Featured Original Articles Urdu Articles

داعش کے تکفیری خارجی دہشتگردوں کا انبیاء کی قبور کی توہین کرنا – از خرم زکی

کسی زمانہ میں تکفیری خارجی دہشتگرد  تنظیم انجمن سپاہ صحابہ یہ پروپیگنڈہ کیا کرتی تھی کہ اگر شیعہ مسلمان مکہ اور مدینہ پر قابض ہو گۓ تو یہ وہاں سے شیخین کی قبروں کا صفایا کر دیں گے یا شیعہ حجاج جب زیارت کے لیۓ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضری دینے کے لیۓ مسجد نبوی پر حاضر ہوتے ہیں تو شیخین کی قبروں کی توہین کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر یار لوگ ان جھوٹی کہانیوں کومرچ مسالا لگا کر خوب دوسروں سے بیان کیا کرتے تھے. خیر یہ گۓ وقتوں کی بات ہے، آہستہ آہستہ ان جھوٹی کہانیوں کا دور ختم ہو گیا اور اس کی جگہ قتل و غارتگری نے لے لی. معاشرے میں شیعہ نسل کشی معمول بن گئی مگر شیعہ مسلمانوں پر الزامات کی نوعیت ایک ہی رہی اور وہ یہ کہ شیعہ مسلمان خلفاء راشدین کو گالم گلوچ کرتے ہیں. یہ اور بات ہے کہ صحابہ کرام کے ان نام نہاد نوکروں نے عوام الناس کو کبھی یہ بتانے کی جرات نہیں کی کہ خلفاء راشدین پر گالم گلوچ کا آغاز کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ یزید کا باپ معاویہ ابن ابی سفیان تھا. الله بھلا کرے جماعت اسلامی کے بانی اور ممتاز عالم دین سید ابو الاعلی مودودی کا جنہوں نے اپنی کتاب خلافت و ملوکیت میں معاویہ کی طرف سے امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب کی توہین و گالم گلوچ کے واقعات کو گو اختصار ہی سے بیان کر دیا اور بتا دیا کہ خلفاء راشدین پر تبراءکرنے والا اور ان پر لعن طعن کا آغاز کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ انہی  “صحابہ کے نوکروں” کا ہیرو معاویہ تھا. جیسا کہ متوقع تھا جیسے ہی کتاب منظر عام پر آئ کچھ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں. سید ابو الاعلی مودودی کو رافضی کہا جانے لگا، اور مکتب دیوبند کے  معروف عالم دین مفتی شفیع عثمانی صاحب کے فرزند ارجمند مولانا تقی عثمانی نے خلافت و ملوکیت کی رد میں ایک کتاب لکھ دی جس کا نام تھا “امیر معاویہ اور تاریخی حقائق” اس کتاب میں تقی عثمانی صاحب نے یہ ثابت کرنے کے لیۓ  ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ معاویہ اس حوالے سے بے قصور تھا، مگر کیا کریں کہ سید مودودی کا مقدمہ ہی اتنا مضبوط تھا کہ مولانا تقی عثمانی کے لیۓ کوئی راہ فرار ممکن نہ تھی. جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اور شریعت کورٹ کے جج ملک غلام علی نے تقی عثمانی کی لن ترانیوں کا بڑا ہی مسکت جواب تحریر فرمایا اور ناقابل تردید احادیث و دیگر تاریخی حوالوں سے ثابت کر دیا کہ نہ صرف معاویہ بلکہ اسکے دیگر گورنر و حکام بھی امیر المومنین علی ابن ابی طالب کو نہ صرف یہ کہ خود گالیاں دیتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی مجبور کرتے تھے کہ وہ یہ قبیح کام انجام دیں. اور جب بعض اصحاب رسول نے معاویہ اور اس کے گورنروں کی جانب سے شروع کی جانے والی اس رسم بد کے خلاف آواز اٹھائی تو ان اصحاب رسول کو معاویہ ، نے قتل کروا دیا. حضرت حجر بن عدی انہیں اصحاب رسول میں سے تھے جو اسی گالم گلوچ کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے شہید کر دیۓ گۓ. ان تمام واقعات کی تفصیل آپ ملک غلام علی کی کتاب “خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا جائزہ” میں تفصیل کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں.
یہ  صحابی رسول حضرت حجر ابن عدی ہی کی قبر مبارک تھی جس کو پچھلے سال شامی تکفیری خارجی دہشتگرد  کھود کر جناب حجر بن عدی کا جسم مبارک لے گۓ تھے، گویا جنگ صفین ابھی تک جاری تھی. یہ صرف ایک تمانچہ نہیں بلکہ ایک تازیانہ تھا صحابہ کرام کے ان نام نہاد نوکروں کے منہ پر جو صبح و شام اصحاب رسول کے نام کی دہائیاں دیتے رہتے ہیں، ان کے روحانی بھائی شام میں اصحاب رسول کے مقابر کی توہین کر رہے تھے ان کے جسد خاکی کی توہین کر رہے تھے لیکن پاکستان کے تمام دیوبندی علماءکو چپ لگی ہوئی تھی گویا قدرت ان کو ان کے جھوٹے دعوؤں سمیت سب کے سامنے برہنہ کر رہی ہو. اب نہ کسی کو صحابی رسول کی حرمت کا خیال تھا نہ ہی اصحاب رسول کی قبر کی عزت کا پاس، یہاں تک کہ ایک صحابی رسول کے جسد خاکی کی توہین ہوئی، لیکن پاکستان کے کسی دیوبندی عالم کے منہ سے ایک آواز تک نہ نکلی.
اور پھر جیسا کہ ہر برائی کے ساتھ ہوتا ہے کہ اگر وقت پر اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جاۓ تو اس کا حجم بڑھتا جاتا ہے اور باطل کی جرات بھی بڑھتی جاتی ہے، داعش کے تکفیری خارجی جانوروں کے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا. جب عالم اسلام نے ایک صحابی رسول کی قبر کی بے حرمتی پر خاموشی اختیار کی تو اب بات آ گئی انبیاء علیھم السلام کی قبور مبارک تک. داعش کے یہ درندے واضح الفاظ میں اعلان کر چکے ہیں کہ یہ تمام انبیاء، آئمہ و اولیاءالله کی قبور کو منہدم کر دیں گے اور تمام روضوں کو ڈھا دیں گے. زار نظر ویڈیو میں یہ حضرت یونس اور حضرت شیثکی قبروں کو توڑرہے ہیں، اگر عالم اسلام نے اس پر بھی ان درندوں کے خلاف آواز بلند نہ کی تو یہ وحشی درندے جلد یا بدیر روضۂ رسول مکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلم کا رخ کریں گے. مسلمان کب خواب غفلت سے جاگیں گے ؟
 daish