Featured Original Articles Urdu Articles

امریکہ اور سعودی عرب سے پاکستان کے حکمران طبقے کی اپیلیں – از عامر حسینی

BtOVkssCQAE6RFV

مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے سمدهی اور پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساته سعودی عرب جاکر بیٹه گئے ہیں جبکہ فلسفہ مفاہمت برائے حکمران طبقات الباکستان محترم المقام آصف علی زرداری نے امریکہ ڈیرہ لگایا ہے

اس کے ساته ساته دیوبندی تنظیم جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بهی سعودی عرب ڈیرہ لگایا اور وہ سعودی عرب میں بیٹهے سعودی حکام اور پاکستان میں سعودی عرب کے مفادات کی نگرانی کرنے والے دیوبندی انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے درمیان رابطہ کار کے فرائض سرانجام دینے والے عبدالحفیظ مکی سمیت کئی ایک مقیم سعودی عرب دیوبندی تکفیریوں سے ملے ہیں اور انہوں نے پاکستان آرمی کی موجودہ وار آن ٹیررازم کے نئے مرحلے پر ترجیحات اور اهداف کو نہ صرف دیوبند انتہا پسند و رجعت پرست حلقے کے لئے خطرناک قرار دیا ہے بلکہ اس کو سعودی عرب کے لئے بهی انتہائی خطرناک ڈرائیو بتلایا ہے

میاں نواز شریف آل سعود کو یہ باور کرانے گئے ہیں کہ اگر پاکستان میں فوج نے طاہر القادری سمیت نواز شریف کے خلاف ابهرنے والے محاز کو روکنے کے لئے اقدامات نہ اٹهائے اور موجودہ سیٹ اپ ڈی ریل ہوا تو پهر پاکستان میں سعودی عرب کو سازگار فضا میسر نہیں آئے گی

ادهر امریکہ میں پاکستانی سفارتی لابی واضح طور پر دو کیمپوں میں بٹی نظر آتی ہے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اثر سے مغلوب پاکستان کے سئنیر سول و ملٹری نوکر شاہی کا ایک وفد اعلی امریکی سول و فوجی عهدے داروں اور افغان ملٹری پالیسی کے زمہ داروں سے ملا ہے اور اس وفد نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ 2014ء کے آخر میں افغانستان سے اپنی فوجوں کے مکمل انخلاء پر نظر ثانی کریں اور امریکی اپنی فوج کا ایک معتدبہ حصہ پاک-افغان سرحد کے ساته تعینات رکهیں اور نئے افغان سیٹ اپ میں پشتون عنصر کو کیک کا غالب حصہ دیں یعنی عبداللہ عبداللہ کی بجائے پاکستان اشرف غنی کو صدر دیکهنے کا خواہاں ہے
پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ 2014ء کے بعد کولیش سپورٹ فنڈ کی جگہ کوئی اور سلسلہ پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مالی امداد کے لئے جاری ہونا چاہئیے اور اس کے بدلے میں پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ اپنے بہت سے جہادی پیدل سپاهیوں کی قربانی دینے کو تیار ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن کے دوران ملٹری اسٹبلشمنٹ کی طرف سے بہت سے ایسے اقدامات کئے گئے

جن کی وجہ سے امریکیوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ فوج کے اندر موجودہ لیڈرشپ اپنی نیشنل سیکورٹی کی پالیسی میں چند وہ پالئسی شفٹ تبدیلیاں لانے کو تیار ہے جس سے امریکیوں کی پریشانی کو ختم کرنے میں مدد مل سکے اور اس سلسلے میں ملٹری اسٹبلشمنٹ نے بہت خاموشی سے پاکستان میں شیعہ اور اہل سنت بریلوی کے بڑهتے ہوئے احساس تنهائی اور ان کے اندر پاکستان کی دیوبندی وهابی جہادی پراکسی نوازی کے خلاف پیدا ہونے والی بے گانگی اور غصے کو ٹهنڈا کرنے کے لئے بهی اقدامات کئے ہیں کیونکہ فوجی اسٹبلشمنٹ کے اندر ایک لابی یہ خیال کررہی ہے کہ اپنے امیج کے خلاف بڑهتی ہوئی محاز آرائی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لئے ان کو اہل سنت بریلوی اور شیعہ کے سنٹر رائٹ کی حمائت حاصل کرنا بہت ضروری ہے اور اس حمایت کے حصول کے لئے

جبکہ امریکہ چین سمیت عالمی طاقتوں کی جانب سے ان کے مفادات کے لئے خطرہ بننے والے دیوبندی وهابی تکفیریوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں نے سنٹر رائٹ دیوبندی جماعتوں اور لیڈروں کو سخت پریشان کررکها ہے اور وہ ایک طرف تو نواز شریف کی ٹوکری میں اپنے سارے انڈے رکهنے کے باوجود سخت خطرات کا شکار ہیں دوسری طرف ان کا جو خیبر پختون خوا میں حلقہ اثر ہے اور قبائیلی ایجنسیز میں ان کی جو سپورٹ بیس ہے وہاں ملٹری کی تازہ ترین وار آن ٹیررازم نے سخت ردعمل پیدا کررکها ہے اور یہ سپورٹ بیس دیوبندی سنٹر رائٹ کی جانب سے پختون شہریوں کی بڑهتی ہوئی مشکلات اور ان کی بےدخلی پر واضح موقف نہ لینے سے سکڑ رہی ہے اور سب سے زیادہ خطرہ دیوبندی سنٹر رائٹ کو یہ ہے کہ ایک طرف تو دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیموں کے پیدل سپاهیوں میں ان کی خاموشی اور نیم دلانہ آپریشن بیانات پر نفرت ،غصہ اور تناو باقاعدہ ایک خاص رخ اختیار کرنے جارہا ہے جس کا نشانہ سنٹر رائٹ دیوبندی قائدین بهی ہوں گے اور انتقام کی آگ میں جهلسنے کا خوف خود مسلم لیگ نواز کے حاکم شریف برادران اور دیگر اقتدار کے مزے لوٹنے والے وزراء کو کهائے جارہا ہے

جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی بهی دو دهاری تلوار پر چل رہی ہے اسے ایک طرف تو پنجاب سے تعلق رکهنے والی ایک بہت بڑی بورژوا اور پیٹی بورژوازی کی پرتوں کے دباو کی وجہ سے شمالی وزیرستان کے آپریشن کو سپورٹ کرنا پڑرہا ہے تو دوسری طرف اس کو خیبرپختون خوا اور قبائیلی ایجنسیوں کی اس آپریشن سے متاثر ہونے والی پرتوں کی ناراضگی کا سامنا ہے اور اسے ایک دهچکا جماعت اسلامی کے امیر کے استعفے کی صورت دیکهنا پڑا ہے گویا جماعت اسلامی اپنی سپورٹ بیس کو بچانے کے لئے پی ٹی آئی کو میدان میں اکیلا چهوڑ گئی ہے

اس سارے تناظر میں جب پاکستان کا حکمران طبقہ ایک پیج پر نہیں ہے اور ریاست کے اداروں کے درمیان بهی لڑائیناور تنازعے موجود ہیں تو حکمران طبقے کے اندر ڈمیج کنٹرول کرنے کی سوچ تیزی سے فروغ پارہی ہے اور اس سوچ کی سب سے زیادہ عکاسی مسلم لیگ نواز،پی پی پی اور اے این پی کے اندر نظر آرہی ہے

آصف زرداری امریکیوں ،متحدہ عرب امارات جبکہ نواز شریف سعودی عرب اور برطانیہ والوں کو مداخلت کرنے اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کو اس نظام کی بلی چڑهاکر اپنے بچاو کی کوشش کرنے کی حالیہ ڈرائیو کو روکنے کے خواہاں ہیں ان کو یقین ہے کہ اگر فوج رام ہوجائے تو عمران خان ،طاہر القادری ،راجہ ناصر عباس ،حامد رضا قادری ،چودهری صاحبان ،شیخ رشید جیسے سب ٹربل میکر قابو میں آجائیں گے

لیکن اس سارے کام کے لئے معروضی سطح پر جو مادی حالات ہیں وہ کسی بهی طرح سے سازگار نہیں ہیں اس وقت ریاست کی سامراجی سرمایہ دارانہ ڈویلپمنٹ کا جو پیٹرن ہے اس نے نسلی ،مذهبی تضادات کو سنگین تر کرڈالا ہے اور اگر ایک بخیہ سیا جاتا ہے تو دوسرا اکهڑ جاتا ہے

ریاست اور اس کا حکمران طبقہ جنگ کو سرمایہ دارانہ سامراجی ڈویلپمنٹ کے لئے اہم ترین هتیار کی حثیت سے استعمال کررہا ہے اور اس استعمال کے نتیجے میں جو تضادات جنم لے رہے ہیں ان کے درمیان مکمل تصادم کو روکنے کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرهیں

امریکی سامراج اور اس کے عالمی و مقامی اتحادی گروپوں نے مڈل ایسٹ میں اور افریقہ کے اندر جو کهیل کهیلا تها اور جس طرح سے لوگوں کو نئی دنیا کی تشکیل کے خواب دکهائے تهے وہ خواب بدترین تعبیر لیکر آئے ہیں القائدہ ،داعش ،النصرہ ،سمیت مذهبی فسطائیوں کے گروہ ہیں جو عالمی سامراجیوں اور ان کے مقامی اتحادی حکمرانوں کے کسی بهی پلان میں کهنڈت ڈالنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں شام ہو یا عراق ،لیبیا ہو کہ نائجیریا سب جگہ بش ڈاکٹرائن سے لیکر امریکہ ڈاکٹرائن اور سعودی ڈاکترائن تک سب کی ناکامی اظہر من الشمس ہے اور اب اس ناکامی کے آفٹر شاکس سے نکلنے کی راہ بهی نظر نہیں آرہی اور یہی ناکامی اور پیچیدگی صورت حال ہے جو سرمایہ دار حکومتوں اور یہاں تک کہ حزب اختلاف کے اندر کنفیوژن کو پهیلائے ہوئے اور سیاست کیا ریاست بند گلی میں پهنسی نظر آتی ہیں

نوآبادیاتی نظام کے رسمی خاتمے کے بعد جن نئی نیشن سٹیٹس کا وجود آیا تها اور مشرق وسطی ،جنوبی ایشیا ،افریقہ کے نقشوں میں جو تبدیلیاں آئیں ان میں ایک مرتبہ پهر زبردست شکست و ریخت کے آثار ہیں عملی طور پر عراق ،شام ،لبننان کا جغرافیہ بدل چکا ہے اور یہی صورت حال نائجیریا اور لیبیا کی ہے اور پاکستان ،افغانستان بهی اس خطرے کا شکار ہیں اور یہ خطرات خود ہندوستان ،سری لنکا ،ایران تک وسیع ہونے کے بهرپور امکانات ہیں

اور اس ساری آتش فشائی صورت حال میں عالمی سرمایہ داری کی تین کوئینز یعنی امریکہ ،روس ،چین کے درمیان جو افقی سرمایہ داری کے باہمی تضادات ہیں اور ان تضادات کے باہمی ٹکراو سے جو صورت حال پیدا ہورہی ہے اس کا عکس ہمیں اس وقت بہت واضح انداز میں یوکرائن ،شام ،عراق ،مشرق قریب میں چین ،تائیوان ،جاپان کے درمیان سمندری حدود کے تنازعات کی صورت نظر آرہا ہے

امریکی بالادستی کو خود سرمایہ داری کے سمندر میں ابهرنے والے طاقت ور کردار چیلنج کرنے کے لئے نئے اتحاد بهی بنارہے ہیں امریکہ هندوستان کو جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کا نگران اعظم مقرر کرنے کی جو کوشش کررہا تها اس کا الٹ ہوا ہے ہندوستان اور چین روس ،برازیل و جنوبی افریقہ کے ساته ملکر برکس ڈویلپمنٹ بینک بناکر سامنے آئے ہیں یہ وہ کنویس ہے جس میں پوری طرح سے پکے اور اده کچے پکے تضادات کے رنگ بکهیرے ہوئے ہیں جن کو ایک کل کے اندر متحرک دیکهنے کی سعی کرنے کی کوشس ہی کسی حد تک درست تناظر بنانے میں مدد دے سکتی ہے

عالمی سرمایہ داری کے افقی تضادات اس قدر گهمبیر ہوچکے ہیں کہ کوئی ایک چودهری اچانک چهوٹ پڑنے والی مقامی جنگوں اور تصادم کو پهیلنے سے روکنے سے بهی قاصر ہیں اور اس سے ننگے ہونے اور بے نقاب ہوجانے کے عذاب الگ سے گلے پڑتے ہیں زرا تازہ ترین اسرائیلی جارحیت کو لے لیجئے کہ نہ تو اوسلو اکارڈ کام آرہا ہے اور نہ ہی اوبامہ کے قابل جان کیری کے طوفانی دورے یہاں تک کہ خود پی ایل او کوئی دن جاتا ہے جب مزاحمتی کیمپ میں کهڑی ہوگی اور مجهے لگتا ہے کہ عالم بالا میں ایڈورڈ سعید یاسر عرفات کو کہہ رهے ہوں گے کہ ہم نے کہا تها نا کہ اوسلو اکارڈ فلسطینی عربوں کے لئے ڈیته وارنٹ ہے