Editorial Featured Original Articles Urdu Articles

اداریہ: نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان مشترکہ بانڈ کارپوریٹ بزنس ہے جس سے عام آدمی کا بھلا نہیں ہونے والا

بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014ء کے ہندوستان میں الیکشن کے اندر واضح اکثریت حاصل کرلی اور کانگریس نے بھی اپنی شکست تسلیم کرلی ہے
بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندرا مودی کو اپنی طرف سے وزیر اعظم نامزد کیا ہے اور وہ 27 مئی کو راشٹر پتی بھون میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے
نریندرا مودی کی تقریب حلف برداری ایک عالمی اہمیت کا ایونٹ بننے جارہی ہے جس میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے سوا تمام سارک ملکوں کے سربراہان شریک ہوں گے

audiencechairs_052514080150

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی نومنتخب بھارتی وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور وہ دوروزہ دورے پر ہندوستان جارہے ہیں
نریندر مودی کا بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی دفتر 11 اشوک روڈ دھلی سے وزیر اعظم ہاؤس 7-ریس کورس روڈ تک کے سفر کو ہندوستانی میڈیا میں توقعات،خدشات پر مبنی ملی جلی رائے کا اظہار کیا جارہا ہے
شیو وشوا ناتھ نے ہندوستان کے معروف روزنامہ انڈیا ٹوڈے میں ایک مضمون 15 ستمبر 2013 کو شایع ہوا اور پھر ایک 2014ء میں مودی کی فتح کے بعد ایک شایع ہوا
شیو وشواناتھ جیسے درجنوں تجزیہ کار ایسے ہیں جن کے خیال میں نریندر مودی کی انتخاب میں جیت کی بنیادی وجہ نریندر مودی کا ایک سیاست دان سے زیادہ کارپوریٹ مینجر یا سی ای او ہونے کا امیج ہونا ہے اور شاید گورننس کے حوالے سے نریندر مودی نے جن خیالات کا اظہار کررہے ہیں اس سے صاف اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی کو اڈانی،امبانی اور ٹاٹا جیسے بڑے کارپوریٹ بزنس کے شریک کار کیوں پسند کررہے تھے
مودی کی سیاست اصل میں ہندوستان کی مڈل کلاس اور کارپوریٹ سیکٹر کی خواہشوں کا عکس ہے اور اس سیاست کا ظہور ہندوستانی عوام کے اندر کانگریس اور علاقائی جماعتوں کی نااہلی سے ابھرنے والی مایوسی سے ہوا جس نے روائتی سیاست کو مسترد کردیا
نریندر مودی کی ساری الیکشن کمپئن توقعات اور خواب دکھانے پر مشتمل تھی اور اس مہم کے دوران اس نے ہندوستان کی مڈل کلاس،کارپوریٹ سیکٹر اور نوجوانوں کو زیادہ فوکس کیا اور ان کو تبدیلی کا اہم خواب دکھایا
مودی سے کارپوریٹ سیکٹر ،مڈل کلاس اور نوجوانوں کی بے پناہ توقعات ہیں اور مودی کی جیت کے بعد ان توقعات کو پورا کرنا ہی مودی کا اصل امتحان ہے
شیوناتھ کے بقول مودی مابعد اشتراکیت وزیراعظم ہے اور اسی لیے اس نے توقعات کا جوخاکہ بنایا ہے وہ روائتی سیاست بہت مختلف ہے
مودی کو مڈل کلاس ،کارپویٹ ملٹی نیشنل اور نوجوانوں تیز ترین پیش رفت کرتا ہوا دیکھنے کے خواہاں ہیں اور وہ گڈ گورننس کی تمنا بھی مودی سے کررہے ہیں
نریندر مودی سے کارپوریٹ سیکٹر کو یہ امید ہے کہ وہ بھارت کی معشیت کی سست رفتاری کو ختم کرکے اس میں اضافہ کرے گا اور مڈل کلاس کی توقعات پر پورا اترے گا
جبکہ نوجوان نسل نریندر مودی سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ان کو روزگآر کی فراہمی میں اہم اور بنیادی تبدیلیاں لیکر آئے گا
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں جس طرح سے گذشتہ انتخاب میں سابق خکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کو گرایا گیا اور ان پر یہ الزام بھی لگا کہ کرپشن تو ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے بالکل ایسے ہی ہندوستان کی عوام نے کانگریس کو وراثتی کرپشن رکھنے والی جماعت پایا اور اسے مسترد کیا
میاں نواز شریف کی پاکستان کے اندر سب سے زیادہ حمائت کارپوریٹ بزنس ،مقامی بڑے صنعت کاروں اور کسی حد تک درمیانے طبقے میں پائی جاتی ہے
میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ جب انتخاب میں کامیاب ہوئی تو عوامی توقعات کا گراف بہت بلند تھا خاص طور پر کارپوریٹ سیکٹر اور اور پروفیشنل مڈل کلاس کے اندر توقعات بہت زیادہ تھیں
لیکن ابھی ایک سال گزرنے کے بعد خود کارپوریٹ سیکٹر کے بعض سیکشن ،مڈل کلاس و بے روزگار نوجوان کے اندر یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ نواز شریف ایک سال میں ان کی بلند توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے اور ان کو چند بڑے مالیاتی اداروں کو نواز نے اور کرونی کیپٹل ازم کو فروغ دئے جانے کا الزام بھی لگاتے ہیں
کیا نریندر مودی ہندوستانی کارپویٹ سیکٹر ،مڈل کلاس اور یوتھ کی تیز تر توقعات کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور کیا وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرانی شدت پسند قوم پرستانہ سیاست کو بدل پائیں گے
مارگن سٹنیلے انوسٹ منیجمنٹ کے روشر شرما کا خیال ہے کہ نریندر مودی ایک خواب کی فروخت کرتے رہے ہیں اور اس کی تعبیر کا اب وقت آن گیا ہے لیکن روشر شرما ہندوستان کی سست رو معشیت کو تیز رفتار معشیت بنانے کے مودی کے دعوؤں کے پورے ہونے کے بارے سخت شکوک شبہات کا اظہار کرتے ہیں
نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے دونوں اطراف کے کارپوریٹ اور کسی حد تک مڈل کلاس و نوجوانوں کا کردار بنتا ہے
یہ کارپوریٹ سیکٹر دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے اور دونوں ملکوں کا سنٹر رائٹ ہی ایسے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امن کی آشا کو ضرور آگے بڑھانے کا موقعہ میسر آئے گا
پاکستان کے سامنے افغانستان اور بھارت میں ہونے والے انتخابات اور اس کے نتیجے میں مودی اور عبداللہ عبداللہ کا آنا بہت سے چیلنج ساتھ لیکر آیا ہے اور پاکستانی عقاب ان چیلنجز کو پرانی سوچ اور اپروچ کے زریعے سے ہی مسترد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور ھرات افغانستان میں ہندوستانی سفارت خانے پر حملہ بھی خاصا پیچدگی اختیار کرگیا ہے
میاں محمد نواز شریف اپنے حامی کاروباری اور مالیاتی سرمایہ کاروں کے مفادات کی پاسداری کرتے ہوئے بھارت سے محاذ آرائی کی بجائے بہتر تعلقات چاہتے ہیں جس میں سب سے زیادہ ان کۓ آڑے آئی ایس آئی اور ملٹری اسٹبلشمنٹآرہی ہے
میاں نواز شریف کی دھلی یاتراء کے بارے میں جس طرح کے شیخ رشید،حافظ سعید سمیت آئی ایس آئی اور ملٹری کے ہم بستر سیاسی مذھبی اور صحافتی حلقے منفی باتیں کررہے ہیں اس سے بھی کافی حد تک پاکستان ملٹری کی سوچ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے
ایسے لگتا ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کو نواز شریف کی انڈیا کے باب میں تجارتی ڈرائیو پر اعتراضات ہیں اور یہ اعتراضات وہ شیخ رشید حافظ سعید اور دیگر کے زریعے کہلوارہی ہے
نواز شریف اینڈ کمپنی اور نریندر مودی کی کارپوریٹ ڈرائیو سے غريب محنت کشوں ،کسانوں ،نچلے متوسط طبقے کا کچھ بھلا ہونے والا نہیں ہے

ہمیں نریندر مودی کی جیت پر ارون دھتی رائے کی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ

According to Roy, the model of development promised by Modi is pro-corporates and one that is dependent on making sure that resources such as land, water, etc, are easily handed over to them. Modi’s model of development is akin to the colonisation model that was followed by Western Europe on its path to ‘progress’ which relied on usurping resources from other countries, she says, adding, “India has no option but to colonise itself.” 

انڈیا ٹوڈے کا ایک کالم نگار مودی کی جیت کے حوالے سے لکھتا ہے کہ

Yet the problem is Modi is not a challenge to the Congress. His populism and his authoritarian politics are a challenge to democratic India which values diversity, dissent and wants to dream beyond the World Bank Development Report. Modi’s message is a synthetic imagination that needs new answers. It is as if India in its desperation with the Congress has produced two models. One a technocratic, conventional, and the other tentative, tiny, fragile as a hypothesis like the Aam Admi Party. Sadly, that is all we seem to have now, an alternative that is didactic and a suggestion that is valiantly fragile. The ball is with the forces of democracy. The challenge is how India rebuilds the imagination of democracy beyond Narendra Modi and the dullness of the Congress.

 



 http://www.firstpost.com/politics/big-money-is-backing-modi-to-end-resistance-says-arundhati-roy-1540437.html?utm_source=ref_article

http://www.dawn.com/news/1108001

http://indianexpress.com/article/business/banking-and-finance/narendra-modi-effect-indian-rupee-best-performing-asia-pacific-currency/
http://www.businessinsider.com/concerns-about-modis-rise-to-power-2014-5
http://indiatoday.intoday.in/story/narendra-modi-bjp-election-campaign-2014-lok-sabha-polls-rahul-gandhi/1/309879.html