Featured Original Articles

بچون کو بچا یں اور جوان لوگوں کی جان چھوڑ دیں

ایک اور خبر جو سوشل میڈیا پر بہت گردش کر رہی ہے وہ ہے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کی . ایک مولوی صاحب پکڑے گئے سات بچون کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد. اور پانچ چھ سال کی بچییوں کے ساتھ زیادتی کے واقعیات سامنے آ رہے ہیں

Screen Shot 2013-03-29 at 8.08.44 PM
تحریر: شازیہ نواز

ان موضوعات پر اس سے بھی زیادہ کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے. صرف مولوی بچوں کا ریپ نہیں کرتے. گلی محلے کے لڑکے چھوٹے بچون کا ریپ کرتے ہیں. اور یقین کریں یا نہ کریں بڑی عورتیں اور جوان لڑکیاں چھوٹے لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں پاکستان میں. یہ ساری دنیا میں ہوتا ہے، مگر باقی دنیا کے لوگ اب اس پر بات کرتے ہیں اور اس سے اگاہ ہیں. جب میں نے اس موزعو پرکتاب لکھنی شروع کی تو میں خود حیران رہ گئی. تقریبن سارے کے سارے لڑکے اورزیادہ تر بچیاں پاکستان میں جنسی زیادتی کا شکار ہو جاتی ہیں کم عمری میں. پاکستانی لوگ بچو ن کو گلی میں کھیلنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور جوان لڑکیوں کو گھر میں قید کر لیتے ہیں. حالاں کہ بچوں کو بچانا چاہیے اور جوان لوگوں کو آزادی سے اپنی زندگی گزارنے کی اجازت ہو. جوان بچیوں کی نگرانی کرتے ہیں کہ یاری نہ لگا لیں، اور بچون کی طرف سے غفلت؟

بہت سارے لوگ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی وجہ پاکستان میں جنسی گھٹن اور جوان لوگوں میں جنسی آزادی کی عدم دستیابی بتاتے ہیں. جوان بچے ایک دوسرے کو تو مل نہیں سکتے اور بچو ن کا ریپ کرتے ہیں. کچھ لوگ کہتے ہیں مغرب میں بھی ہوتا ہے اور مغرب میں بچو ن کے ریپ کی وجہ جنسی آزادی ہے. میں سمجھتی ہوں کہ دونو ن معاشروں کو نہ صرف وجوہات پر غور کرنا چاہیے , مگر وجہ جو بھی ہو، بچوں کو بچانا ماں باپ کی ذمہ داری ہے. ویسے تو ماں باپ بھی کبھی بچوں کو خود نقصان پوھنچا دیتے ہیں. ایس لئے ساری سوسائٹی کو بچوں کے معاملے میں پوری توجہ سے نظر رکھنی چاہیے. اور خدا کے لئے جوان لڑکے اور لڑکیوں کا پیچھا چھوڑ دیں. ان کو اپنی زندگی مرضی سے گزارنے دیں

About the author

Shazia Nawaz

2 Comments

Click here to post a comment
  • …kia likhna chah rahi hain aap…sab kch tor tariqay ISLAM may mojood hain aap kay mashwaray ki zarorat nahi …

  • sb falto bkwas he agar larkio ko azad chora jaye per to sone pe suhagah he taimpas nahe horaha ta ya bate liki he ? Pata nahe kaha se mo otaa kar aagayi