Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ: لبرل دیوبندی لابی ہمارے سوالات کے جواب میں سازشی مفرزضوں کا سہارا کیوں لیتی ہے

flll

ادارہ تعمیر پاکستان سے وابستہ مدیر سمیت اکثر مستقل بلاگ رائٹرز جب بھی کسی موضوع پر پوسٹ کرتے ہیں تو اس حوالے سے دستیاب شواہد اور واقعات کو ضرور حوالے کے طور پر ضرور درج کرتے ہیں اور ہم نے  شیعہ -سنّی بائنری ،ایران -سعودیہ پراکسی ہی کے تناظر میں یا صرف پاکستانی ملٹری کی پراکسی کے تناظر میں حالیہ دھشت گردی کے ڈسکورس کو بیان کرنے کے یک رخی تناظر پر جو تنقید کی وہ ثبوت و دلائل کے ساتھ ہے لیکن دوسری طرف لبرل دیوبندی لابی بالکل دائیں بازو کی دیوبندی لابی کی طرح ہمارے دلائل و شواہد سے بوکھلاکر چھوٹی الزام تراشی اور گھٹیا سازشی مفروضے ایجاد کرنے میں لگي ہوئی ہے 

ان جیسے جھوٹے لبرل سے دائیں بازو کے سنّی علماء اور سیاسی قائدین پھر بھی بہتر ہیں کہ وہ کم از کم دیوبندی تکفیری خوارج تںظیموں جیسے اہل سنت والجماعت ،تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی وغیرہ کے بارے میں پورا سچ بولنے اور شیعہ مظلوم کمیونٹی سے اظہار یک جہتی کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں

یوم شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقعہ پر اہل سنت کے اہم رہنماء اور سنّی اتحاد کونسل کے چئیرمین صاحبزادہ حامد رضا نے 40 سے زائد علمائے کرام اور مفتی صاحبان کو سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شیعہ امامیہ جعفریہ کے مرکزی جلوس میں شرکت کے لیے بھیجا اور اس موقعہ پر دنیا بھر کی مسلم برادری کو شیعہ-سنّی اتحاد اور یک جہتی کا پیغام بھیجا
تعمیر پاکستان ویب سائٹ سنّی کمیونٹی کی جانب سے اس اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے اور اس جذبے کو برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار بھی کرتی ہے
اہل سنت کی جانب سے شیعہ برادری کے ساتھ اظہار یک جہتی کا یہ مظاہرہ ایسے وقت پر کیا گیا جب جنوبی ایشیا ،مڈل ایسٹ ،افریقہ اور یہاں تک کے مغرب میں اہل سنت کے نام پر اہل تکفیر و خوارج نے نہ صرف شیعہ کے خلاف بلکہ خود اہل سنت کے خلاف بھی ایک خون آشام مہم شروع کررکھی ہے اور اس خون آشام مہم پر زبردستی سنّیت کا نقاب چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے
پاکستان کے اندر دیوبندی تکفیری خوارج اب تک 22 ہزار شیعہ،10 ہزار اہل سنت کا قتل کرچکے ہیں اور جبکہ اگر دیوبندی-وہابی تکفیری خوارج کی جانب سے مڈل ایسٹ ،افریقہ ،جنوبی ایشیا میں شیعہ اور اہل سنت کے قتل کا اندازہ لگایا جائے تو یہ تعداد دسیویں ہزار میں بدل جائے گی
پاکستان کے اندر ایک طرف تو دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء اور ان کی سیاسی مذھبی جماعتیں ہیں جو اپنے اور وہابی سلفی فرقوں کے اندر سے اٹھنے والی تکفیری خوارج جماعتوں جیسے اہل سنت وآلجماعت ،ٹی ٹی پی و دیگر ہیں کی حمایت پر کمربستہ ہیں یا ان کی دھشت گردی کے جواز تلاش کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان میں ایسے لبرل ،کیمونسٹ اور بائیں بازو کے نام نہاد سوشل ڈیموکریٹس کی بھی کمی نہیں ہے جو اے ایس ڈبلیو جے ،ٹی ٹی پی ،جیش محمد ،لشکر طیبہ ،لشکر جھنگوی کی دیوبندی یا وہابی تکفیری وخوارج ہونے کی نشاندھی کرنے پر سیخ پا ہوجاتے ہیں
یہ وہ لبرل ،کمیونسٹ ،بایاں بازو ہے جو یوم شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقعہ پر کسی ایک شہر میں بھی شیعہ برادری کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے ان کے جلوس میں شریک نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی ایک بینر یا پینا فلیکس جلوس کے راستے پر لگایا گیا جو ان کی جانب سے نسل کشی کی شکار کمیونٹی سے اظہار یک جہتی کے لیے ہوتا لیکن ان کے برعکس ان کے نزدیک جو مذھبی رجعت پسند ہیں اور دایاں بازو ہیں یعنی سنّی اتحاد کونسل کے علماء اور مفتی شیعہ جلوسوں میں شریک ہوئے اور ان سے اظہار یک جہتی بھی کیا
ان میں سے ایسے لبرل بھی ہیں جو شیعہ کمیونٹی کی نسل کشی کو نسلی ثقافتی کمیونٹی کی نسل کشی اور اس کے زمہ داروں کو بھی ایک خاص نسلی -لسانی کمیونٹی سے قرار دینے پر مصر ہیں اور اس سارے سلسلے کو بس ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جوڑ کردیکھتے ہیں
ابھی پچھلے دنوں جب تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے سابق ایڈیٹر انچیف عبدل نیشا پوری اور موجود ايڈیٹر انچیف علی عباس تاج نے ایسے لبرل کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کوشش کی تو ایک مرتبہ پھر اے ڈبلیو ایس جے،ٹی ٹی پی جیسی دیوبندی تکفیری خوارج تنظیموں کے یہ اتحادی تعمیر پاکستان کے خلاف ایسے ٹوٹ کر پڑے جیسے بس ابھی اس سائٹ کے معماروں کو تباہ ہی تو کردیں گے
تعمیر پاکستان ویب سائٹ کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے لبرل ،کیمونسٹ ،سوشل ڈیموکریٹس اور مذھب کے خلاف جنگ کرنے کے دعوے دار ملحدین کے ایک گروہ کو صرف یہ کہا کہ وہ مذھبی فاشسٹوں کو اپنے قلم سے جواز فراہم کرنا بند کردیں اور نسل پرستانہ یا ڈیموکریٹک پروگریسو پاتھ یا مارکسسٹ ٹول سے دیوبندی وہابی تکفیری خوارج تںطیموں کو عذر اور جواز بربریت فراہم کرنا بند کرڈالیں
کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ لبرل اور پروگرویسو ہونے کے دعوے دار نجم سیٹھی ،رضا رومی ،اعجاز حیدر ،دیان حسن وغیرہ احمد لدھیانوی ،طاہر اشرفی ،عامر سعید دیوبندی تکفیری خوارج کو پروجیکٹ کریں اور وہ تحریک طالبان پاکستان یا تحریک طالبان افغانستان کی تکفیری خوارجی فسطائی فرقہ وارانہ لڑائی کو پشتون قوم پرستی سے تعبیر کریں اور پاکستان فوج کی وزیرستان پر چڑھائی کو پشتون نسل کشی کا نام دیں ؟
کیا یہ ترقی پسندی ہے کہ شیعہ نسل کشی کو کہیں ہزارہ نسل کشی ،کہیں پختون نسل کشی ،کہیں پر مہاجر نسل کشی کا نام دیا جائے اور ظالموں کی یک نسلی شناخت پر اصرار کیا جائے ؟
پختون قوم پرستی کے علمبرداروں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو پاکستان کے اندر جہاں ایک طرف دھشت گردوں کی کثیر النسلی و کثیر اللسانی و کثیر القومیتی شناخت کا انکار کرتے ہیں تو وہیں پر وہ ان سب کو پاکستان ملٹری اسٹبلشمنٹ کی پراکسی بتلاتے ہیں اور ان کو پنجابی کہنے پر اصرار کرتے ہیں لیکن کیا یہ حیران کن امر نہیں ہے کہ جب سے دھشت گردوں کے سب سے بڑے اڈے شمالی وزیرستان پر فوج نے چڑھائی کی ہے اس وقت سے پنجابی اور خالص لاہوری نجم سیٹھی کو پاکستانی فوج پنجابی فوج نظر آنے لگی ہے اور وہ بین السطور یہ کہنے لگے ہیں کہ فوج پشتونوں کی نسل کشی کررہی ہے
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجم سیٹھی سمیت بہت سے لبرل دانشور اور صحافی سوات میں ملٹری آپریشن کی حمائت اسی طرح سے کررہے تھے جیسے عوامی نیشنل پارٹی کررہی تھی تو اس وقت تو نجم سیٹھی نے کسی بھی ٹی وی پروگرام میں سوات آپریشن کو پختونوں کے خلاف آپریشن قرار نہیں دیا اور آج جب شمالی وزیرستان جوکہ تکفیری خوارج کی محفوظ ترین جنت پر آپریشن ہورہا ہے تو اسے پختون نسل کشی قرار دینے کے کا مطلب کیا ہے
اصل میں نجم سیٹھی سمیت قلم فروشوں کا ایک ایسا قبیلہ موجود ہے جو تکفیری خوارج دیوبندیوں کے خلاف پآکستان آرمی کی ڈرائیو کو ناکام بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور اس سلسلے میں اپنے خرید کنندہ نواز شریف کو دیوبندی تکفیری خوارج کے غیظ و غضب سے بچانا چاہتے ہیں
تعمیر پاکستان ویب سائٹ واضح کرتی ہے کہ اس نے ملٹری اسٹبلشمنٹ کو مکمل کلین چٹ نہیں دی اور اس نے اچھے اور برے دھشت گردوں کی تقسیم کی پالیسی ،تزویراتی گہرائی ،ڈیپ سٹیٹ تھیوریز کی ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کی ہے اور اب بھی جب آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں جماعۃ دعوہ اور جیش محمد کے کیمپ نظر آئے تو اس نے اس کے خلاف آواز بلند کی اور ان کیمپوں سے ان کالعدم تنظیموں کو ہٹانے کی درخواست چیف آف آرمی سٹاف کو بھی ارسال کی
تعمیر پاکستان جہاں ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر دیوبندی تکفیری خوارج کے معاملے پر حالیہ دنوں میں آنے والی تبدیلی کی نشاندھی کی وہیں پر اس نے سابق آرمی چیف کے دور میں ملٹوجی اسٹبلشمنٹ کے اندر دیوبندی-وہابی عسکریت پسندوں اور سعودی عرب کے حامیوں کے غلبہ کی نشاندھی بھی کی تھی جبکہ نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے آنے کے بعد اس غلبے کے کمزور پڑجانے اور پاکستان کے اندر کافی حد تک دیوبندی دھشت گرد تںظیموں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی پر اتفاق ہوتے نظر آنے کے کئی شواہد پیش کئے لیکن اب اس کا کیا علاج ہو کہ سی آئی اے کے کئی ایک ہمدرد ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر ان تبدیلیوں سے انکاری ہیں اور وہ جنرل راحیل شریف رجیم کو بھی کیانی رجیم کے مساوی قرار دیتے ہیں لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ پنجاب ،کراچی ،اندرون سندھ ،خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں جو ایک دم سے بڑے پیمانے پر ٹی ٹی پی اور لشکر جھنگوی کے ٹھکانوں پر چھاپوں اور اس کے ارکان کے خلاف ملٹری اور انٹیلی جنس کی ایسی کاروائیاں کیوں نظر آرہی ہیں جو اس سے پہلے کیانی رجیم کے دور میں دیکھنے کو نہیں ملیں
تعمیر پاکستان نے لبرل ،پختون قوم پرستوں کو طاہر القادری کی بڑے پیمانے پر کردار کشی کرنے اور غیرمعمولی جوش کے ساتھ کمر بستہ ہوجانے اور اس کے برخلاف ملاّ ڈیزل ،احمد لدھیانوی ،طاہر اشرفی سمیت کئی ایک دیوبندی مولویوں کے خلف مداہنت سے کام لینے کی نشاندھی کی تو اس کا مطلب ان کے دوھرے اور منافقانہ رویوں کی نشاندھی کرنا تھا
پاکستان میں 95 فیصد دھشت گردی کی کاروائیوں کا ارتکاب دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے تکفیری و خوارج نے کیا اور انھوں نے 60 ہزار پاکستانی سول و ملٹری و پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا لیکن اس کے باوجود اسے ایران-سعودیہ پراکسی وار یا اسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ہی پراکسی وار قرار دینے پر اصرار کرنے کے کیا معنی ہوسکتے ہیں
ہم بہت واضح طور پر کہتے ہیں کہ دیوبندی وہابی تکفیری خوارج عالمی دھشت گرد ٹولہ ہے اور اس کی کثیر نسلی ،کثیر قومی شناخت سے انکار کرنا اور اس کی جانب سے مسلط کی جانے والی فسطائیت کو سعودی-ایران ،پاکستان ملٹری پراکسی ،پختون نسلی کشی وغیرہ سے تعبیر کرنا دھشت گردی اور انتہا پسندی پر گول مول ،مبہم ،دیوبندی-وہابی عالمی تکفیری خوارج دھشت گردی کے لیے معذرت خواہانہ اور کہیں کہیں انتہائی موقعہ پرستانہ موقف ہے جس کی ہم مذمت کرتے رہیں گے
ہمیں الزامات ،بے سروپا جھوٹ اور گھٹیا الزام تراشی کرنے سے خاموش نہیں کرایا جاسکتا اور تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے ان دوستوں کے خلاف بھی بندوقیں تان چکے ہیں جن کی تحریریں ہمارے تک ان ہی کی معارفت پہنچتی رہیں اور ہم ذاتی طور پر ان سے واقف تک نہ تھے
عامر حسینی سے ہمارا تعارف علی ارقم نے کروایا اور آج تک ان کی تحریروں کو ہم ان کے فیس بک اکاؤنٹ ،بلاگ سے لے رہے ہیں جبکہ آج علی ارقم کہتے ہیں کہ
Ali Arqam ‏@aliarqam 2h
@aamirhussaini1 & ur inclination toward #Idiocy & Moronity of highest level in company of pathological liars not news 4 me @iamthedrifter
4:01 PM – 21 Jul 2014 · Details
Ali Arqam ‏@aliarqam 2h
@aamirhussaini1 You are on a roll bro!! Go on but don’t tag me, Thank You @iamthedrifter
حیرت ہے کہ اچانک علی ارقم پر یہ انکشاف ہوا کہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے سابق اور موجود مدیران کی روش احمقانہ اور طفل دماغی ہے اور وہ سب پیتھالوجکیل جھوٹے ہیں جن کی طرف عامر حسینی کا رجحان اور ان سے اس کی صحبت ان کے لیے خبر نہیں ہے جبکہ ان پر یہ انکشاف اس وقت ہوا ہے جب ان کے دوست عامر حسینی نے ان کی جانب سے دیوبندی تکفیری خوارج کی جانب جھکاؤ اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو گمراہ کرنے پر اظہار افسوس کیا اور یہ کہا کہ آخر
علی ارقم کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ سب دیوبندیوں کے خلاف ہے اور یہ کہ یہ ویب سائٹ پختونوں کی نسل کشی کے حق میں ہے
اصل میں نام نہاد لبرلز اور ترقی پسندی کا ماسک جڑھائے علی ارقم جیسے دیوبندی تکفیری خوارج کے حامیوں کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ ہے کہ تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے ایک طرف تو دیوبندی مکتبہ فکر کے اندر آغاز کار سے پائے جانے والے تکفیری خوارجی ڈسکورس کے موجود ہونے اور اس کی تاریخی جڑوں کی تلاش شروع کیوں کی اور دوسری طرف اس نے پختون نیشنل ازم کے اندر دیوبندی مکتبہ فکر کی اس شدت پسند لہر کے لیے پائی جانے والی ہمدردی اور احمد شاہ ابدالی ،شاہ اسماعیل دھلوی ،سید احمد بریلوی کی شیعہ دشمنی کی تاریخ کیوں بیان کی اور پھر باچا خان کی جانب سے صوبہ سرحد میں دیوبندی مدارس کے قیام کی حکمت عملی کے نتائج و عواقب پر بحث کیوں شروع کی
علی ارقم سمیت بہت سارے پختون ،بلوچ ،سندھی ،سرائیکی قوم پرستوں کو دیوبندی دھشت گردی اور عسکریت پسندی کے تعلق کی پنجابی جڑوں کی تلاش اور اس حوالے سے شواہد و واقعات پر کوئی اعتراض نہیں ہے نہ ہی اس کی ازبک ،تاجک ،عرب ،ترکمانی شناخت کی تلاش پر کوئی اعتراض ہے لیکن جب اس دھشت گردی کی دیوبندی جڑوں اور پختون سماج یا بلوچ ،سندھی ،سرائیکی سماجوں میں جڑوں کی نشاندھی کی جانے لگتی ہے تو ان کے اندر سے فوری طور پر ایک رجعت پرست برآمد ہوجاتا ہے اور پختون نیشنلسٹ کے اندر وہ جو دیوبندی پس منظر سے ہیں ان میں کئی ایک کے اندر چھپا دیوبندی باہر آجاتا ہے اور وہ پھر حقیقت کو احمقانہ اور طفل دماغی کہہ کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں
تعمیر پاکستان ویب سائٹ کا آرکآئیو اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے اپنے ناقدین اور یہاں تک کہ گھٹیا سازشی تھیوریز پھیلانے والوں اور ہمیں آئی ایس آئی ،یا ایرانی یا امریکی ایجنٹ قرار دینے والے صحافیوں،قلم کاروں ،اینکرز اور دانشوروں کی ٹھیک اور مبنی بر صواب تحریروں کا کبھی بائیکاٹ نہیں کیا اور ان کی سخت سے سخت تنقید کو بھی ویب سائٹ پر شایع کیا اور آئیندہ بھی یہ ہوتا رہے گآ
تعمیر پاکستان ویب سائٹ چونکہ ناموں سے زیادہ کام اور عمل کو دیگھتی ہے اس لیے اسے ہر ڈنڈی مار گروہ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے
حال ہی میں تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے غزہ پر اسرائیلی بمباری اور فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی سخت مذمت کی لیکن ساتھ ساتھ صہونیت اور بہودیت میں فرق کو ملحوظ رکھا اور جبکہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا ہٹلر پرستی کے رجحان کی مذمت کی اور فلسطین کے مسلمانوں کے قتل پر شور مچانے والوں کی عراق ،پاکستان ،شام میں مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموشی اختیار کرنے یا داعش و القائدہ کا دفاع کرنے والوں کو بے نقاب کیا تو ایک شیعہ آفیشل فیس بک پیج نے ہمیں یہود و نصاری کا ایجنٹ لکھ ڈالا جبکہ دیوبندی سوشل میڈیا پیجز اور کئی ایک دیوبندی صحافی ہمیں ایران کا ایجنٹ لکھتے ہیں اور کئی ایک ہمیں احمدی برادری کا ایجنٹ لکھتے ہیں جبکہ ڈاکٹر تقی ،علی ارقم اور حاجی پاشا صاحب ہمیں شیعہ کا طالبان بتلاتے ہیں حالانکہ راقم الحروف جو اس ویب سائٹ کا ایڈیٹر ہے وہ اہل سنت سے تعلق رکھتا ہے اور حنفی المشرف ہے اور سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ محدث اعظم پاکستان اور تحریک پاکستان کے عظیم روحانی پیشواء پیر سید جماعت علی شاہ کا مرید ہے جبکہ اس ویب سائٹ نے ہمیشہ شیعہ ،سنّی ،دیوبندی ،وہابی ،لبرل ،کیمونسٹ ،سوشل ڈیموکریٹس سب کو شایع کیا جو پوری دنیا میں مذھبی فسطائیت کے خلاف ہیں اور ایک تکثیری معاشرے کے خواہش مند ہیں
لیکن کیا پاکستان میں جو دیوبندی پس منظر رکھنے والے دائیں بازو اور لبرل اطراف کے لوگ ہیں کیا وہ بھی پاکستان کو ایک تکثیری اور متنوع معاشرہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں؟
ہمیں افسوس سے لکھنا پڑرہا ہے کہ ایسا نظر نہیں آتا اور پاکستان کے اندر ایک طرف تو دیوبندی مدارس ،مساجد اور تبلیغی مراکز کے دروازے اہل سنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان اور دیگر ٹی ٹی پی وغیرہ کے لیے کھلے ہیں اور کوئی آواز کسی ایک دیوبندی مولوی کی ایسی نہیں ہے جو یہ کہے کہ
سپاہ صحابہ پاکستان یا ٹی ٹی پی کا دیوبندی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے
دوسری طرف جب دیوبندی اسلام کے مدارس اور مساجد میں تکفیری خوارج کو ملنے والی رعائت اور حمائت کی نشاندھی کی جاتی ہے تو پھر علی ارقم سمیت بہت سے لوگ ہم پر اپنے ٹوئٹ بموں کی برسات کرتے ہیں اور بغض میں یہ کرتے ہیں کہ عامر سعید دیوبندی جیسے تکفیریوں اور دھشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں

 1 2 3 4

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

59 Comments

Click here to post a comment