Editorial Featured Original Articles Urdu Articles

پیمرا کے پرائیویٹ ممبران کے جیو گروپ کے خلاف فیصلے اور ادارہ تعمیر پاکستان کا موقف

ڈان ویب سائٹ کے مطابق پیمرا کے پانچ پرائیوٹ ارکان نے ازخود اجلاس بلایا اور اس میں جیو گروپ کے تین چینلز کے لائسنس منسوخ کرنے اور دفاتر سیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے 28 مئی تک جیو کے تین چینل کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا
پیمرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جن پانچ ممبران کے اکٹھے ہونے کو اجلاس کا نام دیا گیا اس کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے جبکہ اسرار عباسی،شمس الرحمان نے اس اجلاس کے قانونی ہونے پر اصرار کیا ہے
ادارہ تعمیر پاکستان کا بہت واضح ہے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی ٹی وی چینل یا اخبار کو بند کرنے کی مخالفت کرتا ہے اور اسے آزادی اظہار کے اصولوں پر حملہ خیال کرتا ہے
پیمرا کے پرائیوٹ ممبران نے جس طرح سے پیمرا اتھارٹی کو یرغمال بنانے کی کوشش کی اور جس طرح سے چیئرمین پیمرا اور دیگر مستقل حکومتی ممبران کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ ان کی ڈوری کہاں سے ہلائی جارہی ہے
پاکستان کی سیاسی اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختیار اور طاقت کی جو لڑائی چل رہی ہے اس میں آئی ایس آئی اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اور کچھ حصوں نے خود اپنے آپ کو بری طرح سے ایکسپوز کیا اور بہت ننگے ہوکر ریاست اندر ریاست کی حقیقت کو بہت زیادہ ثابت کردیا ہے
جیو-جنگ گروپ کی بندش کا سب سے المناک پہلو اس ادارے سے وابستہ ہزاروں صحافی و غیر صحافی کارکنوں کا بے روزگار ہونا اور ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آنا ہے
پیمرا کے پرائیوٹ ممبران کی جانب سے خود کو آزاد اور خودمختار ظاہر کرنے کی کوشش ان کو مزید بے نقاب کررہی ہے
شمس کہتا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے اس کو فون کیا اور دیگر ممبران کو بھی پیسے اور لالچ دینے کی کوشش کی
اس کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اس کے جیسے آئی ایس آئی کے سامنے ڈھیر ہوجانے کی کہانی چھپانے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ہے

پاکستان میں ایک میڈیا گروپ کے خلاف یہ مہم پورے پریس کی آزادی کو سنگین خطرے سے دوچار تو کیا ہی ہے لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کو اشرفی جیسے آئی ایس آئی کے دربار سے وابستہ ایجنٹ اس ایشو کی آڑ میں قوالی ،منقبت وغیرہ پر پابندی لگانے کی کوشش کررہے ہیں اور اشرفی کے ایسے ہی ایک مبینہ خط پر اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس بلایا جانا الارمنگ اور خطرے کی گھنٹی ہے
ادھر دیوبندی تکفیری گروپ کے ایک آفیشل ٹیوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ معروف شاعر محسن نقوی مرحوم کے بیٹے عقیل محسن نقوی جنھوں نے منقبت علی سے زہرہ کی شادی ہے لکھی ان پر بھی گستاخی کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی ہے
یہ ہمارے ان خدشات کو ٹھیک ثابت کررہے ہیں جن میں ہم نے جیو کے خلاف بلاسفمی ایکٹ کے استعمال کو سازش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی آڑ میں اہل سنت بریلوی اور شیعہ کو نشانہ بنانے کا ایجنڈا آگے لایا جائے گا اور وہ اب سامنے آگیا ہے
ادارہ تعمیر پاکستان جیو-جنگ گروپ کی شیعہ نسل کشی اور دیگر اقلیتوں پر حملوں اور اس کے زمہ داروں کی شناخت پر گول مول موقف جبکہ دیوبندی دھشت گرد اور انتہا پسندوں کی بے محابا کوریج جیسے اعمال کا سخت ناقد رہا ہے اور سابقہ حکومت کے دور میں سابق چیف جسٹس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے جس طرح سے سابق چیف جسٹس کی دیوبندی کلنگ مشین کی طرف نرم روی کو چھپائے جانی جیسی پالیسیوں پر بروقت تنقید کا فریضہ سرانجام دیتا آیا ہے لیکن وہ اس گروپ کو بند کرنے کی سخت مخالفت کرتا رہے گا اور پاکستان میں پریس کی آزادی کے سوال کو اٹھاتا رہے گا

http://urdu.dawn.com/news/1005118/pemra-recommend-suspension-on-three-channels-of-geo-network

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

1 Comment

Click here to post a comment