Original Articles Urdu Articles

دیوبندی بمقابلہ دیوبندی -سلیمان ندوی کا دارالعلوم دیوبند کے مہتمم ارشد مدنی کے نام کھلا خط

مولوی سلیمان حسینی ندوی

ایڈیٹر کا نوٹ:ادارہ تعمیر پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ دیوبندی مکتبہ فکر اگرچہ فقہ کے معاملے میں حنفی طریقہ کار پر عمل پیرا ہے لیکن عقائد کے باب میں اس کے ہاں شیخ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی ،شاہ اسماعیل دھلوی کی خارجی اور تکفیری فکر کا غلبہ اور جھکاؤ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اور اس حوالے سے دیوبندی مولویوں کے ہآں بتدریج ایک اتفاق رائے جنم لیتا نظر آتا ہے ،ادارہ تعمیر پاکسپان اپنی ویب سائٹ پر وقفے وقفے سے اپنے خیال کی تائید میں ثبوت و شواہد شایع کرتا چلا جارہا ہے مندرجہ ذیل تحریر عامر حسینی نے ہمیں ارسال کی ہے  بھی جس میں انھوں نے دیوبندی مکتبہ فکر کے وہابیت،تکفیری  اور خارجی نطریات کے ساتھ شیفتگی اور سنّی عوام کو دھوکہ دینے کا جائزہ لیا ہے

دارالعلوم ندوۃ العلماء واقع لکھنؤ کے سب سے بڑے مولوی سلیمان الحسینی ندوی کی ایک وڈیو اور دارالعلوم دیوبند کے موجودہ مہتمم کے نام ایک کھلے کا خط کا آج کل بہت چرچا ہورہا ہے اور اس خط کو و وڈیو کو سوشل میڈیا میں بہت مقبولیت مل رہی ہے
ہندوستان میں دیوبندی مکتبہ فکر کے دو بڑے مدارس اور اس سے منسلک مذھبی قیادت کے درمیان یہ اختلاف سعودیہ عرب اور اخوان المسلون کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف اور عرب ملکوں میں اخوان المسلون پر پابندی لگنے کے معاملے پر پیدا ہوا ہے
دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولوی ارشد مدنی اور جمعیت العلمائے ہند کے جنرل سیکرٹری مولوی محمود احمد مدنی سمیت مدنی برادران کے زیر اثر دیوبندی مولوی اس معاملے میں سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں
جبکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مولوی اس معاملے میں سعودی عرب کی مذمت اور اخوان المسلمون کی حمائت کررہے ہیں
یہ تنازعہ دارالعلوم دیوبند میں انڈیا میں سعودی عرب کے سفیر کی آمد اور سعودی عرب کے حق میں دیوبند کی انتظامیہ کے بیان سے مزید شدید ہوگیا اور اسی تناظر میں سلیمان حسینی ندوی نے ایک کھلا خط مولوی ارشد مدنی کے نام لکھا ہے
یہ خط بذات خود دیوبندی مولویوں کی سعودی نوازی اور تکفیری فکر کی جانب جھک جانے اور سرنڈر ہوجانے کی کہانی سناتا ہے
بہت سے لوگ دیوبند اور لکھنؤ میں واقع دیوبندی مدرسوں کے فکری اور سیاسی رجحانات کی تاریخ سے لاعلم ہیں تو ضروری ہے کہ پورے سیاق و سابق کے ساتھ اس معاملے پر روشنی ڈالی جائے
دارالعلوم دیوبند اپنے قیام 31 مئی 1866ء سے لیکر اب تک جہاں اپنی سیاسی قلابازیوں کے حوالے سے معروف رہا ہے وہیں پر اس دارالعلوم کے اندر سے خارجی ،تکفیری اور وہابی نواز لہروں کا ظہور بھی وقفے وقفے سے ہوتا رہا ہے
دارالعلوم دیوبند کے بانی مولوی قاسم ناناتوی(1833ء-1880ء)
سے لیکر آج کے مہتمم مولوی ارشد مدنی تک سب کے ہاں یہ تضاد موجود رہا کہ وہ ایک طرف خود کو سنی حنفی صوفی مشرب مکتبہ فکر کے ترجمان کہلواتے رہے تو دوسری طرف وہ اپنے مدارس کے اندر شیخ ابن تیمیہ1263ء-1328ء،محمد بن عبدالوہاب نجدی 1703ء-1792ء،شاہ اسماعیل دہلوی1779ء-1832ء اور سید احمدبریلوی 1786ء -1831ء وغیرہ کی خارجی فکر اور اس بنیاد پر اٹھنے والی متشدد اور دھشت گرد تحریکوں کو بھی اپنا سرمایہ افتخار بتلاتے رہے اور ان کے سنّی مخالف عقائد کو اپنے مدارس و مساجد سے پھلنے پھولنے کی اجازت دیتے رہے
برصغیر پاک و ہند میں سنّی حنفی قادری عالم مولانا احمد رضا ساکن بریلی وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے دارالعلوم دیوبند کے مولویوں کی اس دو عملی اور تضاد کا نوٹس لیا اور انھوں نے اس حوالے سے بہت سی کتب تصنیف کیں
انھوں نے جب پہلی مرتبہ حجاز کا سفر کیا تو انھوں نے دیوبندی مولویوں کی ان عبارات اور اقوال کا ایک مجموعہ تیار کیا جوکہ ان کی نظر میں وہابی عقائد کو ظاہر کرتا تھا اور اسے حجاز میں سنّی مذاہب اربعہ مالکی،حنفی،شافعی و حنبلی کے سامنے رکھیں اور یہ اس زمانے کا قصّہ ہے جب حجاز سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول میں تھا
حجاز کے سنّی علماء نے “حسام الحرمین “کی عبارات کو دیکھنے کے بعد مولانا احمد رضا فاضل بریلی کے اس خیال سے اتفاق کرلیا کہ دارالعلوم دیوبند کے مذکورہ مولوی وہابی خارجی عقائد کے حامل ہیں
اس بات کی خبر جب دیوبندی مولویوں کو ہوئی تو انہوں نے ملکر مشترکہ طور پر ایک بیان تیار کیا جس کو المہند کے نام سے شایع بھی کیا گیا اور اس میں انھوں نے انہی علمائے اہل سنت حجاز کو لکھا کہ احمد رضا نے ان سے وہابی عقائد کی نسبت غلط کی ہے اور وہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کو مثل خوارج خیال کرتے ہیں
ان ہی دنوں مولوی حسین احمد مدنی بھی مدینہ میں رہائش پذیر تھے تو انھوں نے ایک کتاب “الشہاب الثاقب” کے نام سے لکھی اور اس کتاب میں انھوں نے محمد بن عبدالوہاب،شیخ ابن تیمیہ سمیت وہابیہ کی سخت مذمت کی اور اپنے اور اپنے اکابرین کے خلاف احمد رضا کے الزامات کو غلط قرار دیا
یہ بات بھی نوٹ کرنے والی ہے کہ جب مولوی قاسم ناناتوی،مولوی یعقوب اور سابق انسپکٹر اسکولز ذوالفقار علی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی تھی تو یہ مدرسہ کسی بھی طرح سے برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کی علامت نہیں تھا اور خود برطانوی حاکموں کے خلاف اس مدرسے کے اندر ریڈیکلائزیشن کا عمل مفتی محمود حسن کے دورہ حجاز و ترکی کے بعد شروع ہوا تھا اور اس سے پہلے جب دیوبندی علماء نے سرسید کی جدید تعلیمی تحریک کا جواب دینے کے لیے مولوی شبلی نعمانی اور مولوی محمد علی مونگیری سمیت کئی دیوبندی و وہابی مولویوں کی تحریک پر 1894ء میں کانپور میں ندوۃ العلماء مدرسہ کی بنیاد پڑی تھی اور اس مدرسہ کے افتتاح کے موقعہ پر مفتی محمود حسن ،اشرف علی تھانوی،جعفر شاہ پھلواری سمیت اہم دیوبندی مولوی موجود تھے جبکہ وہابی مولوی ثناء اللہ امرتسری بھی پہلے جلسے میں موجود تھے اور 1898ء میں یہ مدرسہ لکھنؤ منتقل ہوگیا
ندوۃ العلماء مدرسے نے اپنی ابتداء سے ہی وہابی خیالات کو اپنے اندر جذب کیا اور اس مدرسے کے فاضلین نے شیخ ابن تیمیہ،شاہ اسماعیل دھلوی ،محمد بن عبدالوہاب نجدی کو مسلمانوں کے مجدد دین وملت اور عظیم مصلح قرار دیا
ابوالحسن ندوی المعروف علی میاں کی اس موضوع پر کتاب”دعوت عزیمت” جو کئی جلدوں میں ہے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے
دارالعلوم دیوبند ،ندوۃ العلماء اور ان کے ذیلی مدارس 1925ء میں ابن سعود کی جانب سے برطانوی سامراج کی مدد سے حجاز پر قبضے اور سلطنت ‏عثمانیہ کے زوال کو مکمل ہوجانے کے بعد حجاز میں وہابیت کے قبضے کی شکل ابھر آنے سے اپنے روائتی موقف سے پیچھے آنا شروع ہوگئے
خاص طور پر تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد جب ان دو مدارس سے تعلق رکھنے والے مولویوں کا وفد حجاز پہنچا جو سعودیہ عرب بن چکا تھا تو وہاں عبدالعزیز بن سعود سے ملاقات اور وہابی مولویوں سے میل جول نے بہت واضح طور پر ان دونوں مدرسوں کے مولویوں کو سلفی ازم کی طرف راغب کرنا شروع کردیا
یہ عمل 60ء کی دھائی میں مزید تیز ہوا اور خاص طور پر ندوی مولوی اور علی میاں نے تو دیوبندی مولویوں کے اندر جمال عبدالناصر کی پان عرب ازم کی تحریک سے پائی جانے والی ہمدردیوں کے خلاف سعودیہ عرب اور اخوان کا ساتھ دیا اور علی میآں نے سعودیہ عرب کے بہت دورے کئے
ندوۃ العلماء اور دارالعلوم دیوبند دونوں مدارس اور ان کے مولوی عالم اسلام میں وہابی تحریک کی طرف سے سنّی صوفی ازم کے خلاف پھلائی جانے والی عمومی نفرت انگیز آئیڈیالوجی سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے
اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند ہوکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء دونوں کے دونوں دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ محض مغرب کے مظالم کا رد عمل ہیں اور وہ شیعہ نسل کشی،سنّی صوفی مکتبہ فکر ،مذھبی اقلیتوں پر حملوں بارے گول مول پالیسی کے حامل ہیں
سلیمان الحسینی ندوی سمیت بہت سے دیوبندی مولویوں کا دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور ديگر مولویوں سے اختلاف وہابی تکفیری خارجی آئیڈیالوجی یا ان کے ہاں دوسرے مکاتب فکر پر مسلط کی جانے والی دھشت گردی پر نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف اصل میں سعودی کیمپ کے وہابی ٹولے کی اخوان وہابی ٹولے سے چلنے والی کشاکش پر ہے جس میں ندوی مولوی اور کچھ اور دیوبندی مولوی اخوان اور قطری کیمپ میں کھڑے ہیں
سلیمان ندوی نے دارالعلوم دیوبند کی سعودی نوازی کو بے نقاب کیا لیکن وہ اپنے ندوی بانیان کی سعودی نوازی کے تذکرے کو چھپا گئے ہیں
کتنی عجیب بات ہے جب پاکستانی دیوبندی مدارس میں دھشت گردی اور انتہا پسندی بارے سوال بی بی سی کی نمائندہ خدیجہ مولوی ارشد مدنی مہتمم دارالعلوم دیوبند سے کرتی ہے اور یہی سوال ہندوستان میں مذھبی ہم آہنگی پر کام کرنے والا یوگند سکند سلیمان الحسینی ندوی سے کرتا ہے تو دونوں کے جواب ایک جیسے ہوتے ہیں اور دونوں اس بات سے انکاری ہوجاتے ہیں کہ دیوبندی مدارس کے اندر ایسی تعلیم دی جاتی ہے جس سے دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خلاف دھشت گردی کی ترغیب ملتی ہے

مولوی سلیمان الحسینی ندوی کے مولوی ارشد مدنی کے نام لکھے خط کا متن
بسم اللہ الرحمٰن الریم

(وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ) …….. (وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ)

اور وہ کہ جب ان پر ظلم و زیادتی ہوتی ہے، تو اپنی فتح و نصرت کے لئے کارروائی کرتے ہیں …… اور جو اپنے اوپر ظلم کے بعد اپنا دفاع کریں اور مقابلہ کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں ۔( سورہ شوری: 39 و 41)

۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا سید ارشد مدنی صاحب کے نام کھلا خط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

letter 1

Letter 2مکرم و محترم مولانا ارشد مدنی صاحب دام ظلہ

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

خدا کرے آپ بخیر و عافیت ہوں۔

آپ کا بیان اشتہار کے طور پر مختلف اخبارات میں کچھ دن پہلے شائع ہوا، جس میں آپ نے شاہ عبداللہ کی پالیسیوں کی صفائی جمعیۃ العلماء کی طرف سے پیش کرنے کی کوشش فرمائی ہے، اور آپ نے دارالعلوم اور اس سے وابستہ بے شمار اداروں کابھی یہی موقف بتایا ہے، میرے آپ سے کچھ سوالات ہیں،براہ کرم بذریعۂ اخبار ہی ان کا جواب عنایت فرمائیں ۔

۔ آپ کے والد محترم مدنی علیہ الرحمہ جن مغربی بیرونی طاقتوں سے ۔ جن میں سرِ فہرت اس وقت ‘‘ ہندوستان میں برطانیہ کے انگریز تھے ’’ کہیں فرانسیسی تھے ، کہیں اطالوی ، کہیں روسی ۔ عمر بھر لڑتے رہے ، اور جلا وطنی اور جیلوں کی سختیاں جھیلتے رہے ، آج سعودی حکومت انہیں کی گود میں بیٹھی ہوئی ، جزیرۃ العرب میں بالخصوص اور پورے عالم اسلام میں بالعموم انہیں کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، تیل کی کمپنیاں ہوں یا سیکوریٹی کا با مخابراتی نظام ، وہ انہیں کی نگرانی میں چل رہا ہے ، کیا کبھی اس پر غور کرنے کا جناب کو موقع ملا؟

سعودی حکومت نے امریکہ کا مکمل طور پر ساتھ دیتے ہوئے ، افغانستان کے دس لاکھ ، اور عراق کے بھی تقریباً دس لاکھ انسانوں کے قتل عام میں سرزمین حجاز کے اڈے انہیں فراہم کرتے ہوئے حصہ لیا، کیا آپ کو اس کی تفصیلات معلوم ہیں؟

۔ سعودی حکومت میں چلنے والے ادارے او رمعروف دینی شخصیات آپ کے تمام بزرگوں کو مبتدع اور گمراہ سمجھتے ہیں، سارے صوفیاء ان کے نزدیک قادیانیوں سے زیادہ گمراہ ہیں ، سارے اشعری اور ماتری علما ء ان کے نزدیک مبتدع اور ضال ہیں، سارے حنفی علماء ان کے نزدیک صحیح سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ ان کی یونیورسیٹیوں بالخصوص جامعہ اسلامیہ ۔ مدینہ منورہ میں M.A اور P.H.D کے مقالات میں مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا حسین احمد مدنی کو گمراہ ، مبتدع او رمشرک تک قرار دیا گیا ہے، ‘‘ دیوبندیت ’’ کو قادیانیت کی طرح ایک فرقہ کے طور پر پیش کیا گیا ، وہاں کے استاد ربیع مد خلی آپ کے تمام علما ء تبلیغی جماعت، اور دیوبندی حضرات کو کافر قرار دیتے ہیں ، سعودی حکومت اور اس کے سرکاری علما ء ان کی سرپرستی کرتے ہیں ، مقالات کی منظوری دیتے ہیں ۔ حرمین کے اندر آپ کے بزرگوں کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں، کوئی حنفی عالم، امام حرم تو کیا، کسی مدرسہ میں عقیدہ کا استاد بھی نہیں ہوسکتا ، اس سب کے خلاف کھل کر کبھی آپ نے موقف اختیار کیا؟ کبھی آپ نے شئون اسلامیہ کے وزیر ، اور مفتی عام سےان موضوعات پر باتیں کیں؟ کبھی جامعہ اسلامیہ، یا جامعہ القریٰ ، یا جامعہ محمد بن سعود کے ہال میں آپ کو تقریر کرنے کاموقعہ ملا؟ کیا ان کے عقائد و نظریات آپ کے نزدیک صحیح ہیں؟

۔ حرمین شریفین کی مادی خدمت اصل ہے یا معنوی اور دینی؟ کیا آنے والے لاکھوں انسانوں کو نمازوں کے بعد یا اس سے پہلے سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ضروری دینی ہدایات دی جاتی ہیں؟ جب کہ آنے والوں کے ذریعہ بہت سی بے اصولیاں ہوتی ہیں؟ کیا عورتوں اور مردوں کے بے محا با اختلاط سے بچا نہیں جاسکتا؟ کیا حرمین کے ارد گرد ہوٹلوں کی قطاریں یہودی اور غیر مسلم کمپنیوں کی نہیں ہیں؟ کیا ان میں ٹی وی چینلوں پر ہر طرح کی گندی او ر فحش فلمیں نہیں آرہی ہیں؟ کیا ان پر قابو نہیں پایا جاسکتا؟ پھر کیا بات ہے کہ سعودی حکومت پر تنقید کسی چینل یا اخبار میں نہیں آتی ؟ لیکن اہل علم اور دینی جماعتوں پر تنقید یں ہوتی رہتی ہیں ۔

۔ کیا سعودی حکومت کے تحت حرم کی سرزمین پر ۔ یعنی جزیرۃ العرب میں ۔ سعودی بینکوں، کمپنیوں، اور آزاد اور مخلوط سوپر مارکیٹس کا جال نہیں بچھا ہوا ہے ؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کےمقاصد کے خلاف یہ جرم عظیم نہیں ہے؟

۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ وصیت نہیں فرمائی تھی ‘‘ أخر جوا الیہود و النصاریٰ من جزیرۃ العرب ’’کیا اس پر عمل ہو رہا ہے ؟ یا جزیرۃ العرب امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے؟

۔ کیا شاہ عبداللہ کے نام سے جدہ او رمدینہ منورہ کے راستے میں جو مخلوط اور سیکولر یونیورسٹی بنائی گئی ہے ۔ جس سے وہاں کےعلمائے حق ناراض ہیں ، اور بہت سے حضرات اس پر سخت تنقید کرچکے ہیں۔ جناب والا نے دیکھی ہے؟ کیا دیگر پورے ملک میں جو دیگر سیکولر یونیورسیٹیاں ہیں، ان کی تفصیلی زیارت کا جناب والا کو موقعہ ملا ہے؟

۔ کیا وزارت حج اور وزارت شئو ن اسلامیہ کے علاوہ کسی بھی وزارت کا اسلام اور شریعت سے کوئی تعلق ہے؟ کیا مالیات ، معاشیات ، کھیل کود، سیاحت خارجہ ، داخلہ ، دفاع ، اور لیبر سے متعلق وزارتیں کتاب و سنت کے مطابق ہیں؟

۔ کیا مصر کی اسلامی جماعت کی اسلامی مقاصد والی حکومت کو برخاست کروا کر، اور اس کے لئے اربہا ارب دولت صرف کر کے، ایک صیہونی اور صیلبی اسرائیل نواز اور اسلام دشمن حکومت قائم کروانا آپ کے نزدیک جرم نہیں ہے؟ اگر اس بارےمیں آپ کو معلومات مکمل طور پر نہیں ہیں، تو کیا آپ نے سعودی مملکت کے 56 علما ء کے دستخط سے جاری ہونے والے بیان کامطالعہ کیا؟ کیا شیخ سلمان عودہ کے شاہ عبداللہ کے نام کھلے خط کو پڑھنے کاموقعہ ملا؟ کیا جناب والا نے شیخ محمد العریفی کے بیانات نہیں سنے، شیخ سفر الحوالی ، شیخ عائض القرنی کے بیانات نظر سے گذرے؟ کیا مسجد نبوی میں خطاب فرمانے والے شیخ صحیبانی کا خطاب جناب نہیں سنا، کیا شیخ سعود الشریم سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کا موقع نہیں ملا؟ براہ کرم اگر اس کا موقعہ نہ آیا ہو تو کسی شاگرد سے فرمادیں کہ وہ آپ کی خدمت میں ان حضرات کے بیانات پیش کردے، یہ سعودی مملکت میں رہنے والے سب سے زیادہ مقبول ، معروف اور مؤثر علما ء اور فضلا ء ہیں، ان کی جرأت اور صداقت اس وجہ سے ہے کہ وہ سرکاری اور درباری مولوی نہیں ہیں؟

۔ کیاآپ کو معلوم ہے کہ سرزمین شام میں ڈھائی سال سے جاری حکومت کے قہر اور اپنے عوام کے قتلِ عام کی کارروائیوں میں بد ترین دشمن اسلام، بد عقیدہ نصیری ، بشارالاشد نے وہاں کے دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کردیا ہے، اور دسیوں لاکھ کو بے گھر کیا ہے، پانچ لاکھ پناہ گزیں سرکاری طور پر ترکی میں ہیں، جن پر طیب اردغان کی حکومت خرچ کررہی ہے، بڑی تعداد میں پناہ گزین لبنان میں ہیں، اردن میں ہیں، عراق میں ہیں، لیکن مجرم سعودی حکومت نے جزیرۃ العرب کے بارڈر ان مظلوموں ، عورتوں، بوڑھوں ، اور بچوں کے لئے بند کررکھے ہیں، ان کے حق میں چندہ کی عوامی مہم پر پابندی لگا رکھی ہے ، اور حکومت خفیہ طور پر بشا ر کی مدد بھی کررہی ہے، اور ان مخالف گروپس کی مدد کررہی ہے جو سیکولر اور لادینی ہیں ۔ یہی حکومت ہے جس نے تیونس کے بد کردار، مجرم، اسلام دشمن حاکم بن علی کو اپنی شاہی ضیافت سے نوازا ، یمن کے علی عبداللہ صالح او ریمن کے حوثیوں ( اثنا عشری شیعوں) کو یہی نام نہاد اسلامی حکومت تقویت پہنچا رہی ہے !! اگر اس میں کچھ شک ہوتو شیخ عبدالمجید زندانی یا کسی بھی غیر جانب دار یمن عالم سے معلوم کرسکتے ہیں، براہِ کرم اور شامی علماء سے رابطہ فرمالیں ۔

۔ ہندوستان میں جن بے گناہ نوجوانوں کو جھوٹے الزامات عائد کر کے ہزاروں کی تعداد میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے گرفتار کر رکھا ہے ، اور آپ اس سلسلے میں قابلِ قدر جد وجہد فرمارہے ہیں ، کیا آپ نہیں جانتے کہ ان سے زیادہ تعداد میں سعودی حکومت نے بے گناہوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے، جن میں معروف علما ء بھی ہیں، ان کا جرم صرف اصلاحات کا مطالبہ اور اسلامی تحریکات سے تعلق ہے؟ !

 ۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ سعودی حکومت، آل سعود کی جائداد کے طور پر چل رہی ہے، جن کی تعداد تقریباً سات ہزار ہے ، اربہا ارب کی دولت کے وہ غیر شرعی طور پر مالک ہیں، او رلاکھوں ، کروڑوں ملین امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یوروپین ملکوں میں جمع شدہ ہیں، ان کی جو رقمیں عیاشیوں اور بے محا بافضول خرچیوں پر صرف ہوتی ہیں ان کا ہزاروں ، لاکھوں حصہ بھی حرمین پر خرچ نہیں ہوتا، اس میں اگر کچھ شک ہوتو براہِ کرم حرمین کے ملازمین سے تنہائی میں راز دارانہ طور پر معلوم کرلیں ۔

۔ کیا جناب والا نے سعودی حکومت کے امراء او ر شہزادوں کے محلات کی زندگی دیکھی ہے؟ کیا عورتوں کی بے حجابی اور مغربیت زد گی کے بارے میں جناب والا کو کچھ معلوم ہے؟ کیا جزیرۃ العرب میں آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی لیے ہوئی تھی؟ کیا آپ کے نزدیک حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام سے بہتر یزیدی حکومت کا اقدام تھا؟ کیا بیرونی دشمن اسلام طاقتوں کی ایجنسی ، اسرائیل کے ساتھ خفیہ دوستی، اسلام نظام کی بخیہ دری، اور نام نہاد ‘‘ سلفی ’’ فکری کی سرپرستی آپ کے نزدیک اس حکومت کے جرائم نہیں ہیں؟

۔ آپ کو ‘‘ سعودی حکومت کے حکمرانوں کی جان و دل سے تائید ’’ کی اپیل کرتے ہوئے، خوف خدا ، فکرِ آخرت، اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، علما ء کا استغنا ء ، اپنے اسلاف کی حق گوئی ، جرأت مندی، منکرات پرنکیر اور صاف و صریح گفتگو کا دینی مزاج ان میں سے کسی چیز کا خیال نہ آیا؟

۔ کیا آپ کے نزدیک سرکاری، نام نہاد دینی اداروں کی نسبت ، اور ان کی رکنیت ، اور سعودی سفارت خانہ سے تعلقات ، اور حج وعمرہ کی سہولیات ، اور سیاسی آؤ بھگت ، اپنے عقیدہ ، فکر و مسلک اور اپنے بزرگوں سے وابستگی سے زیادہ عزیز ہے؟

۔ کیا آپ کے اس کمزور ، غیر شرعی، مفاد پرستانہ موقف کی دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ، طلبہ اور متعلقین تائید کرتے ہیں؟ اور بے شمار متعلق ادارے آپ کے ساتھ ہیں؟ میں آپ کو دیو بند اور اس کے اداروں کے منسلکین کے بارے میں ریفرنڈم کرالینے کی کھلی دعوت دیتا ہوں، کہ مندرجہ ذیل بالا حقائق سے واقف ہونے کے بعد وہ آپ کے موقف کے مؤید ہوتے ہیں یا نہیں ؟ جب چاہیے یہ ریفرنڈم دیوبند میں کرالیجئے ۔ او ردیکھ لیجئے کہ کتنے لوگ آپ کے موقف کے مؤید ہیں ۔

رہ گئے ‘‘ نام نہاد سلفی حضرات ’’ جن کے نہ آگے کوئی ہے نہ پیچھے ، جن کی دکان سعودی حکومت سے شروع ہوئی، اور وہیں سے جن کے گماشتوں کے ذریعہ آپ کے بزرگوں کو گالی دے دے کر ، اور ان کی کتابیں پھینک پھینک کر ، اور جمعیۃ العلماء ، جماعت تبلیغ ، اور دیوبند و احناف کے خلاف بغاوت کے جذبات سے بھر کر اپنے مزدوروں او رملازموں کو آپ کے محلّہ محلّہ اور گاؤں گاؤں انتشار پھیلانے کے لیے بھیجا جارہا ہے، گاؤں گاؤں فتنے پیدا کر کے مسجد و مدرسے الگ الگ کردیے گئے ہیں، اور آپ کو دارالعلوم جن کے فتنوں کو روکنے کے لیے کبھی مناظرہ کراتا ہے، کبھی کتابیں چھپواتا ہے ، کبھی کانفرنسیں کرواتا ہے، لیکن آپ سفارت خانہ کے اشارہ پر ان کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کی تقویت پہنچاتے ہیں ، اور سعودی حکومت کی مجرمانہ کارروائیوں کو حرمین کی خدمت کی چادر چھپانا چاہتے ہیں، اس پر سوائے افسو س کے بر صغیر کا ہر غیرت مند اور کیا کرسکتا ہے؟ !!

کیا آپ کے خادم حرمین اور ان کے مداحوں پر اقبال کا یہ شعر صادق نہیں آتا ؟؟

یہی شیخِ حرم ہے ، جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بوزررضی اللہ عنہ ، ودلقِ اویس رضی اللہ عنہ ، و چادر زہرا رضی اللہ عنہ

فإلیٰ اللہ المشتکیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ المستعان

والسلام

ناچیز

سلمان حسینی ندوی

4 جنوری، 2014 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/salman-hussaini-nadvi/an-open-letter-to-maulana-syed-arshad-madani–مولانا-سید-ارشد-مدنی-صاحب-کے-نام-کھلا-خط/d/3512

https://lubpak.net/archives/313238

 

 

About the author

Muhammad Bin Abi Bakar

2 Comments

Click here to post a comment
  • اگر تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا تہ اتنی لمبی تمہید باندھنے کی کیا ضرورت تھی۔دیوبندیوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو وہ تم سے ہوشیار اور سمجھدار ہیں۔