Original Articles Urdu Articles

Constable Riaz Babar Deobandi massacred Sunni Barelvis in Lahore

x240-PzV

Breaking: Riaz Babar Deobandi of ASWJ-LeJ was recruited in Punjab police by Shahbaz Sharif / Rana Sanaullah to massacre Sunnis and Shias. Constable Riaz Babar Deobandi of ASWJ, in plain clothes, fired as peaceful Sunni Barelvis of MQI/PAT with guns in both hands.

لاہور(دنیا نیوز)سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران سادہ کپڑوں میں ملبوس دونوں ہاتھوں میں پسٹل لئے فائرنگ کرنے والے گمنام کردار کا دنیا ٹی وی نے سراغ لگا لیا ہے ، نیا گلو بٹ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں تعینات پولیس کانسٹیبل نکلا۔

دنیا نیوز سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران سادہ کپڑوں میں ملبوس دونوں ہاتھوں میں پسٹل لئے فائرنگ کرنے والے گمنام کردار کو سامنے لے آیا ۔ دنیا ٹی وی کے ذرائع کے مطابق یہ گمنام کردار ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں تعینات پولیس کانسٹیبل ہے اور اس کا نام ریاض بابر ہے ۔ ریاض بابر پولیس کا ایسا بدنما داغ ہے جو متعدد مرتبہ ڈکیتی کی وارداتوں میں گرفتار بھی ہو چکا اور جیل بھی کاٹ چکا ہے ،

مگر پولیس کے اس گلو بٹ کو پولیس حکام کی آشیر باد حاصل رہی اور یہ ہر مرتبہ سزا سے بچ نکلتا ۔ ریاض بابر ماڈل ٹاؤن آپریشن کے دوران دونوں ہاتھوں میں پسٹل لئے اپنی خفیہ کارروائیوں میں مصروف رہا اور اپنے پیٹی بھائیوں سے داد تحسین بھی وصول کرتا رہا ۔ دنیا نیوز نے تو پولیس کے اس بدنما کردار کو بے نقاب کر دیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلٰی حکام اس پر کیا ایکشن لیتے ہیں

مزید تفصیلات میں اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ بابر ریاض ان سینکڑوں پولیس اہلکاروں میں ا ایک تھا جس کو رانا ثنا اللہ کی سرپرستی میں کالعدم تنظیموں سے تعلقات کے باوجود پولیس میں بھرتی کیا گیا تھا اور ان اہلکاروں میں لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی ایک کثیر تعداد کو شہباز شریف کی منظوری سے رانا ثنا اللہ نے پولیس میں شیعہ اور بریلوی مسلمانوں کے خلاف دیوبندی محاذ کے ہراول دستے کے طور پر ٹرین کروایا

 شیعہ سنی بریلوی مسلمانوں کے کسی ممکنہ سیاسی اتحاد اور دیوبندی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف سامنے آنے کے بعد بابر ریاض جیسے سینکڑوں دیوبندیوں کو صرف اسی وجہ سے پولیس میں بھرتی کیا گیا تھا کہ وقت آنے پر وہ دیوبندی تنظیموں اور نواز لیگ کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو عملی جامہ پہنا سکیں جس کی ایک جھلک ماڈل ٹاؤن لاہور میں نظر آی

 

About the author

Shahram Ali

2 Comments

Click here to post a comment
  • I know Babar personally… He is not a deobandi and neither is he biased against any religion. He was just a “special” police officer who was doing his duty

  • Reply @Adnan Khan, Very well said Adnan. Can you please confirm that you know Gullu But personally as well?