Featured Original Articles Urdu Articles

جنرل راحیل شریف سے اپیل: آئی ڈی پیز کے لیے کالعدم دہشت گرد تنظیموں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے امدادی کیمپس آپریشن ضرب عضب کو نقصان پہنچا رہے ہیں

jaish

مولوی مسعود اظہر دیوبندی کی کالعدم دہشت گرد تنظیم جیش محمد بھیس بدل کر الرحمت ٹرسٹ کے نام سے آئی ڈی پیز کی امداد کی آڑ میں شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے طالبان، لشکر جھگنوی اور اہلسنت والجماعت کے تکفیری دیوبندی خوارج دہشت گردوں کو ملک کے باقی حصوں خاص طور پر کراچی، کوئٹہ اور بہاولپور فرار ہونے میں مدد دے رہی ہے اس کے ساتھ امداد کی آڑ میں معصوم کمسن پشتون نوجوانوں کو جہادی اور فرقہ وارانہ لٹریچر کے ذریعہ سے برین واش کر رہی ہے اور ان کو لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور اہلسنت والجماعت میں بھرتی کر رہی ہے، جس سے فوجی آپریشن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے

https://www.mfsa.com.mt/Files/Announcements/Sanctions/Other/005.pdf

اسی طرح عالمی دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ یا لشکر طیبہ، حافظ محمد سعید کی قیادت میں بے گھر ہونے والے پشتونوں کی امداد کی آڑ میں ان میں فرقہ وارانہ اور جہادی سلفی وہابی لٹریچر تقسیم کر رہی ہے اور امن پسند سنی مسلمانوں کو وہابی سلفی بنا رہی ہے

ہم پاکستانی فوج کے چیف جنرل راحیل شریف سے اپیل کرتے ہیں کہ ان دونوں کالعدم فرقہ وارانہ اور جہادی دہشت گرد تنظیموں کے کیمپ اکھاڑ پھینکیں اور ان کے مال کو پاکستانی فوج کے حوالے کر دیں – امدادی سامان کی تقسیم کے سارا کام پاکستانی فوج کے توسط سے ہونا چاہیۓ اور کسی بھی فرقہ وارانہ یا جہادی گروہ کو بے گھر پشتونوں سے براہ راست رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے

اس کے ساتھ ساتھ ہم دیگر سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی اور خاص طور پر پشتون پارٹیوں عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے اپیل کرتے ہیں کہ زبانی خانہ پری کی بجائے عملی میدان میں دیوبندی خوارج کے ہاتھوں بے گھر ہونے والے مظلوم پشتونوں کی امداد کریں

09101112bannu13

This wall chalking on a boundary wall of Bannu Cantonment (also seen in other parts of city) by the banned Deobandi outfit Jaish-e-Muhammad’s Al-Rehmant Trust praises ISIS and its Caliph Abu Bakr Al-Salafi Al-Baghdai, praises Faqir of Ipi while curses Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah (5 July 2014). This is yet another example of how takfiri Deobandi and Wahhabi ideology is freely mixed with Pashtun ethnicity to achieve political and ideological objectives. Ironically this trend remains unchallenged by the so called champions of Pashtun nationalism.

Abbas Nasir writes in daily Dawn:

One isn’t being unduly alarmist. Taha Siddiqui, in his excellent report from a camp in Bannu for Dawn, has highlighted this aspect. It is bizarre that the military is fighting religiously motivated terrorists while simultaneously allowing not dissimilar people a free hand in the so-called relief effort.

Jaish-i-Mohammad led by Maulana Masood Azhar isn’t exactly a group of spring chickens. This is a group whose members overlap with sectarian outfits in southern Punjab; it has an exceedingly toxic ideology and its expertise includes assassination, kidnapping, bomb-making and hijacking a commercial airliner.

To allow displaced tribal people, with their strong sense of obligation to anyone extending a helping hand, to be manipulated by such a group in the name of ‘relief’ is scandalous as it is self-defeating if the aim of the security establishment is to root out terrorism.

The other major group, which remains the security establishment’s all-time favourite, currently goes by the name of the Falah-i-Insaniyat Foundation. In previous lives it has been known as Lashkar-e-Taiba and Jamaatud Dawa, or JuD, led by the firebrand orator-preacher Hafiz Saeed.

Hafiz Saeed, his supporters and the workers of his charitable foundation that’s avowedly committed to the good of humanity all stood as one to condemn and mourn the killing of Osama Bin Laden in a US SEALs raid in Pakistan a couple of years ago.

Their issue wasn’t exactly with the violation of sovereignty as many of those who condemned the raid made their grounds for slamming it. The JuD mourned the passing away of what it saw as a great soldier of Islam who stood up to a superpower. That several thousand civilians perished in 9/11 was of little consequence to a party alleged to have carried out the Mumbai carnage.

It is a failure of political parties and the political class in the country not to have been able to get their act together when it matters most, such as in the case of the high-profile provision of relief to IDPs. But there can be no discounting how much patronage the Jaish and JuD apparently get from their khaki patrons. Such an umbilical cord has to be cut.

After all, many thousand soldiers have died in the fight against the merchants of terror over the past few years and their leadership owes it to these martyrs to reflect on its follies and set the right course going forward.

http://www.dawn.com/news/1117088

 

ملاحظہ فرمائیں امدادی کیمپوں کی آڑ میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں ڈان اخبار کی رپورٹ

http://urdu.dawn.com/news/1006650

dawn

سورج اپنی جھلسادینے والی شدت کے ساتھ سر پر ہے، قطار کو منظم رکھنے کے لیے دونوں اطراف خاردار تار بچھائے گئے ہیں، اور پولیس اہلکار لاٹھیوں اور بندوقوں کے ساتھ گشت کررہے ہیں۔

ایسے میں رضوان اللہ پچھلے دس گھنٹوں سے اپنی باری کے منتظر ہیں۔

بنوں میں یہ اسپورٹس کمپلیکس جسے آج کل ریلیف کیمپ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ حکومت نے جس راشن پیکیج کا اعلان کیا تھا، رضوان یہاں وہی پیکیج وصول کرنے کے لیے آئے ہیں۔

اس وقت سہہ پہر کے تین بجے ہیں اور وہ راشن حاصل کرنے کے لیے اپنی باری کے قریب بھی نہیں پہنچے ہیں۔ یہ کیمپ شام پانچ بجے بند ہوجاتا ہے۔

رضوان نے بتایا ’’مجھے اپنے اہلِ خانہ میں آٹھ افراد کے کھانے کا انتظام کرنا ہے۔ میں اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور اب گرمی کی شدت میں قطار میں اپنی باری کا انتظار کررہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ آج میری باری آئے گی یا نہیں۔‘‘

شمالی وزیرستان کے ایک عام رہائشی رضوان اللہ ان لاکھوں مقامی افراد میں سے ایک ہیں، جنہیں فوجی کارروائی کی وجہ سے علاقے سے نکلنا پڑا تھا۔

اس قبائلی پٹی میں ان کا آبائی علاقہ افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان اور ان کے مقامی اور غیرملکی ساتھیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

راشن لینے والوں کی یہ قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، ہلکے سبز رنگ کی اسپورٹس جیکٹ جس پر ایف آئی ایف (جو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا مخفف ہے) کا لوگو نمایاں ہے، میں ملبوس ایک نوجوان رضاکار ان بے گھر افراد کو پانی پلانے کے لیے آتا ہے، جو دھوپ کی شدت کی وجہ سے پیاس سے بے حال ہورہے ہیں۔

بیک وقت درجنوں افراد اپنے ہاتھ اس رضاکار کی جانب بڑھاتے ہیں، رضوان اللہ کی طرح یہ لوگ پسینے میں شرابور اور پیاسے لبوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایف آئی ایف کا رضاکار تیزی سے ایک کے بعد دوسرے آئی ڈی پیز کو پانی پلارہا ہے، اور جب اس کا جگ خالی ہوجاتا ہے تو وہ اسے بھرنے کے لیے امدادی کیمپ کی جانب لوٹ جاتا ہے، جو اس اسپورٹس کمپلیکس کے باہر لگایا گیا ہے۔

اس امدادی کیمپ پر ایک خاصے بڑے سائز کا ایک بینر لگا ہے، جس پر شمالی وزیرستان سے نقلِ مکانی پر مجبور ہونے والے ان افراد کے لیے یہ پیغام درج ہے:

’’اس مشکل وقت میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جماعت الدعوۃ‘‘

جماعت الدعوۃ، جس نے 2008ء میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے بعد اپنا نام فلاح انسانیت فاؤنڈیشن رکھ لیا تھا، حال ہی میں اس کو امریکا کی جانب سے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد گروپس میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

اس پر افغانستان میں ہندوستانی قونصلیٹ پر مئی کےدوران ایک حملے کا بھی الزام تھا۔ لیکن پاکستان میں یہ گروپ جسے پہلے لشکرِ طیبہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سرکاری سرپرستی سے لطف اندوز ہورہا ہے۔

جماعت الدعوۃ کے اس کیمپ کے انتظامی سربراہ محمد سرفراز کہتے ہیں ’’پاکستان آرمی واقعی ہمارے ساتھ تعاون کررہی ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ’’بے گھر ہونے والے افراد کے استقبال کے لیے سب سے پہلے ہم نے کیمپ لگایا تھا، اگرچہ یہ علاقہ ریڈ زون کہلاتا ہے۔‘‘

محمد فراز نے فخریہ طور پر کہا ’’یہ ان پناہ گزینوں کے قلب و ذہن کو جیتنے کا وقت ہے۔ جس میں حکومت ناکام رہی ہے۔ اور شمالی وزیرستان کے لوگ ہمارے شکر گزار ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد نے ہمارے لیے کام کرنے کا عہد کیا ہےاور وہ بھی زندگی بھر کے لیے۔‘‘

پورے بنوں میں اس تنظیم کے دو سو سے زیادہ رضاکار امداد تقسیم کررہے ہیں، اور پچیس ایمبولنسز اسٹینڈ بائے ہیں۔

محمد سرفراز بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ کی تعداد میں فوڈ پیکٹس تقسیم کیے ہیں، اور دس ہزارسے زیادہ مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی ہیں۔

اور محض جماعت الدعوۃ ہی نہیں ہے جو اس علاقے میں آزادانہ کام کررہی ہے۔

اس اسپورٹس کمپلیکس سے محض نصف کلومیٹر کے فاصلے پر چمکدار سرخ رنگ کا ایک بینر لگایا گیا ہے، اس پر مسعود اظہر کا نام تحریر اور انہیں امیر المجاہدین کا لقب دیا گیا ہے۔

اس امدادی کیمپ میں پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔ یہاں بھی لوگوں کی ایک طویل قطار دیکھنے کو ملی، جو ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔

نقلِ مکانی پر مجبور ہونے والے ایک فرد جس کا بچہ اسہال میں مبتلا تھا، نے بتایا کہ ’’ہسپتال میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لہٰذا ہم یہاں آئے ہیں۔‘‘

یہ شخص اس کیمپ کے فارماسسٹ سے دوائیاں لینے کے لیے انتظار کررہا تھا۔

پہلے تو اس کیمپ کے منتظمین ڈان کے نمائندے سے بات کرنے گریزاں تھے۔ ان میں سے ایک جنہوں نے اپنی شناخت مقصود کے نام سے کروائی تھی، کہنے لگے ’’ہم میڈیا سے بات نہیں کرسکتے، اس لیے کہ آپ شرعیت کے خلاف اسٹوریز شایع کرتے ہیں۔‘‘

ڈان کے نمائندے کے اصرار پر بالآخر انہوں نے زبان کھولی اور انہیں یہاں تک بتایا کہ ان کی تنظیم کشمیر اور افغانستان میں جہاد میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہم اللہ کے سپاہی ہیں اور ہم یہاں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آئے ہیں۔‘‘

ان کے پیچھے ایک پوسٹر لگا ہوا تھا، جس پر آئفل ٹاور کی تصویر کے ساتھ ’’یوروبیا‘‘ تحریر تھا۔ اس پوسٹر پر شام میں جاری جہاد میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی اس امدادی سرگرمیوں کے لیے فنڈز کے ذرائع کیا ہیں تو انہوں نے ڈان کو بتایا ’’ہم ملک بھر میں مساجد کے ذریعے بے گھر افراد کے لیے عطیات جمع کررہے ہیں۔‘‘

چند منٹ کے بعد کیمپ کے سینئر منتظم وہاں آئے اور ڈان کے نمائندے کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔

وہ وہاں سے نکل کر ایک قریبی اسکول میں چلے گئے، جس کو انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی مدد سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے ایک کیمپ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

ڈان کے نمائندے نے وہاں موجود ایک صاحب کو اپنے اس تجربے کے بارے میں بتایا، تو انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم جس کے وہ سربراہ ہیں، اسے یہاں امدادی کیمپ قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

یہ نظام داور تھے، جن کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے، اور وہ قبائلی ترقیاتی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں، جو قبائلی پٹی میں کام کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا ’’مقامی حکام ہم سے کہتے ہیں کہ این او سی کے لیے درخواست دیں، جبکہ مذہبی اور انتہاءپسند تنظیمیں آزادانہ کام کررہی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’’یہ انتہاء پسند خطرے سے دوچار آئی ڈی پیز کی آبادی میں سرائیت کرگئے ہیں، ان کی سوچ کو تبدیل کرکے انہیں اپنے مقاصد کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔‘‘

نظام داور نے کہا ’’اس کے علاوہ یہ عسکریت پسند تنظیمیں مفرور دہشت گردوں کو محفوظ راستہ فراہم کرسکتی ہیں، جو ان کے ساتھ گہرے روابط رکھتے ہیں۔ آخر حکومت ان کے بارے میں کیوں خاموش ہے؟‘‘

About the author

SK

4 Comments

Click here to post a comment
  • ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا
    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    لگ بھگ چار دہائیوں پہلے کی بات ہے۔ایک دن سیربین کی نشریات کے دوران جب کھیلوں کا احوال سنانے کی گھڑی آئی تو جن صاحب کو احوال پڑھنا تھا وہ اپنے چوبی کیبن میں تاش کھیلنے میں اتنے منہمک تھے کہ بر وقت سٹوڈیو جانا بھول گئے۔جب ان کے نام کی پکار پڑی تو لشتم پشتم پھولی سانس کے ساتھ دوڑتے سٹوڈیو میں پہنچے اور مائیکرو فون کے سامنے دھنس گئے۔
    ’اور اب سماعت فرمائیے کھیلوں کی خبریں۔ پورٹ آف سپین میں آج پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کا پہلا دن ہے۔ پاکستان ٹاس جیت کر بیٹنگ کر رہا ہے۔ آخری خبریں آنے تک پاکستان نے بہت سے رنز بنائے اور ویسٹ انڈیز کے باؤلرز نے کئی کھلاڑی آؤٹ کیے۔ تفصیل جہاں نما میں سنیئے گا۔‘

    یہ واقعہ ہرگز یاد نہ آتا اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع نہ ہوتا۔جس میں ’اب تک بیسیوں دہشت گرد ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوچکے ہیں‘۔۔۔۔۔اور آنے والے دنوں میں بھی درجنوں دہشت گرد ہلاک اور بیسیوں ٹھکانے تباہ ہونے کی قوی امید ہے۔
    آپریشن شروع ہونے کے بعد بتایا گیا کہ عام شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے 15 دن کی اعلان کردہ مہلت ختم ہونے سے پہلے اس لیے آپریشن شروع کیاگیا تاکہ سرپرائز یعنی حیرت کا عنصر باقی رہے اور دہشت گردوں کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔

    یہ طالبان رہنما کہاں ہے؟
    اعظم طارق، حافظ سعید، خالد حقانی، شہر یار محسود جیسے کمانڈر، متوازی طالبان کمانڈر خان سید سجنا، ازبکستان اسلامک موومنٹ کے کمانڈر عثمان غازی اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کی قیادت کہاں ہے؟ یہ سب اسمائے گرامی اس وقت شمالی وزیرستان میں ہیں یا نہیں ہیں؟ یا کسی کو معلوم نہیں کہ کہاں ہیں؟ یا غیر سرکاری طور پر معلوم ہے مگر سرکاری طور نہیں معلوم ۔کچھ توکہئیے کہ لوگ کہتے ہیں۔

    کہا گیا کہ آپریشن سے پہلے شمالی وزیرستان کو تین اطراف سے کاٹ دیا گیا ہے اور شمالی وزیرستان کی افغانستان سے ملنے والی سرحد پر بھی اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ دہشت گرد عام متاثرین کے بھیس میں سرحد پار نہ چلے جائیں۔

    کہا گیا کہ افغانستان نے اپنے علاقے میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کو گرفت میں لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور جنوبی افغانستان میں متعین امریکی دستے بھی چوکس ہیں۔ کہاگیا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا ) کی مدد سے شمالی وزیرستان سے آنے والے ہر پناہ گزین کی سکیننگ کی جا رہی ہے تاکہ دہشت گرد ان میں گھل مل نہ جائیں۔
    اس وقت شمالی وزیرستان کے لگ بھگ ایک لاکھ پناہ گزیں افغانستان میں ہیں اور تقریباً پونے چھ لاکھ پناہ گزیں بنوں اور خیبر پختون خواہ کے دیگر علاقوں تک پہنچے ہیں۔
    چونکہ شمالی وزیرستان کی تمام اطلاعات فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے توسط سے آ رہی ہیں اور آزاد ذرائع علاقے میں پر نہیں مار سکتے۔ لہٰذا یہ بات بھی آئی ایس پی آر ہی بتا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان کے سرکردہ طالبان رہنما حافظ گل بہادر اور ان کے ساتھی کہاں ہیں؟ حقانی نیٹ ورک بشمول سراج الدین حقانی کہاں ہے؟ چلیے تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر مولوی فضل اللہ اور تحریکِ طالبان مہمند کے سربراہ عمر خالد خراسانی تو مبینہ طور پر پہلے سے افغانستان میں ہیں لیکن طالبان کی مرکزی شوریٰ کے دیگر ارکان کہاں ہیں؟
    ’تصویر تو دکھا دیں‘

    اب تو تین ہفتے سے اوپر ہوچلے۔ذرا سی زحمت تو ہوگی مگر کسی زندہ یا مردہ کی تصویر ہی جاری کردیجئے، فوٹیج دکھا دیجئے، نام بتا دیجئے۔ فوجی نقل و حرکت اور سنسان بم فیکٹریوں کی چند منتخب تصاویر اور محتاط زبان میں لکھے مختصر سے پریس ریلیزوں پر گزارہ کب تک ؟؟
    اعظم طارق، حافظ سعید، خالد حقانی، شہر یار محسود جیسے کمانڈر، متوازی طالبان کمانڈر خان سید سجنا، ازبکستان اسلامک موومنٹ کے کمانڈر عثمان غازی اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کی قیادت کہاں ہے؟ یہ سب اسمائے گرامی اس وقت شمالی وزیرستان میں ہیں یا نہیں ہیں؟ یا کسی کو معلوم نہیں کہ کہاں ہیں؟ یا غیر سرکاری طور پر معلوم ہے مگر سرکاری طور نہیں معلوم ۔کچھ توکہیے کہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔
    آپریشن کے شروع میں بتایا گیا تھا کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کا ازبک ماسٹر مائنڈ عبدالرحمان بمباری میں مارا گیا۔ پھر بتایا گیا کہ میران شاہ کا طالبان کمانڈر عمر ہلاک ہوگیا ہے اور القاعدہ کا ایک اہم رکن جو خانہ ساز (آئی ای ڈیز) بم بنانے کا ماہر ہے وہ بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ پھر بتایا گیا کہ 16 طالبان جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اب تک تین سو سے زائد ملکی و غیر ملکی دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا۔اب تو تین ہفتے سے اوپر ہوچلے۔ذرا سی زحمت تو ہوگی مگر کسی زندہ یا مردہ کی تصویر ہی جاری کردیجیے، فوٹیج دکھا دیجیے، نام بتا دیجیے۔ فوجی نقل و حرکت اور سنسان بم فیکٹریوں کی چند منتخب تصاویر اور محتاط زبان میں لکھے مختصر سے پریس ریلیزوں پر گزارہ کب تک ؟

    http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/2014/07/140706_baat_se_baat_rk.shtml?ocid=socialflow_facebook

  • hahaha… kia yahn HeZBOLLAH akar camp lagaye gi tu apko acha bmp lagya q k wo apki nazaz m dehshat gard nhi hy