Original Articles Urdu Articles

ایران کے مذہبی بیوپاری، حماس کی سرپرستی اور اندھے مقلد پاکستانی شیعہ – عامر حسینی

ah

مذهب کے جو بیوپاری ہیں ، وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
ان دین کے ٹهیکے داروں سے، میں باغی ہوں ،میں باغی ہوں

اس سے پہلے کہ میں اپنی اصل بات کی طرف آؤں میں امام سجاد زین العابدین، سیدالساجدین علی بن حسین بن علی بن ابن ابی طالب کا ایک قول درج کرتا ہوں ،آپ نے فرمایا تها کوفہ کسی شہر کا نہیں بلکہ یہ تو کیفیت و ذہنیت کا نام ہے جہاں پائی جائے وہی جگہ کوفہ ہے اور وہی ذہنیت کوفی لایوفی ہے

دوسری بات مولائے کائنات نے کہی تهی کہ اے کوفہ والو ! یاد رکهو اگر تم دشمن کا اپنے دروازے پر آنے کا انتظار کرتے رہے تو وہ تم پر زلت کا عذاب مسلط کردے گا اگر زلت کی شکست سے بچنا ہے تو آگے بڑهو اور دشمن کے گهر پر اسے دعوت مبارزت دو

تیسرا قول مولانا جلال الدین رومی کے شعر کے مصرعہ ہے کہ مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

اور آج ایرانی ملاوں اور ان کا بینر هاته میں اٹهائے لوگوں پر یہ تینوں قول صادق آتے ہیں یہ غلط طور پر یہ فرض کئے بیٹهے ہیں کہ تکفیریوں کے درمیان کسی طرح کی تقسیم کرکے یہ شیعہ نسل کشی کا سلسلہ روک لیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے

یہ کس قدر احمقانہ پن اور عقل سے عاری ہونے کی بات ہے کہ عراق ،شام اور لبنان ،سعودی عرب کے اندر سرگرم تکفیری تو دشمن ہیں، خوارج ہیں اور دشمنان ملت اہل تشیع ہیں لیکن مصر، قطر کے اخوان اور فلسطین کی حماس جن کی شیعہ دشمنی اور تکفیری و خارجی نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں وہ اسلام کے سپاہی ہیں مجاہد ہیں اور جب سعودی عرب داعش سمیت سلفی وہابی گروپوں کو اسلحہ فراہم کرے تو فتنہ گر اور جب حماس جیسی بنیاد پرست، عورت دشمن ،مسیحی دشمن ، شیعہ دشمن ، صوفی سنی دشمن جماعت کو اسلحہ فراہم کیا جائے تو یہ بالکل جائز عمل اور جہاد فی سبیل اللہ کی مد میں آتا ہے

لیکن پاکستان میں اہل تشیع کے ایسے لیڈر اور رہنماء موجود ہیں جو نہ صرف حماس کی تکفیری اور شیعہ دشمن بنیادوں کو چهپاکر اسے سنی تنظیم قرار دینے اور اس سے ایران کے تعاون کو شیعہ سنی اتحاد کی مثال بناکر پیش کرتے ہیں اور حماس کی سویلین کو نشانہ بنانے اور غزہ کی پٹی کو دوسرا وزیرستان بنانے کی کوششوں کے بارے میں وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں

میرے دوست عبدل نیشاپوری بالکل ٹهیک سوال اٹهاتے ہیں کہ اے میرے شیعہ پاکستانی بهائیو، اے حماس کے غم میں سو سو ٹسوے بہانے والو، اے حماس کے پرچم لہرانے والے لوگو، کیا تم پاکستان میں بائیس ہزار شیعہ اور دس ہزار سنی مسلمانوں کے دیوبندی تکفیریوں کے هاتهوں مارے جانے پر ایک مذمتی بیان حماس کا دکهلا سکتے ہو ؟
کیا حماس نے شام اور عراق میں انبیائے کرام ،اصحاب رسول ،اہل بیت اطہار کے مزارات گرائے جانے اور عراقی شیعہ اور صوفی سنی مسلمانوں کے قتل پر کوئی پالیسی بیان جاری کیا ؟
ارے نہیں نا

ہاں اگر میرے شیعہ اور سنی بهائیوں کو کوئی مغالطہ ہو تو میں بتادیتا ہوں کہ حماس سے تعلق رکهنے والے بہت سے عظیم مجاہدین نے غزہ سے مصر اور مصر سے اردن اور وہاں سے عراق تک کا ہزاروں میل کا سفر طے کیا اور پهر غریب صوفی سنی اور شیعہ عراقیوں کے اندر جاکر خود کو دهماکے سے اڑالیا لیکن کسی مجاہد نے تل ابیب تک پہنچنے کی ہمت نہیں کی اور یہی حماس اخوان سے ملکر ترکی، قطر کی حمایت سے شام میں عالمی سامراجی دہشت گردی کی حمایتی بنی رہی

اس حماس نے نہ ہی اخوان نے اس وقت شام میں امریکی ، یورپی اور عرب ملکوں کی غنڈا گردی اور سینہ زوری سے دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنے پر کوئی آواز نہیں اٹهائی

لیکن اس سب کے باوجود ایرانی ملاوں اور ان کے زیر اثر پاکستانی شیعہ مولوی اور ان کے عقیدت مند حماس کے پیچهے میں واری، میں صدقے کہہ کر چکرکاٹتے نظر آتے ہیں

جس طرح پاکستان کی جماعت اسلامی کے سابق اور موجودہ امیر دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے حامی اور ان کے لئے عذرتلاش کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں اسی طرح خالد مشعل بهی قطر اور اخوان کی سرپرستی میں تکفیریوں سے ہم آهنگی رکهتے ہیں

حماس ،اخوان ان تنظیموں میں شامل ہے جنهوں نے اصل میں فلسطین کے ایک قومی آزادی کے کیس کو محض مسلمانوں کی آزادی اور اس سے بهی مراد سلفی وهابی تکفیری اقلیتی ٹولے کا تسلط ہے میں بدل ڈالا اور مذهب و عقیدے کی بنیاد پر قتل و غارت گری کی گئی اور اس سے یہ قومی تحریک مذهبی جھگڑے میں بدل گئی

مجهے تو یوم فلسطین کو القدس ڈے کہنا بهی اس کیس کو بگاڑنے کی کوشش ہے اگرچہ اس کی لاکه سیکولر تعبیرات کرلی جائیں اور یہ حماس ،اخوان وغیرہ ہیں جنهوں نے اسے یہودیت بمقابلہ اسلام ایشو بناڈالا اور حماس سامیت مخالف ہے جیسے صہیونیت اصل میں عرب سامیت مخالف ہے

حماس کے جرائم اسرائیل کے جرائم کے برابر ہرگز نہیں ہیں لیکن حماس کے جرائم میں اس کی تکفیری سلفی آئیڈیالوجی کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ایرانی ملا کا یہ بہت بڑا جرم ہے کہ وہ فلسطین کے اندر ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کررہا ہے جس کے تکفیری خوارج سے قریبی روابط ہیں اورایران کے اندهے معتقد اس کے دوهرائے جملوں کی جگالی میں مصروف ہیں
میں اہل تشیع سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی آزاد روح کو ایرانی ملا کے پاس گروی نہ رکهیں یہ ان کو بند گلی کی طرف دهکیلنے میں دیر نہیں لگانے والے

About the author

Aamir Hussaini

21 Comments

Click here to post a comment
  • عامر حسینی بهائی !آپ جیسی جرات اور ہمت میں نے بہت کم لوگوں میں دیکهی اللہ پاک نبی کریم کے صدقے آپ کو دشمنوں اور حاسدوں سے محفوظ رکهے ،آپ نے جس طرح سے کلمہ اعلائے حق کہنے میں اپنے پرائے کا فرق نہیں کیا اور ہمیشہ ببانگ دهل سچ لکها اس سے مجهے یہ یقین ہوچلا ہے کہ یہ دنیا اگرچہ ظلم و جور سے بهر چکی ہے لیکن آپ جیسے لوگ نشانی ہیں قائم آل محمد امام مهدی کی برکتوں اور نزول کی ،مولا کریم آپ کے علمی فیض سے ہمیں اور مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے

    • what is this??,,, how u say that this man is telling the truth,,,
      aap log apna soch ka andaaz theek kro,, Shakhsyet aur Naam k Button ko pojna chor do,, agr hamas ya iran ya pakisan , shia ya sunni,, what ever,,, jo kaam ghalat kry us kaam k ghalat ya sahe hony ki nishan dahi kro,, jo kuch ISLAM ki tareekh me hua tu aap musalman qom ko hi bura bolo gy,,, (aap sy kuch baeed nahi) ,,, ghalat sirf amal hoty hen na k insaan,,, aur group me achy buy log shamil hoty hen , kisi ek fard ki ghalti ko Group, Sect, Religion, Coutry, Nation k Ghalat sabit krny k lye prove ni kia ja skta,,,, MISSION ko dekho,, agr acha hy tu support kro,, bura hy tu na support kro,,,

  • ایران کے علاوہ کس سے الحاق کریں بیچارے پاکستانی شیعہ . سعودیہ تو گھاس ڈالیگا نہیں.
    سعودیہ تو پاکستانی دیوبندی تنظیموں سے شیعوں کو مر وا رہا ہے
    امریکہ کے ساتھ جو کھڑا ھوا خاک میں مل گیا – یہ جو کچھ بھی تھوڑا بہت ایران اپنے پیروں پے کھڑا ھے اور امریکہ اور مغرب سے کم از کم بات تو کرسکتا ہے وہ بھی صرف اسی لیے اس قابل ھوا ھے کے ایک بہت بڑی منحوست سے کافی عرصے سے جان چھٹی ھوئی ھے. یعنی امریکہ کی دوستی سے.
    __ بقول غالب :
    ہوے تم دوست جس کے
    دشمن اسکا آسمان کیوں ہو

    اب یا تو پاکستانی شیعہ سعودیہ کی تقلید کرلیں یا امریکہ کی امان میں جا کر زیادہ تعداد میں مریں یا چپ چاپ ٹک ٹک ہی مرتے رہیں.
    یا پھر ان بزدل دیوبندیوں کے خلاف صرف دفاعی طور پر منظم ہو جائیں اور تھوڑا بہتا ایران سے یارانہ بھی رکھلیں . کم از کم آواز تو اٹھادیگا ایران. پاکستانی شیعوں کے حق میں.
    پاکستانی ایجنسی بہت ڈراینگی کے ایران کا نام بھی نہ لو ورنہ وہابی ٹولہ سعودیہ سے مدد لے لے گا.
    تو ایسا تو ہو بھی رہا ہے . پوری سعودی مدد اور پاکستانی ایجنسی کی مدد حاصل ہے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کو .
    ہاں البتہ یہ فٹو لوگ ان سے تھوڑا بہت ڈرتے ہیں جو ایک گولی بھی ان کی طرف چلا سکتے ہیں.
    ہم نے یہ دیکھا ہے .ان بزدل پھٹو سپاہ صحابہ کا دل گردہ اپنے بزرگوں سے زیادہ نہیں
    بس مجبور اور نہتے لوگوں کو مارتے ہیں – آپ ایک نقلی پستول لے کر ان کے سامنے چلے جائیں یہ کچھ بھی نہیں کرینگے . یزیدی پھٹو
    چیک کرلو بلکل سچ ہے

  • Excellent Amir Hussaini:

    You have cleared my confusion on this. This is really a logical approach towards Palestine issue. Anyhow Israel & Yahodi Arabia are on one page and Hamas is on the opposite side and that is the only reason hamas got Irani support?

    Rana Lahoree

  • What you want say?

    You think Iranian support to Hamas is new.
    absolutely not new and before current Gaza conflict Iran having closer tie with Hamas.Iranian support for Palestine about thirty year before since from the time of Imam Khomeini Iran celebrating Al Quds day in Ramadan last friday.If Hamas ideology according to your opinion friendly toward Salfiat than no Shia Org so strong in Palestine whom Iran Support.
    If Israel not stopped from their aggression rightly from beginning, do you thing he will not emerge into greater Israel. He has stepped up already for Greater Israel . regional countries not supporting to Hamas. If Iran not support to Hamas do you think Iran should directly turn into war or stay calm on issue.If stay stand still position He will lose in Iraq and Syria and ISIS is already near his boundries line. Iranian leadership in my opinion doing well to support Hamas to stop israeli aggression at for from his neighbourhood.

  • bro. nuqta e nazar apna apna… main pakistan say shuru krta hon iran say NOON league (saudi salfi nawaz) govt pakistan main salfiat k faroogh k leay kam krti zia k dour main is ki buniyad rakhi gai taliban ki tab nawaZ sharif wazir e ala tha imran khan ki bat krain ya jamat e islami ki tu dono bahany dhondhti hain k kahi sy taliban( takfeerio) ko bachaya jae un kay karttot ap k samny hain agr PPP ki bat karain tu ik zardari shia logo ka hami hy kisi had tak khulam khula na sahi q k us ny siasat bhi krni hy sipah e muhammad main b zardari ka bara hath tha lo agr USA ki bat karain tu mere mutabik USA ki policies thk hain main USA against hon sirf muslim dushmni ki bina py agr ghar hi ganda ho tu dosray ko ilzam ni lagaty muslmano ny firka parasti ki buniyad py 1990 sy pori duniya main khana jangi shuru ki halan k ye munafqat tu mavia say hi start ho gai thi…ab agr hamas ki bat karain tu hamas israel aur iran ik elhda issue hy hammas cho k ik hi musalah tanzeem hy palastine ki tu ap mr. batain mujhy k kibla yahoodio k hawalay karny say hazar darjay behtar hy k hamas k pas ho agr daish nawaz hamas hy tu USA sy q jang kr rhi? daish ki buniyad hi saudi arab aur amrica ny rakhi abu bakar albaghdadi 2002 say 2006 tk USA ki qaid main tha 5’6 salo main ik mazboot dehshat gard tanzeem koi bana k dikhaye turkey daish ko asla daita daish masjidain shaheed krti hamas ny tu ni ki koi masjid shaheed? farak hy bhaaaaaaai
    iman khumaini ra ny kaha tha k sb muslman ik ik kuli israil py phainkain tu israel nistonabod ho jae ga….but need itehad na k intashar so write well

    pehly tolo phir bolo

  • Bhai har koi apni apni bat kar raha hy.aur mainay note kia hy k yaha bhe unity ji bajae firka bazi ki baten ho rehen hain. Bs ab hamen dua karni chahye k Allah sub musalimano ko hidayat day,ameen

  • Whatever is writer of this article says, that is his opinion. I don’t agree with him. I feel he is trying create differences among our shia brothers. To our shia brothers, please be careful. You don’t know who is your enemy and disguise as your friend.

  • Hamas and Hizbullah are like two hands of one Muslim ummah, and they must learn from their mistakes and they must work together to end this Zionist, Yankist and Saudis axis of evil.

  • Author himself is a suspicious personality… Beaware.. Qadiyanis hv disguised themselves as Muslims.

  • ایرانی امداد اور خامنائی کے خمس پر پلنے والے پاکستانی شیعہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی مدلل پوسٹس کا جواب دینے کی بجائے گالم گلوچ، تکفیری نعروں اور حربوں پر اتر آئے ہیں – عظیم سبزواری، صباح حسن، جعفر طیار نقوی سے لے کر ایران کے دیگر نمک خوار ایل یو بی پی کو قادیانی، صیہونی، یہودی اور اس طرح کے دیگر تکفیری القابات سے نواز رہے ہیں ان میں سے کچھ جواد نقوی کے پیرو ہیں، کچھ ساجد نقوی کے اور کچھ راجہ ناصر عباس کے – لیکن ایرانی ملاؤں کے تلوے چاٹنا اور زیادہ سے زیادہ مال امام ہڑپ کرنا ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے – یہ مولا حسین سے دغا بازی کرنے والے کوفیوں کی اولاد ہیں، ایل یو بی پی کی پوسٹیں چوری کر کر کے انہوں نے شیعہ نسل کشی پر اپنے مضمون بنائے ہیں اور آج یہ تکفیری دیوبندیوں کے دلال بن گئے ہیں فقط چند ایرانی ریالوں کی خاطر

    ایک غیرتمند اور آزاد پاکستانی شیعہ کی حیثیت سے میں ایل یو بی پی کی ٹیم اور ان کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں، انسانی حقوق کے لئے آپ کا گرانمایہ کام ثابت کرتا ہے کہ آپ مولا علی کے صحیح پیرو ہیں

    سید گلزار حسین نقوی – کراچی

    • BARAY AFSOS KI BAT HAY baghair kisi saboot aur refrence kay aap aisay ilzamat nahi laga saktay…

  • We fully support Sayed Azeem Sabzvari, Jaafer Tayyar Naqvi and Sabah’s campaign against Qadiyani Kafir Zionist Jew web site LUBP.

    All Iran-loyalist Pakistani Shia facebook pages Muslim Unity, Political Shia Pakistan, Vision of Iqbal aka Vision of Imam Allama Jawad Naqvi are our fronts to expose LUBP’s Kafir Qadiyani Jew lobby.

    All those Shias who refuse to follow Wali-e-Faqih Ayatollah Khamenai’s orders and policies are enemies of God.

    Murdah baad dushman-e-Wilayat-e-Faqeeh. Murda Baad Dushmane-e-Imam-Allama-Jawad Naqvi.

    From: Vision of Iqbal (Vision of Allama Imam Jawad Naqvi), Political Shia Pakistan, Muslim Unity and a few other Iran-paid Iran-loyalist Pakistani Shias.

    – See more at: https://lubp.net/archives/318819/comment-page-1#comment-1296842

  • عامر حسینی صاحب : سلام علیک
    اہل علم کہتے ہیں کہ کسی مسۂلے کی تشخیص کا دارو مدار تین چیزوں پر ہے۔ تعلیم ، شعور ، اور اعلی ظرفی۔ ایران اور فلسطین کے بارے میں آپکی تحریروں کو پڑھنے کے بعد میں بلا تردد یہ کہونگا کہ آپ میں شعور اور اعلی ظرفی کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جمہوری اسلامی ایران کی فلسطین کے لیئے بے مثل قربانی کو یہ رنگ دیا ہے۔ آپ مجھے ایرانی نمکخوار کہیں یا اندھا شیعہ مقلد ، میں پھر بھی آپکو اسرائیلی یا قادیانی سازش کا حصہ نہیں گردانتا۔ بلکہ یہ آپکی سطحی فکر اور موضوع سے متعلق ناقص معلومات ہے ۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے حقائق کا ذکر کرنا چاہوں گا جس سے ثابت ہو گا کہ حقیقت آپ کی فکر کے بر عکس ہے ۔
    فروری 1979 میں اسلامی انقلاب ایران فتح سے ہم کنار ہوا ۔ یہ دنیا کا وہ واحد انقلاب تھا جس نے کامیابی کے فورا بعد دنیا کی مستضعف ترین ملت فلسطین کے رہنما یاسر عرفات کو مدعو کیا اور اسرائیلی سفارت خانے کو انکے سپرد کیا۔ یہیں سے انقلاب اسلامی ایران کی فلسطین مظلوم سے وابستگی کا آغاز ہوا۔ جو اسکے اخلاص ، اورصحیح تصور اسلام کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب یاسر عرفات کی جماعت “الفتح”فلسطین کی واحد نمائندہ جماعت تھی۔ اس وقت نہ حماس اور نہ جھاد اسلامی کا وجود تھا۔ اور نہ ہی امریکہ و اسرائیل نے تکفیری پیداوار کی کاشت کی تھی۔ اسی طرح شیعہ نسل کشی کا پروجکٹ بھی شروع نہیں ہوا تھا ۔ پھر فلسطینی رہنما یاسر عرفات پر یہ عنایات کرنا کس کو خوش کرنے کے لیئے تھا؟ کس سے سرٹیفیکیٹ لینا مقصود تھا؟ در حقیقیت ایران کا یہ اقدام ایک عظیم اسلامی فریضہ تھا۔
    عالمی استکبارامریکہ کی دو کمزوریاں ہیں ایک تیل ، دوسرا اسرائیل ۔انقلاب اسلامی ایران نے ان دونوں کمزوریوں کو چیلنج کیا ۔ ہر برے وقت میں فلسطین کا تنہا یاور و مددگار جمہوری اسلامی ایران رہا ہے، اسرائیل کے خلاف ہر مسلح مذاہمتی تنظیم چاہے وہ حماس ، جھاد اسلامی ، یا جبھۃ التحریر الفلسطین ہو، ان سب کا عملی مددگار ایران ہی ہے۔ آپکے مطابق حماس کے تکفیریوں سے روابط ہیں ۔ بلاشبہہ حماس میں تکفیری فکر رکھنے والے کچھ عناصر بھی موجود ہیں مگر حماس کو تکفیری جماعت سے تعبیر کرنا ایک بے ہودہ الزام سے زیادہ کچھ نہیں۔ حماس کے قائد خالد مشعل نے اپنے فلسطینی اہداف کو پس پشت ڈال کر شامی حزب اختلاف کا ساتھ دیا ۔ باوجود اسکے کہ شامی حزب اختلاف کو امریکی اور اسرائیلی حمایت اورمعاونت حاصل تھی۔ صرف دو سال کے اندر ہی حماس کو اپنی اس حماقت اور غلطی کا احساس ہو گیا ۔ جسکا اظہار چند ماہ قبل حماس کےدوسرے بڑے رہنما موسی ابو مرزوق نے المیادین ٹی وی چینل پر کیا انکا کہنا تھا کہ: ” شامی حزب اختلاف کا پرچم بلند کرنا ہماری غلطی تھی۔
    آپکی ناقص معلومات کی تصحیح کے لیئے بتاتا چلوں کہ 2004 میں حماس کے بانی رہنما شیخ احد یاسین کی شہادت کے بعد جب ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی نے حماس کی قیادت سنبھالی تو انھوں نے ایران اور حزب اللہ کو حماس کی رہنمائی کی دعوت دی۔ اسرائیل نے انھیں اس جرم میں کچھ ہی عرصے بعد شہید کر دیا۔ جسکا اعتراف اسرائیلی انٹیلیجنس نے خود کیا تھا۔ معروف امریکی صحافی جیفری گولڈن برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر الرنتیسی نے کہا تھا کہ عربوں نے ہمارے لیئے کیا کیا؟ ایران وہ واحد ملک ہے جو صہیونیت کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ایران پر تنقید کرنا ظلم ہوگا۔
    عامر صاحب : صرف فلسطین نہیں جب بوسنیا میں مظلوم مسلمانوں کو مدد کی ضرورت تھی تو واحد اسلامی ملک ایران تھا جو ہر طرح کی بندشوں کے باوجود انہیں اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔ جسکا ثبوت سابق بوسنین صدر عزت بگوویچ کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں سابق ایرانی وزیر خارجہ ولایتی کی طرف اشارہ کر کہ کہا تھا : “اگریہ (ایران ) نہ ہوتے تو ہمارا وجود باقی نہ رہتا۔”
    پچھلے35 سالوں میں ایران اپنے عوام کی خوشحالی کو داؤ پر لگا کر جس خلوص اور توانائی کے ساتھ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے وہ صرف ایک علی کا شیعہ ہی کر سکتا ہے ۔ کیا حماس کی ایک غلط پالیسی کی وجہ سے ایران اپنے تمام فلسطینی سنی بھائیوں پر اسرایئلی ظلم سے چشم پوشی اختیار کرلے اور قبلۂ اول کو بھی صہیونیوں کے حوالے کر دے ؟ اگر امام علی(ع) اس دور میں ہوتے تو ان حالات میں انکی کیا حکمت عملی ہوتی ؟ یقینا امام علی وہی حکمت عملی اپناتے جو انہوں نے اپنی خلافت غصب ہونے کے باوجود اپنائی یعنی اسلام کی خاطر خلفائے ثلاثہ کی رہنمائی فرمائی اور انکی غلطیوں کی تصحیح کی ، کیونکہ انکا عظیم مقصد اور ھدف بقائے اسلام تھا۔

    عامر حسینی صاحب : آپ شیعہ ہونے کا دعوی رکھتے ہیں ۔ آپ علی (ع) کے محب و دوستدار تو ہوسکتے ہیں لیکن علی کے شیعہ کہلانے کے قابل نہیں ۔ بقول ڈاکٹر علی شریعتی :”علی کا شیعہ وہ ہے جو علی کی طرح سوچے ، علی کی طرح احساس کرے ، معاشرے کی نسبت علی کی طرح ذمہ داری محسوس کرے اور اسے انجام دے”۔

    آج غزہ پر اسرائیل کے بد ترین ظلم کا بیسواں روز ہے ۔ حماس سے اختلافات کے باوجود ایران کا مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنا ایک بر وقت اور بجا اقدام ہے ، جس سے ایران کی فکر اسلامی کی گہرائی ، پختگی اور اعلی ظرفی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    “خواص کا راہ خدا میں بر وقت اقدام ، ان کاموں میں سے ہے جو تاریخ اور اصولوں کو نجات دیتا ہے۔”
    رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنئی

  • عامر حسینی صاحب : سلام علیک

    اہل علم کہتے ہیں کہ کسی مسۂلے کی تشخیص کا دارو مدار تین چیزوں پر ہے۔ تعلیم ، شعور ، اور اعلی ظرفی۔ ایران اور فلسطین کے بارے میں آپکی تحریروں کو پڑھنے کے بعد میں بلا تردد یہ کہونگا کہ آپ میں شعور اور اعلی ظرفی کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جمہوری اسلامی ایران کی فلسطین کے لیئے بے مثل قربانی کو یہ رنگ دیا ہے۔ آپ مجھے ایرانی نمکخوار کہیں یا اندھا شیعہ مقلد ، میں پھر بھی آپکو اسرائیلی یا قادیانی سازش کا حصہ نہیں گردانتا۔ بلکہ یہ آپکی سطحی فکر اور موضوع سے متعلق ناقص معلومات ہے ۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے حقائق کا ذکر کرنا چاہوں گا جس سے ثابت ہو گا کہ حقیقت آپ کی فکر کے بر عکس ہے ۔

    فروری 1979 میں اسلامی انقلاب ایران فتح سے ہم کنار ہوا ۔ یہ دنیا کا وہ واحد انقلاب تھا جس نے کامیابی کے فورا بعد دنیا کی مستضعف ترین ملت فلسطین کے رہنما یاسر عرفات کو مدعو کیا اور اسرائیلی سفارت خانے کو انکے سپرد کیا۔ یہیں سے انقلاب اسلامی ایران کی فلسطین مظلوم سے وابستگی کا آغاز ہوا۔ جو اسکے اخلاص ، اورصحیح تصور اسلام کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب یاسر عرفات کی جماعت “الفتح”فلسطین کی واحد نمائندہ جماعت تھی۔ اس وقت نہ حماس اور نہ جھاد اسلامی کا وجود تھا۔ اور نہ ہی امریکہ و اسرائیل نے تکفیری پیداوار کی کاشت کی تھی۔ اسی طرح شیعہ نسل کشی کا پروجکٹ بھی شروع نہیں ہوا تھا ۔ پھر فلسطینی رہنما یاسر عرفات پر یہ عنایات کرنا کس کو خوش کرنے کے لیئے تھا؟ کس سے سرٹیفیکیٹ لینا مقصود تھا؟ در حقیقیت ایران کا یہ اقدام ایک عظیم اسلامی فریضہ تھا۔

    عالمی استکبارامریکہ کی دو کمزوریاں ہیں ایک تیل ، دوسرا اسرائیل ۔انقلاب اسلامی ایران نے ان دونوں کمزوریوں کو چیلنج کیا ۔ ہر برے وقت میں فلسطین کا تنہا یاور و مددگار جمہوری اسلامی ایران رہا ہے، اسرائیل کے خلاف ہر مسلح مذاہمتی تنظیم چاہے وہ حماس ، جھاد اسلامی ، یا جبھۃ التحریر الفلسطین ہو، ان سب کا عملی مددگار ایران ہی ہے۔ آپکے مطابق حماس کے تکفیریوں سے روابط ہیں ۔ بلاشبہہ حماس میں تکفیری فکر رکھنے والے کچھ عناصر بھی موجود ہیں مگر حماس کو تکفیری جماعت سے تعبیر کرنا ایک بے ہودہ الزام سے زیادہ کچھ نہیں۔ حماس کے قائد خالد مشعل نے اپنے فلسطینی اہداف کو پس پشت ڈال کر شامی حزب اختلاف کا ساتھ دیا ۔ باوجود اسکے کہ شامی حزب اختلاف کو امریکی اور اسرائیلی حمایت اورمعاونت حاصل تھی۔ صرف دو سال کے اندر ہی حماس کو اپنی اس حماقت اور غلطی کا احساس ہو گیا ۔ جسکا اظہار چند ماہ قبل حماس کےدوسرے بڑے رہنما موسی ابو مرزوق نے المیادین ٹی وی چینل پر کیا انکا کہنا تھا کہ: ” شامی حزب اختلاف کا پرچم بلند کرنا ہماری غلطی تھی۔

    آپکی ناقص معلومات کی تصحیح کے لیئے بتاتا چلوں کہ 2004 میں حماس کے بانی رہنما شیخ احد یاسین کی شہادت کے بعد جب ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی نے حماس کی قیادت سنبھالی تو انھوں نے ایران اور حزب اللہ کو حماس کی رہنمائی کی دعوت دی۔ اسرائیل نے انھیں اس جرم میں کچھ ہی عرصے بعد شہید کر دیا۔ جسکا اعتراف اسرائیلی انٹیلیجنس نے خود کیا تھا۔ معروف امریکی صحافی جیفری گولڈن برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر الرنتیسی نے کہا تھا کہ عربوں نے ہمارے لیئے کیا کیا؟ ایران وہ واحد ملک ہے جو صہیونیت کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ایران پر تنقید کرنا ظلم ہوگا۔

    عامر صاحب : صرف فلسطین نہیں جب بوسنیا میں مظلوم مسلمانوں کو مدد کی ضرورت تھی تو واحد اسلامی ملک ایران تھا جو ہر طرح کی بندشوں کے باوجود انہیں اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔ جسکا ثبوت سابق بوسنین صدر عزت بگوویچ کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں سابق ایرانی وزیر خارجہ ولایتی کی طرف اشارہ کر کہ کہا تھا : “اگریہ (ایران ) نہ ہوتے تو ہمارا وجود باقی نہ رہتا۔”

    پچھلے35 سالوں میں ایران اپنے عوام کی خوشحالی کو داؤ پر لگا کر جس خلوص اور توانائی کے ساتھ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے وہ صرف ایک علی کا شیعہ ہی کر سکتا ہے ۔ کیا حماس کی ایک غلط پالیسی کی وجہ سے ایران اپنے تمام فلسطینی سنی بھائیوں پر اسرایئلی ظلم سے چشم پوشی اختیار کرلے اور قبلۂ اول کو بھی صہیونیوں کے حوالے کر دے ؟ اگر امام علی(ع) اس دور میں ہوتے تو ان حالات میں انکی کیا حکمت عملی ہوتی ؟ یقینا امام علی وہی حکمت عملی اپناتے جو انہوں نے اپنی خلافت غصب ہونے کے باوجود اپنائی یعنی اسلام کی خاطر خلفائے ثلاثہ کی رہنمائی فرمائی اور انکی غلطیوں کی تصحیح کی ، کیونکہ انکا عظیم مقصد اور ھدف بقائے اسلام تھا۔
    عامر حسینی صاحب : آپ شیعہ ہونے کا دعوی رکھتے ہیں ۔ آپ علی (ع) کے محب و دوستدار تو ہوسکتے ہیں لیکن علی کے شیعہ کہلانے کے قابل نہیں ۔ بقول ڈاکٹر علی شریعتی :”علی کا شیعہ وہ ہے جو علی کی طرح سوچے ، علی کی طرح احساس کرے ، معاشرے کی نسبت علی کی طرح ذمہ داری محسوس کرے اور اسے انجام دے”۔

    آج غزہ پر اسرائیل کے بد ترین ظلم کا بیسواں روز ہے ۔ حماس سے اختلافات کے باوجود ایران کا مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنا ایک بر وقت اور بجا اقدام ہے ، جس سے ایران کی فکر اسلامی کی گہرائی ، پختگی اور اعلی ظرفی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    “خواص کا راہ خدا میں بر وقت اقدام ، ان کاموں میں سے ہے جو تاریخ اور اصولوں کو نجات دیتا ہے۔”
    رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنئی

    • Buhat khoob sir g..Mashallah aap nay buhat mukhtasar aur jamay tor per bat ko wazeh kia …jazak kum rabbo kum..

  • مسلمان ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور مسلمناوں کے دشمن ایک ایک کر ان کو مار رہے ہیں۔ ۔ ۔ ایک گروہ کہتا یہ تکفیری ہیں۔ ۔ ۔دوسرا گروہ کہتا ہے یہ رافضی ہیں۔ ۔ ۔ شیطان نے ایک اللہ ایک رسولۂ کے ماننے والوں کو مختلاف سمتوں میں بانٹ دیا ہے۔ ۔ ۔ اللہ کے لیے ہوش کے ناخن لو اور ایک دوسرے کے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنے مشترکا دشمن سے اپنی جان بچانے کی فکر کروں ۔ ۔ ۔ ورنہ تمہارا نام تک نہ رہے گا۔ ۔ ۔ اپنے عقیدے پر قائم رہو دوسرے کے عقیدے کو منت چیڑو۔ ۔ ۔ اسلامی ملکوں میں جایں جس فرقے کی اکثریت ہے اسے حکومت کرنے کی اجازت دوں۔ ۔ ۔ جہاں جس جس کی جتنی آبادی ہے اس کے مطابق حکومت میں حصہ ملنا چاہیے۔ ۔ ۔ اس اصول پر یہ اپس کے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مضمون نگار جیسے جھگڑالوں لوگوں سے ہوشیار رہو۔ ۔ ۔ یہی اس وقت کا پیغام ہے۔ ۔ ۔ صلیبی پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف کا کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ یہودی میڈیا نے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ ۔ ۔ کہیں شیعہ کی مدد کر رہے ہیں کہیں سنیوں کی مدد کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اس سے دونوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ ۔ ۔ فائدہ صلیبیوں کا ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ اللہ کے لیے تفریق ڈالوں والے دوست نماء دشمنوں سے بچو۔ ۔ ۔ اور کھلے دشمنوں صلیبیوں سے بچو۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہم سب کو ددایت دے آمین