Featured Original Articles Urdu Articles

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنائی کا وہابی دیوبندی دہشت گردوں کے انسانی حقوق سے متعلق بیان – از عامر حسینی

1 2 3 4

ایران کے آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکها ہے کہ امریکہ نے گوانتاناموبے میں بغیر مقدمہ چلائے قیدی رکهے ہوئے ہیں اور وہاں پر قید ہونے والوں کو ازیتیں دی جاتی ہیں اور سخت جبر کیا جاتا ہے بظاہر انسانی حقوق کی امریکیوں کی جانب سے پامالی کو بے نقاب کرنے کا عمل بہت ہی اچها لگتا ہے لیکن ہمارے دوست عبدل نیشاپوری نے جب اس ٹوئٹ کو پڑها تو انہوں نے ایرانی مجلس شورائے نگہبان کے ولی فقیہ سے سوال کیا کہ جس طرح ان کو گوانتاناموکیمپ میں قید وہابی دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے انسانی حقوق کی پامالی پر امریکہ کو لتاڑنا یاد آیا اور اس حوالے ٹوئٹ بهی کیا، ایسے کبهی انہوں نے سعودی عرب کے آل سعود، قطر اور کویت کے وهابی آمر بادشاہوں اور پاکستان کے نواز شریف کو نہیں لتاڑا جو وهابی دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہیں تاکہ وہ پوری دنیا میں صوفی سنی، شیعہ، کرسچن، احمدیوں، سیکولر لبرل کو قتل کرتے پهریں اور ان پر حملے کریں

kham

آیت اللہ خامنہ ای ہی نہیں بلکہ پاکستان میں ان کی پیشوائیت کے بوجه تلے دبے بہت سے شیعہ لوگ بهی ایسے ہیں جو اسی طرح کی روش اپناتے ہیں ان میں سے بعض شیعہ رہنما انہی دیوبندی مولویوں سے بغلگیر ہوتے ہیں جن کے مدرسوں کے طالبان پاکستان کے طول و عرض میں سنی صوفی، بریلوی اور شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جبکہ بعض شیعہ رہنما سپاہ صحابہ اور طالبان کی دیوبندی شناخت کو چھپاتے ہیں – یہی حال باقی پاکستانی قوم کا ہے ابهی حال ہی میں خواجہ آصف جوکہ وزیر دفاع ہیں انہوں نے سماء ٹی وی پر ندیم ملک کے پروگرام میں کہا کہ امریکہ اور مغرب پاکستان میں دیوبندی وہابی دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے صوفی سنی اسلام کے ماننے والے مزهبی سیاسی رہنماوں کو مالی امداد فراہم کررہا ہے

ہمارے یہ موصوف وزیر دفاع کبهی اس وقت نہیں بولے جب امریکہ سعودی عرب اور پاکستان سمیت سرمایہ دار بلاک ملکر دیوبندی اور وهابی دہشت گردوں کی ایک ایمپائر تیار کررہے تهے اور اس ایمپائر نے اب تک لاکهوں صوفی سنی، شیعہ، عیسائی، احمدی، سیکولر لبرلز کو قتل کردیا ہے اور ان کی عبادت گاہوں اور کلچرل لائف کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور مذکورہ ممالک میں خواجہ آصف جیسے لوگوں کے لیڈر میاں نواز شریف مقتولین کی اشک شوئی کرنے کی بجائے قاتلوں سے میثاق بناتے پهریں اور مظلوم مذهبی برادریوں کو بے یارومدگار چهوڑ دیا اور پیٹرو ڈالر کے اسیر ہوگئے

آج جب زمینی حقائق بدلے ہیں اور وہابیت دیوبندی مذهبی فاشزم کرہ ارض پر بسنے والے سب ہی لوگوں کے لئے عفریت اور ڈروانا خواب بن گیا ہے اور اس کے خلاف پوری دنیا میں متحدہ محاز بنانے کی کوشش ہورہی ہے تو مسلم لیگ کے وزراء اور عهدے داران سازشی مفروضوں کا سہارا لیکر اپنے سعودی آقاوں کو خوش کرنے کے لئے دیوبندی وهابی مذهبی فاشزم کے خلاف پیدا ہونے والی مجموعی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں

سابق صوبائی وزیر قانون دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت کے سرپرست رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تحریک منهاج القران کے مرکز پر سوائے بدعتیوں اور مرتکبین شرک کے اور ہے ہی کون ملت میڈیا گروپ کا انگریزی اخبار ڈیلی دی نیشن ایک مضمون شایع کرتا ہے جس میں وہ طاہر القادری کے شیخ السلام لقب پر لن ترانیاں لکهتا ہے اور یہ بهول جاتا ہے کہ جمعیت العلمائے ہند کے بانی دیوبندی مولوی محمود حسن کو مفتی ہند کا لقب کسی جامعہ ازهر یا کسی مکہ و مدینہ کے مفتی سے نہیں ملا تها اور اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور جمعیت العلمائے ہند کے دوسرے صدر حسین احمد مدنی کو شیخ الاسلام کا لقب کسی جامعہ یا کسی حکومت نے نہیں دیا تها اور ایسے ہی مولوی شبیر عثمانی کو شیخ الاسلام لقب حکومت پاکستان نے نہیں دیا تها اور نہ ہی مفتی تقی عثمانی کو مفتی اعظم پاکستان کا لقب پاکستانی ریاست نے دیا تو اگر ان سب کو کبهی ان القاب پر مطعون نہیں کیا گیا تو غریب طاہر القادری پر یہ عتاب کیوں نازل کیا جارہا ہے

مولوی فضل الرحمان قائد ملت اسلامیہ کہلائے ،اعظم طارق جیسا انتہاپسند تکفیری خارجی قائد اہلسنت و قائد انقلاب کہلائے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ دیوبندی -وہابی فاشزم کے علمبردار جو چاہیں کہیں وہ جائز ہے اور اگر کوئی صوفی سنی اسلام کا ماننے والا قائد انقلاب لکه کے یا شیخ الاسلام اسے کہہ کر مخاطب کیا جائے تو اسلام فوری طور پر خطرے میں پڑجاتا ہے مجید نظامی کے اخبارات میں طاہر القادری ،حامد رضا ،ثروت قادری سمیت ایسے صوفی سنی سیاسی رہنماوں کی کردار کشی جوکہ دیوبندی وہابی مذهبی فاشزم کے سامنے کهڑے ہونے کی ہمت رکهتے ہیں اور وہ ان کے سرپرست نواز و شهباز و آل سعود کے خلاف میدان میں آگئے ہیں اصل میں نواز لیگ کی نوازشات کا یک گونہ بدلہ دینے کی کوشش ہے

مجید نظامی کی بیٹی رمیزہ کو یونہی تو نہیں کہ نواز شریف ہر بیرونی سرکاری دورے میں ساته رکهتے ہیں اور یہ نوازشات جنگ جیو گروپ پر بهی جاری و ساری ہیں جبکہ اے آر وائی جیسے میڈیا گروپ جن کے مالک صوفی سنی مسلک سے تعلق رکهتے ہیں ان پر عتاب نازل کیا جارہا ہے مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں جو سعودیہ-نازو-دیوبندی وہابی فاشزم کو بے نقاب کرے گا تو وہ آواز خاموش کردی جائے گی

نواز شریف اینڈ کمپنی نے پولیس ،ایف آئی اے ،ایف بی آر اور صوبائی و ضلعی ایڈمنسٹریشنوں کے زریعہ سے دیوبندی وهابی فاشزم کے خلاف لڑنے والوں کو دبانے کا سلسلہ شروع کررکها ہے نازو اور اس کی ساری کمپنی بری طرح سے بے نقاب ہوئی ہے اور جیسا کہ میں نے ایک مرتبہ لکها تها کہ پاکستان کےلئے سعودی عرب نے ایک اور رفیق حریری تیار کیا ہے اور اس کا نام نواز شریف ہے اور اسے ہم پاکستان کا طیب اردوگان بهی کہہ سکتے ہیں

میں نے لکها تها کہ جس طرح ترکی کے طیب اردوگان نے ترکی کے معاشی نظام کو بری طرح سے کرونی کیپٹلزم میں بدلا اور ریاست کی سیکورٹی فورسز کو فسطائی روپ عطا کیا اور اپنے مخالفین کی آوازوں کو دبایا اسی طرز پر نواز شریف پاکستانی معشیت ،اور پاکستان کے سیکورٹی سسٹم کو استوار کرنے کے خواہاں ہیں اور ان کے اس فاشٹ پروجیکٹ کا ساته دینے کے لئے پاکستان کی دیوبندی وهابی فسطائی اور دہشت گرد تنظیمیں ،جیو جنگ گروپ ،نوائے وقت گروپ سمیت کئی دیوبندی وہابی اثرات سے مغلوب گروپ تیار ہیں اور اس سارے عمل کو سعودیہ عرب کی حمایت حاصل ہے

پاکستان کو سعودی سامراجیت سے سنگین خطرات ہیں اور خواجہ آصف جو صوفی سنی مسلک کے لوگوں پر غیر ملکی امداد لینے کا الزام عائد کرتے ہیں وہ پہلے یہ تو بتلائیں کہ سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے لیے گئے ہیں اور ایک ارب ڈالر سے زائد رقم جنوبی پنجاب کے دیوبندی وہابی مدرسوں کو سعودی عرب اور یو اے ای سے کس کام کے لئے آتی ہے

وہ یہ بهی بتائیں کہ نواز شریف ،شہباز شریف نے دیوبندی اے ایس ڈبلیو جے کو 8 کروڑ روپے مئی میں کس مد میں دئے تهے ؟اور زرا یہ بهی بتادیں کہ میاں برادران ،خواجہ صاحبان اور رانا برادران کے ہاں سے دیوبندی تکفیری مدرسوں کو چیک کس مد میں جاری کئے جاتے ہیں ؟

یہ بهی تو معلوم پڑے کہ سرکار نے کتنا رقبہ اور کتنے امدادی چیک دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت کو دئے اور لشکر طیبہ کے حافظ سعید کو کتنا رقبہ اور پیسے اب تک دئے جاچکے ہیں مجهے ڈاکٹر راغب نعیمی جوکہ دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتهوں شہید ہوئے نے گذشتہ دنوں ایک خصوصی ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے جب دیوبندی تکفیری ٹولے کے خلاف فتوی دیا تها اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف واضح موقف اختیار کیا تو تب سے میاں برادران نے ان کے مدرسہ سے اپنے تعاون میں تیزی سے کمی کی اور اب یہ بالکل بهی نہیں ہے

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اپنے سابقہ دور میں شہباز شریف جب جامعہ نعیمہ میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی یاد میں ہونے والے سیمینار میں طالبان سے دوستانے کی باتیں کررہے تهے اور حامد میر نے بهی ان کا ساته دیا تها تو اس پر سنی بریلوی علماء کے سخت ردعمل کے بعد وہ کسی بهی لاہور کے بڑے صوفی سنی مدرسے کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و دستار بندی میں نہیں گئے اور شنید یہ ہے کہ ان کو بلایا بهی نہیں گیا جبکہ وہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے سالانہ جلسے میں شریک ہوئے اور تقریر کی

اس ساری معروضات کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں تکفیری دہشت گرد ٹولے بیرونی اور اندرونی سرمایہ سے مستفید ہون اور ایک دہشت گرد ایمپائر تعمیر کرکے اس ملک کے اکثریتی مسلک اور دیگر اقلیتی مزهبی برادریوں کو ختم کرنے کے مشن پر گامزن ہوں تو کوئی بات نہیں ہے لیکن اگر ان کو للکارنے اور ان کی فسطائیت سے بچنے کے لئے هاته پاوں مارے اور اپنے لوگوں کومنظم کرے تو وہ غدار ،غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اس ملک میں سعودی مداخلت بلکہ اس ملک کی موجودہ حکومت کی آل سعود کی وفاداری سے بنی ہوئی سعودی سامراجیت پر مینو فیکچرڈ اور مینیجڈ سائلنس جس کو ٹوٹتے ہوئے دیکهنا یہاں کی دیوبندی وہابی نواز حکومت کو قابل قبول نہیں ہے

یہ وہابی دیوبندی دہشت گردی اور فسطائیت پروان چڑهانے والا سعودی ،قطری ،کویتی ودیگر عرب وہابیت کی جیبوں سے آنے والا سرمایہ ایک ایسا موضوع ہےجس پر مین سٹریم میڈیا میں خاموشی طاری ہے اور چهوٹے موٹے وسایل جو صوفی سنی مسلک کے ڈاکٹر طاہر القادری یا دعوت اسلامی نے پیدا کئے ہیں ان پر شور مچایا جارہا ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر پاکستانی سنی صوفی مسلک کے لوگوں کی کیپسٹی بلڈ ہوئی اورسیلف ڈیفنس کے یہ قابل ہوئے تو پهر سعودی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو پاکستان میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑے گا

پاکستان سمیت برصغیر پاک و ہند میں سعودی عرب سے درآمد ہونے والے وہابی نظریات اور دیوبندی مکتبہ فکر میں ان کا اثر و نفوز اجنبی نظریات کی آمد ہیں اور وہابی دیوبندی مزهبی فاشزم کی تو ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش میں کوئی گنجائش نہیں ہے یہ زبردستی اور سرمایہ کے زور پر مسلط کیا جارہا ہے جس کے خلاف ایک بڑے مشترکہ فرنٹ کا قیام عمل میں لایا جانا چاہئیے