ہونے ،یہودی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لیے اس ویب سآئٹ کو کھولے ہوئے ہیں

ہم جب احمدی کمیونٹی کی مذھبی آزادی کے سوال کو یا شیعہ یا صوفی سنی کی مذھبی آزادی کے سوال کو زیر بحث لاتے ہیں تو اس سے مراد ان کے مسلم فرقہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا ہرگز نہیں ہے، انفرادی مضمون نگاروں کی آرا اس موضوع پر مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ہم ریاست کی طرف سے کسی بھی گروہ کو مسلم یا غیر مسلم قرار دینے کی اصولی مخالفت کرتے ہیں، ہم کسی کے اسلام یا کفر کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں، نہ ہم کریں گے تو ہم پر یہ الزام لگانا کہ ہم شیعہ کمیونٹی کو یہ تلقین کرنے نکلیں ہیں کہ وہ احمدی کمیونٹی کو مسلمان مان لیں ہرگز ٹھیک نہیں ہے نہ ہی ہم تکفیریوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ وہ شیعہ یا سنی بریلوی کو مسلمان یا غیر مشرک مان لیں

میں اپنی زاتی حثیت میں سنّی عقیدے کا حامل ہوں میں ابو بکر صدیق ،عمر فاروق ،عثمان غنی اور علی المرتضی رضوان اللہ اجمعین کی خلافت کے حق اور جائز ہونے کا قائل ہوں لیکن اس سائٹ پر میرا یا اس کے چیف ایڈیٹر کا معاملہ اس خلافت یا عدالت پر بحث کرنا نہیں ہے اور اسی طرح بطور سنّی میں اپنی زاتی حثیت میں ختم نبوت کو اپنے عقیدے کا لازمی جزو خیال کرتا ہوں لیکن اس ویب سائٹ پر یہ ایشو زیر بحث نہ ہے تو جو لوگ ہم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ہم ایران نواز شیعہ کمیونٹی کو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ احمدیوں کو مسلمان لکھیں سراسر جھوٹ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے – ہماری غرض تو پاکستان کے آئین میں احمدیوں کی تکفیر سے ہے جو اصولی طور پر ریاست کا حق نہیں

ایل یو بی پی کے تمام زمہ دار اس بات کے قائل ہیں کہ ریاست کا مذھب سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاھئیے اور مذھب کو لوگوں کا زاتی معاملہ ہی ہونا چاہئیے جبکہ یہ ویب سائٹ بجا طور پر یہ خیال بھی کرتی ہے کہ پاکستانی آئين ميں بہت سی ایسی شقیں موجود ہیں جو مذھبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی نفی کرتی ہیں ان کو ختم ہونا چاہئیے ہم مظلوم کی حمائت کرنے میں کسی تمیز کے روا رکھے جانے کے خلاف ہیں اور اسی طرح ظالم کی مذمت کرتے وقت ظالم کو اس کے مذھبی یا نسلی شناخت کے باعث چھوڑ دینے کے قائل نہیں ہیں

ولائت فقیہ کے بارے میں تعمیر پاکستان ویب سائٹ کا بطور ادارہ کوئی موقف نہیں ہے کیونکہ اس سے وابستہ لوگ اس کے ماننے والے بھی ہیں اور نہ ماننے والے بھی جبکہ اہل سنت یا سوشلسٹ ، کمیونسٹ تو اسے ویسے ہی نہیں مانتے لیکن شیعہ ، صوفی سنّی نسل کشی ، عیسائیوں ، ہندوؤں ، احمدیوں کی مذھبی پراسیکیوشن کے خلاف تعمیر پاکستان ویب سائٹ کا بیانیہ جو یہ ہے کہ اس کی زمہ داری عالمی سلفی دیوبندی وہابی تکفیری نیٹ ورک پر عائد ہوتی ہے کے بارے میں تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی انتظامیہ میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے

میں ایرانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر علمائے اہل تشیع کا احترام اس لیے کرتا ہوں کہ وہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں شیعہ مسلک کے لوگوں کے ںزدیک قابل احترام ہيں اگرچہ ان سے اختلاف کرنے والے بھی موجود ہیں اسی طرح کا احترام میرے دل میں ہر دین، مزھب اور فرقے کے پر امن رہنماؤں کے لیےہے

عامر حسینی ،عبدل نیشا پوری نے اپنی تحریروں ميں جن خیالات کا آظہار کیا وہ انھوں نے ذاتی حثیت میں کیا اور ویسے بھی عامر حسینی ہماری ایڈمن ٹیم کا حصّہ نہیں ہیں جبکہ عبدل نیشا پوری نے صراحت کی کہ انھوں نے اپنی زاتی حثیت میں ان خیالات کا آظہار کیا

تعمیر پاکستان میں شایع ہونے والی پوسٹس نہ ہی حرف آخر ہوتی ہیں اور نہ ہی ان تمام پوسٹس کے مندرجات سے ہم سب کا متفق ہونا ضروری ہے لیکن حریت فکر کے اصول کے تحت ہم تمام آرا اور شائستہ اسلوب کو شایع کرتے ہیں

آگر کوئی صاحب ہماری کسی پوسٹ کا جواب دینا چاہیں تو وہ شوق سے دے سکتے ہیں تعمیر پاکستان ویب سائٹ اسے شایع کرے گا

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

37 Comments

Click here to post a comment