Original Articles Urdu Articles

شدید اختلاف کا بهی احترام لازم ہے – از عامر حسینی

bb

رمضان المبارک اتوار تها اور شام کے سائے گہرے ہوچلے تهے اور میں بوریت کی انتہا پر پہنچا ہوا تها اور سچی بات ہے کہ کچه ایسی چیز پڑهنا چاہتا تها جس میں زبان کا چٹخارہ تو ہو ہی ساته میں جملے بهی چونکادینے اور پهڑکادینے والے ،کوئی ایسا بے باک اور منہ پهٹ ہو کہ پڑه کر مزا آجائے

ویسے بهی رمضان کے بائیسویں دن بوریت اس لئے عروج پر پہنچ گئی کہ مجهے شدت سے احساس ہونے لگا کہ ہمارے اندر بہت کم ہیں جو اختلاف کے عروج اور شدت پر بهی اختلاف رائے کے حق کی قدر کرتے ہوں یہ احساس اس لئے بهی شدت سے ہوا کہ یہ جو سماج میں لبرل ،مارکسسٹ ،لیفٹسٹ کہلاتے ہیں ان میں سے بهی اکثر اختلاف رائے کرنے والے اور منہ پر بات کہنے والے کو اگر منہ سے گستاخ نہ بهی کہیں اور مذهبئ اصطلاح استعمال نہ بهی کریں تو بهی عملی اعتبار سے آپ کو کافر ،مرتد ،راندہ درگاہ بنا ضرور دیتے ہیں

ویسے پیٹی بورثووا اور اس کی ایک اور زیلی شاخ سیلیریٹ کلاس کی زود رنجی اور فرقہ پرستی اس قدر خوفناک ہوتی ہے کہ الامان الحفیظ میں نے بوریت سے تنگ آکر اپنے ریڈنگ روم کا رخ کرلیا اور رسائل و جرائد کے سیکشن میں جانکلا
یہاں پر ممبئی کا مرحوم ہوجانے والا ادبی رسالہ نیا ورق کا شمارہ نمبر 24 دیکها اور یہ 2006ء میں آیا تها اور اس کو جونہی کهولا تو رسالے کے مرحوم بانی مدیر اور چهوٹا سا اک جہنم کے عنوان سے افسانوں کے مجموعے کے مالک ساجد رشید کا لکها ہوا اداریہ ایک دل آزار کتاب پر فرقہ وارانہ بحث

کے عنوان سے لکها ہوا دیکها اور مجهے یاد آگیا کہ یہ اداریہ ساجد رشید نے ان لوگوں کے جواب میں لکها تها جنهوں گیان چند جین کو متعصب هندو ،اسلام دشمن ،اردو دشمن ان کی کتاب ایک بهاشا دو لکهاوٹ کی وجہ سے قرار دے ڈالا تها اور ساجد رشید کا موقف یہ تها کہ شمس الرحمان فاروقی ،مدیر شاعر ممبئی افتخار امام اور سہ ماہی رسالہ اردو ادب کے مدیر اسلم پرویز ،نقاد شمیم حنفی سمیت مسلم ادیبوں اور نقادوں نے گیان چند جین کی کتاب کو ادبی نقاد کی نگاہ سے دیکهنے کی بجائے فرقہ پرستی کی آنکه سے دیکها بلکہ یہ کہنا ٹهیک یوگا انہوں نے گیان چند زین کی جانب سے اردو کو هندی کی شکل قرار دینے کو اسلام دشمنی خیال کرلیا

ساجد رشید نے اس بحث کے دوران ایسے جملے لکهے جو واقعی بے باکی کی حدوں کو چهوتے ہیں اور زبان بهی نہایت چٹخارے دار ہے جبکہ وہ کسی بهی جگہ کلمہ حق کہنے سے نہیں گهبرائے مجهے کہنے دیجئے ادب کسی اسامہ بن لادن یا کسی اسٹالین کی مملکت نہیں ہے جہاں اختلاف رائے اور مختلف انداز نظرکی قطعی گنجائش نہ ہو -ادب اور عقیدے میں یہی بنیادی فرق تو ہے کہ ادب کا داخلی نظام جمہوری ہوتا ہے جہاں شدید اختلاف کا حق لازم ہے جبکہ عقیدہ جامد ہوتا ہے اس میں لچک کی گنجائش نہیں ہوتی جو بهی نظریہ خشک اور جامد هوجائے وہ عقیدہ بن جاتا ہے

aa

شدید عدم برداشت مسلم برادری کے اہل شعور کا مزاج بنتا جارہاہے اور یہ مزاج یہ ہے کہ دوسری برادریوں کے فسطائیوں کو بے نقاب کرنا قابل ستائش اور اپنے فسطائیوں کو بے نقاب کرنا قابل عتابساجد رشید نے اردو کو زبردستی اسلام اور پاکستان سے جوڑنے جبکہ اسے سنسکرت کا چربہ بناکر ہندی قرار دینے والوں دونوں کو رد کردیا

ساجد نے فتح محمد ملک کو کهری کهری سنائیں جب وہ ان کے سامنے بنگلہ دیش بننے کا سارا الزام ہندوستان پر ڈال رہے تهے تو ساجد نے کہا بنگلہ دیش کے قیام سے قبل ہمارے اور آپ کے تعلقات دوستانہ نہیں دشمنقنہ تهے اس لئے ہماری طرف سے اعتماد شکنی کا سوال ہی نہیں اٹهتا ہے -آپ جمہوریت کو مانتے ہی نہیں ہیں -ایک منتخبہ پارٹی کو آپ نے اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا تو آپ کے خلاف مشرقی پاکستان کے عوام نے بغاوت کردی اور جب وہ ہناری سرحدوں پار کرکے ہمارے ملک داخل ہونے لگے تو ہمارے ملک نے فائدہ اٹهایا اس میں اعتماد شکنی کہاں سے آگئی


ہندوستان میں جو مسلمان ادیب فرقہ واریت کی آنکه سے ادبی و سیاسی معاملات کو دیکهتے ہیں ان کے ہاں ایک رجحان یہ بهی ہے کہ وہ مسلمان حملہ آوروں کو حملہ آور کے طور پر نہیں لیتے بلکہ مندروں کو لوٹنے اوران کو آگ لگادینے جیسے واقعات کو جهٹلانے کی کوشش کرتے ہیں

گیان جین چند نے اپنی اس کتاب میں محمود غزنوی کی جانب سے سومناته کے مندر پر سترہ حملوں اور خزانہ لوٹنے کا زکر کیا تو شمس الرحمان فاروقی رومیلا تهاپر کا ریفرنس لے آئے جو اس واقعے کئ صحت سے انکاری ہیں
ساجد نے لکها کہ فاروقی کو رومیلا تهاپر کی کتاب معتبر لگتی ہے اور وہ پچاسیوں کتابیں غیر معتبرلگتی ہیں جن میں یہ واقعہ درج ہے

ساجد رشید کا کہنا یہ ہے کہ یہ واقعات کا انکار اور مسلمان حملہ آوروں کا وکیل بن جانا یا اس واقعے کو کوئی اہمیت نہ دینا صرف مذهبی فرقہ پرستی کی عینک لگائے مسلمان ادیبوں کا شیوہ ہےبلکہ یہ روش تو ترقی پسندوں کے ہاں بهی نظر آتی ہے اور وہ سجاد ظہیر کا حوال دیتے ہیں کہ کیسے کنہیا لال منشی اور ان کی بیگم سے ملے تو بقول سجاد ظہیر وہ سومناته کے کهنڈروں کو دوبارہ کهڑا کرنے کی کوشش کررہے تهے

ہمارے سماج نے ازبک ،تاجک ،غوریوں ،مغلوں ،عربوں کے حملوں کو تہذیب کا شاندار باب قرار دینے کا سلسلہ بند نہیں کیا
اچهے بهلے ترقی پسند اور روشن خیال ادیبوں اور دانشوروں کے اندر سے جب کٹه ملا برآمد ہوتا ہے تو ایک دفعہ تو میں بهی حیران و پریشان رہ جاتا ہوں

ساجد رشید نے ندا فاضلی کی جانب سے ڈی سی ایم نیو دهلی کے ایک مشاعرے میں اس شعر پر مچنے والے ادهم کا زکر کیا ہے کہ
اٹه اٹه کر مسجدوں سے نمازی چلے گئے-دہشت گری کے ہاته میں اسلام رہ گیا سامعین نے اسے توهین قرار دیا اور تو اور کئی شاعر بهی ندا فاضلی سے معافی مانگنے کو کہنے لگے ساجد رشید نے لکها کہ سترهویں صدی کے شاعر قائم چاند پوری نے جب یہ شعر لکها کہ ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ-کچه قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا تو تین سو سال قبل استاد شعراء نے قائم کا دامن داد و تحسین سے بهر دیا گیا تها اگر آج انہوں نے یہ شعر کہا ہوتا تو ان پر فتوی کفر لگ چکا ہوتا اوران کو جان بچانی مشکل ہوجاتی ساجد کہتے ہیں کہ کہیں اردووالوں کی یہی فرقہ واریت گیان چند ،کالی داس گپتا ،مانک ٹالہ جیسے اردو ادیبوں کے منفی ردعمل اور معاشرے میں خود کو اجنبی محسوس کرنے کے لیے مجبور تو نہیں کررہی

اب اس دنیا میں ساجد رشید موجود ہیں اور نہ ہی گیان جین چند اور کالی داس گپتا بهی چلے گئے ،ساجد رشید جب پاکستان آئے تهے تو منشا یاد بهی زندہ تهے اور جوں ہی ساجد رشید کا بلاوا آیا تو پیچهے پیچهے ساجد رشید بهی چلے گئے
اتنی بے باک اور بلند آہنگ آواز اور اس کے ساته ساته دائیں بائیں ،ترقی پسندوں ،رویت پسندوں ،یوروپی جدیدیت کے اسلحے سے لیس ابہامات و الجهاوں کے جنگل میں کہانی کو گم کرنے والے جدیدین سب کے بارے میں اپ ٹو ڈیٹ نالج رکهنے والے اقر پهر تخلیقی جملوں کے ساته ما فی الضمیر بیان کرنے والے اب تو مجهے اکا دکا ہی نظر آتے ہیں میں نے تنقید اور تحیقیق کے ساته تیکهے تیکهے جملوں کی بارش ہوتے محمد حمید شاہد کے ہاں تواتر سے دیکهی ہے اور ہندوستان میں یہ ساجد رشید کے ہاں ہی نظر آتی تهی

بهلا شمیم حنفی کے بارے میں یہ جملے پاکستان میں کون لکهنے کی ہمت کرسکتا تها میں اردو میں شمیم حنفی کو کنفیوز ناقد اس لیے مانتا ہوں کہ وہ مضامین میں تو بلیک لٹریچر اور تیسری دنیا کے ادب پر لکهیں گے لیکن اردو میں ان کے پسندیدہ ادیب مہمل نگار ماضی پرست ہی ہیں کیا یہ فکر و نظر کا تضاد نہیں

جیسے چودهری افضل حق ،عطاء اللہ شاہ بخاری ،چودهری افضل حق اور شورش کا شمیری ،داود غزنوی کو دیکه لیں ویسے تو وہ هندوستان میں جاگیرداروں ،سرمایہ داروں ،انگریز حکمرانوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے نہئں تهکتے اور کسانوں ،مزدوروں کی بات کرتے ہیں لیکن ان کی تنگ نظری ان کو فرقہ وارانہ سطح سے اوپر اٹهنے نہیں دیتی آخر میں ان کی جدوجہد اور جہاد خود کئی کمزور اور اقلیتی پرتوں کے خلاف بن جاتا ہے

جیسے ریاست کے جبر اور تشدد کن پرتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اس کی جب تشریح ہوتی ہے تو اس جبر اور تشدد کے ننگے پن کی لپیٹ میں آنے سے بچ جانے والے ریاست کی جنگ اور تشدد کو لبریشن وار کہنے کی حماقت سے بهی باز نہیں آتے اور بظاہر ایسے لوگ روشن خیال ،ترقی پسند ہوتے ہیں

ویسے سچی بات یہ ہے کہ زبان کے چٹخارے اور تیکهے تیکهے بے باک جملوں کی تخلیق آج کل نوجوانوں میں بہت زیادہ ہورہی ہے اگرچہ ابهی وہ جدید و قدیم تاریخ کا اتنا زیادہ علم نہیں رکهتے اور بعض اوقات اس ناتجربہ کاری کے هاتهوں لفظوں کے قارونوں کے هاتهوں مار بهی کهاجاتے ہیں لیکن پهر بهی ان کے ہاں تازگی اور زندگی کا احساس ہوتا ہے اگرچہ ان کو بهی ابهی یہ سکهانے کی اشد ضرورت ہے کہ ادب کسی اسامہ بن لادن یا اسٹالین کی مملکت نہیں ہے کہ جہاں کسی اختلاف اور مختلف انداز نظر کی کوئی گنجائش نہ ہو اور یہ بهی ملحوظ خاطر رکهنے کی کہ شدید اختلاف کا احترام لازم ہے
میں جب یہ مضمون لکه رہا تها تو کہیں میرے زهن کے گوشے میں نور مریم ڈائرکٹر پی وائی اے کی فیس بک وال پر ایک سٹیٹس اپ ڈیٹ پر شروع ہونے والی بحث کا آغاز وسط اور اختتام موجود تها اور کہیں کہیں ایک لبرل کے اندر سے ایک فاشسٹ