Original Articles Urdu Articles

بلوچستان میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ، ’ہم زندہ لاشیں ہیں’ – از خرم زکی

hrw

بلوچستان میں شیعہ ہزارہ مسلمانوں کے قتل عام پر ہیومن رائٹس واچ نے ٦٢ صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ شایع کی ہے جس میں کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کے فوج کے ساتھ روابط، حکومتی بے حسی اور شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا قدرے تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے اور سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں. مندرجہ ذیل میں اس رپورٹ کا خلاصہ اور بلوچستان میں شیعہ مسلمانوں پر کالعدم تکفیری خارجی دہشتگرد تنظیم انجمن سپاہ صحابہ/لشکر جھنگوی کے ایک ظالمانہ حملے کی فوٹیج بھی شامل ہے. آپ سب سے گزارش ہے کہ ان درندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کی اس ویڈیو کو دل تھام کر دیکھیں اور بتائیں کہ اس ظلم و ستم اور قتل عام کا تعلق اسلام سے ہے یا ابو سفیان، معاویہ اور یزید کی بربریت سے

ا. ٢٠٠٨ سے اب تک سینکڑوں ہزارہ شیعہ مسلمانوں کو بلوچستان میں قتل کیا جا چکا ہے

ب. صرف ٢٠١٣ کے جنوری اور فروری ہی کے مہینے میں ١٨٠ شیعہ مسلمانوں کا قتل کیا گیا

ج. دیوبندی دہشتگرد تنظیمیں شیعہ ہزارہ پر مسلسل حملے کر رہے ہیں ، ان پر ہر راستے، ہر دروازے بند کر دیۓ گئے ہیں جبکہ حکومت شیعہ مسلمانوں کی حفاظت کے لیۓ کوئی قدم نہیں اٹھا رہی اور یہ بے حسی ناقابل قبول ہے.

د. ان مسلسل حملوں کا مطلب ہے کہ بلوچستان میں آباد شیعہ مسلمان پر روزگار کے دروازے بند کر دیۓ جائیں، ان کی حرکات و سکنات کو محدود کر دیا جاۓ، ان کے لیۓ تعلیم و کاروبار کے مواقع ختم کر دیۓ جائیں

ہ. ٢٠٠٨ سے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے،اور اس درمیان پورے ملک میں دیوبندی دہشتگرد تنظیموں نے ہزاروں شیعہ مسلمانوں کوقتل کیا ہے. ان حملوں میں سے بیشتر کی ذمہ داری کالعدم تکفیری خارجی دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس دہشتگرد گروہ کے سرغنہ بغیر کسی مشکلات و پریشانی کے آسانی سے اپنا کام جاری رکھے ہوۓ ہیں

و. دہشستگرد تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے کئی دہشستگر ملٹری اور سویلین جیلوں سے مشکوک و پرسرار طریقے سے فرار ہو چکے ہیں اور فوجی اور سول حکام ان اسباب و حالات کی وضاحت کرنے میں ناکام نظر آتےہیں جن میں یہ دہشتگرد جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوۓ

ز. ١٠ جنوری ٢٠١٣ کو ایک سنوکر کلب پر ہونے والے دھماکوں میں ١٠٠ کے قریب شیعہ مسلمان جاں بحق جبکہ ١٥٠ سے زائد شہدید زخمی ہو گئے. ١٧ فروری ٢٠١٣ کو ہزارہ ٹاون میں سبزی مارکیٹ پر ہونے والے ایک اور حملہ میں دوبارہ سو کے قریب شیعہ مسلمان شہید جبکہ ١٦٠ کے قریب شدید زخمی ہوۓ. یہ ١٩٤٧ میں پاکستان کی آزادی کے بعد فرقہ وارانہ دہشتگردی کے بدترین واقعات تھے

ح. پاکستانی حکام شیعہ مسلمانوں کو یہ احساس دلا رہے ہیں کہ اس طرح سے گھٹ گھٹ کر جینے میں ہی ان کی نجات ہے اور ان کے لیۓ زندہ رہنے کی یہی ایک صورت ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ کر لیں

ط. سول اور فوجی ادارے ان واقعات کی تفتیش یا مستقبل میں ہونے والے = دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام میں بالکل ناکام نظر آتے ہیں، ہیومن رائٹس واچ کو بتایا گیا ہے کہ ان واقعات کا ایک اہم سبب خود منتخب نمائندوں اور سیکورٹی حکام کا شیعہ مسلمانوں کے ساتھ متعصب اور نفرت انگیز سلوک و رویہ ہے اور یہ بات اپنی جگہ ثابت ہے کہ لشکر جھنگوی نے فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیز میں اپنے دیرینہ تعلقات سے فائدہ اٹھایا ہے

ی. پاکستان کی وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت یہ دعوہ کرتی ہے کہ اس نے شیعہ مسلمانوں پر ان دہشتگرد حملوں کے درجنوں ملزمان کو گرفتار کیا ہے لیکن ان میں سے چند ہی کو سزا ہو سکی ہے. پاکستان کی حکومت کو لشکر جھنگوی پر فوری پابندی لگا کر اس کے دہشتگردوں کو غیر مسلح کرنا چاہیۓ اور اس کے سرغنوں اور دیگر کارکنوں کے خلاف ان سنگین جرائم کے حوالے سےتحقیقات اور مقدمات چلانے چاہیئں. اس حوالے سے پاکستان کے بین الاقوامی اتحادیوں اور ڈونرز کو چاہیۓ کہ پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اس سے مطالبہ کریں کہ دہشتگردی کے ان واقعات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچاۓ

ک. پاکستان کی ١٨٥ ملین آبادی کا ٩٥%مسلمانوں پر مشتمل ہے جس کا ٢٠% شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے.جبکہ ہزارہ شیعہ مسلمانوں کی آبادی ٥ لاکھ کے لگ بھگ ہے . ١٩٩٤ میں افغانستان میں پاکستان کی مدد سے سنی طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد افغانستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے خلاف تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور جب ١٩٩٨ میں طالبان مزار شریف میں داخل ہوۓ تو انہوں نے ٢٠٠٠ کے قریب ہزارہ شہریوں کا قتل عام کیا. ہزارہ شیعہ مسلمانوں پر دیوبندی طالبان کے ان حملوں میں کئی پاکستانی شہری بھی ان کے ساتھ شریک تھے جن میں انجمن سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کی بڑی تعداد شامل تھی

ل. گو جرنل پرویز مشرف نے ٢٠٠٢ میں لشکر جھنگوی پر پابندی عائد کی اس کے باوجود بھی یہ دہشتگرد گروہ فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتیں باآسانی کرتا رہا ان وارداتوں میں طالبان کے ساتھ مل کر ہزارہ شیعہ مسلمانوں پر حملے بھی شامل ہیں

م. ٢٠٠٢ سے ملک اسحق لشکر جھنگوی کا سربراہ ہے جس پر ٧٠ سے زائد شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے ٤٤ دہشتگردی کے مقدمات درج ہیں. لیکن اسے ان میں سے اکثر سے بری کر دیا گیا ہے . یہی حال سیف الله کرد کا ہے جو پورے ملک اور خاص طور پر بلوچستان میں سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کر چکا ہے.ان دشتگردوں کا قانون کی گرفت سے آزاد رہنا پاکستان کے کرمنل جسٹس سسٹم کی ناکامی ہے

بلوچستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کا ایک روح فرسا واقعہ ایک عینی شاہد کی زبانی سنیں جو کہ ایک بس ڈرائیور ہے اور اس کا تعلق سنی مکتب فکر سے ہے

“میں ایرانی سرحد کے روٹ پر کوچ چلاتا ہوں. ہم جیسے ہی مستونگ کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ مسلح افراد بڑی تیزی سے ہمیں کراس کر کے ہمارا راستہ روک لیتے ہیں، ان سب کے پاس کلاشنکوف اور راکٹ لانچرز تھے،وہ ہم سب کو بس سے باہر آنے کا کہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہم میں سے کون کون سنی ہیں، سنیوں کو ان کے ناموں سے شناخت کرنے کے بعد وہ سنیوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ بھاگ جاؤ،ہم اپنی جان بچانے کے لیۓ دوڑ پڑتے ہیں، سب بہت خوفزدہ تھے، جس کا جدھر منہ سماتا ہے بھاگ نکلتا ہے، لیکن وہ دہشتگرد کسی شیعہ کو بس سے باہرنکلنے کی اجازت نہیں دیتے، اس کے بعد وہ ان تمام شیعہ مسلمانوں کو بس سے باہر نکالتے ہیں اور ان سب کو قتل کر دیتے ہیں، میں نزدیک ہی ایک شیلٹر سے اس قتل عام کو دیکھ رہا تھا”

ن. حکومتی افسران اور سکیورٹی فورسز کو سمجھنا چاہیے کہ لشکر جھنگوی کے مظالم کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ہزارہ اور دوسری شیعہ برادری کے قتلِ عام پر بے عملی نہ صرف اپنے ہی شہریوں سے بے حسی، بے وفائی اور غداری ہے بلکہ اس کا مطلب جرائم کو جاری رہنے میں حصہ دار اور شریک بننا ہے۔