Featured Original Articles

گالیاں اپ کی اور بے عزتی میری؟ ایسے تو حالات نہیں

382563_10200857470011457_1989208545_n-4مہذب قوموں میں جب کسی سے اختلاف ے رائے ہو جاۓ تو لوگ تنقید کرتے وقت اگلے کی نہ سہی ، اپنی عزت کا ضرور خیال رکھتے ہیں. دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ جب عورت پر تنقید کرنی ہو تو اس پر جسنسی الفاظ میں اٹیک کرو
پاکستان میں جب بھی مردوں نےکسی عورت کی بے عزتی کرنی ہو تو ہمیشہ اس پر جنسی الفاظ میں حملہ کرتے ہیں، اور سچی بات ہے کہ جاہل حلقوں میں ان باتوں سے عورتوں کی بے عزتی ہو بھی جاتی ہے. چار جاہل بیٹھ کر کہہ رہے ہوں، ارے فلاں سیاست دان عورت کے تو بڑے یار ہیں. ارے فلاں اداکارہ تو اس بزنس مین نے رکھی ہے وغیرہ، تو ان کے اپنےچھوٹے چھوٹے ذہنوں میں تو بڑ ی بے عزتی ہوجاتی ہے ان عورتوں کی. بڑا خوش ہوتے ہیں ایسے لوگ ایسی باتیں کر کہ

 

پھر اسی سیاست دان عورت کو ووٹ بھی دینا ہے. اسی اداکارہ کے ساتھ تصویر بھی اتراونی ہے لائن میں لگ کر. اور گلی محلے میں بیٹھ کر ان کو گالیاں بھی دیتے رہنا ہے

سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوں کی اپ سے ڈائریکٹ رسائی ہو جاتی ہے. جب بھی کچھ لکھو، کچھ جاہل خدا جانے کہاں کہاں اپنی کمپیوٹر سکرین کے آگے بیٹھے لال پیلے ہو کر غصّے میں لمبی لمبی گالیاں لکھنے لگتے ہیں. میں تمھارے ساتھ یہ کروں گا تو میں تمہرے ساتھ وہ کروں گا. بنیادی طور پر اپنی ہی بے عزتی کرتے جاتے ہیں. ارے بھائی میری عزت نہیں کرتے، اپنی تو کرو

کچھ تو جنسی کہانیاں گھڑ کر مشہور کرنا شروہ ہو جاتے ہیں عورتوں کے بارے میں . وہیں غصے میں لال پیلے، کمپیوٹر کے آگے بیٹھے، بے روزگار، دنیا سے ناراض
ان کا دنیا سے یہی انتقام ہے; گالیاں دے کر، الزام تراشی سے، ریپ کی دھمکیاں دے کر، وہ بیچارے کمپیوٹر سکرین کے آگےہی بھڑاس نکال لیتے ہیں
ویسے مشہور مردوں کے ساتھ بھی کم نہیں ہوتی. کہیں نواز شریف صاحب کو “گنجا گنجا ” لکھتے ہیں. کہیں شہباز شریف کی کئی بیگمات کی بات ہے. کہیں ان دونوں بھائیوں کے سر کے نیچے کسی جانور کا جسم لگا دیتے ہیں تصویروں میں. کہیں سیاست دانوں کی شراب و کباب کی محفلوں پر ان کو گالی گلوچ  ہے
مگر پیچھلے ساٹھ سالوں سے بار بار انہی لوگوں کو حکمران بھی بنا دیتے ہیں، سر جناب بھی کرتے ہیں، اختیارات بھی انہی حکمرانون کے، دولت بھی حکمرانون کی، شراب اور کباب اور عیش و عشرت بھی حکمرانو ن کی، غیر ملکی دورے اور اچھی زندگی بھی حکمرانون کی
تو پھر کمپیوٹر پر بیٹھ کر گالیاں دینے، جلنے کڑھنے، برا کہنے، الزام لگانے والے بھائی کس کی بے عزتی کر رہے ہیں؟ اپنی عزت کا ہی کچھ خیال کریں

عورتوں کی بات کی طرف دوبارہ آتی ہوں، جب بھی کسی معاملے میں اظھار ے راے کرتی ہوں، اور کسی کی جاہلانہ گالی گلوچ والی جنسی حملے والے الفاظ اپنے بارے میں پڑھتی ہوں تو ایک ہی بات سوچتی ہون، کہ کس کا شکر ادا کیا جاے
کون ذمہ دار ہے آج مرے اس مقام کا کہ کسی کی گالی دینے سے میری بے عزتی نہیں ہوتی. کیا یہ سب خدا کی دیں ہے؟ کاش گلی محلوں میں رہنے والی کم عمر لڑکیاں بھی سمجھ لیں کہ یہ تیری میری کرنے والے اور جنسی الزامات لگانے والے ان عورتوں کی بے عزتی نہیں کرتے، یہ صرف اور صرف اپنی بے عزتی کرتے ہیں. جو اپ کےمونھ سے نکلے، اس سے میری بے عزتی کیوں ہوگی بھائی؟

About the author

Shazia Nawaz

4 Comments

Click here to post a comment
  • Sister Shazia, Please don’t be discouraged with some mentally challenged people’s comments. These are the same people who have no respect for their mothers as well. They see every lady as a sex object. Unfortunately, they can’t go beyond that. All we could do is to pray for their mental health.

  • Hamza, I don’t who are you referring to. If you are not sure that this curse belong to which language, then please ask your mother. She will tell you better in your own language.

    May Allah grant you the wisdom and a right path of Quran and Sunnat.