Original Articles Urdu Articles

پاکستان کے عجیب لبرلز اور عجیب ملحد

Liberal-Definition

پاکستان میں کوئی بھی نظریہ اپنی اصل حالت میں قائم نہیں رہ پاتا یہی وجہ ہے یہاں کا لبرل ازم بھی باقی دُنیا سے نِرالا ہے- یہاں کہ لبرلوں (بالخصوص سوشل میڈیائی) کی لبرل ازم نیو ائیر اور ویلنٹائنز ڈے منانے تک محدود ہے- انسانیت کو استحصال اور ظلم سے نجات دلانے کے لئے اُن کے پاس کوئی نظریہ اور کوئی لائحہ عمل نہیں ہے- اکثریت کی لبرل ازم مذہب مخالفت سے شروع ہو کر اُسی پر ختم ہو جاتی ہے- ان میں سے بعض لبرلز مذہبی مقدس شخصیات خاص طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور دیگر ادیان کی مقدس ہستیوں کے خلاف غلیظ اور غیر مہذب زبان استعمال کرتے ہیں، قرآن، انجیل اور دیگر مقدس کتابوں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں اور اس طرح فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر اسلام، مسیحیت اور دیگر مذھب پر عمل کرنے والے عام امن پسند، تھذیب یافتہ لوگوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں – پاکستان میں بارہ ربیع الاول اور عاشورہ کے پر امن جلوسوں پر تنقید کرتے ہیں جبکہ یورپ اور امریکہ میں سڑکوں پر نکلنے والے مارڈی گرا کے جلوس میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں

مذھب اور دائیں بازو کی نفرت میں پاکستانی ملحدین اور لبرلین تمام مذاھب اور ادیان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے قائل ہیں اور سلفی و دیوبندی قاتلوں اور مسیحی، احمدی، شیعہ اور سنی بریلوی یا صوفی مقتولوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان نام نہاد لبرلوں اور ملحدوں کی بڑی تعداد سابق دیوبندی یا سابق وہابی ہے – ایسا لگتا ہے کہ مذھب تو ان کے خیالات سے نکل گیا لیکن دیوبندی اور سلفی فرقہ وارنہ تعصب کے اثرات ابھی تک موجود ہیں

ان انتہا پسند لبرلز کو معلوم ہونا چاہیے کہ لبرلزم کا مطلب الحاد نہیں، برداشت، تحمل اور معاشرتی تھذیب ہے – یقینی طور پر ایک مذہبی انسان بھی اتنا ہی لبرل ہو سکتا ہے جتنا کہ ایک ملحد – تمام ادیان اور مذاھب کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا نظریہ الحاد کا – شائستہ تنقید وقت کی ضرورت ہے لیکن تھذیب اور باہمی احترم کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے –

یاد رہے کہ لبرلزم الحاد کی تبلیغ اور مذھب کی تنقیص کا نام نہیں بلکہ ازم شخصی اور مذہبی آزادیوں کے احترام، ظلم اور استحصال سے نفرت، جمہوریت، آزادیِ اظہارِ رائے اور انسانی حقوق کی بالادستی پر یقین رکھنے کا نام ہے

مزید یاد رہے کہ جب آپ پاکستان، سعودی عرب اور ایران کی مذہبی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں تو آپ کو جہاد افغانستان کے دوران امریکہ میں ڈیزائن ہونے والی جہادی دیوبندی اور سلفی کتابوں پر بھی غور کرنا چاہیے جن کی اشاعت کے زریعہ سے امریکہ اور برطانیہ نے معصوم سنی مسلمانوں کو تکفیری دیوبندی اور وہابی جہادی اور فرقہ وارانہ تشدد میں مبتلا کیا – یہ بھی یاد رہے کہ تاریخ عالم میں ہونے والے سب سے قبیح جرم یعنی ساٹھ لاکھ سے زائد معصوم یہودیوں کی شہادت میں مذہبی درندے نھنیں بلکہ لا دین، ملحد درندے ملوث تھے اور یہ کہ ہیروشیما اور ناگاساکی میں لاکھوں معصوم جاپانیوں کا ایٹم بم کے ذریعے قتل عام لبرلوں اور ملحدوں کی آئیڈیل ریاست امریکہ نے کیا تھا، وہی ملک جو آجکل تیل کے ذخائر اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے عراق اور شام میں القاعدہ اور النصرہ کے درندوں کی امداد کر رہا ہے
(ماخوذ از فکرِ نو)