Original Articles Urdu Articles

دیوبندی سلفی دہشت گردوں کی دہشت گردی سامراجی منصوبے کا حصہ ہے – از عبدلقادر

10513261_1503507786533852_7433870351477585781_n

 شام : شام میں بشار السد کی سیکولر حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے “جمہوریت” کے نام پر خانہ جنگی شروع کروائی جاتی ہے، اس خانہ جنگی کو “عرب سپرنگ” یا ” شامی بغاوت” کا نام دیا جاتا ہے۔ پھر اسے فرقہ واریت کی چغا پہنا دا جاتا ہے، سلفی دہشتگردوں کو کئی ممالک سے لایا جاتا ہے، اس مقصد کے لئے سعودی عرب، قطر اور ترکی کلیدی کردر ادا کرتے ہیں۔ اس ساری کھچڑی کا ہدف و مقصد خطے میں ایرانی اور روسی اثر و رسوخ کو توڑنا ہوتا ہے،

شام ایران کا اتحادی ہے اور روس کی مد ٹرین سی  میں ایک اہم بحری آڈآ شام کے شہر تارطوس میں واقع ہے (یہ روس کا پورے خطے میں واحد بحری آڈا ہے)۔ روس کو خطے سےکک آوٹ کرنے اور ایران کی پروکسی حزب اللہ (جو اسرائیل کے لئے ایک درد سر بن چکی ہے) کا ناکہ بند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شامی حکومت کا خاتمہ ہو، لیکن 3 سال کی بھرپور کوشش کے باوجود ایرانی اور روسی مداخلت کی وجہ سے مقصد حاصل کرنے میں ناکامی رہتی ہے۔ (معاملہ اب بھی جاری ہے)

 یوکرائن: روس کی شامی حکومت کی مدد کرنے کے عوض اسے اسی کے بیک یارڈ میں سزا دینے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن روس تو ایک تگڑا ملک ہے، کیا کیا جائے؟ 2013 کے اواخر میں روس نواز یوکرائنی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کیا جاتا ہے، 2014 میں حکومت کے خلاف پرتشدد مہم چلتی ہے اور روس نواز حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یوکرائین جو روسی قدرتی گیس کو مغربی یورپ تک پہنچانے کی ایک راہداری ہے اس پر روس مخالف ٹولے کو مسلت کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران روس کرائمیہ کے اہم جزیرے پر قابض ہو جاتا ہے اور مکمل سٹریٹیجک شکست سے بچ جاتا ہے۔ یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں مغرب پرست حکومت کے خلاف بغاوت ہو جاتی ہے۔( جو اب بھی جاری ہے)

 عراق: ایران کی شامی حکومت کی مدد کرنے کے عوض اسے بھی اس کے پڑوس میں مزید پریشان کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب و دیگر سلفی ممالک کی جانب سے عراق کی پرو ایران حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جون 2014 میں اچانک ہی داعش نمودار ہوتی ہے اور وہ مغربی عراق کے ایک بڑے رقبے پر بہت ہی قلیل وقت میں قابض ہو جاتی ہے (٭ظاہر ہے یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا اس کے پیچھے ایک اچھی خاصی پلاننگ اور زبردست فنڈنگ کارفرما ہے)۔ اس کے ساتھ ہی سلفی دہشتگردوں کی خلافت کا اعلان ہوتا ہے جس کے بعد ایک نیا محاذ کھلتا ہے۔۔۔ یوں مشرق وسطی میں ایران کو شامی جنگ میں کردار ادا کرنے پر اسے سخت ترین پیغام دیا جاتا ہے۔ (معاملہ جاری ہے)

 سنکیانگ: آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چین کا کیا ماجرہ ہے؟ جی ہاں، چین دراصل تیزی سے دنیا کی معاشی طاقت کا روپ دھارتا جا رہا ہے اور اس معاشی ترقی کو چار چاند لگانے کے لئے اس کے نزدیک جنوبی ایشاء اور مشرق وسطی کی بڑی اہمیت ہے۔۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کے ایران، روس سے بھی قریبی تعلقات استوار ہیں۔ سنکیانگ چین کے لئے جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطی تک رسائی کے لئے واحد گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کا مشرق وسطی برستہ جنوبی ایشیاء داخلہ روکنے کے لئے ضروری سمجھا گیا کہ قراقرم ہائی وے کی بدولت گرم پانیوں سے منسلک اس کے مغربی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ سنکیانگ میں جاری دہشتگردی اسی کا ایک شاہکار ہے!

اس سلسلے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشتگردی کے آڈے چین میں دہشتگردی کے لئے استعمال ہوتے رہے، جن کی بدولت چین اور پاکستان کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہوئے، یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردوں کی اس کی سرزمین چین کے خلاف استعمال کرنے کی وجہ سے خطے میں اپنے ایک اہم اور مضبوط اتحادی کھو دینے کے ڈر سے شمالی وزیرستان میں غیر ملکی دہشتگردوں (جن میں شینی یوغر بھی شامل ہیں) کے خلاف ب آپریشن کرنا پڑا۔ (معاملہ اب بھی جاری ہے)۔

لہذا موجودہ عالمی صوتحال کو دیکھتے ہوئے یہ معلوم پڑتا ہے کہ مغرب اور اس کے اتحادی چین، روس اور ایران کا کسی بھی قیمت پر راستہ روکنا چاہتے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کر پائیں گے؟

Source :

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1503507786533852&set=a.1390817494469549.1073741827.100006239353157&type=1&theater