Newspaper Articles Urdu Articles

کیا پاکستان کا مقدّر آئی ایس آئی ایس کے درندوں کی وحشی خلافت کا ایک صوبہ بننا ہے؟ – محمد عامر رانا

10479738_900763199940515_753635523532676710_n

دیگر فیکٹرز کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ریاست کی ازلی بے حسی اور سیکورٹی کے ایشو پر بے عملی نے دیوبندی اور سلفی وہابی مسالک سے تعلق رکھنے والے جہادی نان اسٹیٹ ایکٹرز کو پھلنے پھولنے کے لئے نہ صرف جگہ بلکہ اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع بھی فراہم کیا- انہوں نے اس اسپیس کو نہ صرف اپنے نریٹیو اور اپنے نظریات کے فروغ کے لئے استعمال کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ‘ریاست کے اندر ریاست’ قائم کرنے کا بھی موقع مل گیا-

گو کہ ان عناصر کے خلاف اس وقت آپریشن جاری ہے تاہم آئی ایس آئی ایس کے یکایک ابھر کے سامنے آنے سے ہمارے لئے معاملات مزید بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے-

عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام (آئی ایس آئی ایس) کی کامیابی پر خوشیاں منا رہے ہیں جس نے عراق اور شام کے کچھ علاقوں میں ایک ‘اسلامی ریاست’ یا ‘خلافت’ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے- یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عسکریت پسندوں نے کچھ علاقے پر قبضہ کرنے کے وہاں اسلامی رٹ یا شریعت کا نفاذ کیا ہو-

افغانستان، پاکستان کے قبائلی علاقے، شمالی مالی اور صومالیہ، عسکریت پسندوں کی جانب سے اس قسم کی کوششوں کو جھیل چکے ہیں گو ان سب کا لیول مختلف درجے کا تھا-

آئی ایس آئی ایس کے عروج کا مطلب القاعدہ کا زوال نہیں-

بہت سے ماہرین، عراق اور شام میں رونما ہونے والی حالیہ ڈویلپمنٹس کا تجزیہ کرتے ہوئے آئی ایس آئی ایس کے عروج میں القاعدہ کا زوال دیکھ رہے ہیں اور یہ ایک غلطی کے سوا کچھ نہیں-

دیوبندی اور سلفی وہابی عسکریت پسندوں کی اسٹریٹیجیز کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سب سے پہلے ایک متبادل سوشیو کلچرل اور سیاسی نریٹیو فراہم کر کے ریاست کے بنیادی ستون کو چیلنج کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد، وہ فزیکل علاقے کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں-

ان کے بیچ اسٹریٹیجیز پر اختلاف ہو سکتے ہیں، جیسا کہ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ میں ہیں تاہم وہ ان اختلافات پر قابو پا لیتے ہیں اور ایک ہو جاتے ہیں- القاعدہ کے لئے شاید اس وقت آئی ایس آئی ایس کی کامیابیاں حیران کن ہوں تاہم وہ اسٹریٹیجیز پر بحث کرنے کے بجائے خلافت کے ماڈل کے حوالے سے ایک اتفاق رائے قائم کرنے کو ترجیح دے گی-

کچھ کیسوں میں تو عسکریت پسند، نیشنلیسٹ گروپوں کے ساتھ بھی اتحاد بنا لیتے ہیں-

شمالی مالی میں یہی ہوا تھا جہاں نیشنل موومنٹ فور دی لبریشن آف ازواد (ایم این ایل اے) نے اسلامی گروپوں کے ساتھ مفاہمت کر لی تھی- تاہم جب انہوں نے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تو اسلامی گروپوں نے شرعی قوانین نافذ کرنا شروع کر دیے- آپسی لڑائی سے اتحاد کمزور ہونا شروع ہو گیا اور پھر فرانسیسی فوجوں کی طرف سے شروع کئے جانے والے آپریشن کے نتیجے میں بلآخر ٹوٹ گیا-

ایک خطرناک انسپریشن

گروپ ڈائنامکس کے علاوہ، انسپریشن بھی عسکریت پسندوں کی دنیا کے دوسرے حصوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دہرانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے-

آئی ایس آئی ایس کا عروج اور کامیابی، پاکستان میں ایک خطرناک اور انسپریشنل رول ادا کر سکتی ہیں جہاں دو سو سے زیادہ مذہبی تنظیمیں قومی اور علاقائی سطح پر آپریشنل ہیں-

ان تنظیموں کے بہت سے ایجنڈے ہیں جیسے کہ معاشرے کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنا، شرعی قوانین کا نفاذ، خلافت سسٹم کا قیام، اپنے اپنے فرقہ ورانہ مقاصد کا حصول اور پاکستان کے اسٹریٹجک اور نظریاتی مقاصد کو عسکریت پسندی کے ذریعے حاصل کرنا-

ایسی تنظیموں پر آئی ایس آئی ایس کی کامیابی کے اثرات مختلف انداز میں ہو سکتے ہیں- چند تو اپنے آپ کو صرف اخلاقی حمایت تک محدود رکھیں گی جبکہ دیگر شاید آئی ایس آئی ایس کی جانب سے کی جانے اپیل پر ان کی چندے اور مالی معاونت کی صورت میں عملی طور پر مدد فراہم کریں-

مشترکہ مقصد: ریاست خراساں کا قیام

 

اس کے علاوہ بھی دیگر گروپس جن میں بنیادی طور پر مذہبی انتہا پسند اور عسکریت پسند تنظیمیں شامل ہیں، آئی ایس آئی ایس کی اسٹرٹیجیز اور ٹیکٹکس سے انسپریشن حاصل کر سکتی ہیں-

ایسا اس لئے ممکن ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں کام کرنے والے مختلف گروپس بھی ایک دوسرے سے اپنے تکفیری نظریات اور ایک دوسرے کے ساتھ شیئر ہونے والے تنظیمی لنکس کی بنیاد پر اتفاق کر سکتے ہیں-

آئی ایس آئی ایس کی طرف سے جاری کئے جانے والے نقشے میں توسیع کئے جانے ملک سیاہ رنگ سے مارک کئے گئے ہیں جس میں شمالی افریقہ سے لے کر اسپین تک، پورے مشرق وسطیٰ سے لے کر وسطی اور جنوبی ایشیا کے علاقے بھی شامل ہیں- ان ریاستوں کو عین اس حالت میں دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ مسلم کنٹرول میں آج یا کبھی ہوتے تھے-

اس نظریے کے مطابق، اگر کوئی علاقہ ایک بار مسلم حکمرانی میں آ جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے اسلامی خلافت کا حصہ بن جاتا ہے- اگر یہ علاقے بعد میں غیر مسلموں کے قبضے میں چلے بھی جائیں تو انہیں غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے لئے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ انہیں دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کریں-

کیا پاکستان کا مقدّر آئی ایس آئی ایس کے درندوں کی وحشی خلافت کا ایک صوبہ بننا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے نقشے میں افغانستان اور پاکستان، دونوں کو اسلامی خلافت کے صوبہ خراساں کے طور پر دکھایا گیا ہے- القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کا ماننا ہے کہ اسلامی ریاست خراساں کی تحریک جس علاقے سے ابھرے گی اس میں افغانستان کے صوبہ کنڑ اور نورستان اور پاکستان کے ملاکنڈ کے علاقے شامل ہیں-

وہ انٹرنیشنل جہاد کے لئے خراساں کو بیس کیمپ سمجھتے ہیں جہاں سے وہ اسلامی ریاست کی حدود کو غیر مسلم علاقوں تک بڑھائیں گے- ملا فضل اللہ اسی نظریے سے انسپائرڈ ہیں اور خود کو تحریک خراساں کا بانی سمجھتے ہیں-

ٹی ٹی پی کی حالیہ قیادت، جس میں بنیادی طور پر فضل اللہ، ان کے نائب قیوم حقانی اور فاٹا کی مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں خالد خراسانی گروپ شامل ہیں، نہ صرف عسکری حوالے سے بلکہ نظریاتی طور پر بھی اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں-

دوسری جانب کنڑ اور نورستان میں موجود القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے انتہا پسندوں کا ذہن بھی یہی ہے کہ وہ اس علاقے کو ریاست خراساں کے قیام کے لئے ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں- گو کہ وہ اتنے مظبوط نہیں کہ وہ عراق کی طرح یہاں کسی قسم کی بڑی عسکری مہم جوئی کر سکیں تاہم وہ سیکورٹی کے حوالے سے ایک مسئلہ رہیں گے اور علاقے کے انتہا پسند ذہنوں کو انسپریشن بھی فراہم کرتے رہیں گے-

شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی کا مقصد عسکریت پسندوں کی آپریشنل بیس لائن کو نقصان پہنچانا ہے تاہم اس نے ساتھ ہی ساتھ عسکریت پسندوں کو خوست، نورستان اور کنڑ کے علاقوں میں جمع ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے اور یہ علاقے اس کام کے لئے بہت مناسب ہیں جہاں سے وہ بلآخر اپنے تخیلاتی اسلامک اسٹیٹ کے قیام کے لئے ایک مسلح جدوجہد کا آغاز کر سکتے ہیں

 

Source :

http://urdu.dawn.com/news/1006675/