Featured Original Articles Urdu Articles

جنت کی بشارت -افسانہ

deobandis

نوٹ:عامر حسینی نہ صرف ایک کہنہ مشق پاکستانی صحافی ہیں ،وہ ایک عمدہ کہانی کار بھی ہیں،حال ہی میں پاکستان کے شہر ملتان میں انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کی ٹاسک فورس کے کوارڈینٹر راشد رحمان کو دیوبندی-وہابی دھشت گردوں نے توھین رسالت کے الزام میں گرفتار بہاءالدین زکریا ینورسٹی کے شعبہ انگریزی کے لیکچرار جنید حفیظ کے کیس کی پیروی کی پاداش میں ان کے چیمبر میں گولیاں مارہلاک کردیا

راشد رحمان کو صرف چند ہفتوں پہلے ہی جنید حفیظ کے جیل ٹرائل کے دوران جج کی موجودگی میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں تھیں جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی ایک درخواست میں کیا تھا لیکن انتظامیہ نے ان کو کوئی سیکورٹی فراہم نہیں کی اور بالاخر وہ قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے ،ان کو سینے اور سر میں گولیاں لگیں تھیں۔عامر حسینی کا افسانہ “جنت کی بشارت” اس واقعے کی مناسبت سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے جو ادارہ تعمیر پاکستان اپنی ویب سائٹ پر ان کے شکریہ کے ساتھ شایع کررہا ہے،ساتھ ہی ہم راشد رحمان کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی اہلیہ ،ان کے ماموں آئی اے رحمان ڈائریکٹر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور دیگر سوگواران سے تعزیت کرتے ہیں اور حکومت سے ان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں

ملک میں فوجی آمر کی رخصتی ہوچکی تھی اور اس مرتبہ عوامی پارٹی کے سربراہ نے ایک پسماندہ علاقے کے اپنے رکن اسمبلی کو وزیر اعظم بناڈالا تھا اور اس وزیر اعظم نے اپنے علاقے کی واحد یونیورسٹی میں ایک بنگالی نژاد روشن خیال پروفیسر کو وائس چانسلر لگادیا تھا
اس وائس چانسلر کے آنے سے اس یونیورسٹی میں کئی سالوں سے قابض چلے آرہے ایک مذھبی فاشسٹ جماعت کے مفادات کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا
اس مذھبی فاشسسٹ گروپ کی اس یونیورسٹی میں قیادت پروفیسر تہمایوں اور پروفیسر م-س صہیب کررہے تھے جنہوں نے اپنے گروپ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا
مذھبی فاشسٹ گروپ کے پاس اس وقت تک یونورسٹی رجسٹرار،کنٹرولر امتحانات اور کئی اہم شعبوں کی چیئرمین شپ تھی اور کئی ہاسٹلز کے وارڑن ان کے اپنے لوگ تھے اور اب یہ سب عہدے خطرے میں نظر آرہے تھے
ہنگامی اجلاس میں پروفیسر تہمایوں اور م-س صہیب کو کہا گیا کہ کہ وہ نئے وی ۔سی کے سامنے یہ پیشکش رکھیں کہ اگر وہ ان کے گروپ کے لوگوں کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھیں اور اکیڈمک کونسل سمیت یونیورسٹی باڈیز کے انتخابات میں ان سے تعاون کریں تو گروپ ان کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرے گا
پرفیسر تہمایوں اور پروفیسر س-م صہیب نے جس دن وی سی نے پہلے دن اپنا عہدہ سنبھال کر کام کرنا شروع کیا تو اس دن گلاب کے پھولوں کا بکے اور مٹھائی کا ٹوکرا لیکر لیکر وی۔سی آفس آئے اور باتوں ہی باتوں میں اپنی پیشکش دوہرائی تو وی۔سی جوکہ بہت ٹھنڈے دماغ اور غیر جذباتی سوچ کے ساتھ کام کرنے کے عادی تھے مسکرا کر ان کے مطالبات پر غور کرنے کا وعدہ کیا
لیکن گروپ وی سی آفس میں زولوجی کے علی محمد شاہ،آئی آر کے ڈاکٹر فارق اور کیمسٹری کے علی اصغر کو وہاں بیٹھے دیکھ کر سمجھ چکا تھا کہ وی۔سی کے ذھن میں کیا چل رہا ہے
دو دن کے بعد نئے وی سی نے ڈاکٹر علی محمد کو رجسٹرار اور ڈاکٹر فارق کو آئی آر کا چئیرمین بنادیا جبکہ انگلش ڈیپارٹمنٹ میں وی سی نے ایک ایسی خاتون کو تعینات کیا جس سے اس گروپ کی جان جاتی تھی
یونیورسٹی میں انتظامی اور تعلیمی شعبوں پر ایسے لوگ فائز ہوگئے جو عقلیت پسند تھے اور روشن خیا،روادار،تکثیریت پر یقین رکھتے تھے اور فرقہ واریت،کٹھ ملائیت کے سخت مخالف تھے
لڑکوں اور لڑکیوں کے ہاسٹلز وارڑنز بھی بدل دئے گئے اور ہاسٹلز میں اب یہ ناممکن ہوگیا کہ ایک مذھبی فاشسسٹ طلباء تنظیم وہاں پر اپنی حکمرانی قائم رکھ سکے
جبکہ اسی دوران یونیورسٹی کیمپس پر طالبانی کوڈ نافذ کرنے اور یونیورسٹی کو دھشت گردوں کی پناہ گاہ بنانے کی کوششوں کو بھی سخت دھچکا لگا کیونکہ ملک کی اکثر یونیورسٹیوں میں مذھبی فاشسسٹ اور دھشت گرد اپنے محفوظ اڈے بنانے اور یہاں سے اپنے دھشت گردی کے نیٹ ورک کے لیے مطلوبہ بھرتی کرنے کے مراکز بھی تعمیر کرنے کی کوشش کررہے تھے
مذھبی فاشسسٹ گروپ یونیورسٹی میں آنے والی ان تبدیلیوں سے سخت غصّے اور تناؤ میں تھا ،پھر نئے وی۔سی نے ماضی میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں اور بھرتیوں میں قواعد و ضوابط کی حلاف ورزیوں پر ایک انکوائری کمیٹی بٹھانے کا فیصلہ کیا تو اس مذھبی فاشسسٹ گروپ کو اپنی بدعنوانیوں کا پول کھلنے کا خطرہ لاحق ہوگیا
ان ہی دنوں سابق وی سی کے دور میں شعبہ سائیکالوجی اور سوشیالوجی کی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے میں اسی گروپ کے دو اساتذہ کا اسکینڈل پھر سے زندہ ہوگیا،متاثرہ لڑکیوں نے انکوائری پھر سے بٹھانے کا مطالبہ کیا اور اس مطالبے میں سب سے آگے شعبہ انگریزی کی چئیرمین اور ایک انگریزی کا لیکچرر تھے
یہ دونوں مذھبی فاشسٹس کی دنیا پرستی ،ان کی ہوس کاریوں اور بدکاریوں کے سخت ناقد اور ان کی منافقت کا پردہ چاک کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے تھے
شعبہ انگریزی کا لیکچرار حامد انتہائی ذھین ،فطین ،شاندار تعلیمی پس منظر رکھنے والا اور بہت صاحب مطالعہ آدمی تھا اور وہ اپنی کلاس میں صرف مکتبی تدریس ہی نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے شاگردوں کی ذھنی تربیت اور فکری پرداخت کرنے کا بھی بہت شوقین تھا
بہت سادہ مزاج تھا اور یونیورسٹی کے اندر ہونے والی محلاتی سازشوں سے بے خبر اور اندر وباہر ایک جیسے خیالات کے ساتھ زندگی گزارنے والا آدمی تھا
اسے بات کو گھما پھراکر کرنے اور ملفوف انداز میں بیان کرنے کا سلیقہ نہیں آتا تھا
مذھبی فاشسسٹ گروپ جوکہ یونیورسٹی کے باہر ملک کی انتہا پسند اور فرقہ پرست جماعتوں سے مضبوط رشتے اور ناطوں کے حامل تھے ،اس ساری صورت حال سے سخت نالاں تھا
وہ چاہتا تھا کہ ایسا وار کیا جآئے کہ ایک ہی ہلّے میں وی۔سی اور اس کے جملہ ساتھیوں کا کانٹا نکل جائے
لیکچرار حامد کو مسلم تاریخ کی قدیم ترین کتب پڑھنے کا بھی بہت شغف تھا اور ان کتابوں کے مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ کتب ہائے قدیم میں ایسا مواد موجود ہے جو اسلامو فوبک ناقدین کو جہالت بھری باتیں کہنے کی ترغیب دیتا ہے
حامد امریکہ رہا تھا جہاں اس نے اسلام اور قران کے بارے میں نو قدامت پرست عیسائی بنیاد پرستوں کے تعصبات اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کئے تھے اور اس کا خیال یہ تھا کہ یہ مسلم برادری کے اندر پائے جانے والے فاشسسٹ ہیں جن کا راست تناسب کا رشتہ نوقدامت پرست عیسائی بنیاد پرستوں سے ہے اور حامد اس پر گھنٹوں اپنے شاگردوں سے بات کرتا تھا اور فیس بک پر بھی اس حوالے سے اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا تھا
وی۔سی کے مخالف اور اپنی کرپشن کے پول کھل جانے اور اپنی ہوس کاریوں سے خوفزدہ مذھبی فاشسسٹ لابی کو حامد کی شکل میں اپنا آسان شکار نظر آگیا اور ایک باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا
ایک صبح جب حامد اپنی کلاس میں لیکچر دے رہا تھا تو اس کی کلاس کے باہر ایک مذھبی فاشسسٹ طلباء تنظیم کے لڑکے لڑکیاں جمع ہوگئے اور انھوں نے لیکچرر حامد کے خلاف شور مچانا شروع کردیا
اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اسلام ،قران،انبیائے کرام،امہات المومنین اور اصحاب رسول کی شان ميں نازیبا کلمات کا استعمال کیا ہے اور جب یہ شور یونیورسٹی کے اندر مچ رہا تھا ٹھیک اسی وقت شہر کے اندر مذھبی فاشسسٹ گروپوں نے جلوس نکالے اور عوام کو اشتعال دلوانا شروع کردیا
چند مذھبی فاشسسٹوں نے پریس کانفرنس کیں اور تواتر سے موجودہ وی۔سی اور یونورسٹی انتظامیہ کے خلاف بیانات دینا شروع کردئے
پروفیسر حامد اچانک ملعون حامد اور شاتم حامد بن گیا تھا اور اس کے گھر پر جملہ کیا گیا اور جب پولیس اس کو گرفتار کرکے تھانے لائی تو تھانے میں اس کو قتل کرنے کی کوشش ہوئی
مذھبی فاشسسٹوں کے حامی مفتیوں نے حامد کے خلاف ملعون اور توھین کا مرتکب ہونے کے فتوے دے ڈالے
پورے شہر میں حامد کے خلاف ایک فضاء بن چکی تھی اور کوئی بھی اس کی حمائت کرنے کو تیار نہ تھا
جب پولیس نے حامد کا چالان مقامی عدالت میں پیش کیا تو اس موقعہ پر حامد کی ماں ایک ،ایک وکیل کے چیمبر گئی لیکن ہر ایک وکیل نے یہ کہہ کر معذرت کرہی کہ اسے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی عزیز ہے
سب سے مایوس ہوکر جب حامد کی ماں مایوس ہوکر گھر واپس جارہی تھی تو ایک نوجوان نے اس سے پوچھا
ماں جی! کیا بات ہے؟میں نے آپ کو کئی چیمبرز سے بڑی شکستہ حالت میں باہر آتے دیکھا ہے
حامد کی ماں نے کہا
بیٹا! میرے بیٹے پر توھین مذھب کا الزام لگا ہے اور کوئی وکیل اس کیس میں اس کا وکیل بننے کو تیار نہیں ہے
یہ سنکر اس نوجوان نے کہا
ماں جی!آپ ایسا کریں علوی روڈ پر بنے حمزہ پلازہ میں چلی جائیں ،جہاں ایک وکیل صاحب ہیں رحمان رشید وہ آپ کے بیٹے کا کیس بخوشی لڑنے کو تیار ہوجائیں گے
فہمیدہ بیگم جوکہ حامد کی ماں تھیں اور ایک ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر تھیں اس پیرانہ سالی میں اس مصیبت میں گرفتار ہوگئیں تھیں
وہ جب حمزہ پلازہ میں دوسرے فلور پر بنے رحمان رشید کے چیمبر میں پہنچیں تو خود رحمان رشید سے ان کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے حامد کے کیس کی پیروی کرنا شروع کردی
رحمان رشید جب سے شعبہ وکالت سے وابستہ ہوئے تھے تب سے ہی وہ انسانی حقوق کی پامالی کے کیسز لڑنے میں مصروف تھے
وہ جبری مشقت کے شکار مزدوروں،جنسی زیادتی کے شکار اور کام کی جگہوں پر ہراساں کئے جانے والی عورتوں ،ملازمت سے نکال دئے جانے والے ورکرز کے مقدمات کی پیروی کرتے تھے
حامد کے کیس کی پیروی کرنا انہوں نے اس لیے منظور کی کہ ہر شخص کو وکیل کرنے کا حق بنیادی انسانی حق میں شمار ہوتا ہے اور وہ کیس کی جانچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکےتھے کہ حامد پر توھین مذھب کا کیس بدنیتی کی بنیاد پر بنوایا گیا ہے اور وہ یونیورسٹی ميں جل رہے معاملے سے بھی آگاہ ہوگئے تھے
رحمان رشید نے اس حوالے سے اپنے تمام تر دلائل صرف عدالت میں پیش کرنے شروع کئے ہوئے تھے
حامد پر کیس بنوانے والوں کو بخوبی پتہ تھا کہ سارا مقدمہ جھوٹ پر مبنی ہے اس لیے ان کی کوشش تھی کہ یک طرفہ ٹرائل ہو اور حامد کو صفائی کا موقعہ نہ ملے لیکن رحمان رشید کی کیس کی پیروی سے وہ پریشان ہوگئے
انہوں نے رحمان رشید کو دھمکیاں دلوانا شروع کی لیکن رحمان رشید نے حامد کے کیس کی پیروی ترک نہ کی
لیکن پھر یوں ہوا کہ جیل ٹرائل کے دوران جج کے سامنے ہی ایک مذھبی فاشسسٹ تنظیم کے عہدے دار نے رحمان رشید کو دھمکی دی کہ اگر وہ آج کے بعد اس کیس سے وابستہ رہے تو پھر ان کو اس جہاں سے کوچ کرنا ہوگا
رحمان رشید کو یہ دھمکی جج،ان کے جوئینرز وکلاء ،جیل کے حکام اور جج کی حفاظت پر مامور گارڑز کی موجودگی ميں دی گئی تھی
رحمان رشید نے ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لانے کا فیصلہ کیا اور فقط ریکارڑ کی درستی کے لیے ریجنل پولیس آفیسر کو ایک درخواست میں یہ سارا واقعہ بیان کرڈالا تھا
جبکہ اس درخواست کی نقول متعلقہ حکام اور انٹرنیشنل انسانی حقوق کی تنظیموں کو ارسال کردیں تھیں
رحمان رشید اپنے شہر کے سیاسی ،سماجی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے جب اس واقعے کا شہر کے لوگوں کو علم ہوا تو شہریوں نے ایک جلوس بھی نکالا
لیکن رحمان رشید کو شہر کے نہتے لوگ حفاظت فراہم نہیں کرسکتے تھے جبکہ شہر کی انتظامیہ خود مذھبي فاشسسٹوں کی طاقت سے خوفزدہ تھی
رحمان رشید اس کے باوجود ایک ایسے کیس کی پیروی کرتے رہے جس میں ملزم بے گناہ تھا،ملزم کا سارا مستقبل داؤ پر لگا تھا ،اسے سزائے موت کا خطرہ تھا اور پھر اس ملزم کے خون کے پیاسے لوگ ہوئے جاتے تھے
رحمان رشید کو اس حوالے سے مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا تھا،وہ ایک روشن خیال،ماڈریٹ اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والا وکیل تھا اور اس قدر مالدار نہیں تھا کہ اپنے ساتھ مسلح محافظوں کے دستے لیکر چلتا
اس کے پاس سوزوکی گاڑی تھی جو کسی ان دیکھی گولی کو اس تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی تھی،نہ ہی اس نے کبھی کسی چھوٹے موٹے ہتھیار کا لائنسس بھی نہیں بنوایا تھا
وہ ایسی ایک شام تھی جب وہ اپنے دفتر میں آئے چند غریب سائلین سے ان کے کیسز کے بارے ميں بات کررہا تھا کہ اچانک اس کے کمرے میں چند لوگ داخل ہوئے اور اندھا دھند لگے گولیاں برسانے
رحمان رشید نے گولیوں کی بارش میں آخری آوازیں بس یہ سنیں
گستاخ کی بس ایک سزا-سر تن سے جدا ،سر تن سے جدا
رحمان رشید پر گولیاں برسانے والے اس کے دفتر سے نکل کر سیدھے ایک مذھبی فاشسسٹ تنظیم کے دفتر پہنچے تو وہاں بیٹھے ایک باریش عمر رسیدہ موٹے پیٹ والے آدمی نے ان کو باری باری گلے سے لگایا
اور کہنے لگا کہ
جو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں تو اللہ ان سے وعدہ کرتا ہے کہ ان کو جنت میں رکھا جائے گا اور جنت ایسی ہوگی جس میں باغات ہوں گے اور دودھ و شہد کی نہریں بہتی ہوں گیں اور کنواری حوریں اور خوش شکل لڑکے ان کی خدمت پر مامور ہوں گے جبکہ ان کے لیے پینے کے لیے شراب طہورہ ہوگی اور کوئی حزن و ملال ان کو لاحق نہ ہوگا
یہ تقریر سنکر رحمان کے قاتل اور دیگر نوجوانوں نے فلک شگاف نعرے لگائے
نعرہ تکبیر -اللہ اکبر
سبیلنا سیلنا-الجہاد،الجہاد
موٹے پیٹ والا باریش آدمی پھر کہنا شروع ہوا
میرے غیور اور غیرت مند مجاہدین اسلام!
تمہیں آج یہ خوش خبری دینی ہے کہ نائجیریا میں ہمارے ساتھی مجاہدین نے یہود و نصاری کی حمائت کرنے والی اور کرسچن تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی 300 بچیوں کو مال غنیمت کے طور پر اٹھانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ،اللہ مجاہدین پر اپنی برکتوں اور رحمتوں کا نزول اسی طرح سے کرتا ہے وہ تمہیں بھی اپنی برکتوں سے بہت جلد نوازے گا
آج تم نے ایک شیطان سے اس دھرتی کو پاک کردیا ہے،میں تمہیں اخروی کامیابی کی نوید سناتا ہوں