Original Articles Urdu Articles

مولود کعبہ باب مدینۃ العلم علی ابن ابی طالب کی نذر- ازعامر حسینی

images

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولات باسعادت 13 رجب المرجب 30 عام الفیل ،600ء بروز جمعۃ المبارک خانہ کعبہ میں ہوئی اہل سنت کی مستند کتاب حدیث مستدرک للحاکم کی جلد نمبر تین صفحہ نمبر 483 پر عبداللہ حاکم نیشیا پوری نے لکھا ہے کہ روایات متواترہ سے ثابت ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے ہوئی

شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب ازالۃ الخفاء عن الخلفاء کے ص 251ء پر لکھا ہے تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی روایات سے ثابت ہے کہ امیر المومنین حضرت علی روز جمعہ 13 رجب 30عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے ،آپ سے پہلے اور آپ کے بعد خانہ کعبہ میں کوئی پیدا نہیں ہوا

عبقریۃ الاسلامیہ جوکہ مصری مورخ عباس العقاد کی تصنیف ہے کہ صفحہ نمبر 863 پر درج ہے کہ علی ابن ابی طالب کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور خدا نے انھیں بتوں سے دور رکھا گویا اس مقام پر آپ کی ولادت خانہ کعبہ کے نئے دور کا آغاز اور اللہ کی عبادت کا اعلان تھی وسیلۃ النجات کے ص 60 ،مناقب آل ابی طالب کے ص 132 اور کشف الغمہ عن الائمہ ص 122 سمیت بہت سی کتب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت کا بیان موجود ہے جس کے مطابق آپ کی والدہ محترمہ فاطمہ بنت اسد کو جب درد زہ محسوس ہونا شروع ہوا تو خانہ کعبہ تشریف لے گئیں اور طواف کعبہ کے بعد خانہ کعبہ کے اندر دیوار سے ٹیک لگاکر کھڑی ہوگئیں اور پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور اپنی مشکل کے حل ہونے کی دعا کرنے لگیں تو دوران دعا ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت ہوگئی

صاحب کشف الغمہ نے لکھا ہے کہ ولادت کے تین دن تک حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آنکھیں نہ کھولیں تو آپ کی والدہ محترمہ فاطمہ بنت اسد کو یہ گمان ہوا کہ شاید بچہ نابینا پیدا ہوا ہے لیکن ولادت کے تیسرے روز جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور انھوں نے آپ کو اپنی گود میں لیا تو آپ نے فوری طور پر آنکھیں کھول دیں
کتب تواریخ میں زکر ہے اور علامّہ اردبیلی نے بھی لکھا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو گود لینے کے بعد اپنی زبان دھن امام علی علیہ السلام میں دے دی اور پھر ایک کجھور کا ٹکڑا اپنے دانتوں سے چبایا اور اسے حضرت علی کے دھن مبارک میں ڈال دیا اور کہا جاتا ہے کہ اس عمل سے علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زات سیراب ہوگئی اور اسی سیرابی کی مناسبت سے اس دن کو یوم الترویہ کہا جاتا ہے کیونکہ ترویہ کے معانی سیرابی کے ہیں

تاریخ طبری و الکامل لاثیر ،ارجح المطالب،ینابع المودۃ وغیرھم میں درج ہے کہ حضرت ابو طالب نے مولود کعبہ کا نام اپنے جد قصی بن کلاب کے نام پر زید رکھا اور آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام اپنے والد کے نام پر اسد رکھا لیکن جب رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کو اپنی آغوش میں لیا تو آپ کا نام انھوں نے علی تجویز فرمایا اور رسول کریم نے جو نام آپ کا تجویز فرمایا تھا آپ اسی نام سے معروف ہوئے

آپ کا ایک اور نام آپ کی والدہ محترمہ نے بچپن سے ہی آپ کی غیرمعمولی شجاعت و بہادری کو دیکھ کر تجویز کیا تھا اور ہے حیدر اور آپ نے فتح خیبر کے موقعہ پر مرحب کے سامنے جو رجز پڑھا تھا اس میں بھی اس نام کی تصدیق موجود ہے
حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش بعد از وفات حضرت عبدالمطلب حضرت ابی طالب نے کی تھی تو آپ کے والد عبداللہ کے سگے بھائی تھے اور حضرت ابی طالب کو حضور علیہ الصلوات والتسلیم کے والد محترم سے بے پناہ محبت تھی تاریخ میں لکھا کہ حضرت عبدالمطلب نے منت مانگی تھی کہ وہ قرعہ ڈالیں گے اور قرعہ جس بچے کے نام نکلے گا اس کی قربانی دے دی جائے گی تو قرعہ جب ڈالا گیا تو وہ آپ کے بیٹے عبداللہ کے نام نکلا اور عبدالمطلب نے عبداللہ کو قربان کرنے کا ارادہ کرلیا تو آپ کے اہل خانہ اور خاص طور پر ابو طالب کے اصرار پر 100 اونٹوں اور عبداللہ کے نام کے قرعے ڈالے گئے اور کئی مرتبہ قرعہ نکالا گیا تو ہر مرتبہ 100 اونٹوں کی قربانی کا قرعہ نکلا تو عبداللہ کی جگہ 100 اونٹوں کی قربانی دی گئی

اس واقعہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابو طالب نے اشعار کہے جو تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہ گئے اور ڈاکٹر محمد التنوجی نے ابی طالب کے اشعار کا جو دیوان مرتب کیا اس میں بھی یہ اشعار یوں محفوظ ہیں

کلا ورب البیت زی الانصاب
ما ذبح عبداللہ بالتلعاب
یا شیب ان الریح زوعقاب
ان لنا جرۃ فی الخطاب
اخوال صدق کلیوث الغاب

رب کعبہ کی قسم عبداللہ کو زبح کرنا آسان نہیں ہے اور اے شیب اگر ایسا ہوا تو سیاہ آندھیاں چلیں گی اور ہمارے ننھیالی رشتہ دار بنی مخزوم میں رنج و غم کا پہاڑ ٹوٹے گا اس لیے عبداللہ کو قربان کرنے کا متبادل سوچیں تو جناب ابی طالب کے گھر پیدا ہونے والے فرزند ارجمند حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو جناب رسول کریم نے اپنی کفالت میں لے لیا اور ویسے بھی آپ کو جناب فاطمہ بنت اسد سے بہت محبت تھی اور آپ ان کو حقیقی ماں کا درجہ دیا کرتے تھے

یوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اپنی پیدائش کے بعد آغوش رسول کریم میں پہنچے اور پھر آپ کی ساری عمر آغوش پیغمبر میں گزری اور اسی لیے آپ مدینۃ العلم جناب محمد بن عبداللہ کا باب العلم بھی کہلائے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں امام شافعی کا قول ہے کہ علم و حکمت کے دس درجے ہیں اور علی ابن ابی طالب کو دس میں سے نو درجے حاصل ہوئے اور اس میں کوئی ان کی ہمسری نہیں کرسکتا

شیخ ابن تیمیہ کے شاگرد ابوالفداء المعروف حافظ ابن کثیر نے کہا
علی اعلم الناس بالقران والسنن

علی کرم اللہ وجہہ الکریم سب لوگوں سے زیادہ قران و سنت کے عالم تھے پھر خود رسول کریم نے کئی موقعوں پر امام علی کرم اللج وجہہ الکریم کی علمی عظمت اور شان کا اعلان فرمایا میں بطور تبرک اور تحدیث نعمت کے طور پر چند ایک ارشادات یہاں درج کرتا ہوں

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے
میں مومنین کی جائے پناہ ہوں تو علی بھی مومنین کی جائے پناہ ہیں
میں حکمت کا گھر اور علی اس کا دروازہ ہیں
علی اور مجھ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے

خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنے اوپر علم کے حوالے سے حضور اکرم محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنایات و نوازشات کا زکر یوں فرمایا رسول کریم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب تعلیم فرمائے اور میں نے ہر ایک باب سے دس ہزار باب توجہ رسول کریم کے طفیل پیدا کئے

رسول کریم نے مجھے علم سے ایسے بھر ڈالا جیسے کبوتر اپنےبچے کو دانا سے بھرتا ہے
آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو میں تمہیں معدن نبوت سے ملنے والے فیض علم سے جواب دوں گا اور میرے بعد تمہیں علمی معاملات میں راہ دکھانے والا نہیں ملے گا ایک موقعہ پر فرمایا کہ میں باب مدینۃ العلم ہو اور آسمان دنیا کے بارے میں مجھ سے جو معلوم کرنا ہے معلوم کرلو کیونکہ میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمانی راستوں کا شناسا ہوں

ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ معیت رسول کریم کا مجھ پر یہ کرم ہے کہ اگر مجھے مسند قضاء پر بٹھادیا جائے تو میں اہل توریت کا توریت سے،اہل انجیل کا انجیل سے ،اہل زبور کا زبور سے اور اہل قران کا قران سے فیصلہ کروں گا
آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا مجھے بخوبی معلوم ہے کہ کون سی آیت کہآں اور کب نازل ہوئی ،مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ کون سی آیت رات کو اور کون سی دن کو نازل ہوئی

سرکار دو عالم نے فرمایا جسے آدم کے علم کا،نوح کے فہم کا،ابراھیم کے حلم کا،یحیحی کے زھد کا اور موسی کی ہیبت کو کسی ایک شخص میں دیکھنا ہو تو وہ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو دیکھ لے عبدالمطلب کا جب آخری وقت قریب آگیا تو انھوں نے ابی طالب کو بلاکر کہا کہ ان کے پوتے محمد بن عبداللہ کا خیال رکھنا تو ابو طالب نے جواب میں یہ اشعار پڑھے تھے

لاتوصنی بلازم و واجب
انی سمعت اعجب العجائب
من کل حبر عالم و کاتب
بان بحمد اللہ قول الراہب

اور ابی طالب نے اپنی آخری سانس تک اپنے بھتیجے کی مدد و نصرت کی جبکہ یہی وصیت ابی طالب نے اپنے بیٹوں علی ابن ابی طالب اور جعفر طیار کو کیں تھی

ان علیا و جعفر ثقتی
عند احتدام الامور والکرب
اراھما عرضہ القاء ازا
سامیت او انتمی الی حسب

لاتخذلا وانصرابن عمکما
اخی من بینھم و ابی
واللہ لاآخذ النبی ولا
یخذلہ من بنی زوحسب
اور تاریخ نے دیکھا کہ کیسے جعفر طیار حرمت دین محمد پر قربان ہوئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے رسول کریم کا ساتھ اس وقت بھی نہ چھوڑا جب بڑے بڑے کبار صحابہ میدان چھوڑ گئے تھے اور علی قدم سے قدم ملاکر رسول کریم کے ساتھ کھڑے تھے

خود رسول کریم نے 25 سے زائد مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولائت اور ان کا مومنین کی جائے پناہ ہونا اجتماع کرکے بیان کیا اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کی اور ان سے مودت و محبت کو ایمان کی نشانی بتلایا اور پھر یہ شرف بھی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حاصل ہوا کہ انھوں نے لحد رسول میں لیٹ کر لحد رسول کی کشادگی کا ویسے ہی جائزہ لیا جس طرح سے رسول کریم علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی قبر مبارک میں لیٹ گئے تھے اور اپنے ہاتھوں سے ان کو لحد میں اتارا تھا تو علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لحد شریف میں اتارا

اور یہ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زات تھی جن کے بارے میں رسول کریم نے اجتماع اصحاب رسول میں یہ سند جاری کی تھی کہ فتح خیبر کا علم علی ابن ابی طالب کے ہاتھ ہے جو محبوب خدا و رسول ہے جن لوگوں نے علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے عداوت روا رکھی ،ان سے بدسلوکی کی اور ہوس اقتدار میں شام کی امارت کے لیے ان کے مدمقابل آگئے ان کے لیے یہ ہی وعید کافی ہے کہ حق علی کے ساتھ ہے گویا جو علی کے ساتھ نہیں وہ باطل کے ساتھ ہے

علی تجھ سے محبت علامت ایمان اور نفرت علامت نفاق ہے گویا جس جس نے محبت علی کی اس نے حلاوت ایمان کو پالیا اور جس نے علی کے لیے اپنے دل میں جگہ کم پائی وہ منافق ہوگیا علی جو تجھ سے عدوات رکھے وہ اللہ اور اس کے رسول سے عدوات کا مرتکب ہوگا تو مطلب یہ ہوا کہ جس نے بھی تاریخ کے جس لمحہ میں علی سے عدوات کی وہ عدوات اللہ و رسول کا مرتکب ٹھہرا

اور رسول کریم نے کہا کہ جیسے میں مومنین کی جانوں کے قریب ہوں شہ رگ سے زیادہ ویسے علی قریب ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ جو علی سے دور ہوا وہ قربت رسول سے محروم ہوا

اللھم صلی علی محمد وآل محمد کما صلیت علی ابراھیم وآل ابراھیم
اللھم بارک علی محمد وآل محمد کما بارکت علی ابراھیم وآل ابراھیم
اللھم اللعن من قتل علیا و آلہ و انزل عذابہ علی من عاد علیا و اہل بیتہ

(نوٹ:اس مضمون کے لیے جہاں کتب عربیہ سے مدد لی گئی وہیں فروغ کاظمی فرزند سید خادم حسین لکھنؤی کی کتاب تفسیر تاریخ اسلام ،تاریخ الخلفاء سے بھی مدد لی گئی ہے جس کے لیے میں اپنے مربی اور دوست معروف دانشور حیدر جاوید سید کا مشکور ہوں)

About the author

Guest Post

72 Comments

Click here to post a comment