Featured Original Articles Urdu Articles

شیعہ اور بریلوی کے قاتلوں کے سرپرست شیعہ سنی کے ہمدرد نہیں ہو سکتے – از عامر حسینی

Anti-Shia-Militant-Organisations-in-Pakistan

پاکستان میں مظلوم مذهبی گروپ شیعہ اور سنی بریلوی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ خیال کئے بیٹهے ہیں کہ پاکستان کی ملٹری اور آئی ایس آئی کی قیادت ان کو ظالم مذهبی فاشسٹوں کی یلغار سے بچاڈالے گی اسی نکتہ نظر کو آگے لیکر شیعہ اور بریلوی کی ایک بہت بڑی اکثریت فوج اور آئی ایس آئی کے حق میں ریلیاں نکال رہی ہے

یہ اکثر پنجابی اور اردو بولنے والے ہیں اور یہ ایک طرف نواز لیگ اور سعودی عرب اور مزهبی فاشسٹوں و عدالتی اسٹبلشمنٹ کے باہمی الائنس پر تو بہت شور مچاتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ ملٹری اسٹبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کی جماعت دعوہ ،اہلسنت والجماعت حقانی نیٹ ورک ،سعید سجنا گروپ ،جیش محمد وغیرہ سے تعلقات اور سعودی عرب سمیت گلف ریاستوں کی چاکری کے سوال پر خاموش ہیں

القاعدہ سے آئی ایس آئی کے روابط پر بهی یہ کوئی بات نہیں کرتے میرے دوست فیصل رضا عابدی لشکر جهنگوی کے بارے میں بہت بات کرتے ہیں لیکن اس لشکر جهنگوی کے سربراہ ملک اسحاق سے آرمی کے جو تعلقات کارلوٹا گیل نے اپنی کتاب میں افشا کئے یا دیگر زرایع سے سامنے آئے اس پر بهی ان کی خاموشی کا مطلب سمجه سے باہر ہے
وہ عثمان کرد ،ظہور مینگل سمیت لشکر جهنگوی اہل سنت والجماعت کے بلوچستان میں آرمی کی پراکسی کے طور پر کام کرنے پر بهی خاموش ہیں اور وہ پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ڈیپ سٹیٹ پالیسی میں جہادی پراکسی کو ایسے نظرانداز کررہے ہیں جیسے ان کا وجود نہ ہو

وہ کہتے ہیں کہ جو فوج اور آئی ایس آئی کے ساته کهڑا ہوگا وہ درودی ہے اور ان کے ساته نہیں کهڑا ہوگا وہ بارودی ہے
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے ساته دیوبندی اور وہابی فاشسٹوں کی بڑی تعداد کهڑی ہے دیوبندی مکتبہ فکر کی سب سے بڑی تکفیری جنگجو اور انتہا پسند اہل سنت والجماعت اور وهابیوں کی سب سے بڑی جنگجو مشینری یعنی جماعت دعوہ اس وقت ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساته کهڑی ہے اور ملٹری اسٹبلشمنٹ نے اچهے جہادیوں کے نام سے درجنوں گروپوں کو اب بهی اپنی پناہ میں لیا ہوا ہے اگر فوج اور آئی ایس آئی کو اس ملک کی مظلوم مذهبی گروپوں سے ہمدردی ہوتی تو کیا اتنی بڑی تعداد میں وہ جہادیوں کی بریڈنگ کرتی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے

پهر جب مظلوم مذهبی گروپوں کی جانب سے مسنگ پرسنز ،ماورائے قانون بلوچ سندهی پختونوں کا اغوا اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے سوال پر ان کی نمائندگی کرنے والے جهوٹے پاکستانی قوم پرستی کی لائن لیتے ہیں اور ایک طرح سے بلوچ نسل کشی اور غریب قبائلیوں پر بمباری کا دفاع کرتے ہیں تو حیرانی دوچند ہوجاتی ہے کہ شیعہ کی ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی پر بلند آہنگ سے شور مچانے والے دوسروں کی نسل کشی پر خاموشی اختیار کرتے ہیں

اس معاملے کا ایک پہلو اور بہت اہم ہے کہ شیعہ جن پر مسلسل توهین اصحاب و ازواج رسول کا الزام لگ رہا ہے اور ان کے خلاف اشتعال انگیزی کو فروغ دیا جارہا ہے تو یہ شیعہ اور سنی بریلویوں کی لیڈر شپ اس ملک میں کرسچن عیسائی اور احمدیوں کے خلاف مزهبی جبر اور فسطائیت کو اپنائے ہوئے ہیں اور اس معاملے میں ان لیڈروں اور دیوبندی وہابی ملائیت سے ان کا موقف مختلف نظر نہیں آرہا ہے

یہ پاکستان کی غیر منتخب مقتدر قوتوں کے ساته الائنس کن بنیادوں پر بنارہی ہیں اور اس حوالے سے یہ سندهی بلوچ پختون جمہوری سیکولر قوتوں سے جو دور جارہی ہے اس کی کیا منطق ہے اس بات کا جواب فیصل رضا عابدی وغیرہ کے پاس کیا ہے مجهے معلوم نہیں ہے

فیصل رضا اور مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل جن جرائم کی بنیاد پر نواز شریف اور جوڈیشری سے نالاں ہیں ویسے ہی جرائم بلکہ کہیں زیادہ سنگین جرائم تو ملٹری وآئی ایس آئی قیادت کے ہیں مجهے تو یہ جزباتیت اور نرا پاگل پن نظر آتا ہے اور شیعہ و سنی بریلوی اس راستے پر اگر مزید چلے تو پهر ان کی اجتماعی خود کشی کو کوئی نہیں روک سکے گا